باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

جنازوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک جنازہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پرگزرا آپ کھڑے ہوگئے عرض کیا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ ہے فرمایا کہ ہم فرشتوں کے لیے کھڑے ہوئے ۱∞؎(نسائی)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِرَسُولِ اللهِ فَقَامَ فَقِيلَ: إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ: “إِنَّمَا قُمْتُ لِلْمَلَائكَةِ” . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1686 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت مالک ابن ہبیرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ایسا کوئی مسلمان جو مرے تو اس پرمسلمانوں کی تین صفیں نماز پڑھیں مگر الله واجب کردیتا ہے ۱∞؎مالک جب جنازے والوں کو تھوڑا دیکھتے تو انہیں اس حدیث کی وجہ سےتین صفوں میں بانٹ دیتے ۲؎(ابوداؤد)ترمذی کی روایت میں یوں ہے کہ مالک ابن ہبیرہ جب جنازہ پر نماز پڑھتے جس پر لوگوں کو کم دیکھتے تو ان کے تین حصے کردیتے پھر فرماتے فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس پر تین صفیں نماز پڑھیں واجب ہوگئی۳؎اور ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت۔

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ صُفُوفٍ مِنَ الِمُسْلِمينَ إِلَّا أَوْجَبَ” . فَكَانَ مَالِكٌ إِذَا اسْتَقَلَّ أَهْلَ الْجَنَازَةِ جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ لِهَذَا الْحَدِيثِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيْ: قَالَ كَانَ مَالِكُ بْنُ هُبَيْرَةَ إِذَا صَلّٰى الْجِنَازَة فَتَقَالَّ النَّاسُ عَلَيْهَا جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ صَلّٰى عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ صُفُوفٍ أَوْجَبَ” . وَرَوىٰ اِبْنُ مَاجَه نَحْوَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1687 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے نماز جنازہ کے بارے میں راوی الٰہی تو اس کا رب ہے تو نے ہی اسے پیدا کیا تو نے ہی اسے اسلام کی ہدایت دی تو نے ہی اس کی روح قبض کی تو ہی اس کے کھلے چھپے کو جانتا ہے،ہم شفیع آئے ہیں اسے بخش دے ۱∞؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَلَی الجَنَازَةِ: " اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا إِلَى الإِسْلَامِ وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَاوَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهٗ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1688 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کی اقتداء میں اس بچے پرنماز پڑھی جس نے کبھی کوئی خطا نہ کی تھی لیکن میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ الٰہی اسے عذاب قبر سے بچالے ۱∞؎(مالک)

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلیٰ صَبِيٍّ لَمْ يَعْمَلْ خَطِيئَةً قَطُّ فَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: اَللّٰهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْر. رَوَاهُ مَالِكٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1689 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے بخاری سے بطریق تعلیق ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بچہ پر سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے ۲؎اور کہتے تھے الٰہی تو اسے ہمارے لیےگزشتگان میں سے اور پیش رو اور ذخیرہ اور ثواب بنا۳؎

وَعَنْ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: يَقْرَأُ الْحَسَنُ عَلَی الطِّفْلِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَيَقُولُ: اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا سَلَفًا وَفَرَطاً وَذُخْراً وَأَجْراً

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1690 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بچہ پر نہ نماز پڑھی جائے نہ وہ وارث ہو اور نہ موروث حتی کہ چیخے ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)مگر ابن ماجہ نے موروث نہ ہونے کا ذکرنہیں کیا۲؎

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “الطِّفْلُ لَا يُصَلّٰى عَلَيْهِ وَلَا يَرِثُ وَلَا يُوَرَثُ حَتّٰى يَسْتَهِلَّ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهٗ لَمْ يَذْكُرْ: “ وَلَا يُوَرَثُ “

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1691 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابومسعود انصاری سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اسے منع فرمایا کہ امام کسی چیز پرکھڑا ہوا اور لوگ اس کے پیچھے یعنی اس سے نیچے ہوں ۱∞؎(دارقطنیکتاب الجنائزکے مجتبی میں)

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ فَوْقَ شَيْءٍ وَالنَّاسُ خَلْفَهٗ يَعْنِي أَسْفَلَ مِنْهُ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيْ فِي الْمُجْتَبٰی فِيْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1692 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان