اپنے بزرگوں کو یاد رکھئے

صَفَرُالْمُظفر اسلامی سال کا دوسرا مہینا ہے۔ اس میں جن صَحابَۂ کرام، اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وِصال یا عُرس ہے، ان میں سے32کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ صَفَرُ الْمُظفر 1439ھ اور 1440ھ کے شماروں میں کیا گیا تھا مزید13کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:

صحابَۂ کرام علیہمُ الرِّضوان (1)رئیسِ قبیلۂ خزرج حضرت سیّدُنا ابوبِشْر بَرَّاء بن مَعْرُور انصاری رضی اللہ عنہ نے عُقبۂ اُولیٰ میں دینِ اسلام قبول کیا اور اس موقع پر سب سے پہلے بیعت کا شرف پایا۔ آپ کو قبیلۂ بنوسَلَمہ کا نقیب (سردار)مقرر کیا گیا۔ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ہجرتِ مدینہ سے ایک ماہ قبل صفر میں مدینۂ منوّرہ میں وِصال فرمایا۔ آپ پہلے صَحابی ہیں جنہوں نے اپنے مال کے تِہائی حصّے کی وصیّت کی۔(طبقات ابن سعد،ج3،ص464، 465، المنتظم،ج3،ص83) (2)بَدری صَحابی حضرت سیّدُنا مَرْثَد بن ابومَرْثَد کَنَّازغَنَوِی رضی اللہ عنہ حضرت سیّدُنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما کے حلیف تھے، ہجرت کے بعد حضرت سیّدُنا اَوس بن صَامِت اَنصاری  رضی اللہ عنہ  سے مواخات ہوئی، ہجرت کے بعد کچھ نادار مسلمان مکے میں قید کرلئے گئے تھے لہٰذا کسی تدبیر سے ان قیدیوں کو مکہ مکرمہ سے چُھڑا کر مدینے شریف لانے کے لئے پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ کے بہادراورنڈرہونے کی وجہ سےیہ کام سونپا۔ غزوۂ بدر اور غزوۂ اُحدمیں شریک ہوئے، صفرالمظفر3ھ میں سریۂ مَرْثَد میں امیر بنائے گئے اور مقامِ رَجِیع پر شہید ہوئے۔(الاستیعاب،ج3،ص440،442، اسد الغابہ،ج5،ص144) اولیائے کرام  رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام (3) بانیِ سلسلۂ ابو العلائیہ حضرت سیّد امیر ابوالعلا نقشبندی چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 990ھ میں نریلہ (مضافاتِ دہلی) ہند میں ہوئی اور 9صفر1061ھ کو وِصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک آگرہ (اکبرآباد اترپردیش) ہند میں مرجعِ خلائق ہے۔ آپ صاحبِ کرامت، جلیلُ القدر، مقاماتِ عالیہ پر فائز اور عظیم اَوصاف کے جامع تھے۔ سلسلۂ عالیہ قادریہ کے شیخِ طریقت حضرت میر سیّد محمد کالپوی رحمۃ اللہ علیہ کو آپ سے بھی خلافت حاصل ہوئی۔ (تذکرہ اولیائے پاک و ہند، ص251، بزمِ ابوالعلاء،77،32،25) (4)استاذ پیر روضے دھنی، عارف بِاللہ حضرت علّامہ فقیر اللہ  علوی نقشبندی   رحمۃ اللہ علیہ کی وِلادت گیارھویں صدی ہجری کے شروع میں روتاس (ضلع جلال آباد) افغانستان میں ہوئی اور3صفر1195ھ کو وِصال فرمایا، آپ کا مزار اندرونِ ہاتھی گیٹ شِکارپور (سندھ) پاکستان میں زیارت گاہِ خاص وعام ہے۔آپ صوفیِ باصفا، عالمِ باعمل، صاحبِ تصانیف اور استاذُ العلماء و صُوفیا ہیں۔ قُطبُ الاِرشاد آپ کی اہم تصنیف ہے۔(جہانِ امام ربانی،ج 6،ص315، انوارعلمائے اہلسنت سندھ، ص1054، 1056، سندھ کے صوفیائے نقشبند،ج 2،ص443، تذکرہ اولیائے سندھ، ص258)(5)بانیِ سلسلۂ سنوسیہ حضرت امام سیّد محمد بن علی سنوسی کبیر مالکی   رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1202ھ کو مستغانم (منداس،مضافاتِ وادیِ مینا) الجزائر میں ہوئی۔ 1276ھ کو جغبوب (صوبہ بطنان) لیبیا میں وِصال فرمایا، آپ کا عُرس9صفر کو ہوتا ہے۔ آپ بَرِّ اعظم افریقہ کی عظیم شخصیت، عالمِ جلیل، مجاہدِ اسلام، صوفیِ کبیر، شاعرِ اسلام، کئی کتب کے مصنف، تحریک سنوسیہ کے بانی، کثیر سنوسی خانقاہوں کے سرپرست، عاشقِ محافلِ میلاد اور صاحبِ کرامت ولی اللہ  تھے۔(اعلام لزرکلی،ج 6،ص299،تذکرہ سنوسی مشائخ، ص51تا61) علمائےاسلام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  (6)مجتہدِ اُمّت، استاذِ امام محمد، حضرت امام عبدالرحمٰن اَوْزَاعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت88ھ کو موضع اَوْزَاع (نزدباب الفرادیس بعلبک،صوبہ بقاع) لُبْنان میں ہوئی۔ 2صفر157ھ کو بیروت میں وِصال فرمایا، مزار بیروت شہر کے علاقے حنتوس میں مسجد امام اوزاعی سے متصل ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ تبع تابعی، فقیہِ زماں، امامِ اہلِ شام، استاذُالمحدثین اور سترہزار (70000) فتاویٰ لکھنے والے بزرگ ہیں۔ (تذکرۃ الحفاظ،جز1،ج 1،ص137،134، فقہائے ہند،ج1،ص67) (7)صاحب سُننِ نَسَائی، حافظُ الحدیث حضرت امام ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب نَسَائی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت215ھ شہر نسا (نزد عشق آباد، ترکمانستان) میں ہوئی اور 13صفر303ھ کو رملہ (فلسطین) میں جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ کی کتاب سُنن النسائی صحاح ستہ میں سے ہے۔(تاریخ ابن عساکر،ج 71،ص170، 176، بستان المحدثین، ص298) (8)صاحبِ مستدرک امام ابوعبد اللہ محمد حاکم نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت321ھ کو نیشاپور میں ہوئی۔3صفر 405ھ میں وصال فرمایا۔آپ قاضی نیشاپور، حافظُ الحدیث، فقیہ شافعی، صاحب تصنیف و تالیف اور استاذُالمحدثین تھے۔ کتب میں اَلْمُسْتَدْرَک عَلی الصَّحِیَحین کو شہرت حاصل ہوئی۔(مستدرک للحاکم،ج 1،ص7، 56، وفیات الاعیان،ج2،ص364) (9)ساتویں ہجری کے مجدد، شیخُ الاسلام حضرت امام تقی الدّین محمد بن دقیق العید قشیری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 625ھ ساحلِ بحراحمر یَنبُع (صوبہ مدینۂ منوّرہ) عرب شریف میں ہوئی اور 11صفر702ھ کو وصال فرمایا، مزار قرافۃ الصغریٰ (قاہرہ) مصر میں ہے۔ آپ حافظِ قراٰن، امامِ مجتہد، فقیہِ اُمّت، استاذِ متأخرین  فقہا و محدثین، صاحبِ دیوان و کتب اور اکابرینِ علمائے شوافع سے ہیں۔ تصانیف میں اَلْاِقْتَرَاح فِي عُلُوْمِ الحَدِيثِ اور اَلْاِلْمَامُ فِي اَحَاديْثِ الْاَحْكَاْمِ بھی ہیں۔(اعیان العصر،ج 4،ص576،580،جامع کراماتِ اولیا مترجم،ج 1،ص594) (10)سیّد الشیوخ، مفسّرِ قراٰن حضرت علّامہ سیّدمحمد عمر خلیق حسینی قادری حنبلی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1282ھ کو محلہ قاضی پورہ (حیدرآباد دکن) ہند میں علمی سادات خاندان میں ہوئی اور وصال 20 صفر 1330ھ کو فرمایا، مزار قادری چمن، مضافاتِ محلہ فلک نما حیدر آباد دکن ہند میں ہے۔ آپ بہترین واعظ، قاری، مصنف، شاعر، استاذُالعلماء اور شیخِ طریقت تھے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی وفات پر عربی قصیدہ قلمبند فرمایا۔(مرقع انوار، ص929، تذکرہ علمائے اہلسنت، ص186) (11)اعلیٰ حضرت، مجددِ دین و ملت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 10شوال1272ھ کو بریلی شریف (یو.پی) ہند میں ہوئی اور یہیں25صفر1340ھ کو وِصال فرمایا۔مزار مبارک مرجع خاص و عام ہے۔ آپ حافظِ قراٰن، 50سے زیادہ جدید و قدیم علوم کے ماہر، تاجدارِ فقہا و محدثین، مصلحِ اُمّت، نعت گوشاعر، سلسلہ عالیہ قادریہ کے عظیم شیخِ طریقت، تقریباً ایک ہزار کتب کے مصنف، مرجعِ علمائے عرب و عجم اور چودھویں صدی کے مجدد اور مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ کنزالایمان فِی تَرجَمَۃِ القُراٰن، فتاویٰ رضویہ(33جلدیں)، جَدُّالمُمْتَار علیٰ رَدِّالمُحْتار(7جلدیں، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) اور حدائقِ بخشش آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔(حیاتِ اعلیٰ حضرت،ج1،ص58،ج 3،ص295،مکتبۃ المدینہ، تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ، ص282، 301) (12)فخرالعلماء مولانا سیّد محمد فاخر الٰہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ 1292ھ کو الٰہ آباد (یو.پی ہند) میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے اور 7صفر1349ھ کو یہیں وفات پائی، تدفین درگاہ شیخ افضل الٰہ آبادی میں کی گئی۔ آپ فاضل مدرسہ فیض عالَم کانپور، دائرہ شاہ اجمل کے شیخِ طریقت، بہترین خطیب، متحرک راہنما اور طریقت و شریعت کے جامع تھے۔ آپ شبیہِ غوثُ الاعظم حضرت سیّد علی حسین اشرفی جیلانی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔(حیات مخدوم الاولیاء، ص318، 322) (13)صاحبِ بحرالفصاحت حضرت مولانا حکیم محمدنجم الغنی نجمی رامپوری حنفی   رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1276ھ کو رامپور (یو.پی) ہند میں ہوئی۔ 26صفر 1351ھ کو بریلی شریف سے رامپور آتے ہوئے وِصال فرمایا، آپ کو قبرستان شاہ درگاہی رامپور یو.پی ہند میں دفن کیا گیا۔ آپ فاضل مدرسہ عالیہ رامپور، ماہرِ علومِ جدیدہ و قدیمہ، ریاستِ رامپور کے کئی عہدوں پر فائز، حکیم و مدرس، صاحبِ دیوان شاعر، علمِ عروض کے ماہر اور30سے زائد کتب کے مصنف تھے۔ آپ کی کتب اسلام، اصولِ عقائد و فقہ، بلاغت، علمِ عروض، تاریخ اور طب جیسے موضوعات پر ہیں۔

(مذاہب الاسلام، ص12، 26، بحرالفصاحت، حصہ اول، 24تا 40)

اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ابو ماجد محمد شاہد عطاری مدنی  

٭…رکن شوریٰ نگران مجلس المدینۃ العلمیہ ،کراچی

Share

Articles