میڈیسن کے استعمال میں احتیاط کیجئے

پیارے اسلامی بھائیو! دنیا میں مختلف وُجُوہات کی بِنا پر بیماریاں آتی رہتی ہیں۔کبھی خوراک کی تبدیلی سے، کبھی غلط دوائیں کھانے سے اور کبھی ڈَٹ کر کھانے سے۔ کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ بیماریاں ہمارے بُلانے پر آتی ہیں کیونکہ ہمارے کھانے پینے میں ایسی چیزیں شامل ہوتی ہیں جو گویا ان بیماریوں کو دعوت دے رہی ہوتی ہیں۔

امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ لکھتے ہیں: پِزّوں، پراٹھوں، کبابوں، سموسوں، ٹھنڈے شربتوں اور ٹھنڈی بوتلوں وغیرہ (مُضرِّ صحت اشیا استعمال کرنے) سے خود کو بچائیں تو اِنْ شَآءَ اللہ بہت ساری بیماریوں سے بغیر ڈاکٹری علاج کے نَجات مل جائے گی۔(فیضانِ سنّت،ج1،ص469 ملتقطاً)

بیماریوں سے نجات کے لئے اللہ کریم سے صحّت کی دُعا کے ساتھ ساتھ دَوا بھی استعمال کرنی چاہئے لیکن خیال رہے کہ دواؤں کے استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ ذیل میں میڈیسن استعمال کرنے سے متعلق چند احتیاطیں پیشِ خدمت ہیں۔

علاج کے لئے طبیب کے پاس بھیجنا:اوّلاً ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ بیماری ہمارے قریب ہی نہ آنے پائے ، اگر آگئی تو اس کا علاج کروانا چاہئے اور وہ بھی خود سے کسی طِب کی کتاب یا احادیث میں بیان کردہ کوئی نسخہ پڑھ کر علاج نہیں کرنا چاہئے بلکہ طبیب سے علاج کروانا چاہئے۔ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک مریض کو اس کی بیماری اور علاج بتانے کے بعد اُسے طبیب کے پاس بھیج دیا۔ چنانچہ حضرت سیّدُنا سعْد بن ابی وقا ص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک بار میں بیمار ہوا تو نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میری عیادت کے لئے تشریف لائے، اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے دل پر محسوس کی، پھر ارشاد فرمایا: تم دل کے مریض ہو حارث ابنِ کَلَدَہ ثقفی کے پاس جاؤ وہ علاج کرتے ہیں۔ وہ مدینہ کی سات عَجْوہ کھجوریں لے کر گٹھلیوں سمیت کُوٹ لیں پھر تم کو پلادیں۔ (ابوداؤد،ج4،ص11، حدیث: 3875) حکیم ُالاُمّت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: احادیثِ شریفہ کی تجویز فرمائی ہوئی دوائیں کسی طبیب کی رائے سے استعمال کرنا چاہئیں جو ہمارے مزاج، مَوسِم، دَوا کی تاثیر اور ہمارے مَرْض کی کیفیت سے خبردار ہو۔ (کیونکہ) حضورِ انور نے دَوا تجویز فرمادی مگر استعمال کے لئے طبیب کے پاس بھیجا۔(مراٰۃ المناجیح،ج6،ص41ملتقطاً)

اینٹی بائیوٹک اور ایلو پیتھک اَدْوِیات کا استعمال: کسی بھی مَرْض کو معمولی سمجھ کر فوراً اینٹی بائیوٹک اَدْوِیات خود سے استعمال نہیں کرنی چاہئیں بلکہ ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کرنی چاہئیں کیونکہ ڈاکٹر سے مشورہ کئے بغیر یا حد سے زیادہ استعمال کرنے کی صورت میں نقصان ہوسکتا ہے۔ اسی طرح مختلف بیماریوں کے علاج کےلئے ایلو پیتھک اَدْوِیات (Allopathic Medicine) کا استعمال ہوتا ہے، ان کےاستعمال سے بھی نقصان ہوسکتا ہے۔

دواؤں کے نقصان دِہ اَثرات کی وُجوہات: دواؤں کےنقصان دِہ اثرات کی کئی وُجوہات ہوسکتی ہیں یہاں چند وُجوہا ت ذکرکی جاتی ہیں: (1)کبھی دوائی مقرّرہ مقدار سے زیادہ استعمال کرنے سے (2)کبھی کھانے کے ساتھ دوا استعمال کرنے کی وجہ سے (3)کبھی بڑوں کی اَدْوِیات بچّوں کو کھلانے سے اور (4)کبھی ادویات کے کیمیائی اثر سے مُضِر اثرات ہوتے ہیں۔

چند احتیاطیں: (1)دَوا ہمیشہ مُسْتَند (ڈگری ہولڈر) ڈاکٹر سے لکھوائیں اور اس کی ہدایات پر عمل کریں (2)نقصان دِہ اثرات کے بارے میں ڈاکٹر سے ضرور معلومات لیں (3) کسی دَوا سے اگر اِلَرْجی ہو تو ڈاکٹر کو لازمی بتائیں(4)دَوا استعمال کرتے وقت یا اس کے بعد طبیعت خراب ہو تو مزید دَوا کا استعمال نہ کریں بلکہ ڈاکٹر کےپاس جائیں(5)جب ایک سے زائد اَدْوِیات کا استعمال جاری ہو تو اس کے بارے میں بھی ڈاکٹر کو لازمی بتائیں (6)دوا کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ مدّت تک ہی استعمال کریں اپنی مرضی سے اس میں کمی بیشی نہ کریں۔

بچّوں کےلئے نقصان دِہ اَدْوِیات: (1)جو اَدْوِیات بڑوں کے لئے ہیں وہ بچّوں کیلئے نقصان دِہ ہوسکتی ہیں۔مثلاً وہ اَدْوِیات جن میں اسپرین (Aspirin) شامل ہوتی ہے ان کا استعمال بچّوں میں جگر اور دماغ کی بیماریاں پیدا کرسکتا ہے (2)اسی طرح 10سال سے کم عمْر بچّوں کو ٹیٹرا سائی کلین (Tetracycline) دی جائے تو ان کے دانت پیلے ہوجاتے ہیں اور ان کی ہڈّیوں کی نشوونُما صحیح طرح نہیں ہو پاتی۔

بچّوں کو دوا دیتے وقت ان باتوں کو مدِّ نظر رکھیں: بڑوں کی بنسبت بچّوں کے معاملات میں زیادہ توجّہ کی حاجت ہوتی ہے کیونکہ ان کی دوا کی خوراک مختلف ہوتی ہے (1) دوا ہمیشہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ خوراک و مِقدار کے مطابق بچّوں کو دیں (2)بچّوں کو اپنی موجودگی میں دوا دیں ورنہ وہ زیادہ خوراک لے سکتےہیں(3)بچّوں کو میٹھی یا شوخ رنگوں والی دوا مِٹھائی یا جُوس کہہ کر نہ دیں بلکہ دوا کہہ کر ہی دیں تاکہ وہ دوا استعمال کرنے کے عادی ہوجائیں۔

بچّوں پر دوائیوں کا غلط اثر: دودھ پیتے یا ماں کے پیٹ میں موجود بچّے پر بھی ان دواؤں کا اثر ممکن ہے جو دوا ماں استعمال کرتی ہے۔ لہٰذا خواتین کو چاہئے کہ بچّے کی پیدائش سے قبل کوئی بھی دوا اپنی مرضی سے استعمال نہ کریں بلکہ ڈاکٹر کی اجازت کےبعد استعمال کریں۔اسی طرح دُودھ پِلانے والی خواتین کو بھی ادویات استعمال کرنے میں بہت ہی احتیاط کرنی چاہئے کیونکہ بہت سی ادویات دُودھ میں شامل ہوکر بچّے کے لئے نقصان دِہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ اگر دوا استعمال کرنی ضروری ہوتو ایسے وقت میں کریں کہ بچّے کو دوا اور دودھ پلانے کے درمیان کم از کم ایک گھنٹے کا فاصلہ ہو۔

نوٹ:ہر دوا اپنے طبیب (ڈاکٹر یا حکیم) کے مشورے سے استعمال کیجئے۔

اس مضمون کی طبّی تفتیش مجلسِ طبّی علاج (دعوتِ اسلامی) کے ڈاکٹر محمد کامران اسحٰق عطّاری نے فرمائی ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭… محمد رفیق عطاری مدنی

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code