انجانے کا خوف

پیارے اسلامی بھائیو! اپنا ذہن بنا لیجئے کہ وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے،کالی بِلّی کے راستہ کاٹنے یا گھر کی چَھت پر اُلّو کے بولنے سے ہمیں  کچھ نقصان نہیں پہنچے گا،کتنے ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے سے کالی بلی (Black Cat) نہیں گزرتی پھر بھی انہیں کوئی نہ کوئی نقصان اُٹھانا پڑتا ہے لہٰذا کالی بلی میں کوئی نُحوست نہیں ہے۔سُورۂ تَوبَہ میں اللہ پاک مسلمانوں  سے اِرشادفرماتا ہے کہ یوں  کہا کریں:( لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَاۚ-هُوَ مَوْلٰىنَاۚ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ(۵۱))تَرجَمۂ کنزُ الایمان:ہمیں نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا وہ ہمارا مولیٰ ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسا چاہیے۔(پ10، التوبہ:51)امام فخر الدّین رازی رحمۃ اللہ علیہ تفسیرِ کبیر میں فرماتے ہیں : اس آیتِ مبارکہ کا معنیٰ یہ ہے کہ ہمیں کوئی خیر و شَر، خوف و اُمید، شدّت و سختی نہیں پہنچے گی مگر وہی کہ جو ہمارا مقدر ہے اور اللہ کریم کے پاس لوحِ محفوظ پر لکھی ہوئی ہے۔(تفسیرِ کبیر،پ10،التوبۃ،تحت الآیۃ:51،ج6،ص66)

رِزْق اور مصیبتوں کو لکھ دیا گیا ہے: سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا:اللہ پاک نے ہر ایک جان کو پیدا فرمایا ہے اور اس کی زندگی، رِزْق اور مصیبتوں  کو لکھ دیا ہے۔(ترمذی،ج 4،ص57، حدیث: 2150ملتقطاً)لہٰذا ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا اس بات پر یقینِ کامل ہونا چاہئے کہ رَنج ہو یا خُوشی! آرام ہو یا تکلیف! اللہ پاک کی طرف سے ہے اور جو مشکلات، مصیبتیں، تنگیاں اور بیماریاں ہمارے نصیب میں نہیں لکھی گئیں وہ ہمیں نہیں پہنچ سکتیں۔ نقصان نہیں پہنچا سکتے: نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیِّدُنا عبدُاللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: یقین رکھو کہ اگر پوری اُمّت اس پر متفق ہوجائے کہ تم کو نفع پہنچائے تو وہ تم کو کچھ نفع نہیں  پہنچا سکتی مگر اس چیز کاجو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی اور اگر سب اس پر متفق ہوجائیں کہ تمہیں کچھ نقصان پہنچا دیں تو ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اس چیز سے جو اللہ نے لکھی۔(ترمذی،ج 4،ص231، حدیث:2524ملتقطاً)حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ نے اِس حدیثِ پاک کے تحت جو وضاحت فرمائی ہے اس سے حاصل ہونے والےنِکات پیشِ خدمت ہیں: ٭یعنی ساری دنیا مِل کر تم کو نفع نہیں پہنچا سکتی اگر کچھ پہنچائے گی تو وہ ہی جو تمہارے مقدر میں  لکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا لکھا ہوا نفع دنیا پہنچا سکتی ہے۔ طبیب کی دوا شِفا دے سکتی ہے، سانپ کا زہر جان لے سکتا ہے مگر یہ اللہ  تعالیٰ کا طے شُدہ اس کی طرف سے (ہے)، حضرت یوسف (علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام) کی قمیص نے دیدۂ یعقوبی (یعنی حضرت سیِّدُنا یعقوب علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کی آنکھوں) کو شِفا بخشی، حضرت عیسیٰ (علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام) مُردے زندہ، بیمار اچھے کرتے تھے مگر اللہ کے اِذن (یعنی اِجازت) سے ٭لکھنے سے مراد لوحِ محفوظ میں لکھنا ہے اگرچہ وہ تحریر قلم نے کی مگر چونکہ اللہ کے حکم سے کی تھی اس لیے کہا گیا کہ اللہ نے لکھا مطلب ظاہِر ہے کہ اگر سارا جہاں مل کر تمہیں کوئی نقصان دے تو وہ بھی طے شدہ پروگرام کے تحت ہوگا کہ لوحِ محفوظ میں یوں ہی لکھا جاچکا تھا ٭خیال رہے کہ تدبیر بھی تقدیر میں  آچکی ہے لہٰذا تدبیر سے غافل نہ رہو مگر اس پر اِعتماد نہ کرو نظر اللہ  کی قدرت و رحمت پر رکھو۔(مراٰۃ المناجیح،ج7،ص117،118ملتقطاً)

پیارے اسلامی بھائیو!مصیبت آنے پر خود کو اللہ پاک سے ڈرانے، صَبْر پر استِقامت پانے اور غَلَط قدم اٹھانے سے خود کو بچانے کے لئے توبہ و اِستِغفار کرتے ہوئے یہ ذِہْن بھی بنایئے کہ ہم پر جو مُصیبت نازِل ہوئی ہے اُس کا سبب ہمارے اپنے ہی کرتُوت ہیں نہ کہ کسی کی نُحوست کی وجہ سے ایسا ہوا ہے، پارہ 25سورۃُ الشُّوریٰ کی30ویں آیتِ کریمہ میں ارشادِ ربّانی ہے:

( وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰)) تَرجَمۂ کنزُالایمان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے۔

صدرُالاَفاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:یہ خطاب مُؤمنین  مُکَلَّفِین سے ہے جن سے گناہ سَرزَد ہوتے ہیں، مُراد یہ ہے کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مؤمنین کو پہنچتی ہیں اکثر ان کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں ان تکلیفوں کو اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کا کفارہ کردیتا ہے اور کبھی مؤمن کی تکلیف اُس کے رَفعِ دَرَجات ( یعنی بلندیِ دَرَجات) کےلیے ہوتی ہے۔(تفسیر خزائن العرفان، پ25،الشوریٰ،تحت الآیۃ: 30،  ص895)ہاتھوں  ہاتھ سزا:کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم پر آنے والی مصیبت ہمارے گناہوں کی فوری سزا ہوتی ہے، چُنانچِہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اِذَا اَرَادَ اللہُ عَزَّوَجَلَّ بِعَبْدٍ خَیْرًا عَجَّلَ لَہٗ عُقُوْبَۃَ ذَنْبِہٖ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے سے بھلائی کا اِرادہ کرتا ہے تو اُس کے گناہ کی سزافوری طور پراُسے (دنیا ہی میں) دے دیتا ہے۔ (مسند  امام احمد،ج5،ص630،حدیث:16806) والدین کی نافرمانی کی سزا جلد ملتی ہے:رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:تمام گناہوں میں سے جس گناہ کی سزا اللہ پاک چاہتا ہے قیامت تک مؤخر فرما دیتا ہے سِوائے  والدین کی نافرمانی کے کہ اس کی سزا وہ موت سے پہلے زندگی میں ہی دے دیتا ہے۔(شعب الا یمان،ج 6،ص197، حدیث: 7889)نماز نہ پڑھنے کی دنیوی سزا:نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:جس نے نماز چھوڑی اس نے اپنے اہل و عیال اور مال کوگھٹا ديا۔(کنزالعمال،جز7،ج 4،ص132، حدیث: 19085) تنگدستی کا ایک سبب: امیر اہلِ سنّت علّامہ محمدالیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فیضانِ سنّت جلد اوّل کے باب آدابِ طعام میں تنگدستی کے 44 اسباب بیان فرمائے ہیں، ان میں سے ایک نماز میں سُستی کرنا بھی ہے۔ (فیضانِ سنّت،ج 1،ص266)جُھوٹی قسم کھانے کی دنیوی سزا: جُھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچنے والوں کی روزی میں برکت نہیں رہتی جیساکہ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےارشاد فرمایا:جھوٹی قسم سے سودا فَروخت ہوجاتا ہے اور بَرَکت مِٹ جاتی ہے۔(کنزالعمال، جز16،ج 8،ص297، حدیث:46376) ایک مقام پر ارشاد فرمایا:قسم سامان بِکوانے والی ہے اور بَرَکت مِٹانے والی ہے۔(بخاری،ج 2،ص15، حدیث:2087) گھروں کے ویران ہونے کا ایک سبب: گھریلو ناچاقیوں اور لڑائی جھگڑوں کا ایک سبب جُھوٹی قسمیں کھانا بھی ہے جس کی وجہ سے خوشیوں بھرے کئی گھر ویران ہوجاتے ہیں، چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت امام اَحمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جُھوٹی قسم گھروں کو وِیران کر چھوڑتی ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج 6،ص602)ناپ تول میں کمی کرنے کا وَبال: حضرت سیِّدُنا عبدُاللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگتی ہے تو ان سے روزی منقطع کردی جاتی ہے۔(مؤطا امام مالک،ج 2،ص19، حدیث: 1020) حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:کم تولنے کی نُحوست سے روزی کی برکت اُڑ جاتی ہے یا اس ذریعے سے کمایا ہوا مال کسی نہ کسی وجہ سے ہلاک ہوجاتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج 7،ص175ملخصاً) سُود کی نُحوست:حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سُود سے (بظاہر) مال زیادہ ہوجاتا ہے،مگر اس کا انجام یہ ہے کہ مال کم ہوگا۔(مسند امام احمد،ج2،ص50، حدیث:3754) علّامہ عبدُ الرؤوف مُناوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: سُود کے ذریعے مال میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے مگر سُود لینے والے شخص پر (مال کی) تباہی و بربادی کے جو دروازے کُھلتے ہیں ان کی وجہ سے وہ مال کم ہوتے ہوتے بِالآخر ختم ہوجاتا ہے۔(فیض القدیر،ج 4،ص66، تحت الحدیث:4505ماخوذاً)

اللہ پاک ہمیں اپنی رضا پر راضی رہنے، بدشُگونی سے بچنے اور گناہوں سے دُور رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نوٹ:بدشگونی کے بارے میں تفصیل جاننے کے لئے مکتبۃُ المدینہ کی 128صفحات پر مشتمل کتاب ”بدشگونی“ پڑھئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…محمد آصف عطاری مدنی 

٭…مدیر(Chief Editor)ماہنامہ فیضان کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code