مومن کی شان (قسط:1)

انسان و مسلمان ہونے کےناطے ہمارا سب سے پہلا تعلق اپنے ربِّ کریم  سے ہے کیونکہ  وہی ہمارا خالق ومالک ہے۔ قراٰنِ پاک اور احادیثِ کریمہ میں کئی مقامات پر اللہ کریم پر ایمان رکھنے والے مؤمن کے اَوْصاف کا بیان ہے۔ آئیے! قراٰن پاک کی جن آیات میں  اہلِ ایمان کو بحیثیتِ مؤمن جو احکام دئیے گئے اور جن آیات میں مؤمنین کے اوصاف بیان کئے گئے  ان کا مطالعہ  کرتے ہیں۔

٭مسلمان کے سامنے اللہ کریم کا نام لیا جائے تو ربِّ عظیم کے جلال و ہبیت سے اس کا دل ڈر جاتا ہے اور جب اس کے سامنے قراٰنِ کریم کی آیات پڑھی جائیں تو اس کا اپنے ربّ پر بھروسااور ایمان مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:( اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ(۲)) ترجمۂ کنز الایمان: ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈرجائیں اور جب اُن پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں۔ (پ9،الانفال:2)

٭مسلمان اللہ کریم کی بارگاہ میں بہت توبہ و استغفار کرنے والا اور ہر نعمت و  امتحان پر اللہ کریم کی حمد کرنے والا ہوتا ہے۔ فرمانِ خُداوندی ہے: ( اَلتَّآىٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآىٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ)ترجمۂ کنزالایمان: توبہ والے عبادت والے سراہنے والے روزے والے رکوع والے سجدہ والے ۔ (پ 11،التوبۃ : 112)

٭مسلمان اپنے  پیارے  نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیروی کرتے ہوئے جب کسی جائز کام کا ارادہ و عزم کرتاہے تو اللہ کریم پر بھروسا کرتا اور اس پر مستقیم رہتاہے۔اللہ پاک کا فرمان ہے:( فَاِذَا  عَزَمْتَ  فَتَوَكَّلْ  عَلَى  اللّٰهِؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  یُحِبُّ  الْمُتَوَكِّلِیْنَ(۱۵۹)) ترجمۂ کنزالایمان: اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو بے شک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں۔ (پ4،اٰل عمرٰن:159)

٭مسلمان کو جب اللہ  کریم  اور اس کے پیارے حبیب صلَّی اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا حکم سنایا جاتاہے اور اللہ و رسول کے فیصلے و حکم کی طرف بُلایا جاتا ہے تو وہ فوراً مانتا اور سرِتسلیم خَم کرتا ہے۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:

(اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵۱))ترجمۂ کنزالایمان: مسلمانوں کی بات تو یہی ہے جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول اُن میں فیصلہ فرمائے تو عرض کریں ہم نے سُنا اور حکم مانا او ریہی لوگ مراد کو پہنچے۔ (پ 18،النور: 51)

٭مسلمان دوجہاں کے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں آواز بلند نہ کرنے والا اور نہایت ادب و تعظیم سے کام لینے والا اور  اپنے اعمال و ایمان کے اَکارَت جانے سے خوف رکھنے والا ہوتا ہے۔اللہ کریم کا فرمان ہے:( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲))ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو (پ26،الحجرات:2)

٭مسلمان ہمیشہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور اُن سے نسبت رکھنے والی چیزوں کی تعظیم و توقیر کرتاہے، بلکہ جس لفظ سے رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعظیم کے خلاف ذرا سا شُبہ بھی ہوتا ہو اس سے بھی محتاط رہتاہے۔ قراٰنِ پاک میں ہے:( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴) )ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو!راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ (پ2،البقرۃ : 104)

٭نماز تو  مسلمان کیلئے  معراج ہے،قراٰنِ کریم میں کثیر مقامات پر نماز کا حکم دیا گیا ہے، مسلمان وقت پرپابندی اور خشوع و خضوع(عاجزی )سے نماز پڑھنے والا ہوتا ہے۔ چنانچہ ارشادِ ربِِّ کریم ہے: (الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲))ترجمۂ کنزالایمان: جو اپنی نماز میں گِڑگڑاتے ہیں (پ18،المؤمنون:2) ایک اور مقام پر ارشاد ہوا:( وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ(۳۴)) ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو اپنی نماز کی محافظت کرتے ہیں۔(پ29، المعارج:34)

٭حقیقی مسلمان  اللہ کریم کے حکم پر سجدہ ریز ہونے والا، اللہ پاک کی پاکی و تسبیح بیان کرنے والا ہوتا ہے، جس طرح شیطان میں تکبّر آیا تو اللہ کے حکم سے سجدہ کرنے سے انکار کردیا مسلمان ایسا نہیں کرتا بلکہ جب سجدہ کا حکم ہوتا ہے تو تکبر سے دور رہتا اور بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہوتاہے۔(اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩(۱۵))([1]) ترجمۂ کنزالایمان: ہماری آیتوں پر وہیایمان لاتے ہیں کہ جب وہ اُنہیں یاد دلائی جاتی ہیں سجدہ میں گِر جاتے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔ (پ 21، السجدۃ:15)

٭مسلمان فرض روزوں کی پابندی کرنے والا ہوتاہے۔  اللہ پاک کا فرمان ہے:( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳))ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔(پ2،البقرۃ:183)

٭مسلمان فرض ہونے کی صورت میں زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہے۔(وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ(۴))ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ کہ زکوٰۃ دینے کا کام کرتے ہیں (پ18،المؤمنون:4)

٭مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ کریم کے دئیے ہوئے مال و رزق سے اسی کی راہ  میں خرچ کرتاہے،اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:( وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳))ترجمۂ کنز الایمان: اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں (پ1،البقرۃ:3)

٭مسلمان جیسے ہی استطاعت پاتا ہے اور اس پر حج فرض ہوتا ہے تو  اللہ کے گھر کا حج کرنے کا اہتمام کرتاہے۔اللہ پاک کا فرمان ہے: (وَ  لِلّٰهِ  عَلَى  النَّاسِ   حِجُّ  الْبَیْتِ  مَنِ  اسْتَطَاعَ  اِلَیْهِ  سَبِیْلًاؕ-) ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے (پ4،اٰل عمرٰن:97)

٭مسلمان کے اعلیٰ اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ صرف اپنی ہی نہیں بلکہ دوسرے مسلمان کی بھی فکر کرتا  ہے اسی لئے وہ ان کی دنیا و آخرت کی بھلائی کے لئے  انہیں نیکی کی  دعوت دیتا اور بُرائی سے منع کرتاہے۔ اللہ کریم کا فرمان ہے: ( وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ )ترجمۂ کنزالایمان: اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے  کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور بُرائی سے منع کریں(پ 10،التوبۃ: 71)

بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…راشد علی عطاری مدنی

                 ٭…ناظم ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی



1    نوٹ:یہ آیتِ سجدہ ہے، پڑھنے سننے والے پر سجدہ واجب ہے۔

Share

Articles

Comments


Security Code