پیشوں کے اعتبار سے نسبتیں (قسط:1)

اَوْلیا، عُلَما و محدّثین  رحمۃ اللہ علیہم جنہوں نے دینِ متین کی خوب خدمت کی اور اسلام کے نُور کو پھیلانے اور علم کی اِشاعت میں اپنا اپنا حصّہ ڈالا، ان بابرکت ہستیوں  کے ناموں  کے ساتھ بعض اوقات  کوئی نسبت آتی ہے،یہ  نسبت کبھی  گلی، محلّے اور شہر کے اعتبار سے لگتی ہے،کبھی   آباء و اجداد اور قبیلے کی مُناسَبت سے اور بعض اوقات ان کے اپنے  پیشوں یا ان کے آباء و اَجْداد کے  پیشوں سے تعلّق کی بِنا پر لگتی ہے۔اس مضمون میں  پیشوں کے اعتبار سے بزرگوں کی نسبتوں کو بیان کیا جائے گا اور ان کا ذکرِ خیر کیا جائے گا۔

اِبْنُ الجَبَّاب:یہ جِباب یعنی جُبّوں کے بیچنے کی طرف نسبت ہے اور اس لقب سے مشہور شخصیت حافظُ الحدیث، مُحدِّثِ اُنْدَلُس امام ابو عمر احمد بن خالد قُرطُبی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ کی ولادت 246ھ میں ہوئی اور وصال322ھ میں ہوا۔قاضی عِیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:آپ فقہِ مالکی میں امام تھے۔امام ذَہبی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو عدیمُ النّظیر (یعنی بے مثال شخص) لکھا اور بعض محدّثین کے بقول  اِبْنُ الْجَبَّاب جیسا مُحدِّث اُنْدَلُس میں پیدا ہی نہیں ہوا۔(سیر اعلام النبلاء،ج 11،ص628، 629)

اَلْبَزّاز:یہ لفظ اس شخص کے لئے کہا جاتا ہے جو بَزّ یعنی ایک قسم کے کپڑوں کو بیچتا ہو۔اس نسبت سے مشہور بزرگوں میں سےایک مُحدِّثِ عراق ،حافظُ الحدیث حضرت ابو عمران موسیٰ بن ہارون رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں۔ آپ کی ولادت 214 ھ میں ہوئی اور وصال 294 ھ میں ہوا۔جلیلُ القدْر امام حضرت ابوبکر احمد بن اسحاق صِبْغی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ہم نے حُفّاظِ حدیث میں حضرت موسیٰ بن ہارون رحمۃ اللہ علیہ سے بڑھ کر رُعْب و دَبْدَبے والا اور متّقی و پرہیزگار نہیں دیکھا۔ حافظُ الحدیث حضرت عبد الغنی بن سعید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: آپ اپنے  وقت میں احادیثِ رسول کے متعلّق لوگوں میں سب سے بہتر کلام فرمانے والے تھے۔ منقول ہے کہ آپ بہت زیادہ حج کرتے تھے،آپ کا طریقہ ٔکار یہ تھا کہ ایک سال  بغداد میں قیام فرماتے اور حج کے بعد ایک سال (مکّۂ مکرّمہ  میں) سُکونت اختیار فرماتے۔امام ذَہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میرا گُمان یہ ہے کہ آپ اس عرصے میں تجارت کرتے ہوں گے۔

(الانساب للسمعانی،ج2،ص186۔سیر اعلام النبلاء،ج 10،ص 104، 105)

اَلْبَزّاریہ لفظ اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو بَزْر یعنی بیج سے تیل نکالتا ہے یا بیج کو بیچتا ہے۔ائمّہ اور عُلَما کی ایک جماعت اس نسبت کے ساتھ مشہور ہے ،ان ہی بزرگوں میں سے ایک حافظُ الحدیث،صاحبِ مُسندِ بزّار، امام ابو بکر احمد بن عَمْرو بَصَری رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں۔آپ کی ولادت211، 212 یاپھر213 ھ میں ہوئی اور وصال 292ھ میں ہوا۔منقول ہے کہ امام بُخاری کے استاذ،امیرُ المؤمنین فی الحدیث حضرت علی بن مدینی رحمۃ اللہ علیہ کے بعد علمِ حدیث میں آپ سے بڑھ کر کوئی عالِم نہیں ہوا۔(الانساب للسمعانی،ج 2،ص182۔مسند البزار،ج 1،ص8 ،14، 16) 

خوشخبری

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ صاحبزاۂ امیرِ اہلِ سنّت مولانا حاجی عُبَید رضا عطّاری مدنی مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی کے یہاں 7 محرم الحرام 1441ھ بمطابق 6ستمبر 2019ء کو بیٹے کی ولادت ہوئی۔ شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت علّامہ محمد الیاس عطاؔر قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنے پوتے کا نام محمد رکھا جبکہ پکارنے کے لئے معاویہ رضا اور کنیت ابو الحسین رکھی۔ پھر فرمایا: یہ نام حکمتوں کا مجموعہ ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ابو صفوان عطاری مدنی  

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ ،کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code