پانچ ملکوں کا سفر

سنتوں بھرے اجتماعات میں بیانات: رات کو مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ممباسہ(کینیا) میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرےاجتماع میں ’’سچ کی برکت‘‘کے موضوع پر بیان کی سعادت ملی جسے ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی  سواہلی زبان میں ترجمہ کرتے رہے۔ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی برکت سے یوں تو بیانات کی سعادت ملتی رہتی ہے لیکن بیان کے دوران ہرچند منٹ کے بعد رُکنا اور پھر ترجمہ ہونے کے بعد تسلسل(Tempo) کو برقرار رکھتے ہوئے بیان جاری رکھنا   ایک امتحان ہوتا ہے۔یہاں سے فارغ ہوکر ایک مقام پر شخصیات اجتماع میں حاضری ہوئی جہا ں بالخصوص کار شوروم(Car showroom) کے کاروبار سے وابستہ اسلامی بھائی جمع تھے۔اس جگہ” پُل  صراط“ کے سفر اوراس کی سواریوں  سے متعلق بیان کیا۔

نمازِ جمعہ: اگلے دن جمعۃُ المبار ک کی نماز سے پہلے ممباسہ شہر کی سب سے بڑی شیخ نُوْرَین مسجد میں شبِ معراج اورماہِ شعبانُ المعظم کے فضائل سے متعلق  انگلش زبان میں بیان کا موقع  ملا۔

اس موقع پر مسجد اسلامی بھائیوں سے بھری  ہوئی تھی جن میں اکثریت بلالی( یعنی سیاہ فام ) تھی ۔نمازِ جمعہ کے بعد کثیر اسلامی بھائیوں سے ملاقات ہوئی ۔

اے عاشقانِ رسول! دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول اور سنتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کی بدولت علمِ دین کی دولت اور اس پر عمل کا جذبہ حاصل ہوتا ہے۔آپ بھی دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت فرمایا کریں۔

شامی مسلمانوں میں مدنی کام: یہاں سے فارغ ہوکر ذمہ دار اسلامی بھائیوں کے ساتھ ایک کارشوروم (car Show room) میں جاکر  ایک اسلامی بھائی سے ملاقات کی  جو مالی لحاظ سے دعوتِ اسلامی کے ساتھ کافی تعاون کرتے ہیں۔ جب انہیں شام سے ہجرت کرکے جرمنی آنے والے مسلمانوں کی حالتِ زار اور ان میں نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے دعوتِ اسلامی کی کاوشوں کا تعارف کروایا گیا تو انہوں نے اس نیک مقصد کے لئے ایک خطیر رقم پیش کرنے کی نیت کی۔

ڈاکٹرز مدنی حلقے میں شرکت: نمازِ مغرب اور عشا کے درمیان  ڈاکٹرزحضرات کا مدنى حلقہ ہوا جس میں ڈاکٹرز کی اچھى تعداد  جمع ہوئی اور ان کے درمیان  نبى پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےشَقِِّ صَدْر([1])کے عنوان پر بیان کی سعادت ملی۔ یہ بیان تقریباً انگلش زبان میں کیا گیا جسے ڈاکٹروں نے کافی دلچسپی سے سنا۔

فارغ التحصیل طلبہ میں تقسیمِ اسناد: نمازِ عشا کے بعد ممباسہ کے ایک مقامی ہال میں سنّتوں بھرا تاریخی اجتماع  ہوا جس میں معراجِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے موضوع پر بیان کیا۔ اسلامی بھائیوں اور شخصیات کی کثیر تعداد اجتماع میں شریک ہوئی۔اجتماع کے  آخر میں ممباسہ کے جامعۃ المدینہُ سے فارغُ التحصیل ہونے والے آٹھ اور مدرسۃُ المدینہ  سے حفظِ قراٰن کی سعادت پانے والے سات طلبۂ کرام  میں تقسیمِ اسناد کا سلسلہ ہوا۔

ممباسہ سے نیروبی آمد: رات تقریباً چار بجے کی فلائٹ کے ذریعے ممباسہ سے کینیا کے دارُالحکومت نیروبی آمد ہوئی اور نمازِ فجر کے بعد آرام کیا۔

میمنی زبان میں دعوتِ اسلامی کی تعارفی ویڈیو: ساؤتھ افریقہ اور دیگر ممالک میں تاجروں کی ایک تعداد موجود ہے  جو میمن برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں سے کئی حضرات اپنے ملک کی مقامی زبان کے علاوہ صرف میمنی زبان جانتے ہیں۔گزشتہ دنوں  ساؤتھ افریقہ کے اسلامی بھائیوں کی طرف سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ دعوتِ اسلامی کی تعارفی ویڈیو جس طرح اُردو ،عربی اور انگریزی زبانوں میں موجود ہے اسی طرح میمنی زبان میں بھی ہونی چاہئے،اِنْ شَآءَ اللہ اس سے  دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں مدد ملے گی۔ نیروبی آمد کے بعد دوپہر میں ایک اسلامی بھائی کے گھرجاناہواجہاں ہم نے دعوتِ اسلامی کی تعارفی ویڈیو (Introductory video) تیار کی جسے سوشل میڈیا پر پیش کیا جاچکا ہے آپ بھی وہ ویڈیو نیچے دیئےگئے لِنک پر دیکھ سکتے ہیں:

www.youtube.com/watch?v=W4nkmkfEqPk

شخصیات اجتماع: نمازِ عصر سے مغرب کے درمیان گوشت کا کاروبار کرنے والی ایک   شخصیت  کے یہاں شخصىات اجتماع میں ’’اىثار‘‘ کے موضوع پر بىان  کرنے کا موقع ملا۔نمازِ مغرب سے عشا کے درمیان  مدنی چینل کے ذریعے براہِ راست (Live)مدنى مذاکرے میں شرکت ہوئی۔

ماضی کی سنہری یادیں: نمازِ عشا کے بعد نیروبى کی ایک  بڑى  اورتارىخى ’’پنگانى مسجد‘‘ مىں  سنّتوں بھرا اجتماع  ہوا جس مىں شانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے موضوع پر بىان کرنے کى سعادت ملى۔پنگانى مسجد سے مىرى بڑى ىادىں وابستہ ہىں۔ 1993ء مىں سیّد عبدالقادر ضیائیرحمۃ اللہ علیہ ،نگران مجلسِ نعت خواں حاجى شبىرعطّاری اور حاجى الطاف جانى کے ہمراہ قافلے کے ساتھ نىروبى آنا ہوا تھا۔ حاجى الطاف جانى وہ اسلامى بھائى ہیں  جنہوں نے ایک عرصے تک بىرونِ ملک مدنى کاموں کى بہت بڑى ذمہ دارى تَنِ تنہا سنبھالى تھی، اللہ کریم انہیں درازیِ عمر بالخیر عطا فرمائے۔ اس قافلے کے دوران مجھے پنگانى مسجد مىں نعت شریف پڑھنے کى سعادت ملى تھى اور آج  تقریباً 26 سال بعد اسی مسجد میں  اىک عظىمُ الشّان سنّتوں بھرےاجتماع مىں بىان کرنے کى سعادت حاصل ہوئی۔یہ سب میرے شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت علامہ محمد الیاس عطّاؔرقادری مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی کے دامن  سے وابستگی کا صدقہ ہے۔

خاک مجھ میں کمال رکھا ہے

مُرشِدی نے سنبھال رکھا ہے

لاعلمی کے باعث آزمائش: سنّتوں بھرے اجتماع  سے فارغ ہوئے تو تھکن سے برا حال تھا۔اپنی رہائش گاہ پہنچ کر سونے کے لئے   لیٹے تو دیکھا کہ ہر بستر کے اوپر چھت کے ساتھ باریک جالی لگی ہوئی تھی لیکن سمجھ نہ آئی کہ یہ کس لئے لگی ہوئی ہے؟کچھ ہی دیر بعد مچھروں نے کاٹنا شروع کردیا اور تقریباً پوری رات مچھروں کے کاٹے کو کھجاتے ہوئے گزر گئی۔فجر کے لئے بیدار ہوکر جب صاحبِ خانہ کو یہ معاملہ بتایا تو انہوں نے کہا کہ یہ جالی ہم نے اسی لئے لگائی ہوئی ہےکہ اسے نیچے کرکے سوئیں تاکہ مچھروں سے حفاظت رہے۔

اللہ کریم ہمیں مرتے دم تک سنّتوں کی خدمت کے لئے اپنی راہ میں سفر کرتے رہنے اور  اس میں آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: یہ مضمون ان کے پیغامات وغیرہ کی مدد سے تیار کرکے انہیں چیک کروانے کے بعد پیش کیا گیا ہے۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مولاناعبد الحبیب عطاری 

٭…رکن  شوریٰ و نگران مجلس مدنی چینل



1   فرشتوں کے رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک سینے کو چاک کرکے(یعنی چیر کر)اُسے نور و حکمت سے بھرنے کو’’ شقِّ صَدْر‘‘ اور’’ شرحِ صَدْر ‘‘کہتے ہیں۔ مزید تفصیل جاننے کیلئے ماہنامہ فیضانِ مدینہ  شمارہ مئی2019ء صفحہ 21 ملاحظہ فرمائیے۔

Share

Articles

Comments


Security Code