- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم اپنے اور تمہارے بیٹوں کو بلائیں ۱∞؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جناب علی اور فاطمہ اور حسن و حسین کو بلایا ۲؎عرض کیا الٰہی میرے گھر والے یہ ہیں ۳؎(مسلم)
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هٰذِهِ الآيَةُ {نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ: «اللّٰهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي» رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6135 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک صبح کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم باہر تشریف لے گئے آپ پر کالی اون کی مخلوط چادرتھی ۱∞؎حسن ابن علی آئے حضور نے انہیں داخل کرلیا پھر جناب حسین آئے وہ بھی انکے ساتھ داخل ہوگئے پھر جناب فاطمہ آئیں انہیں بھی داخل کرلیا گیا پھر جناب علی آئے انہیں بھی داخل کرلیا پھر فرمایا اے نبی کے گھر والوں اللہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کردے ۲؎اور تم کو خوب پاک و صاف فرمادے ۳؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَدْخَلَهٗ ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهٗ ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا ثُمَّ جَاءَ عَلَيٌّ فَأَدْخَلَهٗ ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6136 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ جب جناب ابراہیم کی وفات ہوئی ۱∞؎تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں اس کے لیے ایک دائی ہے ۲؎(بخاری)
وَعَن الْبَراء قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لَهٗ مُرْضِعًا فِي الْجنَّةِ رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6137 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں آپ کے پاس تھیں جناب فاطمہ آئیں ۱∞؎آپ کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی چال سے بالکل مختلف نہ تھی ۲؎تو جب انہیں حضور نے دیکھا تو فرمایا خوش آمدید اے میری بچی پھر انہیں بٹھالیا پھر ان سے کچھ سرگوشی کی ۳؎آپ بہت سخت روئیں تو جب ان کا رنج ملاحظہ فرمایا تو ان سے دوبارہ سرگوشی فرمائی تو وہ ہنس پڑی۴؎پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے گئے تو میں نے ان سے سرگوشی کے متعلق پوچھا۵؎آپ بولیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا راز فاش نہیں کرسکتی پھر جب حضور کی وفات ہوگئی تو میں نے کہا کہ میں تم کو اس کی وجہ سے جو میرا تم پر حق ہے قسم دیتی ہوں کہ تم مجھے بتادو ۶؎آپ بولیں لیکن اب تو ہاں ضرور۷؎جس وقت حضور نے پہلی بار مجھ سے سرگوشی کی تو آپ نے مجھے خبر دی کہ حضرت جبریل ہر سال مجھ پر قرآن مجید ایک بار پیش کیا کرتے تھے اور انہوں نے اس سال مجھ پر دو بار پیش کیا۸؎میں نہیں خیال کرتا مگر یہ کہ میری وفات قریب ہے تم اللہ سے ڈرتی رہنا اورصبر کرنا ۹؎میں تمہارا بہترین پیش رو ہوں ۱۰؎تو میں رونے لگی تو جب حضور نے میری گھبراہٹ دیکھی تو مجھ سے دوبارہ سرگوشی کی فرمایا اے فاطمہ کیا تم اس پر اضی نہیں کہ تم جنتی لوگوں کی بیویوں یا مؤمنوں کی بیویوں کی سردار ہو ۱۱∞؎اور ایک روایت میں ہے کہ مجھ سے حضور نے سرگوشی کی کہ اس بیماری میں حضور کی وفات ہوگی تو میں روئی پھر مجھ سے دوبارہ سرگوشی کی مجھے خبر دی کہ میں ان کے گھر والوں میں پہلی ہوں گی جو ان کے پیچھے پہنچوں گی۱۲؎تو میں ہنس پڑی۔ (مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ: قَالَتْ: كُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهٗ. فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ مَا تَخْفٰى مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهَا قَالَ: «مَرْحَبًا بِابْنَتِي» ثُمَّ أَجْلَسَهَا ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا فَلَمَّا رَأٰى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَإِذَا هِيَ تَضْحَكُ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَمَّا سَارَّكِ؟ قَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهٗ فَلَمَّا تُوُفِّيَ قُلْتُ: عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِيَ عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ لَمَّا أَخْبَرْتِينِي. قَالَتْ: أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ أَمَّا حِينَ سَارَّ بِي فِي الْأَمْرِ الأَوَّلِ فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي: "أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهٗ بِالْقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً،وَإنَّهٗ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَلَا أَرَى الأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ فَاتَّقِي اللّٰهَ وَاصْبِرِي فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ» فَلَمَّا رَأٰى جَزَعِي سَارَّنِيَ الثَّانِيَةَ قَالَ: «يَا فَاطِمَةُ أَلَا تَرْضِينَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ؟»وَفِي رِوَايَةٍ: فَسَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهٗ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهٖ فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهٖ أَتْبَعُهٗ فَضَحِكْتُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6138 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت مسور ابن مخرمہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ فاطمہ میر اٹکڑا ہے ۱∞؎جس نے انہیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ جو چیز انہیں پریشان کرے وہ مجھے پریشان کرتی ہے اور جو انہیں تکلیف دے مجھے ستاتا ہے ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي» وَفِي رِوَايَةٍ: «يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6139 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم ایک دن ہم میں خطیب کھڑے ہوئے اس پانی پر جسے خم کہا جاتا ہے ۱ ∞ ؎مکہ مدینہ کے بیچ تو الله کی حمدوثناء کی اور وعظ و نصیحت فرمائی پھر فرمایا کہ حمد کے بعد لوگو خبردار میں بشر ہوں ۲؎قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد میرے پاس آجائے میں اس کا بلاوا قبول کرلوں۳؎میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑتا ہوں۴؎جن میں سے پہلی تو الله کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے ۵؎تم الله کی کتاب لو اسے مضبوط پکڑو ۶؎پھر کتاب الله پر ابھارا اس کی رغبت دی ۷؎پھر فرمایا اور میرے اہل بیت ۸؎میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق الله سے ڈراتا ہوں میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق الله سے ڈراتا ہوں۹؎اور ایک روایت میں ہے کہ الله کی کتاب الله کی رسی ہے ۱۰؎جس نے اس کی اتباع کی وہ ہدایت پر رہا جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہی پرہوا ۱۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعٰى: خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ: " أمَّا بَعْدُ أَلا أيُّها النَّاس فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللّٰهِ فِيهِ الْهُدٰى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللّٰهِ وَاسْتَمْسِكُوا بِهٖ " فَحَثَّ عَلٰى كِتَابِ اللّٰهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ: وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللّٰهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللّٰهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي وَفِي رِوَايَةٍ«كِتَابُ اللهِ هُوَ حَبْلُ اللّٰهِ مَنِ اتَّبَعَهٗ كَانَ عَلَى الهُدٰى وَمَنْ تَرَكَهٗ كَانَ عَلَى الضَّلَالَةِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6140 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ وہ جب حضرت ابن جعفر کو سلام کرتے تو کہتے تھے تم پر سلام ہو اے دو پروں والے کے فرزند ۱∞؎(بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَأَنَّهٗ كَانَ إِذَا سَلَّمَ عَلٰى ابْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ ذِي الْجَنَاحَيْنِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6141 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ حسن ابن علی آپ کے کندھے پر تھے آپ فرماتے تھے الٰہی میں اس سے محبت کرتا ہوں تو تو اس سے محبت کر ۱∞؎(مسلم، بخاری)
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلٰى عَاتِقِهٖ يَقُولُ: اللّٰهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهٗ فَأَحِبَّهُ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6142 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ دن کے ایک حصہ میں نکلا حتی کہ آپ جناب فاطمہ کے ڈیرے پر آئے تو فرمایا کہ کیا یہاں بچہ ہے کیا یہاں بچہ ہے ۱∞؎یعنی جناب حسن تو نہ ٹھہرے کہ حسن دوڑتے ہوئے آگئے حتی کہ ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے صاحب کے گلے لگ گئے پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا الٰہی میں اس سے محبت کرتا ہوں تو تو بھی اس سے محبت کر اور جو اس سے محبت کرے اس سے محبت کر ۲؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنَ النَّهَارِ حَتّٰى أَتٰى خِبَاءَ فَاطِمَةَ فَقَالَ: أَثَمَّ لُكَعُ؟ أَثَمَّ لُكَعُ؟ يَعْنِي حَسَنًا فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ يَسْعٰى حَتّٰى اعْتَنَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهٗ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللّٰهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهٗ فَأَحِبَّهٗ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهٗ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6143 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو منبر پر دیکھا کہ حسن ابن علی آپ کی ایک کروٹ پر تھے آپ کبھی لوگوں پر توجہ فرماتے اور کبھی ان پر اور فرماتے تھے ۲؎کہ میرا یہ بیٹا سید ہے۳؎شاید کہ الله تعالٰی اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرادے ۴؎(بخاری )۵؎
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ:رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى المِنْبَرِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلٰى جَنْبِهٖ وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ أُخْرٰى وَيَقُولُ: «إِنَّ ابْنِي هٰذَاسَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللّٰهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهٖ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6144 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابی نعم ۱∞؎سے فرماتے ہیں کہ میں نے جناب عبدالله ابن عمر کو سنا جب کہ آپ سے ایک شخص نے مُحرم کے متعلق پوچھا،شعبہ کہتے ہیں کہ مجھے خیال ہے کہ یہ پوچھا کہ مُحرم مکھی مار سکتا ہے ۲؎تو فرمایا عراقی لوگ مجھ سے مکھی کے متعلق پوچھتے ہیں اور رسول الله کی دختر کے بیٹے کو قتل کرچکے ہیں،فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ وہ دونوں دنیا میں میرے پھول ہیں ۳؎(بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهٗ رَجُلٌ عَنِ الْمُحْرِمِ قَالَ شُعْبَةُ أَحْسَبُهٗ يَقْتُلُ الذُّبَابَ؟ قَالَ: أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونِي عَنِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُمَا رَيْحَانَّيَّ مِنَ الدُّنْيَا» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6145 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جناب حسن ابن علی سے زیادہ کوئی بھی نبی صلی الله علیہ وسلم سے مشابہ نہ تھا ۱∞؎اور جناب حسین کے بارے میں ۲؎بھی فرمایا کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ہم شکل تھے۔(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَقَالَ فِي الْحُسَیْنِ أَيْضًا: كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6146 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی الله علیہ و سلم نے اپنے سینہ سے لگایا پھر فرمایا الٰہی انہیں حکمت سکھا اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں قرآن سکھا ۱∞؎(بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ضَمَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى صَدْرِهٖ فَقَالَ: «اللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ»وَفِي رِوَايَةٍ: «عَلِّمْهُ الْكِتَابَ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6147 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم پاخانہ تشریف لے گئے تو میں نے آپ کے لیے وضو کا پانی رکھا ۱∞؎تو جب آپ باہر آئے فرمایا یہ کس نے رکھا ہے حضور کو خبر
دی گئی تو فرمایا الٰہی اسے دین کا فقیہ بنادے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْخَلَاءَ فَوَضَعْتُ لَهٗ وَضُوءًا فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: «مَنْ وَضَعَ هٰذَا ؟» فَأُخْبِرَ فَقَالَ:«اللّٰهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6148 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے ۱∞؎وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی ہے کہ حضور انہیں اور جناب حسن کو پکڑتے تھے عرض کرتے تھے الٰہی میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر ۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مجھے پکڑتے اور مجھے اپنی ران پر بٹھاتے تھے اور حسن ابن علی کو اپنی دوسری ران پر بٹھالیتے تھے پھر ان دونوں کو لپٹاتے تھے ۳؎پھر فرماتے الٰہی ان دونوں پر رحم فرما کہ میں ان پر رحم کرتا ہوں ۴؎(بخاری)
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ كَانَ يَأْخُذُهٗ وَالْحَسَنَ فَيَقُولُ: «اللّٰهُمَّ أَحِبَّهُمَا فَإِنِّي أُحبُّهما»وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي فَيُقْعِدُنِي عَلٰى فَخِذِهٖ وَيُقْعِدُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلٰى فَخِذِهِ الْأُخْرٰى ثُمَّ يَضُمُّهُمَا ثُمَّ يَقُولُ: «اللّٰهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أَرْحَمُهُمَا» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6149 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر حضرت اسامہ ابن زید کو امیر بنایا ۱∞؎تو بعض لوگوں نے ان کی امارت میں اعتراض کیا۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تم لوگ ان کے امیر ہونے میں طعنہ کرتے ہو تو تم ان کے والد کے امیر ہونے میں بھی اس سے پہلے طعنہ کرتے تھے۳؎الله کی قسم وہ امیری کے لائق تھے۴؎اور وہ مجھے لوگوں سے زیادہ پیارے تھے اور یہ بھی ان کے بعد مجھے لوگوں میں پیارے ہیں ۵؎(مسلم،بخاری )اور مسلم کی دوسری روایت میں اسی کی مثل ہے اس کے آخر میں ہے کہ تم کو ان کے متعلق وصیت کرتا ہوں کہ وہ تمہارے صالحین میں سے ہیں ۶؎
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهٖ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَأَيْمُ اللّٰهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هٰذَالَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهٗ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ نَحْوُهٗ وَفِي آخِرهٖ: «أُوصِيكُمْ بِهٖ فَإِنَّهٗ مِنْ صَالِحِيكُمْ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6150 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ زید ابن حارثہ یعنی رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے غلام ہم انہیں زید ابن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے ۱∞؎حتی کہ قرآن مجید نازل ہوا کہ لوگوں کو ان کے باپوں کے نام سے بلاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)حضرت براء کی حدیث کہ حضور نے علی سے فرمایاانت منیبلوغ صغیر اور پرورش کے باب میں ذکر کردی گئی۔
وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ زَيْدَ بْنِ حَارِثَةَ مَوْلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتّٰى نَزَلَ الْقُرْآن: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ} (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَذُكرَ حَدِيثُ الْبَراءِ قَالَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي» فِي «بَابِ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهٖ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6151 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو آپ کے حج میں عرفہ کے دن دیکھا جب کہ آپ اپنی اونٹنی قصواء پر خطبہ پڑھ رہے تھے ۱∞؎میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ اے لوگو میں نے تم میں وہ چیز چھوڑی ہے کہ جب تک تم ان کو تھامے رہو گے گمراہ نہ ہوگے الله کی کتاب اور میری عترت یعنی اہل بیت ۲؎(ترمذی)
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهٖ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلٰى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ فَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهٖ لَنْ تَضِلُّوا: كِتَابَ اللّٰهِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6152 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں تم میں وہ چیز چھوڑتا ہوں کہ اگر تم اسے تھامے رہو تو میرے بعد گمراہ نہ ہو گے ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے ۱∞؎الله کی کتاب جو آسمان سے زمین تک دراز رسی ہے۲؎اور میری عترت یعنی میرے اہل بیت یہ دونوں جدا نہ ہوں گے حتی کہ میرے پاس حوض پر آجاویں۳؎تو غورکرو تم ان دونوں سے میرے بعد کیا معاملہ کرتے ہو۔(ترمذی)
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهٖ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ:كِتَابُ اللّٰهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتّٰى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6153 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جناب علی اور فاطمہ اور حسن و حسین سے فرمایا کہ جو ان سے لڑے میں ان سے لڑنے والا ہوں اور جو ان سے صلح کرے میں ان سے صلح جو ہوں ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: «أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَهُمْ وَسَلِمٌ لِمَنْ سَالَمَهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6154 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین