- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم بہت بھاری بیمار ہوگئے تو میں اور دوسرے لوگ مدینہ آئے میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۱∞؎جب کہ کلام فرمانا بند ہوچکا تھا تو حضور نے کوئی بات نہ کی پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم اپنے ہاتھ مجھ پر رکھنے اور اٹھانے لگے میں پہچان گیا کہ آپ میرے لیے دعائیں فرما رہے ہیں ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُصْمِتَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ عَلَيَّ يَدَيْهِ وَيَرْفَعُهُمَا فَأَعْرِفُ أَنَّهٗ يَدْعُو لِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6175 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے اسامہ کی ناک صاف کرنے کا ارادہ کیا ۱∞؎تو جناب عائشہ نے عرض کیا مجھے اجازت دیجئے کہ یہ کام میں کروں فرمایا اے عائشہ ان سے محبت کرو کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَحِّي مُخَاطَ أُسَامَةَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: دَعْنِي حَتّٰى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَفْعَلُ.قَالَ: يَا عَائِشَةُ أَحِبِّيهِ فَإِنِّي أُحِبُّهٗ .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6176 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت اسامہ سے فرمایا کہ میں بیٹھا ہوا تھا ۱∞؎کہ جناب علی و عباس آئے اجازت داخلہ چاہتے تھے انہوں نے اسامہ سے کہا کہ ہمارے واسطے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے اجازت لے دو ۲؎میں نے عرض کیا یارسول الله علی اور عباس اجازت مانگ رہے ہیں فرمایا کیا تم جانتے ہو کیا مقصد انہیں یہاں لایا ہے میں نے کہا نہیں فرمایالیکن میں جانتا ہوں۳؎انہیں اجازت دے دو وہ دونوں حاضر ہوئے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم ہم یہ پوچھنے حاضر ہوئے ہیں کہ حضور کو اپنے گھروالوں میں کوئی زیادہ پیارا ہے۴؎فرمایا فاطمہ بنت محمد،وہ بولے ہم آپ کے اہل بیت کے متعلق پوچھنے نہیں آئے ہیں ۵؎فرمایا میرے گھر والوں میں مجھے زیادہ پیارا وہ ہے جس پر الله نے بھی انعام کیا اور میں نے بھی انعام کیا ۶؎یعنی اسامہ ابن زید۷؎وہ بولے پھر کون فرمایا علی ابن ابی طالب ۸؎تو جناب عباس نے کہا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم آپ نے اپنے چچا کو ان سب سے آخر کر دیا۹؎فرمایا کہ علی تم سے ہجرت میں سبقت لے گئے ہیں ۱۰؎(ترمذی)یہ حدیث کہعم الرجل صنو ابیہکتاب الزکوۃ میں ذکر کردی گئی۔
وَعَنْ أُسَامَةَ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ فَقَالَا لِأُسَامَةَ: اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ. فَقَالَ: «أَتَدْرِي مَا جَاءَ بِهِمَا؟» قُلْتُ: لَا.قَالَ:« لٰكِنِّي أَدْرِي ائْذَنْ لَهُمَا» فَدَخَلَا فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ أَيُّ أَهْلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ» قَالَا: مَا جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَهْلِكَ قَالَ: " أَحَبُّ أَهْلِي إِلَيَّ مَنْ قَدْ أَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ: أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ " قَالَا: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ جَعَلْتَ عَمَّكَ آخِرَهُمْ؟ قَالَ: «إِنَّ عَلِيًّا سَبَقَكَ بِالْهِجْرَةِ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَذُكِرَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ فِي "كِتَابِ الزَّكَاةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6177 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت عقبہ ابن حارث سے ۱ ∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے عصر کی نماز پڑھی پھر نکلے چل رہے تھے آپ کے ساتھ حضرت علی تھے تو حسن کو دیکھا بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے انہیں اپنے کندھے پر اٹھالیا اور فرمایا میرے باپ صدقے ۲؎تم نبی صلی الله علیہ و سلم کی ہم شکل ہو علی کے ہم شکل نہیں اور علی ہنس رہے تھے۳؎(بخاری)
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: صَلّٰى أَبُو بَكْرٍ الْعَصْرَ ثُمَّ خَرَجَ يَمْشِي وَمَعَهٗ عَلِيٌّ فَرَأَى الحَسَنَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَحَمَلَهٗ عَلٰى عَاتِقِهِ. وَقَالَ: بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ صَلَى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيٍّ وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6178 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ عبید الله ابن زیاد کے پاس حضرت حسین کا سر لایا گیا ۱∞؎تو طشت میں رکھا گیا ۲؎وہ ٹھونکنے لگا۳؎اور ان کے حسن کےمتعلق کچھ کہا۴؎حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ الله کی قسم یہ سب سے زیادہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی ہم شکل تھے۵؎اور آپ وسمہ کا خضاب لگائے ہوئے تھے۔(بخاری)اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ میں ابن زیاد کے پاس تھا کہ حضرت حسین کا سر لایا گیا تو وہ آپ کی ناک میں چھڑی مارنے لگا اور کہنے لگا کہ میں نے اس جیسا حسین نہ دیکھا تو میں نے کہا کہ آپ سب سے زیادہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ہم شکل تھے۶؎اور ترمذی نے کہا یہ حدیث صحیح بھی ہے حسن بھی غریب بھی۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُتِىَ عُبَيْدُ اللّٰهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ وَقَالَ فِي حُسْنِهٖ شَيْئًا قَالَ أَنَسٌ: فَقُلْتُ: وَاللّٰهِ إِنَّهٗ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسِمَةِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِقَضِيبٍ فِي أَنْفِهٖ وَيَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هٰذَاحُسْنًا. فَقُلْتُ: أَمَا إِنَّهٗ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6179 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے ام الفضل بنت حارث سے ۱∞؎کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں بولیں یارسول الله میں نے آج رات ایک خطرناک خواب دیکھا ہے ۲؎فرمایا کیا ہے،بولیں حضور بہت خطرناک ہے فرمایا وہ کیا ہے،بولیں میں نے دیکھا جیسے کہ آپ کے جسم کا ٹکڑا کٹا اور میری گود میں رکھا گیا۳؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے اچھی خواب دیکھی ہےان شاء اللهفاطمہ لڑکا جنے گی وہ بچہ تمہاری گود میں رہے گا ۴؎چنانچہ جناب فاطمہ نے حضرت حسین کو جنم دیا وہ میری گود میں رہے جیسے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا۵؎پھر میں ایک دن رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی انہیں آپ کی گود میں بھر دیا پھر میرا دھیان بٹ گیا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۶؎فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یانبی الله آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں یہ کیا ہے ۷؎فرمایا میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے تھے مجھے خبر دی کہ میری امت میرے اس فرزند کو قتل کرے گی۸؎میں نے کہا اس کو فرمایا ہاں اور وہ میرے پاس وہاں کی سرخ مٹی میں سے کچھ مٹی لائے ۹؎
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي رَأَيْتُ حُلْمًا مُنْكَرًا اللَّيْلَةَ. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: إِنَّهٗ شَدِيدٌ قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ قِطْعَةً مِنْ جَسَدِكَ قُطِعَتْ وَوُضِعَتْ فِي حِجْرِي. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتِ خَيْرًا تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ غُلَامًا يَكُونُ فِي حِجْرِكِ . فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ الْحُسَيْنَ فَكَانَ فِي حِجْرِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَدَخَلْتُ يَوْمًا عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهٗ فِي حِجْرِهٖ ثُمَّ كَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ فَإِذَا عَيْنَا رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَهْرِيقَانِ الدُّمُوعَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّيْ مَالَكَ؟ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّتِي سَتَقْتُلُ ابْنِي هٰذَافَقُلْتُ: هٰذَا ؟ قَالَ: نَعَمْ وَأَتَانِي بِتُرْبَةٍ مِنْ تُرْبَتِهِ حَمْرَآءَ "
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6180 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو ایک دن دوپہری میں خواب میں دیکھا پرا گنداہ بال گردا گرد آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی تھی جس میں خون تھا ۱∞؎میں نے کہا کہ میرے ماں باپ فدا ہوں یہ کیا ہے فرمایا یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے آج میں اس خون کو اٹھاتا رہا ۲؎میں وہ وقت خیال میں رکھنے لگا میں نے یہ وقت قتل کا پایا۳؎یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیں اور احمد نے آخری حدیث روایت کی۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہٗ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ ذَاتَ يَوْمٍ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ بِيَدِهٖ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا هٰذَا ؟ قَالَ: هٰذَادَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهٖ وَلَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهٗ مُنْذُ الْيَوْمِ» فَأُحْصِي ذَلِكَ الْوَقْتَ فَأَجِدُ قُتِلَ ذَلِكَ الْوَقْتَ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ" وَأَحْمَدُ الأَخِيرَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6181 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمت سے روزی دیتا ہے ۱∞؎اور الله کی محبت کے لیے مجھ سے محبت کرو۲؎اور میری محبت کے لیے میرے اہل بیت سے محبت کرو۳؎(ترمذی)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحِبُّوا اللّٰهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِۃٍ وَأَحِبُّونِي لِحُبِّ اللّٰهِ وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6182 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت ابو ذر سے ۱∞؎کہ انہوں نے کعبہ کا دروازہ پکڑےہوئے فرمایا۲؎کہ میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ آگاہ رہو کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال جناب نوح کی کشتی کی طرح ہے جو اس میں سوار ہوگیا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا ہلاک ہوگیا۳؎(احمد)
وَعَنْ أَبِيْ ذَرٍّ أَنَّهٗ قَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِبَابِ الْكَعْبَةِ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَلَا إِنَّ مِثْلَ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مِثْلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هَلَكَ . رَوَاهُ أَحْمدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6183 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین