- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے جمیع ابن عمیر سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں اپنی پھوپھی کے ساتھ حضرت عائشہ کے پاس گیا میں نے پوچھا کون شخص نبی صلی الله علیہ و سلم کو بہت پیارا تھا۲؎آپ نے فرمایا فاطمہ پھر کہا گیا کہ مردوں میں فرمایا ان کے خاوند۳؎(ترمذی)
وَعَنْ جَمِيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلٰى عَائِشَةَ فَسَأَلْتُ: أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: فَاطِمَةُ. فَقِيلَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ: زَوْجُهَا إِنْ كَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6155 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت عبدالمطلب ابن ربیعہ سے ۱∞؎کہ جناب عباس رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں بہت غصہ کی حالت میں آئے ۲؎میں حضور کے پاس تھا حضور نے فرمایا آپ کو کس چیز نے غصہ میں کیا عرض کیا یارسول الله ہم کو قریش سے کیا تعلق ہے کہ جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ہنس مکھ ہوکر ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اس کے سوا اور طریقہ سے ملتے ہیں ۳؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم ناراض ہوئے حتی کہ آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا۴؎پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کسی کے دل میں ایمان داخل نہ ہوگا حتی کہ الله رسول کے لیے تم لوگوں سے محبت کرے ۵؎پھر فرمایا اے لوگو جس نے میرے چچا کو ستایا اس نے مجھے ستایا ۶؎کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مثل ہے۷؎(ترمذی)اور مصابیح میں مُطلب سے روایت کی۔
وَعَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ الْعَبَّاسَ دَخَلَ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا وَأَنَا عِنْدَهٗ فَقَالَ: «مَا أَغْضَبَكَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ الله مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشَرَةٍ وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذٰلِكَ؟ فَغَضِبَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى احْمَرَّ وَجْهُهٗ ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتّٰى يُحِبَّكُمْ لِلّٰهِ وَلِرَسُولِهٖ» ثمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذٰى عَمِّي فَقَدْ آذَانِي فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَفِي "الْمَصَابِيحِ" عَنِ الْمُطَّلِبِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6156 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ عباس مجھ سے ہیں اور میں عباس سے ہوں ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَبَّاسُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6157 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے عباس سے فرمایا کہ جب پیر کا سویرا ہو تو تم اور تمہارے فرزند میرے پاس آؤ ۱∞؎تاکہ میں تمہارے لیے ایسی دعا کروں جس سے الله تم کو اور تمہارے فرزند کو نفع دے چنانچہ وہ اور ان کے ساتھ ہم سب سویرے ہی گئے حضور نے ہم کو اپنا کمبل اوڑھایا ۲؎پھر فرمایا الٰہی عباس اور ان کے بیٹے کی ظاہری و باطنی بخشش کر۳؎جو کوئی گناہ نہ چھوڑے الٰہی ان کی حفاظت فرما ان کی اولاد میں ۴؎(ترمذی)اور رزین نے زیادہ کیا کہ الٰہی ان کی اولاد میں خلافت مقرر فرما۵؎ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے
وَعَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «إِذَا كَانَ غَدَاةَ الِاثْنَيْنِ فَأْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ حَتّٰى أَدْعُوَ لَهُمْ بِدَعْوَةٍ يَنْفَعُكَ اللّٰهُ بِهَا وَوَلَدَكَ» فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهٗ وَأَلْبَسَنَا كِسَاءَهٗ ثُمَّ قَالَ: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهٖ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً لَا تُغَادِرُ ذَنْبًا اللّٰهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهٖ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ رَزِينٌ: «وَاجْعَلِ الْخِلَافَةَ بَاقِيَةً فِي عَقِبِهٖ» وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6158 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے انہیں سے کہ انہوں نے جبریل کو دوبار دیکھا اور ان کے لیے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے دو بار دعا کی ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْهُ أَنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ مَرَّتَيْنِ وَدَعَا لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مرَّتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6159 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے انہیں سے کہ انہوں نے فرمایا کہ میرے لیے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے دوبار دعا کی کہ الٰہی انہیں حکمت عطا کر ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْهُ أَنَّهٗ قَالَ: دَعَا لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْتِيَنِي اللّٰهُ الْحِكْمَةَ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6160 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جناب جعفر فقراء سے بہت محبت کرتے تھے ۱∞؎اور ان کے پاس بیٹھتے تھے ان سے باتیں کرتے تھے ۲؎وہ آپ سے باتیں کرتے تھے رسول الله صلی الله علیہ و سلم آپ کی کنیت ابو المساکین رکھتے تھے۳؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ جَعْفَرٌ يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهٗ وَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَنِّيهِ بِأَبِي الْمَسَاكِينِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6161 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں نے جناب جعفر کو فرشتوں کے ساتھ جنت میں اڑتے دیکھا ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلَائِكَةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6162 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6163 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن اور حسین یہ دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۱∞؎(ترمذی)یہ حدیث پہلی فصلی میں گزر چکی ۲؎
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَيَّ مِنَ الدُّنْيَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَدْ سَبَقَ فِي الْفَصْلِ الأَوَّلِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6164 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں ایک رات کسی کام سے نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں گیا ۲؎تو نبی صلی الله علیہ و سلم اس طرح تشریف لائے کہ آپ کسی چیز کو گود میں لیے تھے مجھے خبر نہ تھی کہ وہ کیا ہے۳؎تو جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا میں نے پوچھا یہ کیا ہے جو آپ گود میں لیے ہیں ۴؎حضور نے اسے کھولا تو حسن و حسین آپ کی رانوں پر تھے فرمایا یہ میرے دونوں بیٹے میری بیٹی کے بیٹے ہیں ۵؎الٰہی میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر اور جو ان سے محبت کرے اس سے بھی محبت کر۶؎(ترمذی)
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلٰى شَيْء وَلَا أَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي قُلْتُ: مَا هٰذَاالَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ؟ فَكَشَفَهٗ فَإِذَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلٰى وَرِكَيْهِ.فَقَالَ:«هٰذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِي اللّٰهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6165 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت سلمیٰ سے ۱∞؎فرماتی ہیں کہ میں ام سلمہ کے پاس گئی وہ رو رہی تھیں میں نے کہا آپ کو کیا چیز رلاتی ہے آپ بولیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا یعنی خواب میں ۲؎آپ کے سر اور ڈاڑھی مبارک پر مٹی ہے تو میں نے عرض کیا یارسول الله آپ کا یہ حال کیسا ہے فرمایا میں ابھی قتل حسین کے موقعہ پر حاضر تھا ۳؎(ترمذی)اور کہا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ سَلْمٰى قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلٰى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِي تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي فِي الْمَنَامِ وَعَلٰى رَأْسِهٖ وَلِحْيَتِهٖ التُّرَابُ فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6166 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ اہل بیت میں آپ کو زیادہ پیارا کون ہے فرمایا حسن اورحسین ۱∞؎اور حضور فاطمہ سے فرماتے تھے کہ میرے پاس میرے بچوں کو بلاؤ پھر انہیں سونگھتے تھے اور اپنے سے لپٹاتے تھے۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۳؎
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟قَالَ:«الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ» وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ: «ادْعِي لِي ابْنَيَّ» فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6167 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ہم کو خطبہ دے رہے تھے ۱∞؎اچانک حسن و حسین آئے جن پر دو سرخ قمیضیں تھیں ۲؎وہ چلتے تھے اور گرتے تھے۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم منبر سے اتر آئے ان دونوں کو اٹھالیا اور اپنے سامنے بٹھالیا۴؎پھر فرمایا سچ فرمایا الله تعالٰی نے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں ۵؎میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا کہ چلتے گرتے ہیں تو میں صبر نہ کرسکا حتی کہ میں نے اپنی بات بند کردی اور ان دونوں کو اٹھالیا ۶؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللّٰهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ نَظَرْتُ إِلٰى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتّٰى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6168 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن مرہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۲؎الله اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے،حسین اسباط میں سے ایک سبط ہیں ۳؎(ترمذی)
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ أَحَبَّ اللّٰهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا حُسَيْنٌ سِبَطٌ مِنَ الأَسْبَاطِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6169 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت علی سے فرمایا کہ حسن سینے اور سر کے درمیان رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے بہت مشابہہ تھے ۱∞؎اور حسین اس سے نیچے کے حصہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے بہت مشابہہ تھے ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: الْحَسَنُ أَشْبَهُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذٰلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6170 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے اجازت دو کہ میں نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں جاؤں آپ کے ساتھ مغرب پڑھوں ۱∞؎اور آپ سے عرض کروں کہ میرے اور تمہارے لیے دعائے مغفرت کریں ۲؎تو میں نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کے ساتھ مغرب پڑھی آپ نے مغرب پڑھی حتی کہ عشاء پڑھی ۳؎پھر حضور واپس ہوئے میں آپ کے پیچھے گیا،حضور نے میری آواز سنی تو فرمایا یہ کون ہے کیا حذیفہ، میں نے کہا ہاں فرمایا تمہاری کیا حاجت ہے الله تمہیں اور تمہاری ماں کو بخشے ۴؎یہ ایک فرشتہ ہے جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا ۵؎اس نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرے اور مجھے بشارت دے کہ فاطمہ جنتی لوگوں کی بیویوں کی سردار ہیں ۶؎اور حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۷؎(ترمذی)اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے ۸؎
وَعَن حُذَيْفَة قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّي: دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّي مَعَهُ المَغْرِبَ وَأَسْأَلُهٗ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ المَغْرِبَ فَصَلّٰى حَتّٰى صَلَّى العِشَاءَ ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهٗ فَسَمِعَ صَوْتِي فَقَالَ: «مَنْ هٰذَا ؟ حُذَيْفَةُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «مَا حَاجَتُكَ؟ غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ وَلِأُمِّكِ إِنَّ هٰذَامَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الْأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهٖ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهٗ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6171 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم حضرت حسن ابن علی کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے کہ ایک آدمی نے کہا اے صاحبزادے تم بہت اچھی سواری پر سوار ہو تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ سوار بھی تو اچھا ہے ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلٰى عَاتِقِهٖ فَقَالَ رَجُلٌ: نِعْمَ الْمَرْكَبُ رَكِبْتَ يَا غُلَامُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَنِعْمَ الرَّاكِبُ هُوَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6172 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت عمر سے کہ آپ نے اسامہ کے لیے تین ہزار پانچ سو مقرر فرمائے اور عبدالله ابن عمر کے لیے صرف تین ہزارمقرر فرمائے ۱∞؎تو عبدالله ابن عمر نے اپنے والد سے عرض کیا کہ آپ نے اسامہ کو مجھ پر ترجیح کیوں دی۲؎الله کی قسم وہ کسی موقعہ میں مجھ سے آگے نہ بڑھے۳؎فرمایا اس لیے کہ زید رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو تمہارے باپ سے زیادہ پیارے تھے۴؎اور اسامہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو تم سے زیادہ محبوب تھے۵؎میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پیارے کو اپنے پیارے پر ترجیح دی ۶؎(ترمذی)
وَعَنْ عُمَرَ أَنَّهٗ فَرَضَ لِأُسَامَةَ فِي ثَلَاثَةِ آلَافٍ وَخَمْسِمِائَةٍ وَفَرَضَ لِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ فِي ثَلَاثَةِ آلَافٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ لِأَبِيهِ: لِمَ فَضَّلْتَ أُسَامَةَ عَلَيَّ؟ فَوَاللّٰهِ مَا سَبَقَنِي إِلٰى مَشْهَدٍ. قَالَ: لِأَنَّ زَيْدًا كَانَ أَحَبَّ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبِيكَ وَكَانَ أُسَامَةُ أَحَبَّ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ فَآثَرْتُ حِبَّ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى حبِّي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6173 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
روایت ہے حضرت جبلہ ابن حارثہ سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا یارسول الله میرے ساتھ میرے بھائی زید کو بھیج دیں ۱∞؎فرمایا وہ یہ ہیں اگر وہ تمہارے ساتھ جائیں تو میں انہیں منع نہ کروں گا۲؎جناب زید نے کہا یارسول الله الله کی قسم میں آپ پرکسی کو ترجیح نہ دوں گا۳؎فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بھائی کی رائے اپنی رائے سے بہتر دیکھی ۴؎(ترمذی)
وَعَنْ جَبَلَةَ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ: قَدِمْتُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ ابْعَثْ مَعِي أَخِي زَيْدًا.قَالَ:«هُوَ ذَا فَإِنِ انْطَلَقَ مَعَكَ لَمْ أَمْنَعْهُ» قَالَ زَيْدٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَاللّٰهِ لَا أَخْتَارُ عَلَيْكَ أَحَدًا. قَالَ: فَرَأَيْتُ رَأْيَ أَخِي أَفْضَلَ مِنْ رَأْيِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6174 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین