باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو دیوالیہ ہوجائے ۱؎پھر کوئی شخص اپنا مال بعینہ اسی طرح پالے ۲؎تو دوسروں سے زیادہ حق دار اس کا یہ ہی ہوگا ۳؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَارَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَكَ رَجُلٌ مَالَهٗ بِعَيْنِهٖ فَهُوَ أَحَقُّ بِهٖ مِنْ غَيْرِهٖ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2899 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے زمانہ میں کچھ پھلوں میں جو اس نے خریدے تھے گھاٹے میں پڑگیا تو اس پر بہت قرض ہوگیا ۱؎رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اس پر صدقہ کرو لوگوں نے اسے صدقہ دیا مگر صدقہ اس کے ادائے قرض تک نہ پہنچ سکا ۲؎تب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو پاؤ وہ لے لو ۳؎تو تمہیں اس کے سواء کچھ نہ ملے گا ۴؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍقَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهٗفَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ» فَتَصَّدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذٰلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهٖ «خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذٰلِكَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2900 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا ایک شخص لوگو ں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکر کو اسے اس نے کہہ رکھا تھا ۱؎کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے توا سے معاف کردے ۲؎ہوسکتا ہے کہاللّٰهہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہاللّٰهسے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا تَجَاوَزْ عَنْهُلَعَلَّ اللهُ أَن يَتَجَاوَزُ عَنَّا قَالَ: فَلَقِيَ اللّٰهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2901 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو چاہے اسےاللّٰهتعالٰی روز قیامت کی تکالیف سے نجات دے ۱؎تو چاہیے کہ وہ تنگدست کو مہلت دے یا معافی ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يُنْجِيَهُ اللّٰهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ أَوْ يَضَعْ عَنْهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2902 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو تنگدست کو مہلت دے یا معافی ۱؎تواللّٰهاسے روز قیامت کی تکلیف سے نجات دے گا۲؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَنْجَاهُ اللّٰهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2903 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت ابوالیسر سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو کسی تنگدست کو مہلت یا معافی دے ۲؎تواللّٰهاسے اپنے سایہ میں جگہ دے گا۳؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللّٰهُ فِي ظِلِّهٖ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2904 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت ابو رافع سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا ۱؎پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے ابو رافع کہتے ہیں کہ مجھے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ اس شخص (قرض خواہ)کا اونٹ ادا کردوں ۲؎میں نے عرض کیا کہ میں تو اس سے اچھا رباعی دانت والا اونٹ ہی پارہا ہوں ۳؎تب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے وہ ہی دے دو کہ بہترین شخص وہ ہے جو قرض اچھی طرح ادا کرے ۴؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ قَالَ: أَبُو رَافِعٍ فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهٗ فَقُلْتُ: لَا أَجِدُ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رُبَاعِيًا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطِهٖ إِيَّاهُ فَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2905 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک شخص نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے تقاضائے قرض کیا تو آپ پر سختی کی ۱؎صحابہ نے کچھ کرنا چاہا ۲؎تو حضور نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو کہ حق والے کو کچھ کہنے کا حق ہے۳؎اور اس کے لیے اونٹ خرید لو وہ اسے دے دو صحابہ نے عرض کیا کہ ہم تو اس کی عمر سے بہتری پاتے ہیں۴؎فرمایا وہ ہی خرید لو اور وہ ہی اسے دے دو کہ تم میں بہترین وہ ہے جو قرض اچھی طرح ادا کرے ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا تَقَاضٰى رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْلَظَ لَهٗ فَهَمَّ أَصْحَابُهٗ فَقَالَ: «دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا وَاشْتَرُوا لَهٗ بَعِيرًا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ» قَالُوا: لَا نَجِدُ إِلَّا أَفْضَلَ مِنْ سَنِّهٖ قَالَ: «اشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ خَيْرَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2906 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے ان ہی سے کہ رسو لاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا غنی کا ٹال مٹول ظلم ہے ۱؎اور جب تم میں سے کسی کا قرض غنی پر حوالہ کیا جائے تو حوالہ قبول کرلے ۲؎(مسلم)

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ فَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2907 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے کہ انہوں نے مسجد میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا ۱؎زمانہ نبوی صلی اللّٰہ علیہ و سلم میں تو ان کی آوازیں کچھ اونچی ہوگئیں حتی کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنے گھر سے سن لیں ۲؎تو رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم ان کی طرف تشریف لائے حتی کہ اپنے حجرہ شریف کا پردہ اٹھایا اور حضرت کعب ابن مالک کو پکارا فرمایا اے کعب عرض کیا حضور (صلی اللّٰہ علیہ و سلم) حاضر ہوں آپ نے اپنے ہاتھ شریف سے اشارہ کیا کہ آدھا قرض معاف کردو،حضرت کعب نے کہا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم میں نے کردیا فرمایا اُٹھو اب ادا کردو۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّهٗ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهٗ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتّٰى سَمِعَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهٖ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهٖ وَنَادٰى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: «يَا كَعْبُ» قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَأَشَارَ بِيَدِهٖ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: «قُمْ فَاقْضِهٖ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2908 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس حاضر تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کیا اس پر نماز پڑھیے ۱؎فرمایا کیا اس پر کچھ قرض ہے ۲؎عرض کیا نہیں آپ نے نماز پڑھ لی پھر دوسرا جنازہ لایا گیا فرمایا کیا اس پر کچھ قرض ہے عرض کیا گیا ہاں،فرمایا کیا کچھ مال چھوڑا بھی ہے،عرض کیا تین اشرفیاں تو حضور نے اس پر نماز پڑھ لی ۳؎پھر تیسرا جنازہ لایا گیا فرمایا کیا اس پر کچھ قرض ہے عرض کیا گیا تین اشرفیاں فرمایا کیا اس نے کچھ مال چھوڑا بھی ہے عرض کیا نہیں ۴؎فرمایا اپنے یار پر تم ہی نماز پڑھو۔ابوقتادہ نے عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم آپ اس پر نماز پڑھیں اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے تب آپ نے نماز پڑھی ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالُوا: صَلِّ عَلَيْهَا فَقَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟» قَالُوا: لَا فَصَلّٰى عَلَيْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ أُخْرٰى فَقَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟» قَالُوا: نَعَمْ فَقَالَ: «فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟» قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ فَصَلّٰى عَلَيْهَا ثمَّ أُتِي بِالثَّالِثَةِ، فَقَالَ: "هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قَالُوا: ثَلَاثَةُ دَنانِيرَ، قَالَ: "هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: "صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: صلِّ عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهٗ فَصَلّٰى عَلَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2909 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جو لوگوں کے مال قرض لے جس کے ادا کر دینے کا پختہ ارادہ رکھے ۱؎تواللّٰهاس سے ادا کرا ہی دیتا ہے اور جو ان کے بربادکرنے کا ارادہ کرے تواللّٰهاس پر بربادی ڈالتا ہے۲؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّى اللّٰهُ عَنْهُ وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2910 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا رسولاللّٰهفرمایئے اگر میںاللّٰهکی راہ میں صبر کرتے اور طلب اجر کرتے پیچھے ہٹتے نہیں بلکہ آگے بڑھتا مارا جاؤں تو کیااللّٰهمیری خطائیں مٹادے گا ۱؎رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں۲؎جب وہ شخص چل دیا تو اسے پکارا اور فرمایا ہاں قرض کے سواء حضرت جبرائیل نے یوں ہی کہا ہے ۳؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، يُكَفِّرُ اللّٰهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» . فَلَمَّا أَدْبَرَ نَادَاهُ فَقَالَ: «نَعَمْ إِلَّا الدَّيْنَ كَذٰلِكَ قَالَ جِبْرِيلُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2911 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن عمر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا شہید کے سارے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں سوائے قرض کے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: « يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنُ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2912 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس کوئی وفات یافتہ شخص لایا جاتا جس پر قرض ہوتا تو آپ پوچھتے ۱؎کیا اس نے ادائے قرض کے لیے کچھ چھوڑا ہے پھر اگر خبردی جاتی کہ اس نے ادائے قرض کے لیے چھوڑا ہے تو نماز پڑھ لیتے ۲؎وگرنہ مسلمانوں سے فرمادیتے کہ اپنے یار پر نماز پڑھ لو۳؎جباللّٰهنے آپ پرکشائشیں فرمائیں ۴؎تو کھڑے ہو کر فرمایا میں مسلمانوں کا ان کی جانوں سے زیادہ والی ہوں ۵؎تو جو مسلمان فوت ہو قرض چھوڑے تو اس کی ادا میرے ذمہ ہے اور جو مال چھوڑے تو اس کے وارثوں کے لیے ہے ۶؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتٰى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفّٰى عَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ: «هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهٖ قَضَاءً؟» فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهٗ تَرَكَ وَفَاءً صَلّٰى وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ: «صَلُّوا عَلٰى صَاحِبِكُمْ» . فَلَمَّا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَامَ فَقَالَ: «أَنَا أَوْلٰى بِالمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ قَضَاؤُهٗ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهٖ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2913 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت ابوخلدہ زرقی سے ۱؎فرماتے ہیں ہم حضرت ابوہریرہ کے پاس اپنے ایک دیوالیہ ساتھی کے متعلق گئے ۲؎تو فرمایا کہ یہ ہی وہ واقعہ ہے جس کے متعلق رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ جو شخص دیوالیہ ہوکر فوت ہو جائے ۳؎تو خاص سامان والا اپنے سامان کا زیادہ حق دار ہے جب کہ بعینہ وہ ہی پائے ۴؎(شافعی،ابن ماجہ)

عَنْ أَبِي خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ قَالَ: جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أُفْلِسَ فَقَالَ: هٰذَا الَّذِي قَضٰى فِيهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أُفْلِسَ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهٖ إِذَا وَجَدَهٗ بِعَيْنِهٖ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2914 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مؤمن کی جان اپنے قرض میں معلق رہتی ہے ۱؎حتی کہ اس کا قرض ادا کردیا ۲؎(شافعی،احمد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهٖ حَتّٰى يُقْضٰى عَنْهُ . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2915 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے قیامت کے دن مقروض اپنے قرض میں گرفتار رہے گا ۱؎حتی کہ اپنے رب سے تنہائی کی شکایت کرے گا ۲؎(شرح سنہ)

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَاحِبُ الدَّيْنِ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهٖ يَشْكُو إِلٰى رَبِّهٖ الوَحْدَةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2916 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

اور مروی ہے کہ حضرت معاذ مقروض ہو جاتے تھے ۱؎ان کے قرض خواہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۲؎تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کے قرض میں ان کا سارا مال بیچ دیا حتی کہ حضرت معاذ خالی ہاتھ اٹھ گئے ۳؎یہ مصابیح کے لفظ ہیں اسے میں نے منتقیٰ کے سوا کسی اصول کی کتاب میں نہ پایا ۴؎

وَرُوِيَ أَنَّ مُعَاذًا كَانَ يَدَّانُ فَأَتٰى غُرَمَاؤُهٗ إِلٰى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالَهٗ كُلَّهٗ فِي دَيْنِهٖ حَتّٰى قَامَ مُعَاذٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ. مُرْسَلٌ هٰذَا لَفْظُ الْمَصَابِيحِ. وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الْأُصُولِ إِلَّا فِي الْمُنْتَقٰى

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2917 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

اورعبدالرحمان ابن کعب ابن مالک سے روایت کی فرمایا حضرت معاذ ابن جبل سخی جوان تھے کچھ بچاتے نہ تھے وہ قرض لیتے رہے ۱؎حتی کہ ان کا سارا مال قرض میں ڈوب گیا ۲؎تو وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ حضور انکے قرض خواہوں سے کچھ کہہ سنا دیں ۳؎تو اگر وہ لوگ کسی کے لیے چھوڑنے والے ہوتے تو رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خاطر معاذ کے لیے ضرور چھو ڑتے ۴؎چنانچہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کی وجہ سے معاذ کا سارا مال بیچ دیا حتی کہ حضرت معاذ کسی چیز کے بغیر اٹھ کھڑے ہوئے ۵؎(سعید نے ارسالًا اپنی سنن سے روایت کی)

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ شَابًّا سَخِيًّا وَكَانَ لَا يُمْسِكُ شَيْئًا فَلَمْ يَزَلْ يَدَّانُ حَتّٰى أُغْرِقَ مَالُهٗ كُلُّهٗ فِي الدَّيْنِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهٗ لِيُكَلِّمَ غُرَمَاءَهٗ فَلَوْ تَرَكُوا لِأَحَدٍ لَتَرَكُوا لِمُعَاذٍ لِأَجْلِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالَهٗ حَتّٰى قَامَ مُعَاذٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ. رَوَاهُ سَعِيدٌ فِي "سُنَنِهٖ" مُرْسَلًا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2918 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا