باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت شرید سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مال والے کا ٹال مٹول اس کی آبرو کو اس کی سزا کو درست کردیتا ہے ۲؎ابن مبارک نے فرمایا آبرو حلال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے سخت کلامی کرے اور سزا یہ ہے کہ اسے قید کردیا جائے ۳؎(ابوداؤد،نسائی)

وَعَنِ الشَّرِيدِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهٗ وَعُقُوبَتَهٗ» قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُحِلُّ عِرْضَهٗ: يُغَلَّظُ لَهُ. وَعُقُوبَتَهٗ: يُحْبَسُ لَهٗ.رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2919 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا ۱؎تاکہ آپ اس پر نماز پڑھیں تو فرمایا کیا تمہارے دوست پر کچھ قرض ہے ۲؎لوگوں نے کہا ہاں فرمایا کیا اس کی ادا چھوڑی ہے عرض کیا نہیں فرمایا اپنے دوست پر نماز پڑھ لو ۳؎حضرت علی ابن ابی طالب نے عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم اس کا قرض میرے ذمہ ہے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم آگے بڑھے اس پر نماز پڑھی۴؎ایک روایت میں اس کے معنے ہیں اور جناب علی سے فرمایااللّٰهتمہارے نفس کو آگ سے آزادکرے جیسے تم نے اپنے مسلمان بھائی کی جان چھوڑائی ۵؎ایسا کوئی مسلمان بندہ نہیں جو اپنے بھائی کا قرض ادا کرے مگر قیامت کے دناللّٰهاس کی جان کو چھوڑ دے گا ۶؎(شرح سنہ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَقَالَ: «هَلْ عَلٰى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ؟» قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «هَلْ تَرَكَ لَهٗ مِنْ وَفَاءٍ؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «صَلُّوا عَلٰى صَاحِبِكُمْ» قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: عَلَيَّ دَيْنُهٗ يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَتَقَدَّمَ فَصَلّٰى عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ مَعْنَاهُ وَقَالَ: «فَكَّ اللّٰهُ رِهَانَكَ مِنَ النَّارِ كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقْضِي عَنْ أَخِيهِ دَيْنَهٗ إِلَّا فَكَّ اللّٰهُ رِهَانَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2920 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو اس حال میں مرے کہ وہ غرور خیانت اور قرض سے پاک و صاف ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنَ الْكِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2921 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہاللّٰهتعالٰی کے نزدیک ان بڑے گناہوں کے بعد جن سےاللّٰهنے منع کیا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ انسان مقروض ہوکر مرے جس کی ادا نہ چھوڑے ۱؎(احمد،ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللّٰهِ أَنْ يَلْقَاهُ بِهَا عَبْدٌ بَعْدَ الْكَبَائِرِ الَّتِي نَهَى اللّٰهُ عَنْهَا أَنْ يَمُوتَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ لَا يَدَعُ لَهٗ قَضَاءً . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2922 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت عمرو ابن عوف مزنی سے ۱؎وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا مسلمانوں میں صلح جائز ہے ۲؎بجز اس صلح کے جو حلال کو حرام کردے یا حرام کو حلال ۳؎اور مسلمان اپنی شرطوں پر رہیں،بجز اس شرط کے جو حلال کو حرام کرے یا حرام کو حلال ۴؎(ترمذی،و ابن ماجہ،ابوداؤد)اور ابوداؤد کی روایتشروطھمپر ختم ہوگئی ۵؎

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا وَالْمُسْلِمُونَ عَلٰى شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَانْتَهَتْ رِوَايَتُهٗ عِنْدَ قَوْلِهٖ: "شُرُوطِهِمْ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2923 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت سوید ابن قیس سے فرماتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی ۱؎مقام ہجر سے کپڑا لائے ہم اسے مکہ معظمہ میں لائے تو ہمارے پاس رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم پاپیادہ چلتے ہوئے تشریف لائے تو ہم سے پائجامہ کا بھاؤچکایا ۲؎ہم نے وہ آپ کے ہاتھ بیچ دیا وہاں ایک شخص تھا جو مزدوری پر تول رہا تھا۳؎اس سے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا تول دو اور نیچا تو لو۴؎(احمد، ابوداؤد، ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہےصحیح ہے ۵؎

عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخَرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ فَأَتَيْنَا بِهٖ مَكَّةَ فَجَاءَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ فَبِعْنَاهُ وَثَمَّ رَجُلٌ يَزِنُبِالأَجْرِ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللهِ: «زِنْ وَأَرْجِحْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2924 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم پر میرا کچھ قرض تھا تومجھے عطا فرمایا اور زیادہ دیا ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2925 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن ابی ربیعہ سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی کریم نے چالیس ہزار قرض لیے ۱؎پھر آپ کے پاس مال آیا ۲؎تو مجھے ادا فرمادیا اور فرمایااللّٰهتعالٰی تمہارے گھر بار اور مال میں برکت دے قرض کا عوض شکریہ اور ادا ہے ۳؎(نسائی)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ قَالَ: اسْتَقْرَضَ مِنِّي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَجَاءَهٗ مَالٌ فَدَفَعَهٗ إِلَيَّ وَقَالَ: «بَارَكَ اللّٰهُ تَعَالٰى فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْحَمْدُ وَالْأَدَاءُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2926 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جس کا کسی شخص پر کوئی حق ہو وہ اسے مہلت دے دے تو اسے ہر دن کے عوض صدقہ کا ثواب ہوگا ۱؎(احمد)

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ لَهٗ عَلٰى رَجُلٍ حَقٌّ فَمَنْ أَخَّرَهٗ كَانَ لَهٗ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ. رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2927 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت سعد ابن اطول سے فرماتے ہیں میرا بھائی وفات پا گیا اوراس نے تین سو اشرفیاں چھوڑیں اور چھوٹے بچے چھوڑے میں نے چاہا کہ ان پر خرچ کروں ۱؎تو مجھ سے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارا بھائی قرض میں گرفتار ہے ان کا قرض ادا کرو ۲؎فرماتے ہیں میں چلا اور ان کا قرض ادا کردیا پھرمیں نے حاضر ہو کر عرض کیا یارسولاللّٰهمیں نے بھائی کا سارا قرض ادا کردیا ۳؎کچھ باقی نہ رہا ہاں ایک عورت دو اشرفیوں کا دعوی کرتی ہے اور اس کے پاس گواہ ہے نہیں فرمایا اسے دے دو وہ سچی ہے ۴؎(احمد)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ الأَطْوَلِ قَالَ: مَاتَ أَخِي وَتَرَكَ ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ وَتَرَكَ وُلْدًاصِغَارًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « إِنَّ أَخَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهٖ فَاقْضِ عَنْهُ» . قَالَ: فَذَهَبْتُ فَقَضَيْتُ عَنهُ وَلَمْ تَبْقَ إِلَّا امْرَأَةٌ تَدَّعِي دِينَارَيْنِ وَلَيْسَتْ لَهَا بَيِّنَةٌ قَالَ: « أَعْطِهَا فَإِنَّهَا صَادِقَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2928 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا

روایت ہے حضرت محمد ابن عبداللّٰهابن جحش سے ۱؎فرماتے ہیں ہم مسجد کے صحن میں بیٹھے تھے جہاں جنازے رکھے جاتے ہیں ۲؎اور رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم ہمارے درمیان تشریف فرماتھے ۳؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر کچھ دیکھا پھراپنی نگاہ شریف جھکالی اور اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا فرمایاسُبْحَانَ اللّٰهِ سُبْحَانَ اللّٰهِکیسی سختی نازل ہوئی ۴؎فرماتے ہیں ہم ایک دن رات خاموش رہے ہم نے بھلائی کے سواء کچھ نہ دیکھا حتی کہ سویرا ہوگیا ۵؎محمد(راوی) فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھا وہ کون سی سختی تھی جو نازل ہوئی فرمایا قرض کے متعلق ۶؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کوئی شخصاللّٰهکی راہ میں مارا جائے پھر زندہ ہو پھراللّٰهکی راہ میں مارا جائے،پھر زندہ ہو،پھراللّٰهکی راہ میں مارا جائے،پھر زندہ حالانکہ اس پر قرض ہو تو جنت میں نہیں جاسکتا حتی کہ اس کا قرض ادا کردیا جائے ۷؎(احمد)اور شرح سنہ میں اس کی مثل ہے۔

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ حَيْثُ يُوضَعُ الْجَنَائِزُ وَرَسُولُ اللهِ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا فَرَفَعَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهٗ قِبَلَ السَّمَاءِ فَنَظَرَثُمَّ طَأْطَأَ بَصَرَهٗ وَوَضَعَ يَدَهٗ عَلٰى جَبْهَتِهٖ قَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ مَاذَا نَزَلَ مِنَ التَّشْدِيدِ؟» قَالَ: فَسَكَتْنَا يَوْمَنَا وَلَيْلَتَنَا فَلَمْ نَرَ إِلَّا خَيْرًا حَتّٰى أَصْبَحْنَا قَالَ مُحَمَّدٌ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نَزَلَ؟ قَالَ: «فِي الدَّيْنِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ عَاشَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتّٰى يُقْضٰى دَيْنُهٗ » . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ نَحْوَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2929 ، باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا