- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- باب :خاص وقتوں کی دعائیں
باب :خاص وقتوں کی دعائیں
دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت عبداللّٰه خطمی سے ۱؎فرماتے ہیں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب کسی لشکر کو وداع کرنا چاہتے تھے تو کہتے میں تم لوگوں کا دین تم لوگوں کی امانت تم لوگوں کے آخری عمل اللّٰه کے سپرد و حوالے کرتا ہوں ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ الْخَطْمِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَوْدِعَ الْجَيْشَ قَالَ: «أَسْتَوْدِعُ اللّٰه دِينَكُمْ وَأَمَانَتكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ » . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2436 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا یارسول اللّٰه میں سفر کا ارادہ کررہا ہوں مجھے کچھ توشہ دیجئے ۱؎فرمایا اللّٰه تمہیں پرہیزگاری کا توشہ دے ۲؎عرض کیا کچھ زیادہ دیجئے فرمایا تمہارے گناہ بخش دے عرض کیا میرے ماں باپ فدا کچھ اور عطا کیجئے ۳؎فرمایا اللّٰه تمہیں بھلائی میسر کرے تم جہاں بھی ہو ۴؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے ۵؎
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أُرِيدُ سَفَرًا فَزَوِّدْنِي فَقَالَ: «زَوَّدَكَ اللّٰه التَّقْوٰى» . قَالَ: زِدْنِي قَالَ: «وَغَفَرَ ذَنْبَكَ» قَالَ: زِدْنِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ: « وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُ مَا كُنْتَ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2437 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللّٰه میں سفر کا ارادہ کررہا ہوں مجھے کچھ وصیت فرمایئے ۱؎فرمایا اللّٰه کا خوف گرہ باندھ لو اور ہر بلندی پر تکبیر کہو ۲؎جب اس شخص نے پیٹھ پھیری تو فرمایا الٰہی اس کے لیے دوری لپیٹ دے ۳؎اور اس پر سفر آسان کر۴؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُسَافِرَ فَأَوْصِنِي قَالَ: «عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللّٰه وَالتَّكْبِيرِ عَلٰى كُلِّ شَرَفٍ"، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ: "اَللّٰهُمَّ اطْوِ لَهُ الْبُعْدَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2438 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب رات سے پہلے سفر کرتے تو فرماتے اے زمین تیرا اور میرا رب اللّٰه ہے ۱؎میں تیرے اور تیری اندرونی چیزوں کی اور جو کچھ تجھ میں پیدا کیا گیا ہے اس کی اور جو تجھ پر چلتے ہیں ان کی شر سے اللّٰه کی پناہ مانگتا ہوں ۲؎میں شیر سے کالے سانپ سے عام سانپوں سے اور بچھوؤں سے او ر شہر میں رہنے والوں کی شر سے اور ہر جننے والے اور جنے ہوئے کی شر سے اللّٰه کی پناہ لیتا ہوں ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ فَأَقْبَلَ اللَّيْلُ قَالَ: «يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللّٰه أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ وَشَرِّ مَا يَدُبُّ عَلَيْكِ وَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ أَسَدٍ وَأَسْودَ وَمِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ » . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2439 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم جب جہاد کرتے تو کہتے الٰہی تو میری قوت بازو ہے،میرا مددگار ہے، تیرے بھروسہ ہی سے دفع کرتا ہوں تیری مدد پر حملہ کرتا ہوں،تیری امید سے جہاد کرتا ہوں ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا قَالَ: «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَنَصِيرِي بِكَ أَحُولُ وَبِكَ أَصُولُ وَبِكَ أُقَاتِلُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2440 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب کسی قوم سے خطرہ محسوس فرماتے ۱؎تو کہتے اے اللّٰه ہم ان کے مقابل تجھے کرتے ہیں ۲؎اور ان کی شر سے تیری پناہ لیتے ہیں ۳؎(احمد،ابوداؤد)۴؎
وَعَنْ أَبِي مُوسٰى: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا قَالَ: «اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ » . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2441 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب اپنے گھر سے نکلتے تو کہتے شروع اللّٰه کے نام سے ۱؎اللّٰه پر بھروسہ کرتا ہوں خدایا ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس سے کہ ہم پھسلیں اور بہکیں ۲؎یا ستائیں یا ستائے جائیں یا جہالت کریں یا ہم پر جہالت کی جائے ۳؎(احمد،ترمذی،نسائی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ابوداؤد،ابن ماجہ کی روایت یوں ہے کہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میرے گھر سے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کبھی نہ نکلے مگر آسمان کی طرف نگاہ اٹھائے ہوئے ۴؎پھر کہتے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ بہکوں یا بہکایا جاؤں یا ظلم کروں یا ستایا جاؤں یا جہالت کروں یا مجھ پر جہالت کی جائے ۵؎
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهٖ قَالَ: «بِسْمِ اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ وَابْنِ مَاجَهْ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: مَا خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا رَفَعَ طَرْفَهٗ إِلٰى السَّمَاءِ فَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْهَلَ أَو يُجْهَلَ عَلَيَّ »
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2442 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب کوئی شخص اپنے گھر سے نکلے ۱؎تو کہہ لے اللّٰه کے نام سے میں نے اللّٰه پر بھروسہ کیا اللّٰه کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قوت ۲؎تب اس سے کہا جاتا ہے تجھے ہدایت و کفایت دی گئی اور تو محفوظ کردیا گیا ۳؎پھر شیطان دور بھاگ جاتا ہے اور اس سے دوسرا شیطان کہتا ہے تجھے اس شخص سے کیا تعلق ہے جسے ہدایت و کفایت دی گئی اور جو محفوظ کیا گیا۴؎(ابوداؤد)اور ترمذی نےلہ الشیطانتک
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْتِهٖ فَقَالَ: بِسْمِ اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ يُقَالُ لَهٗ حِينَئِذٍ هُدِيتَ وَكُفِيتَ وَوُقِيتَ فَيَتَنَحّٰى لَهُ الشَّيْطَانُ وَيَقُولُ شَيْطَانٌ آخَرُ: كَيْفَ لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وروى التِّرْمِذِيّ إِلى قَوْله: «الشَّيْطَان»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2443 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت کہہ لے ۱؎الٰہی میں تجھ سے داخلے کی اور نکلنے کی بھلائی مانگتا ہوں اللّٰه کے نام سے ہم داخل ہوئے اور اپنے رب اللّٰہ پر ہم نے بھروسہ کیا پھر گھر والوں کو سلام کرے ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَجَ الرَّجُلُ بَيْتَهٗ فَلْيَقُلْ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلِجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ بِسْمِ اللّٰهِ وَلَجْنَا وَعَلَى اللّٰهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا ثُمَّ لْيُسَلِّمْ عَلٰى أَهْلِهٖ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2444 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب کسی شخص کے نکاح پر دعا کرتے تو فرماتے اللّٰه تجھے برکت دے اور تم دونوں پر برکت کرے تم دونوں کو بھلائی میں جمع رکھے ۱؎(احمد،ترمذی، ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَّأَ الْإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ قَالَ: «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكُمَا وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2445 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی کسی عورت سے نکاح کرے یا غلام خریدے تو کہہ لے ۱؎الٰہی میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس پر تو نے اسے پیدا کیا اس کی بھلائی مانگتا ہوں اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس کی شر سے اور اس کی شر سے جس پر تو نے اسے پیدا کیا ۲؎اور جب اونٹ خریدے تو اس کا کوہان پکڑ کر اس طرح کہہ لے ۳؎اور ایک روایت میں عورت و خادم کے متعلق ہے کہ پھر اس کی پیشانی پکڑے اور دعائے برکت کرے ۴؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)۵؎
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ عَنِ النَّبِيِّ صَلّٰى اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً أَوِ اشْتَرٰى خَادِمًا فَلْيَقُلْ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَإِذَا اشْتَرٰى بَعِيرًا فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهٖ ولْيَقُلْ مِثْلَ ذٰلِكَ». وَفِي رِوَايَةٍ فِي الْمَرْأَةِ وَالْخَادِمِ: «ثُمَّ لْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا وَلْيَدْعُ بِالبَرَكَةِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2446 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ غم گین کی دعائیں یہ ہیں ۱؎الٰہی میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں تو تومجھے پلک جھپکنے کی بقدر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر ۲؎اور میرے سارے کام بنا، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔(ابوداؤد)۳؎
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ اَللّٰهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلٰى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهٗ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ».رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2447 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللّٰه مجھے غم و قرض چمٹ گئے ۱؎فرمایا تو کیا میں تمہیں وہ دعا نہ سکھادوں کہ جب تم اسے پڑھ لو تو اللّٰه تمہارے غم مٹادے اور تمہارا قرض اتار دے ۲؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں ضرور،فرمایا روزانہ صبح اور شام کے وقت یہ پڑھ لیا کرو ۳؎الٰہی میں رنج و غم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۴؎اور عاجزی و سستی سے تیری پناہ لیتا ہوں ۵؎اور کنجوسی و بزدلی سے تیری پناہ لیتا ہوں ۶؎اور قرض کے چھاجانے اور لوگوں کے غالب آجانے سے تیری پناہ لیتا ہوں ۷؎فرماتے ہیں میں نے یہ عمل کیا تو اللّٰه نے میرا غم مٹا دیا اور میرا قرض ادا کردیا ۸؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: هُمُومٌ لَزِمَتْنِي وَدُيُونٌ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: «أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلَامًا إِذَا قُلْتَهٗ أَذْهَبَ اللّٰه هَمَّكَ وَقَضَى عَنْكَ دَيْنَكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: بَلٰى قَالَ: " قُلْ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ". قَالَ: فَفَعَلْتُ ذٰلِكَ، فَأَذْهَبَ اللّٰهُ هَمِّي، وَقَضَى عَنِّي دَيْنِي. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2448 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت علی سے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب آیا بولا میں اپنی ادائے کتابت سے عاجز آگیا ہوں میری کچھ مدد فرمایئے ۱؎فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سکھائے تھے اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللّٰه تجھ سے ادا کرادے ۲؎یہ پڑھا کرو ۳؎خدایا مجھے اپنے حلال کے ذریعہ اپنے حرام سے تو کافی ہوجا ۴؎اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۵؎(ترمذی،بیہقی دعوات کبیر)۶؎اور ہم حضرت جابر کی یہ حدیث کہ جب تم کتوں کا رونا سنو،الخ برتن ڈھکنے کے باب میںان شاءاللّٰهذکر کریں گے ۷؎
وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّهٗ جَاءَهٗ مُكَاتَبٌ فَقَالَ: إِنِّي عَجَزْتُ عَنْ كتابي فَأَعِنِّي قَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلٍ كَبِيرٍ دَيْنًا أَدَّاهُ اللّٰه عَنْكَ. قُلْ: «اَللّٰهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ جَابِرٍ: «إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ» فِي بَابِ «تَغْطِيَةِ الْأَوَانِي» إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالٰى
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2449 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم جب کسی جگہ بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے ۱؎میں نے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے ان کلمات کے متعلق پوچھا تو فرمایا اگر اچھی بات کی جائے ۲؎تو ان پر روز قیامت مہر ہوجائے اور اگر بری بات کی گئی ہو تو اس کا کفارہ ہوجائیں ۳؎الٰہی تو پاک ہے،تیری حمد ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں،تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں ۴؎(نسائی)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلّٰى تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ فَسَأَلْتُهٗ عَنِ الْكَلِمَاتِ فَقَالَ: " إِنْ تُكُلِّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابَعًا عَلَيْهِنَّ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنْ تُكُلِّمَ بِشَرٍّ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ: سُبْحَانَكَ اَللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ". رَوَاهُ النَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2450 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضر ت قتادہ سے انہیں خبر پہنچی ہے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب چاند دیکھتے تو فرماتے بھلائی و ہدایت کا چاند ہو ۱؎بھلائی اور ہدایت کا چاند ہو،بھلائی اور ہدایت کا چاند ہو تین بار فرماتے اس پر ایمان لایا جس نے تجھے پیدا کیا ۲؎پھر فرماتے اس رب کا شکر ہے جو فلاں مہینہ لے گیا اور فلاں مہینہ لایا ۳؎(ابوداؤد)۴؎
وَعَن قَتَادَة: بَلَغَهٗ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَاٰى الْهِلَالَ قَالَ: «هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ آمَنْتُ بِالذِي خَلَقَكَ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ يَقُولُ: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي ذَهَبَ بِشَهْرٍ كَذَا وَجَاء بِشَهْرٍ كَذَا» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2451 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جس کے رنج و غم زیادہ ہو جائیں وہ یہ پڑھے ۱؎الٰہی میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندے کا اور تیری بندی کا بچہ ہوں ۲؎اور میری پیشانی تیرے قبضہ میں ہے ۳؎مجھ میں تیرا حکم جاری ہے میرے بارے میں تیرا فیصلہ عین انصاف ہے ۴؎میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کی برکت سے جو تو نے اپنا رکھا یا جو نام اپنی کتاب میں اتارا یا جو نام اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا یا جو نام اپنے پاس پردہ غیب میں پوشیدہ یہ مانگتا ہوں ۵؎کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے رنج و غم کا دفعیہ بنادے ۶؎یہ کلمات کوئی بندہ نہیں کہتا مگر اللّٰه اس کا غم دور کردیتا ہے اور اس کے عوض کشادگی دیتا ہے ۷؎(رزین)۸؎
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَثُرَ هَمُّهٗ فَلْيَقُلْ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ وَفِي قَبْضَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهٖ نَفْسَكَ أَوْ أَنْزَلْتَهٗ فِي كِتَابِكَ أَوْ عَلَّمْتَهٗ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهٖ فِي مَكْنُونِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ قَلْبِي، وَجِلَاءَ هَمِّي وَغَمِّي. مَا قَالَهَا عَبْدٌ قَطُّ إِلَّا أَذْهَبَ اللّٰهُ غَمَّهٗ وَأَبْدَلَهٗ بِهٖ فَرَجًا". رَوَاهُ رَزِينٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2452 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ جب ہم چڑھتے تو تکبیر کہتے اور جب اترتے تو تسبیح کہتے تھے ۱؎(بخاری)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا وَإِذَا نَزَلْنَا سَبَّحْنَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2453 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت انس سے کہ جب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو کوئی چیز غمگین کرتی تو آپ فرماتے اے دائمی زندہ اے قائم رکھنے والے تیری رحمت سے مدد مانگتا ہوں ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور محفوظ نہیں ۲؎
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَرَبَهٗ أَمْرٌ يَقُولُ: «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2454 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں ہم نے خندق کے دن عرض کیا یارسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کیا کوئی وظیفہ ایسا ہے جو ہم پڑھیں دل گلوں میں پہنچ گئے ۱؎فرمایا ہاں اے اللّٰه ہمارے عیب ڈھک لے ہمارے خوفوں کو امن میں بدل دے ۲؎فرماتے ہیں کہ اللّٰه نے ہوا کے ذریعہ اپنے دشمنوں کے منہ پھیر دیے،اللّٰه نے انہیں ہوا کے ذریعے بھگادیا۳؎(احمد)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قُلْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَلْ مِنْ شَيْءٍ نَقُولُهٗ ؟ فَقَدْ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ قَالَ: «نَعَمْ اَللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا» قَالَ: فَضَرَبَ اللّٰه وُجُوهَ أَعْدَائِهٖ بِالرِّيحِ وَهَزَمَ اللّٰهُ بِالرِّيحِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2455 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں