باب :خاص وقتوں کی دعائیں

دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اگر تم میں سے کوئی جب اپنی بیوی کے پاس جانا چاہے تو یہ کہہ لے ۱؎بسم اللّٰه خدایا ہم کو شیطان سے دور رکھ اور شیطان کو اس بچے سے دور رکھ جو تو ہمیں دے۲؎تو اگر اس صحبت میں ان کے نصیب میں بچہ ہوا تو اسے شیطان کبھی نقصان نہ دے سکے گا ۳؎(مسلم،بخاری)۴؎

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهٗ قَالَ: بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنَّهٗ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذٰلِكَ لَمْ يَضُرَّهٗ شَيْطَانٌ أَبَدًا "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2416 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے ان ہی سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سخت تکلیف کے وقت یہ کہتے اللّٰه کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں وہ عظمت والا حلم والا ہے ۱؎اللّٰه کے سوا کوئی معبود نہیں جو بڑے عرش کا رب ہے اللّٰه کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں کا رب اور زمین کا ر ب اور کرم والے عرش کا رب ہے۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيم»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2417 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے سلیمان ابن صرد سے فرماتے ہیں کہ دو شخصوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے نزدیک آپس میں گالی گلوچ کی ہم حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس بیٹھے تھے ۱؎ان میں سے ایک شخص دوسرے کو غضب میں بر ا بھلا کہہ رہا تھا اس کا منہ سرخ ہوگیا ۲؎تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا میں ایسی دعا جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص وہ کہہ دے تو اس کی یہ حالت جاتی رہے ۳؎جسے محسوس کررہا ہے میں مردود شیطان سے اللّٰه کی پناہ مانگتا ہوں ۴؎لوگوں نے اس سے کہا کیا تو سنتا نہیں جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم فرمار ہے ہیں وہ بولا میں دیوانہ نہیں ہوں ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهٗ جُلُوسٌ وَأَحَدُهُمَا يَسُبُّ صَاحِبَهٗ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهٗ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» . فَقَالُوا لِلرَّجُلِ: لَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنِّي لَسْتُ بِمَجْنُونٍ.(مُتَّفَقٌ عَلَيْه)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2418 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب تم مرغ کی اذان سنو تو اللّٰه سے اس کا فضل مانگو ۱؎کیونکہ مرغ فرشتہ کو دیکھتا ہے ۲؎اور جب تم گدھے کا ہینگنا سنو تو مردود شیطان سے اللّٰه کی پناہ مانگوکیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے ۳؎(مسلم،بخاری)۴؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَسَلُوا اللّٰه مِنْ فَضْلِهٖ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَإِنَّهٗ رَاٰى شَيْطَاناً»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2419 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سفر کو نکلتے ہوئے اونٹ پر سوار ہوجاتے تو تین بار تکبیر کہتے ۱؎پھر یہ فرماتے پاک ہے وہ اللّٰه جس نے اسے ہمارا تابع کر دیا ہم اسے مطیع نہ کرسکتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں۲؎الٰہی ہم تجھ سے اپنے سفر میں بھلائی پرہیز گاری اور تیرے پسندیدہ عمل کی توفیق مانگتے ہیں ۳؎اے اللّٰه ہم پر اس سفر کو آسان فرمادے اور اس کی درازی سمیٹ لے۴؎اے اللّٰه تو ہی سفر میں ساتھی ہے اور گھر بار میں والی ہے ۵؎اے اللّٰه میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی مشقتوں سے اور برے انتظار سے اور بری واپسی سے مال اور گھر بار میں ۶؎جب واپس ہوتے تو بھی یہی فرماتے ان کلمات میں سے اور بڑھادیتے ہم لوٹنے والے توبہ کرنے والے رب کے ثنا گو ہیں ۷؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوٰى عَلٰى بَعِيرِهٖ خَارِجًا إِلٰى السَّفَرِ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ)اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اَللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هٰذَا وَطَوِّ لَنَا بُعْدَهٗ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالأَهْلِ"، وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ: "آيِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2420 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن سرجس سے فرماتے ہیں جب رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سفر کرتے تو ان چیزوں سے پناہ مانگتے تھے سفر کے نقصانات سے ۱؎اور واپسی کی تکالیف سے ۲؎اور بھلائی کے بعد برائی سے ۳؎مظلوم کی بددعا سے ۴؎اور گھر بار و مال میں برائی دیکھنے سے۔(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَرْجَسَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ يَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الأَهْلِ وَالْمَالِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2421 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے حضرت خولہ بنتِ حکیم سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا،جو کسی منزل پر اترے تو یہ کہہ لے میں اللّٰه کے پورے و کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں اس کی ساری مخلوق کی شر سے ۲؎تو اس منزل سے کوچ کرتے وقت تک اسے کوئی چیز نقصان نہ دے گی ۳؎(مسلم)

وَعَن خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰه التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهٗ شَيْءٌ حَتّٰى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلهٖ ذٰلِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2422 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بولا یا رسول اللّٰه آج رات مجھے بچھو کے کاٹ لینے سے بہت ہی تکلیف پہنچی ۱؎فرمایا اگر تم شام کے وقت یہ کہہ لیتے کہ میں اللّٰه کے کامل کلموں کی پناہ لیتا ہوں تمام مخلوق کی شر سے تمہیں بچھو تکلیف نہ پہنچاسکتا۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا لَقِيتُ مِنْ عَقْرَبٍ لَدَغَتْنِي الْبَارِحَةَ قَالَ: " أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰه التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2423 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم جب سفرمیں ہوتے اور سویرا پاتے تو یہ فرماتے سننے والے سن لیں کہ ہم اللّٰه کی حمد کرتے ہیں اس کی ہم پر اچھی نعمت ہے ۱؎اے ہمارے رب تو ہمارا ساتھی ہو جا اور ہم پر فضل کر۲؎آگ سے اللّٰه کی پناہ لیتا ہوں ۳؎(مسلم)

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَأَسْحَرَ يَقُولُ:« سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللّٰه وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، رَبَّنَا صَاحِبْنَا، وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذًا بِاللّٰهِ مِنَ النَّارِ" ».رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2424 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب جہاد یا حج یا عمرہ سے واپس ہوتے ۱؎تو ہر اونچی زمین پر تین بار تکبیر کہتے ۲؎پھر کہتے اللّٰه کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے ،اس کا کوئی شریک نہیں ،اسی کا ملک ہے ،اسی کی تعریف ہے ،وہ ہر چیز پر قادر ہے ۳؎ہم لوٹ رہے ہیں ،توبہ کرتے ہیں ،عبادت کرتے ہیں ،سجدے کرتے ہیں ،اپنے رب کی حمد کرتے ہیں ۴؎اللّٰه نے اپنا وعدہ سچا کردیا اپنے بندے کی مدد سے اور احزاب کو اکیلے ہی بھگادیا ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ يُكَبِّرُ عَلٰى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الْأَرْضِ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ ثُمَّ يَقُولُ: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كلِّ شيءٍ قديرٌ آيِبونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللّٰه وَعْدَهٗ وَنَصَرَ عَبْدَهٗ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2425 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے احزاب کے دن مشرکوں پر بددعا کی عرض کیا اے اللّٰه اے کتاب اتارنے والے جلد حساب لینے والے اے اللّٰه ا حزاب کو بھگادے اے اللّٰه انہیں شکست دے اور انہیں ہلا ڈال ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَلَى المُشْرِكِينَ فَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اَللّٰهُمَّ اهْزِمِ الأَحْزَابَ، اَللّٰهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2426 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن بسر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہمارے والد کے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ کی خدمت میں کھانا اور کھجور کا حلوہ پیش کیا ۱؎اس سے حضور نے کچھ کھایا پھر چھوارے حاضر کیے گئے تو انہیں کھانے لگے اور گٹھلیاں دو انگلیوں کے بیچ لے کر پھینکنے لگے۲؎کہ کلمہ کی اور بیچ کی انگلی جمع فرماتے اور ایک روایت میں ہے کہ گٹھلیاں اپنی کلمہ کی اور بیچ کی انگلی کی پشت پر ڈالنے لگے پھر پانی لایا گیا حضور نے پیا پھر میرے والد نے آپ کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر عرض کیا حضور ہمارے حق میں اللّٰه سے دعا فرمایئے ۳؎تو فرمایا الٰہی جو تو انہیں روزی دے اس میں بر کت دے اور انہیں بخش ان پر رحم کر ۴؎(مسلم)

وَ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى أَبِي فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَكَانَ يَأْكُلُهٗ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطٰى وَفِي رِوَايَةٍ: فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَى عَلٰى ظَهْرِ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطٰى ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهٗ فَقَالَ أَبِي وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهٖ : ادْعُ اللّٰه لَنَا فَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2427 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

ر وایت ہے حضرت طلحہ ابن عبید اللّٰه سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب چاند دیکھتے ۱؎تو کہتے اے اللّٰه اسے ہم پر امن و امان،سلامتی اورا سلام کا چاند بنا کر چمکا ۲؎اے چاند میرا اور تیرا رب اللّٰہ ہے ۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللّٰهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَاٰى الْهِلَالَ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ أَهِلَّهٗ عَلَيْنَا بِالأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللّٰهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2428 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب اور حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایسا کوئی شخص نہیں جو کسی گرفتار بلا کو دیکھے ۱؎تو یہ کہہ لے شکر ہے اس اللّٰه کا جس نے مجھے اس آفت سے بچایا جس میں تجھے مبتلا کیا اور اس نے مجھے بہت سی مخلوق پر بزرگی بخشی ۲؎مگر اسے یہ بلا نہ پہنچے گی جو بلا بھی ہو ۳؎(ترمذی)

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ رَاٰى مُبْتَلًى فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهٖ وَفَضَّلَنِي عَلٰى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا إِلَّا لَمْ يُصِبْهُ ذٰلِكَ الْبَلَاءُ كَائِنًا مَا كَانَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2429 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

اور ابن ماجہ نے اسے حضرت ابن عمر سے روایت کیا اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہےاور عمرو ابن دینار راوی قوی نہیں

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنِ ابْنِ عُمَرَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الرَّاوِي لَيْسَ بِالْقَوِيِّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2430 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے حضرت عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص بازار میں داخل ہونے پر یہ کہہ لے ۱؎اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،اکیلا ہے وہ جس کا کوئی ساجھی نہیں،اسی کا ملک ہے،اسی کی تعریف ہے زندگی اور موت دیتا ہے وہ خود زندہ ہے جو کبھی نہ مرے گا اسی کے قبضہ میں خیر ہے ۲؎اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۳؎تو اللہ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے دس لاکھ گناہ مٹا تا ہے اور اس کے دس لاکھ درجے بلند کرتا ہے اور اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے ۴؎(ترمذی، ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور شرح سنہ میں یوں ہے ۵؎کہ جو بھرے بازار میں جائے جہاں تجارت ہوتی ہے۔(مَنْ دَخَلَ السُّوْقَکے عوض)۶؎

وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ دَخَلَ السُّوقَ فَقَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الخَيْرُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللّٰه لَهٗ اَلْفَ اَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ اَلْفَ اَلْفِ سَيِّئَةٍ وَرَفَعَ لَهٗ اَلْفَ اَلْفِ دَرَجَةٍ وَبَنَى لَهٗ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ: «مَنْ قَالَ فِي سُوقٍ جَامِعٍ يُبَاعُ فِيهِ" بَدَلَ "مَنْ دَخَلَ السُّوقَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2431 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو دعا مانگتے ہوئے یہ کہتے ہوئے سنا الٰہی میں تجھ سے پوری نعمت مانگتا ہوں تو حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا پوری نعمت کون چیز ہے ۱؎وہ بولا کہ یہ ایک دعا ہے جس سے میں بھلائی کی امید کرتا ہوں ۲؎تو فرمایا کہ پوری نعمت جنت کا داخلہ اور آگ سے نجات ہے ۳؎اور ایک شخص کو کہتے سنا اے بزرگی و اکرام والے تو فرمایا تیری قبول ہوگئی اب مانگ لے ۴؎اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا الٰہی میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں تو فرمایا کہ تو آفت مانگ رہا ہے اللّٰه سے عافیت مانگ ۵؎(ترمذی)

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو يَقُولُ: اَللّٰهُمَّ إنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ فَقَالَ: «أيُّ شَيْءٍ تَمَامُ النِّعْمَةِ؟» قَالَ: دَعْوَةٌ أَرْجُو بِهَا خَيْرًا فَقَالَ: «إِنَّ مِنْ تَمَامِ النِّعْمَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ وَالْفَوْزَ مِنَ النَّارِ» . وَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ: «قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ» . وَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ فَقَالَ: «سَأَلْتَ اللّٰه الْبَلَاءَ فَاسْأَلْهُ الْعَافِيَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2432 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو کسی جگہ بیٹھے جہاں شور و شغب زیادہ ہو ۱؎تو اٹھنے سے پہلے یہ کہہ لے پاک ہے تو اے اللّٰه اور تیری حمد ہے ۲؎میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۳؎مگر اس کی تمام وہ حرکات معاف کردی جائیں گی جو اس مجلس میں ہوئیں ۴؎(ترمذی،بیہقی،دعوات کبیر)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهٗ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ اَللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا كَانَ فِي مَجْلِسِهٖ ذٰلِكَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2433 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے حضرت علی سے کہ آپ کی خدمت میں سوار ی کے لیے گھوڑا لایا گیا ۱؎آپ نے جب رکاب میں پیر رکھا ۲؎تو فرمایا بسم اللّٰه جب اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو فرمایاالحمداللّٰہ۳؎پھر فرمایا پاک ہے وہ رب جس نے اسے ہمارا تابعدار بنادیا اور ہم اسے مطیع نہ کرسکتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۴؎پھر تین بار کہاالحمداللّٰہاور تین بار اللّٰه اکبر پاک ہے تو میں نے یقینًا اپنی جان پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا ۵؎پھر آپ ہنسے ۶؎عرض کیا گیا اے امیر ا لمؤمنین آپ کس چیز سے ہنس رہے ہیں تو فرمایا میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ نے وہ ہی کیا جو میں نے کیا پھر آپ ہنسے ۷؎میں نے عرض کیا یارسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم آپ کس چیز سے ہنستے ہیں فرمایا کہ تمہارا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے ۸؎جب وہ کہتا ہے خدایا میرے گناہ بخش دے، رب فرماتا ہے میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہ بخشتا نہیں ۹؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّهٗ أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وضَعَ رِجْلَه فِي الرِّكابِ قَالَ: بِسْمِ اللّٰهِ فَلَمَّا اسْتَوٰى عَلٰى ظَهْرِهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ ثُمَّ قَالَ: (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ)ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ ثَلَاثًا وَاللّٰهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهٗ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ثُمَّ ضَحِكَ فَقِيلَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟قَالَ:" إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهٖ إِذَا قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي يَقُولُ: يَعْلَمُ أَنَّهٗ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2434 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب کسی شخص کو وداع فرماتے ۱؎تو اس کا ہاتھ پکڑ لیتے خود اسے نہ چھوڑاتے حتی کہ وہ شخص ہی حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا ہاتھ چھوڑ دیتا ۲؎اور فرماتے میں تیرا دین تیری امانت اور تیرا آخری عمل اللّٰه کے سپرد کرتا ہوں۳؎اور ایک روایت میں ہے خاتمہ کا عمل(ترمذی، ابوداؤد،ابن ماجہ) ان دونوں کی روایات میںآخر عملكکا ذکر نہیں۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَدَّعَ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهٖ فَلَا يَدَعُهَا حَتّٰى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ يَدَعُ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ: «أَسْتَوْدِعُ اللّٰه دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَآخِرَ عَمَلِكَ» وَفِي رِوَايَةٍ: "وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ"، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ، وَفِي رِوَايَتِهِمَا لَمْ يُذْكَرْ "وآخِرَ عَمَلِكَ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2435 ، باب :خاص وقتوں کی دعائیں