باب : صبر کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 1

حضرت ِ سَیِّدُناحَارِث بِن عَاصِمْ اَشْعَرِیرَضِیَ ﷲ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہاللہ عَزَّوَجَل َّکے پیا ر ے رسول، رسولِ مقبول کا فرمانِ عظمت نشان ہے: پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہ‘‘ میزان کو بھردیتا ہے۔ ’’سُبْحَانَ اللہاوراَلْحَمْدُلِلّٰہ‘‘ زمین و آسمان کے درمیان کو بھردیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صَدَقہ دلیل ہے، اور صبر روشنی ہے۔ اور قراٰن تمہارے حق میں یا خلاف دلیل ہے، ہر انسان اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اپنے نفس کو بیچنے والا ہوتا ہے پھر یا تو ( نیک اعمال کے ذریعے) اسے آزاد کرتا ہے یا (بُرے اعمال کے سبب) تباہ کرنے والا ہے۔

عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْحَارِثِ بْنِ عَاصِمِ الاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ’’اَلطُّہُوْرُ شَطْرُ الْاِ یْمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلأ الْمِیْزَانَ ، وَسُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَینَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، والصَّلاۃُ نُورٌ، وَالصَّدَقَۃُ بُرْہَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِیَائٌ، وَالْقُرْاٰنُ حُجَّۃٌ لَکَ أَوْ عَلَیْکَ،کُلُّ النَّاسِ یَغْدُوْ فَبَائِعٌ نَفْسَہُ فَمُعْتِقُہَاأَوْ مُوْبِقُہَا۔(مسلم ، کتاب الطہارۃ، باب فضل الطہور، ص۱۴۰، حدیث: ۲۲۳)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 25 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سَعِیْد خُدْرِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزتصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے سوال کیا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں عطا فرمادیا انہوں نے پھر مانگا حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر عطا فرمادیایہاں تک کہ جو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس مال تھا وہ ختم ہو گیا۔ پس جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سب چیزیں اپنے ہاتھ سے خرچ کردیں تو ارشاد فرمایا: جو کچھ میرے پاس ہوگا وہ تم سے بچا نہ رکھوں گا جو سوال سے بچنا چاہےاللہ عزَّوَجَلَّاسے بچائے گا اور جو غنا چاہے گااللہ عزَّوَجَلَّاسے غنی کر دے گا اور جو صَبْر چاہے گااللہ عزَّوَجَلَّاسے صَبْر دے گا اور کسی کو صَبْر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہ ملی۔

عَنْ أَبِی سَعِیدٍ سَعْدِ بْنِ مَالَکِ بْنِ سِنَانِ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ إِنَّ نَاسًا مِّنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوْا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاہم ثُمَّ سَأَلُوْہُ فَأَعْطَاہم حَتّٰی نَفِدَ مَا عِنْدَہُ، فَقَالَ لَھُمْ حِیْنَ اَنْفَقَ کُلَّ شَیْئٍ بِیَدِہٖ ’’مَا یَکُوْنُ عِنْدِیْ مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَہُ عَنْکُمْ وَمَنْ یَسْتَعْفِفْ یُعِفَّہُ اللہُ وَمَنْ یَسْتَغْنِ یُغْنِہِ اللہُ وَمَنْ یَتَصَبَّرْ یُصَبِّرْہُ اللہُ وَمَا أُعْطِیَ أَحَدٌ عَطَائً خَیْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْر‘‘۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہ (بخاری، کتاب الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسئلہ، ۱/۴۹۶، حدیث:۱۴۶۹)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 26 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا صُہَیْب بِنْ سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم،نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : مومن کا معاملہ کس قدر اچھا ہے کہ اس کا ہر معاملہ بھلائی پر مشتمل ہے اور یہ بات صرف مومن ہی کے لئے ہے۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی دکھ یا تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے ۔

عَنْ أَبِیْ یَحْیٰی عَنْ صُہَیْبِ بْنِ سِنَانٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّائُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ۔(مسلم، کتاب الزھد والرقائق، باب المؤمن امرہ کلہ خیر، ص ۱۵۹۸، حدیث :۲۹۹۹)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 27 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ جب نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مرض سے گرانی ہوئی ،بے چینی نے غلبہ کیا تو حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَابولیں : ہائے! اباجان کی بے چینی۔ سیِّد عالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: آج کے بعد تیرے باپ پر کبھی کسی قِسم کی بے چینی نہیں ، پھر جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انتقال فرمایاتو حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَابولیں :اے میرے ابا جان! آپاللہ عزَّوَجَلَّکے بلانے پرتشریف لے گئے ۔اے باپ میرے وہ کہ جنتُ الفردوس جن کا ٹھکاناہے ،اے باپ میرے کہ جن کے انتقال کی مصیبت ہم جبریل سے بیان کرتے ہیں۔ پھر جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبرِاطہر میں اُتار دئیے گئے۔ تو حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا : اے انس! تمہارے دلوں نے کیونکرگوارا کیا کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جسمِ اَقدس کو خاک میں پِنہاں کرو ۔

عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہ قَالَ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَعَلَ یَتَغَشَّاہُ الْکَرْبُ فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا وَا کَرْبَ أَبَتَاہُ فَقَالَ لَیْسَ عَلٰی أَبِیْکِ کَرْبٌ بَعْدَ الْیَوْمِ فَلَمَّا مَاتَ قَالَتْ یَا أَبَتَاہُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاہُ یَا أَبَتَاہُ جَنَّۃُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاہُ یَا أَبَتَاہُ إِلٰی جِبْرِیلَ نَنْعَاہُ فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا یَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُکُمْ أَنْ تَحْثُوْا عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ، ۳/۱۶۰، حدیث:۴۴۶۲)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 28 ، باب : صبر کا بیان

حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آزاد کردہ غلام اور آپ کے محبوب اور محبوب کے بیٹے حضرتِ سَیِّدُنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہماسے مروی ہے کہ’’ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ایک صاحبزادی نے آپ کو پیغام بھیجا کہ میرا بچہ فوت ہورہاہے آپ تشریف لے آئیں ، آپ نے جواب میں سلام کے ساتھ کہلا بھیجا کہ جو چیز خدا تعالیٰ کی تھی وہ اُس نے لے لی اور اُسی کا ہے جو اُس نے دیا اورسب کے لئے ایک میعاد مقرر ہے ، پس چاہئے کہ وہ صبرکریں اوراسے ثواب سمجھے۔ پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صاحبزادی نے آپ کو قسم دے کر پیغام بھیجا کہ آپ تشریف لائیے ۔ چنانچہ، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھڑے ہوئے سَعَد بِنْ عُبَادَہ، مَعَاذ بِنْ جَبَل، اُبَی بِنْ کَعْب اورزَیْد بِن ثَابِت(عَلَیْہم الرِّضْوَان) اور کچھ دوسرے لوگ بھی آپ کے ہم راہ تھے، وہ بچہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس لایا گیا وہ دم توڑ رہا تھا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چشمانِ کرم سے آنسوں بہنے لگے،حضرتِ سَیِّدُنا سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے عرض کی : یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ کیا ؟ ارشاد فرمایا: یہ جذبۂ تَرَحُّم( رحمدلی) ہے جو اللہ عزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دیا ہے۔ اور ایک روایت یوں ہے کہ ’’ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہا ڈال دیا‘‘ اور اللہ عزَّوَجَلَّ رحم کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے۔

عَنْ اَبِی زَیْدٍ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ مَوْلَی رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَحِبِّہِ وَابْنِ حِبِّہٖ رَضِیَ اللہُ عَنْہما، قَالَ أَرْسَلَتْ بِنْتُ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ ابْنِیْ قَدِ احْتُضِرَ فَاشْھَدْنَا فَأَرْسَلَ یُقْرِیئُ السَّلَامَ وَیَقُولُ: إِنَّ لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَلَہُ مَا أَعْطَی وَکُلُّ شَیْیئٍ عِنْدَہُ بِأَجَلٍ مُسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہِ تُقْسِمُ عَلَیْہِ لَیَأْتِیَنَّہَا فَقَامَ وَمَعَہُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ، وَمَعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ رَضِیَ اللہُ عَنْہم فَرُفِعَ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّبِیُّ فَاَقْعَدَہُ فِیْ حِجْرِہٖ وَنَفْسُہُ تَتَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ فَقَالَ سَعْدٌ یَا رَسُوْلَ اللہِ مَا ہَذَا فَقَالَ ہَذِہٖ رَحْمَۃٌ جَعَلَہَا اللہُ فِی قُلُوْبِ عِبَادِہٖ وَ فِی رِوَایَۃٍ ’’فِی قُلُوبِ مَنْ شَائَ مِنْ عِبَادِہٖ ‘‘وَإِنَّمَا یَرْحَمُ اللہُ مِنْ عِبَادِہِ الرُّحَمَائَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہ (بخاری ،کتاب الجنائز، باب قول النبی ، یعذب المیت ببعض بکاء اہلہ، ۱/۴۳۴، حدیث:۱۲۸۴)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 29 ، باب : صبر کا بیان

’’ حضرتِ سَیِّدُنا صُہَیْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک بادشاہ ہواکرتاتھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا، جب وہ بوڑھا ہوا تو اس نے بادشاہ سے کہا: میں بوڑھا ہوگیاہوں ، لہٰذا میرے پاس کسی لڑکے کو بھجواؤتاکہ میں اسے جادو سکھاؤں۔ چنانچہ، بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکا بھیج دیا تو وہ اسے سکھانے لگا، لڑکے کے راستے میں ایک راہب رہتا تھا ۔ راہب کی باتیں اسے بہت اچھی لگتیں۔ چنانچہ، وہ اس کے پاس بیٹھتااور اس کی باتیں سنتا ، جب وہ جادو گر کے پاس دیر سے پہنچتا تو وہ اسے مارتا، لڑکے نے راہب سے شکایت کی تو اس نے کہا : جب جادوگر سے ڈر محسوس کرو تو کہہ دیا کرو کہ مجھے گھر والوں نے روک رکھاتھا اور جب گھر والوں کا خوف ہو تو کہہ دو کہ مجھے جادو گر نے روک رکھا تھا۔ ( چنانچہ یو نہی سلسلہ چلتا رہا)پھر ایک دن لڑکے نے راستے میں ایک بہت بڑا جانور دیکھا جس نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا تواس نے دل میں کہا :آج معلوم کروں گا کہ جادو گر افضل ہے یا راہب ؟ چنانچہ، اس نے یہ دعا مانگی :اےاللہ عزَّوَجَلَّ! اگر راہب کا معاملہ تیرے نزدیک جادو گر کے معاملے سے زیادہ پسندیدہ ہے تو اس جانور کو ہلاک کردے تاکہ لوگ گزر سکیں۔پھر اس نے ایک پتھر پھینکااور اس جانورکو ہلاک کر دیاتو لوگ گزر گئے، اب اس نے راہب کے پاس آکر واقعہ سنایاتو راہب نے کہا: بیٹا! آج تم مجھ سے افضل ہوگئے ہو، تمہارا معاملہ وہاں تک پہنچ گیا جس کو میں دیکھ رہا ہوں اور عنقریب تمہاری آزمائش ہوگی جب تمہیں آزمایا جائے تو میرے بارے میں نہ بتانا ۔اب لڑکے کی یہ کیفیت ہو گئی کہ (اللہ عزَّوَجَلَّکے حکم سے) و ہ پیدائشی اندھوں اور برص والوں کوشفا د ینے لگا اور لوگوں کا ہر قسم کا علاج کرنے لگا ، بادشاہ کا ایک ہم مجلس نابینا تھا جب اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو بہت سے تحائف لے کر اس کے پاس آیا اور کہا : اگر تو مجھے شِفا دیدے تو یہ سب کچھ تجھے دیدیا جائے گا۔ اُسنے کہا: میں کسی کو شِفا نہیں دیتا، شِفا تواللہ تَعَالٰیکے دستِ قدرت میں ہے، اگر تو اس پرایمان لے آئے تو میں دعا کروں گااور وہ تجھے شِفا دے گا۔ چنانچہ، وہاللہ عزَّوَجَلَّپر ایمان لایا اور اللہ عزَّوَجَلَّ نے اسے شِفا عطا فرمادی ، پھر وہ حسبِ معمول بادشاہ کے پاس آکر بیٹھا تو بادشاہ نے پوچھا: تیری بینائی کس نے لوٹا دی؟ اس نے کہا: میرے رب نے۔ بادشاہ نے کہا: کیامیرے علاوہ بھی تیرا کوئی رب ہے؟ اس نے کہا: میرا اور تیرا رباللہ عزَّوَجَلَّہے ۔ یہ سن کر بادشاہ نے اسے پکڑا اور اس وقت تک سزا دیتا رہا جب تک کہ اس نے لڑکے کے بارے میں نہ بتادیا۔پھراس لڑکے کو لایا گیا تو بادشاہ نے کہا :اے لڑکے تیرا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ تو مادر زاد اندھوں اور برص والوں کو تندرست کردیتا ہے، اوراب تو خوب ماہر ہو گیا۔ لڑکے نے کہا : میں تو کسی کو شِفا نہیں دیتا، بلکہاللہ عزَّوَجَلَّشِفا دیتا ہے۔ ( یہ سن کر ) بادشاہ نے اسے پکڑا اور مسلسل سزا دیتا رہا یہاں تک کہ اس نے راہب کا پتا بتادیا۔ راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ اپنا دین چھوڑ دے تو اس نے صاف انکار کر دیا ۔ بادشاہ نے اس کے سر کے درمیان رکھا اور سرکے دو ٹکڑے کردیئے، پھراپنے مُصاحِب سے کہا کہ وہ اپنا دین چھوڑ دے تو اس نے بھی انکار کر دیا بادشاہ نے اس کے سر پر بھی آرا رکھا اور اس کے دو ٹکڑے کردیئے، پھر لڑکے کو لایا گیا اور اُس سے بھی دین چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا، اُس نے بھی انکار کردیا۔ چنانچہ، اُسے چند آدمیوں کے حوالے کیا گیا کہ اگر یہ اپنے نئے دین سے پلٹ جائے تو ٹھیک ورنہ اسے فلاں پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرا دینا ۔ چنانچہ، لوگ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس نے دعا کی : اےاللہ عَزَّوَجَل! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے کفایت کر۔ چنانچہ، پہاڑ لرزنے لگا اور وہ گر پڑے ، لڑکا بادشاہ کے پاس پہنچ گیا بادشاہ نے پوچھا: تیرے ساتھ جانے والوں نے کیا کیا ؟کہا:اللہ عزَّوَجَلَّنے مجھے ان سے بچالیا۔ بادشاہ نے اسے کچھ اور آدمیوں کے حوالے کیا اور کہا: اسے کشتی میں سوار کر کے دریا کے وَسْط میں لے جاؤ اگر اپنے دین سے پھر جائے تو بہتر ہے ورنہ اسے ( دریا میں )پھینک دینا۔ چنانچہ، وہ اُسے لے گئے،تو اُس نے دعا کی: اےاللہ عزَّوَجَلَّ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے محفوظ رکھ۔ چنانچہ، کشتی اُلٹ گئی اور وہ غرق ہوگئے، لڑکا پھر بادشاہ کے پاس پہنچ گیا، بادشاہ نے پوچھا: تیرے ساتھ جانے والے کہاں ہیں ؟ اُس نے کہا:اللہ عزَّوَجَلَّنے مجھے ان سے بچالیا اور تو اُس وقت تک مجھے قتل نہیں کرسکتا، جب تک میری بات پوری نہ کرے، بادشاہ نے کہا: بتا کیا بات ہے ؟ اُس نے کہا :لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے مجھے ایک لکڑی پر سولی چڑھا دے پھر میرے تَرکَش سے ایک تیر لے کر یہ الفاظ کہتے ہوئے مجھے تیر ماردے ،’’اللہ عزَّوَجَلَّکے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے۔‘‘تو جب ایسا کرے گا تو مجھے قتل کرسکے گا ۔ چنانچہ، بادشاہ نے لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے لڑکے کو سولی پر لٹکا کر اس کے تَرکَش سے ایک تیر لیا اور کمان میں رکھ کر’’بِسْمِ اللہ رَبِّ الْغُلَام‘‘ کہا :اور تیر پھینک دیا جو لڑکے کی کنپٹی پر لگا۔ ا س نے اپنا ہاتھ کنپٹی پر رکھا اور اس دار فانی سے آخرت کی طرف کوچ کر گیا ۔ یہ دیکھ کر وہاں موجود لوگوں نے کہا: ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے ۔جب لوگوں کی یہ حالت بادشاہ کو بتا کر کہا گیا کہ تجھے جس بات کا خطرہ تھااللہ (عَزَّوَجَل)نے وہ سب کچھ تیرے ساتھ کردیا ہے ۔ یہ سن کر بادشاہ نے گلیوں کے دَہانے پر خندق کھودنے کا حکم دیا۔ چنانچہ، خندقیں کھود کر ان میں آگ جلا دی گئی اور بادشاہ نے اعلان کر دیا کہ جو شخص اپنے دین سے باز نہ آئے اُسے آگ میں ڈال د یا جائے یا اس سے کہا جائے آگ میں داخل ہو جا! چنانچہ، لوگوں نے ایسے ہی کیا یہاں تک کہ ایک عورت اپنے بچے کے ساتھ آئی۔ وہ آگ میں داخل ہونے سے کچھ ہچکچا نے لگی تو بچے نے کہا :ماں صبر کر، تو حق پر ہے۔

حَدَّثَنَا ہَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ صُہَیْبٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ مَلِکٌ فِیْمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ وَکَانَ لَہُ سَاحِرٌ فَلَمَّا کَبِرَ قَالَ لِلْمَلِکِ إِنِّیْ قَدْ کَبِرْتُ فَابْعَثْ إِلَیَّ غُلَامًا أُعَلِّمْہُ السِّحْرَ فَبَعَثَ إِلَیْہِ غُلَامًا یُعَلِّمُہُ فَکَانَ فِی طَرِیْقِہٖ إِذَا سَلَکَ رَاہِبٌ فَقَعَدَ إِلَیْہِ وَسَمِعَ کَلَامَہُ فَأَعْجَبَہُ فَکَانَ إِذَا أَتَی السَّاحِرَ مَرَّ بِالرَّاہِبِ وَقَعَدَ إِلَیْہِ فَإِذَا أَتَی السَّاحِرَ ضَرَبَہُ فَشَکَا ذَلِکَ إِلَی الرَّاہِبِ فَقَالَ إِذَا خَشِیْتَ السَّاحِرَ فَقُلْ حَبَسَنِی أَہْلِیْ وَإِذَا خَشِیْتَ أَہْلَکَ فَقُلْ حَبَسَنِی السَّاحِرُ فَبَیْنَمَا ہُوَعَلَی ذٰلِکَ إِذْ أَتَی عَلٰی دَابَّۃٍ عَظِیْمَۃٍ قَدْ حَبَسَتِ النَّاسَ فَقَالَ الْیَوْمَ أَعْلَمُ السَّاحِرُ أَفْضَلُ أَمِ الرَّاہِبُ أَفْضَلُ فَأَخَذَ حَجَرًا فَقَالَ اللہم إِنْ کَانَ أَمْرُ الرَّاہِبِ أَحَبَّ إِلَیْکَ مِنْ أَمْرِ السَّاحِرِ فَاقْتُلْ ہَذِہِ الدَّابَّۃَ حَتّٰی یَمْضِیَ النَّاسُ فَرَمَاہَا فَقَتَلَہَا وَمَضَی النَّاسُ فَأَتَی الرَّاہِبَ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ لَہُ الرَّاہِبُ أَیْ بُنَیَّ أَنْتَ الْیَوْمَ أَفْضَلُ مِنِّیْ قَدْ بَلَغَ مِنْ أَمْرِکَ مَا أَرَی وَإِنَّکَ سَتُبْتَلٰی فَإِنِ ابْتُلِیْتَ فَلَا تَدُلَّ عَلَیَّ وَکَانَ الْغُلَامُ یُبْرِیئُ الْأَکْمَہَ وَالْأَبْرَصَ وَیُدَاوِی النَّاسَ مِنْ سَائِرِ الْأَدْوَائِ فَسَمِعَ جَلِیْسٌ لِلْمَلِکِ کَانَ قَدْ عَمِیَ فَأَتَاہُ بِہَدَایَا کَثِیرَۃٍ فَقَالَ مَا ہَہُنَا لَکَ أَجْمَعُ إِنْ أَنْتَ شَفَیْتَنِی فَقَالَ إِنِّیْ لَا أَشْفِیْ أَحَدًا إِنَّمَا یَشْفِی اللہُ فَإِنْ أَنْتَ آمَنْتَ بِاللہِ دَعَوْتُ اللہَ فَشَفَاکَ فَاٰمَنَ بِاللہِ فَشَفَاہُ اللہُ فَأَتَی الْمَلِکَ فَجَلَسَ إِلَیْہِ کَمَا کَانَ یَجْلِسُ فَقَالَ لَہُ الْمَلِکُ مَنْ رَدَّ عَلَیْکَ بَصَرَکَ قَالَ: رَبِّیْ قَالَ: وَلَکَ رَبٌّ غَیْرِیْ؟ قَالَ رَبِّیْ وَرَبُّکَ اللہُ فَأَخَذَہُ فَلَمْ یَزَلْ یُعَذِّبُہُ حَتّٰی دَلَّ عَلَی الْغُلَامِ فَجِیْئَ بِالْغُلَامِ فَقَالَ لَہُ الْمَلِکُ أَیْ بُنَیَّ قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِکَ مَا تُبْرِئُ الْأَکْمَہَ وَالْأَبْرَصَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ فَقَالَ إِنِّیْ لَا أَشْفِیْ أَحَدًا إِنَّمَا یَشْفِی اللہُ فَأَخَذَہُ فَلَمْ یَزَلْ یُعَذِّبُہُ حَتَّی دَلَّ عَلَی الرَّاہِبِ فَجِیْئَ بِالرَّاہِبِ فَقِیلَ لَہُ اِرْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ فَأَبٰی فَدَعَا بِالْمِنْشَارِ فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِی مَفْرِقِ رَأْسِہِ فَشَقَّہُ حَتّٰی وَقَعَ شِقَّاہُ ثُمَّ جِیْئَ بِجَلِیْسِ الْمَلِکِ فَقِیلَ لَہُ اِرْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ فَأَبٰی فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِی مَفْرِقِ رَأْسِہِ فَشَقَّہُ بِہٖ حَتّٰی وَقَعَ شِقَّاہُ ثُمَّ جِیْئَ بِالْغُلَامِ
فَقِیْلَ لَہُ ارْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ فَأَبٰی فَدَفَعَہُ إِلٰی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہٖ فَقَالَ اِذْہَبُوْا بِہٖ إِلٰی جَبَلِ کَذَا وَکَذَا فَاصْعَدُوْا بِہٖ الْجَبَلَ فَإِذَا بَلَغْتُمْ ذُرْوَتَہُ فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِینِہٖ وَإِلَّا فَاطْرَحُوْہُ فَذَہَبُوْا بِہٖ فَصَعِدُوْا بِہِ الْجَبَلَ فَقَالَ اللہم اکْفِنِیْہم بِمَا شِئْتَ فَرَجَفَ بِہم الْجَبَلُ فَسَقَطُوْا وَجَائَ یَمْشِیْ إِلَی الْمَلِکِ فَقَالَ لَہُ الْمَلِکُ مَا فَعَلَ أَصْحَابُکَ؟ قَالَ کَفَانِیْہم اللہُ فَدَفَعَہُ إِلَی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہٖ فَقَالَ اذْہَبُوْا بِہٖ فَاحْمِلُوْہُ فِی قُرْقُوْرٍ فَتَوَسَّطُوْا بِہٖ الْبَحْرَ فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِیْنِہٖ وَإِلَّا فَاقْذِفُوْہُ فَذَہَبُوْا بِہٖ فَقَالَ اللہم اکْفِنِیْہم بِمَا شِئْتَ فَانْکَفَأَتْ بِہم السَّفِینَۃُ فَغَرِقُوْا وَجَاء َ یَمْشِیْ إِلَی الْمَلِکِ فَقَالَ لَہُ الْمَلِکُ مَا فَعَلَ أَصْحَابُکَ؟ قَالَ کَفَانِیْہم اللہُ فَقَالَ لِلْمَلِکِ إِنَّکَ لَسْتَ بِقَاتِلِی حَتّٰی تَفْعَلَ مَا اٰمُرُکَ بِہٖ قَالَ وَمَا ہُوَ قَالَ تَجْمَعُ النَّاسَ فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ وَتَصْلُبُنِیْ عَلٰی جِذْعٍ ثُمَّ خُذْ سَہم ا مِنْ کِنَانَتِی ثُمَّ ضَعِ السَّہم فِیْ کَبِدِ الْقَوْسِ ثُمَّ قُلْ بِاسْمِ اللہِ رَبِّ الْغُلَامِ ثُمَّ ارْمِنِیْ فَإِنَّکَ إِذَا فَعَلْتَ ذٰلِکَ قَتَلْتَنِیْ فَجَمَعَ النَّاسَ فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ وَصَلَبَہُ عَلَی جِذْعٍ ثُمَّ أَخَذَ سَہم ا مِنْ کِنَانَتِہٖ ثُمَّ وَضَعَ السَّہم فِیْ کَبِدِ الْقَوْسِ ثُمَّ قَالَ بِاسْمِ اللہِ رَبِّ الْغُلَامِ ثُمَّ رَمَاہُ فَوَقَعَ السَّہم فِیْ صُدْغِہٖ فَوَضَعَ یَدَہُ فِیْ صُدْغِہٖ فِیْ مَوْضِعٍ السَّہم فَمَاتَ فَقَالَ النَّاسُ اٰمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ فَأُتِیَ الْمَلِکُ فَقِیلَ لَہُ أَرَأَیْتَ مَا کُنْتَ تَحْذَرُ قَدْ وَاللہِ نَزَلَ بِکَ حَذَرُکَ قَدْ اٰمَنَ النَّاسُ فَأَمَرَ بِالْأُخْدُوْدِ فِیْ أَفْوَاہِ السِّکَکِ فَخُدَّتْ وَأُضْرِمَ فِیْھَا النِّیْرَانُ وَقَالَ مَنْ لَمْ یَرْجِعْ عَنْ دِیْنِہٖ فَأَقْحِمُوْہُ فِیْہَا أَوْ قِیْلَ لَہُ اقْتَحِمْ فَفَعَلُوْا حَتّٰی جَائَ تِ امْرَأَۃٌ وَمَعَہَا صَبِیٌّ لَہَا فَتَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ فِیْہَا فَقَالَ لَہَا الْغُلَامُ یَا أُمَّہْ اِصْبِرِیْ فَإِنَّکِ عَلَی الْحَقِّ۔( مسلم ، کتاب الزھد والرقائق، باب قصۃ اصحاب الاخدود، ص۱۶۰۰، حدیث:۳۰۰۵)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 30 ، باب : صبر کا بیان

’’ حضرتِ سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک عورت کے پاس سے گزرے ، وہ ایک قبر کے قریب رو رہی تھی، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’ خدا سے ڈر اور صبر کر۔‘‘ وہ آپ کو نہ پہچان سکی اس لئے کہا:آپ مجھ سے دور ہو جائیے، کیونکہ آپ کو میری طرح مصیبت نہیں پہنچی۔ پھر جب اسے بتایا گیا کہ یہ تو نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں۔ تو وہ درِ اقدس پر حاضر ہوئی، تو وہاں کوئی دربان نہ پایا اُس نے عرض کی: میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا، اس لیے معذرت خواہ ہوں۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ صبر تو پہلے صَدْمہ کے وقت ہوتاہے۔‘‘ مسلم شریف میں ہے کہ ’’وہ اپنے بچے پر رو رہی تھی۔‘‘

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ مَرَّالنَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِإِمْرَأَۃٍ تَبْکِیْ عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ اِتَّقِی اللہَ وَاصْبِرِیْ قَالَتْ إِلَیْکَ عَنِّیْ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِیْبَتِیْ وَلَمْ تَعْرِفْہُ فَقِیْلَ لَہَا إِنَّہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْ بَابَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَہُ بَوَّابِیْنَ فَقَالَتْ لَمْ أَعْرِفْکَ فَقَالَ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْأُوْلَی۔وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِّمُسْلِمٍ :تَبْکِیْ عَلٰی صَبِیٍّ لَّھَا۔(بخاری، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ۱/ ۴۳۳، حدیث: ۱۲۸۳)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 31 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا اَبو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’ اللہ عزَّوَجَلَّ فرماتا ہے، جب میں اپنے مومن بندے سے اس کی کوئی دنیوی محبوب چیز لے لوں ، پھر وہ صبر کرے تو میرے پاس اس کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔‘‘

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَقُوْلُ اللہُ تَعَالٰی مَا لِعَبْدِی الْمُؤْمِنِ عِنْدِیْ جَزَاء ٌ اِذَا قَبَضْتُ صَفِیَّہُ مِنْ أَہْلِ الدُّنْیَا ثُمَّ احْتَسَبَہُ اِلَّا الْجَنَّۃُ۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب العمل الذی یبتغی بہ وجہ اللہ، ۴/۲۲۵، حدیث:۶۴۲۴)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 32 ، باب : صبر کا بیان

اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے طاعون کے بارے میں دریافت کیا تو رسُولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے فرمایا: طاعون ایک عذاب تھا کہ اللہ عَزَّوَجَل جس پر چاہتااسے بھیجتا ۔ پھر اللہ عَزَّوَجَل نے مؤمنین کے لئے اسے رحمت بنادیا ۔تو جو شخص طاعون پھیلنے کے زمانے میں اپنے شہر میں صبرکے ساتھ طلب ثواب کے لئے اس اعتقاد کے ساتھ ٹھہرا رہے کہ اسے وہی پہنچے گا جو اللہ عزَّوَجَلَّ نے اس کے لئے لکھ دیا ہے تو اس کے لئے شہید کی مثل ثواب ہے۔

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا أَنَّہَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُوْنِ فَأَخْبَرَہَا نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ کَانَ عَذَابًا یَبْعَثُہُ اللہُ عَلٰی مَنْ یَّشَائُ فَجَعَلَہُ اللہُ رَحْمَۃً لِلْمُؤْمِنِیْنَ فَلَیْسَ مِنْ عَبْدٍ یَقَعُ الطَّاعُوْنُ فَیَمْکُثُ فِیْ بَلَدِہٖ صَابِرًا یَعْلَمُ أَنَّہُ لَنْ یُصِیْبَہُ إِلَّا مَا کَتَبَ اللہُ لَہُ إِلَّا کَانَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّہِیْد۔ (بخاری ،کتاب الطب ، باب اجر الصابر فی الطاعون ،۴/۳۰ حدیث: ۵۷۳۴)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 33 ، باب : صبر کا بیان

’’ حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں :میں نے رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے :جب میں اپنے کسی بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کروں پھر وہ صبر کرے تو میں اس کے عوض اسے جنت دونگا ۔ دومحبوب چیزوں سے مراد اس کی دونوں آنکھیں ہیں۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ إِنَّ اللہَ قَالَ إِذَا ابْتَلَیْتُ عَبْدِیْ بِحَبِیْبَتَیْہِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُہُ مِنْہم ا الْجَنَّۃَ یُرِیْدُ عَیْنَیْہِ(بخاری، کتاب المرضی، باب فضل من ذھب بصرہ، ۴/۶ حدیث: ۵۶۵۳)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 34 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عَطَاء بِنْ اَبو رَبَاح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں : مجھے حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما نے فرمایا :کیا تمہیں جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟میں نے کہا: کیوں نہیں۔ فرمایا :یہ سیاہ فام عورت نبیِّ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی :مجھے مِرگی کا دورہ پڑتا ہے جس کی وجہ سے میں بے پَردہ ہوجاتی ہوں ، اللہ عزَّوَجَلَّ سے میرے لیے دعا کیجئے ،نبیِّ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اگر صبر کرسکو تو تمہارے لیے جنت ہے اور اگر چاہو تو میں تمہار ی صحت کے لیے اللہ عزَّوَجَلَّ سے دعاکروں ،اس نے کہا: میں صبر کروں گی ،پھر عرض کی: میں بے پردہ ہوجاتی ہوں ، دعا کیجئے میں بے پردہ نہ ہوا کروں ،چنانچہ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے لیے دعا فرمادی۔

عَنْ عَطَاءَ بْنِ أَبِیْ رَبَاحٍ قَالَ،قَالَ لِیْ اِبْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہم ا:أَ لَا أُرِیْکَ اِمْرَأۃً مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ؟ فَقُلْتُ بَلٰی! قَالَ:ہٰذِہِ الْمَرْأۃُ السَّوْدَائُ أَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّیْ أُصْرَعُ، وَ إِنِّی أَتَکَشَّفُ، فَادْعُ اللہَ تَعَالٰی لِیْ قَالَ:إنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَکِ الْجَنَّۃُ،وَإنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللہَ تَعَالٰی أنْ یُعَافِیَکِ، فَقَالَتْ:أَصْبِرُ، فَقَالَتْ إنِّیْ أتَکَشَّفُ فَادْعُ اللہَ أنْ لَا أَتَکَشَّفَ ، فَدَعَا لَہَا. مُتَّفَقٌ عَلَیہِ. (بخاری، کتاب المرضی، باب فضل من یصرع من الریح ، ۴/۶، حدیث:۵۶۵۲)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 35 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مَسْعُوْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں : گویا کہ میں اب بھی حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھ رہا ہوں ، جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک نبی عَلَیْہِ السَّلام کے بارے میں بیان فرمارہے تھے کہ اُن کی قوم نے اُنہیں اس قدر مارا کہ لہو لہان کر دیا اور وہ اپنے چہرئہ انور سے خون پونچھتے ہوئے فرمارہے تھے: یا اللہ ! میری قوم کو بخش دے یہ (مجھے )جانتے نہیں۔

عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ:’’کَأَنِّیْ اَنْظُرُ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَحْکِیْ نَبِیّاً مِّنَ الأَنْبِیَائِ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہم ،ضَرَبَہُ قَوْمُہُ فَأَدْمَوْہُ،وَہُوَ یَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْہِہٖ ،یَقُوْلُ:اللھُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَإِنَّہم لَا یَعْلَمُوْنَ۔‘‘مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ
(بخاری،کتاب احادیث الانبیاء، باب حدیث الغار،۲/۴۶۸ حدیث:۳۴۷۷)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 36 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدری اور حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے روایت کرتے ہیں کہ’’مسلمان کو تھکاوٹ ، بیماری، غم، تکلیف وغیرہ حتی کہ کانٹا بھی چُبھ جائے تو اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ ‘‘ ’’وَصَب‘‘ بیماری کو کہتے ہیں۔

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ وَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:مَا یُصِیْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا ھَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا اَذًی وَلَا غَمٍّ ،حَتَّی الشَّوْکَۃِ یُشَاکُھَا اِلَّا کَفَّرَ اللہُ بِھَا مِنْ خَطَایَاہُ۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔(بخاری، کتاب المرضی ، باب ماجاء فی کفارۃ المرض، ۴/۳، حدیث:۵۶۴۱)وَالْوَصَبُ اَلْمَرَضُ

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 37 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِسَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مَسْعُوْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :میں نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا آپ بخار میں مبتلا تھے ، میں نے عرض کی:’’یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کو تو شدید بخار ہے۔‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ ہاں ! مجھے تمہارے دو آدمیوں کے برابر بخار ہے ۔ ‘‘ میں نے عرض کی: یہ اس لئے کہ آپ کو دوگنا ثواب ملے ؟ فرمایا:’’ہاں یہی بات ہے اور اسی طرح جب کسی مسلمان کو کانٹاچبھے یا اس سے زائد کسی مصیبت سے تکلیف اٹھانی پڑے تواللہ عزَّوَجَلَّاس کے بدلے اُس کی برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کے گناہ اِس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح درخت اپنے پتوں کو گرا دیتا ہے ۔‘‘ ’’اَلْوَعْکُ‘‘ بخار چڑھنے کو کہتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف بخار کو بھی کہتے ہیں۔

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُوْعَکُ فَقُلْتُ:یَا رَسُوْلَ اللہِ! إِنَّکَ تُوْعَکُ وَعْکًا شَدِیْدًا؟ قَالَ:أَجَلْ إِنِّیْ أُوْعَکُ کَمَا یُوْعَکُ رَجُلَانِ مِنْکُمْ، قُلْتُ:ذٰلِکَ أَنَّ لَکَ أَجْرَیْنِ ؟ قَالَ:أَجَلْ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُصِیْبُہُ أَذًی،شَوْکَۃٌ فَمَا فَوْقَہَا إِلَّا کَفَّرَاللہُ بِہَا سَیِّئَاتِہٖ، وَحُطَّتْ عَنْہُ ذُنُوْبُہُ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَۃُ وَرَقَہَا۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ ’’وَالْوَعْکُ‘‘ مَغْثُ الْحُمّٰی ، وَقِیْلَ :اَلْحُمّٰی (بخاری، کتاب المرضی، باب اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الاول، ۴/۵، حدیث:۵۶۴۸)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 38 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رسولِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّجس سے بھلائی کا ارداہ فرماتا ہے اس کو مصائب میں مبتلا فرماتا ہے۔’’یُصَِبْ‘‘ صاد کے زبر اور زیر دونوں کے ساتھ آتا ہے۔

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ یُرِدِ اللہُ بِہِ خَیْرًا یُصِبْ مِنْہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِی ۔ وَضَبَطُوْا یُصَِبْ بِفَتْحِ الصَّادِ وَکَسْرِہَا(بخاری ، کتاب المرضی ، باب ماجاء فی کفارۃ المرض، ۴/۴، حدیث:۵۶۴۵)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 39 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رسولِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: کسی تکلیف کے آنے پرتم میں سے کوئی شخص ہر گز موت کی تمنا نہ کرے اگر ضروری ہو تو یہ کلمات کہے: ’’یا اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرے لئے زندہ رہنا بہتر ہے اور جب میرا مرنا بہتر ہو مجھے موت دے دے۔‘‘

عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم لَا یَتَمَنَّیَنَّ أَحَدُکُمُ الْمَوْتَ لِضُرِّ أَصَابَہُ فَإنْ کَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْیَقُلْ اللہم أَحْیِنِیْ مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًالِیْ وَتَوَفَّنِیْ إِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِیْ۔ (بخاری، کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، ۴/۱۳، حدیث:۵۶۷۱)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 40 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا خَبَّاب بِنْ اَرَترَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں :ہم نے نبیِّ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے (کفار کی) شکایت کی آپ اپنی چادر مبارک کو تکیہ بنائے کعبۃاللہشریف کے سائے میں لیٹے ہوئے تھے ۔ ہم نے عرض کی: آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے لئے مدد نہیں مانگتے ؟ آپ ہمارے حق میں دعا نہیں فرماتے؟ فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے کسی کو پکڑا جاتا پھر ایک گڑھاکھود کر اسے اس میں گاڑھا جاتا ،پھر ایک آرا لاکر اس کے سر پر چلایا جاتا اور اس کے دو ٹکڑے کر دیئے جاتے ،لوہے کی کنگھیاں پھیری جاتیں جو گوشت اور ہڈیوں تک پہنچ جاتیں لیکن اس کے باوجود وہ دین سے رو گردانی نہ کرتا ،اللہ عَزَّوَجَلّکی قسم !اللہتعالیٰ دینِ اسلام کی تکمیل فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سوارمقام صَنْعَاء سے حَضْرَ مَوْت تک سفر کرے گا، اُسےاللہ عزَّوَجَلَّکے سوا کسی کا خوف نہ ہوگااور نہ ہی اپنی بکریوں پر بھیڑیے کاخو ف ہوگا لیکن تم جلد بازی کرتے ہو۔

عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللہِ خَبَّابِ بْنِ الْاَرَتِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:شَکَوْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَۃً لَہُ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ،فَقُلْنَا:اَ لَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا، اَلَا تَدْعُوْلَنَا؟ فَقَالَ:قَدْکَانَ مَنْ قَبْلَکُمْ یُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَیُحْفَرُ لَہُ فِی الْاَرْضِ فَیُجْعَلُ فِیْھَا،ثُمَّ یُؤْتٰی بِالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلٰی رَأْسِہٖ فَیُجْعَلُ نِصْفَیْنِ،وَیُمْشَطُ بِاَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَا دُوْنَ لَحْمِہِ وَعَظْمِہِ،مَایَصُدُّہُ ذٰلِکَ عَنْ دِیْنِہِ،وَاللہِ لَیُتِمَّنَّ اللہُ ھٰذَا الْاَمْرَحَتَّی یَسِیْرَالرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَائَ اِلٰی حَضْرَمَوْتَ لَا یَخَافُ اِلَّا اللہَ وَالذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِہِ ،وَلٰٰکِنَّکُمْ تَسْتَعْجِلُوْنَ‘‘رَوَاہُ الْبُخَارِی(بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، ۲/ ۵۰۳، حدیث:۳۶۱۲)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 41 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ غزوۂ حنین میں نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مالِ غنیمت تقسیم فرماتے ہوئے بعض لوگوں کو ترجیح دی، اَقْرَع بِن حَابِس کو سو اُونٹ دئیے عُیَیْنَۃ بِن حِصْن کو بھی اتنے ہی دیئے شرفائے عرب میں سے بھی بعض کو ترجیحاً کچھ زیادہ مال دیا، ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا گیا اور نہ رضائے الٰہی کو پیشِ نظر رکھا گیا (حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مَسْعُوْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں ) میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں ضرور نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بتاؤں گا ۔چنانچہ، میں نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکریہ واقعہ بیان کردیا ،یہ سن کر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرۂ انور سرخ ہوگیا، فرمایا: اگر اللہ اور اس کا رسول انصاف نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟ پھر فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ موسیٰ ( عَلَیْہِ السَّلام ) پر رحم فرمائے انہیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔(حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مَسْعُوْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ )فرماتے ہیں : میں نے کہا کہ آیندہ میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں اس قسم کی بات نہیں پہنچاؤں گا۔

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:لَمَّا کَانَ یَوْمَ حُنَیْنٍ اَثَرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نَاسًا فِی الْقِسْمَۃِ فَاَعْطَی الْاَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَۃً مِّنَ الْاِبِلِ،وَاَعْطٰی عُیَیْنَۃَ بْنَ حِصْنٍ مِثْلَ ذَالِکَ،وَاَعْطٰی نَاسًا مِّنْ اَشْرَافِ الْعَرَبِ وَاَثَرَھُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْقِسْمَۃِ۔ فَقَالَ رَجُلٌ:وَاللہِ اِنَّ ھٰذِہٖ قِسْمَۃٌ مَاعُدِلَ فِیْھَا،وَمَااُرِیْدَ فِیْھَا وَجْہُ اللہِ، فَقُلْتُ:وَاللہِ! لَاُخْبِرَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فَاَتَیْتُہُ فَاَخْبَرْتُہُ بِمَا قَالَ:فَتَغَیَّرَوَجْہُہُ حَتَّی کَانَ کَالصِّرْفِ۔ثُمَّ قَالَ:’’فَمَنْ یَّعْدِلُ اِذَا لَمْ یَعْدِلِ اللہُ وَرَسُوْلُہُ؟ ثُمَّ قَالَ:یَرْحَمُ اللہُ مُوْسٰی قَدْأُوْذِیَ بِاَکْثَرَ مِنْ ھٰذَا فَصَبَرَ‘‘فَقُلْتُ: لَاجَرَمَ لَا اَرْفَعُ اِلَیْہِ بَعْدَھَا حَدِیْثًا۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہ(بخاری،کتاب فرض الخمس،باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعطی المؤلفۃ قلوبھم، ۲/۳۵۹، حدیث:۳۱۵۰)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 42 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کو جلد ہی دنیا میں سزا دے دیتا ہے اور جب کسی بندہ کے ساتھ برائی کا قَصد فرماتا ہے تو گناہ کے باوجود اس کی سزا روک رکھتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دے گا۔
نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ بھی فرمایا کہ ثواب کی زیادتی مصائب کی زیادتی پر موقوف ہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے اسے آزماتا ہے پس جو (اس حالت میں ) خوش رہا اس کے لئے اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا ہے اور جو ناخوش ہوا اس کے لئے ناراضی ہے۔ امام ترمذی ( عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی ) نے فرمایا کہ یہ حدیث حَسَن ہے

عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَرَادَ اللہُ بِعَبْدِہٖ خَیْرًا عَجَّلَ لَہُ الْعُقُوْبَۃَ فِی الدُّنْیَا، وَإِذَا أَرَادَ اللہُ بِعَبْدِہِ الشَّرَّ أَمْسَکَ عَنْہُ بِذَنْبِہٖ حَتّٰی یُوَافِیَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
وَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’ إِنَّ عِظَمَ الْجَزَائِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَائِ، وَإِنَّ اللہَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا اِبْتَلَاہم ، فَمَنْ رَضِیَ فَلَہُ الرِّضٰی، وَمَنْ سَخِطَ فَلَہُ السُّخْطُ‘‘۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِی وَقَالَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ (ترمذی، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی الصبر علی البلائ، ۴/ ۱۷۸، حدیث: ۲۴۰۴، بتغیر قلیل)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 43 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ حضرتِ ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا ایک صاحبزادہ بیمار تھا۔ آپ گھر سے باہر تشریف لے گئے توبچے کا انتقال ہوگیا، واپس آکر بچے کا حال پوچھا تو بچے کی ماں حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے کہاکہ پہلے سے زیادہ پُرسکون ہے، پھران کے سامنے کھانا رکھا، انہوں نے کھایا اور پھر بیوی سے ہم بستر ہوئے اس کے بعد اُمِّ سُلَیْم نے کہا: بچے کو دفن کرو۔پھر صبح کے وقت حضرتِ ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ سنایا ۔آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا: کیا تم نے رات کو ہم بستری کی ؟عرض کی: جی ہاں ! آپ نے دعا مانگی: اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! ان دونوں کو برکت دے۔ چنانچہ، ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں حضرتِ ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے مجھ سے فرمایا: اسے اٹھا کر رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں لے جاؤ ساتھ ہی کچھ کھجوریں بھی دِیں۔نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا: اس کے ساتھ کچھ ہے ؟ عرض کی: جی ہاں ! چند کھجوریں ہیں۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں چبایا اور پھر بچے کے منہ میں رکھ دیں اور یوں اس کی تَحْنِیْک فرمائی اور اس کا نامعَبْدُ اللہ رکھا۔بخاری کی روایت میں ہے اِبْنِ عُیَیْنَہ فرماتے ہیں : ایک انصاری نے بتایا کہ میں نے عَبْدُ اللہ (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ) کی اولاد سے نو لڑکوں کو دیکھا سب کے سب قراٰن کے قاری تھے ۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے بطن سے حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کا ایک بچہ فوت ہوگیا، اُمِّ سُلَیْم نے گھر والوں سے کہا:’’ ابو طلحہ کو بچے کے بارے میں مجھ سے پہلے کوئی نہ بتائے۔‘‘حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ تشریف لائے تو اُمِّ سُلَیْم نے ان کے سامنے شام کا کھانا رکھا انہوں نے کھایا اور پیا پھر اُمِّ سُلَیْم پہلے سے زیادہ بن سنور کر ان کے سامنے آئیں انہوں نے جِماع کیا جب اُمِّ سُلَیْم نے دیکھا کہ وہ سیر ہوگئے اور خواہش کی تکمیل بھی کرلی، تو عرض کی: ’’ابو طلحہ! بتاؤ تو سہی اگر کوئی قوم کسی کو کوئی چیز عاریۃً دے پھر واپسی کا مطالبہ کرے تو انہیں انکار کا حق ہے؟‘‘ فرمایا:’’ نہیں ‘‘ اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے کہا اپنے بیٹے کے بارے میں ثواب طلب کیجیے، حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ غضب ناک ہوگئے اور فرمایا: تم نے مجھے نہ بتایا یہاں تک کہ میں نے جماع کیا پھر تم نے بچے کی خبر دی یہ کہہ کر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو سارا واقعہ سنایا۔ رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ تمہاری رات کو بابرکت بنائے۔ راوی فرماتے ہیں کہ اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا حاملہ ہوگئیں۔ رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سفر میں تھے اور وہ بھی ہم سفر تھیں اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادت مبارکہ تھی کہ سفر سے واپس تشریف لاتے تو مدینہ طیبہ میں رات کو داخل نہ ہوتے۔ چنانچہ، مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کو دردِ زہ شروع ہوگیا۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کو ان کے پاس رکنا پڑا اور نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے گئے ، حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں : حضرتِ ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کہنے لگے: اے میرے رب عزَّوَجَلَّ ! تجھے معلوم ہے کہ مجھے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ جا نا اور حضور کے ہم راہ ہی مدینے میں داخل ہونا پسند ہے لیکن اب میں یہاں رُک گیا ہوں۔حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کہنے لگیں : ابو طلحہ ! اب مجھے وہ پہلے والی تکلیف محسوس نہیں ہورہی لہٰذا چلئے۔ چنانچہ، ہم چل پڑے، مدینہ طیبہ پہنچے تو انہیں پھر دردِ زہ شروع ہوگیا اور لڑکا پیدا ہوا۔ حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں : مجھے میری والدہ نے فرمایا: اے انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ ! جب تک تم کل صبح اسے نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں نہ لے جاؤ تب تک اسے کوئی دودھ نہ پلائے۔چنانچہ، صبح کے وقت میں اس بچے کو اٹھا کر رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔پھر حضرت انس نےپوری حدیث بیان کی ۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ کَانَ اِبْنٌ لِأَبِیْ طَلْحَۃَ یَشْتَکِیْ فَخَرَجَ أَبُوْ طَلْحَۃَ فَقُبِضَ الصَّبِیُّ فَلَمَّا رَجَعَ أَبُوْ طَلْحَۃَ قَالَ:مَا فَعَلَ اِبْنِیْ؟ قَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ وَھِیَ اُمُّ الصَّبِیِّ:ہُوَ أَسْکَنُ مَا کَانَ، فَقَرَّبَتْ إِلَیْہِ الْعَشَائَ فَتَعَشَّی، ثُمَّ أَصَابَ مِنْہَا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ:وَارُواالصَّبِیَّ ،فَلَمَّاأَصْبَحَ أَبُوْ طَلْحَۃَ أَتٰی رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہُ، فَقَالَ:’’ أَعَرَّسْتُمُ اللَّیْلَۃَ؟‘‘ قَالَ:نَعَمْ،قَالَ: ’’اللہم بَارِکْ لَہم ا؛فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَ لِیْ أَبُوْ طَلْحَۃَ:اِحْمِلْہُ حَتّٰی تَأْتِیَ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَ مَعَہُ تَمَرَاتٍ، فَقَالَ:’’ أَمَعَہُ شَیْئٌ ؟‘‘ قَالَ:نَعَمْ، تَمَرَاتٌ، فَأَخَذَہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَضَغَہَا، ثُمَّ أَخَذَھَا مِنْ فِیْہِ فَجَعَلَہَا فِی فِیِّ الصَّبِیِّ، ثُمَّ حَنَّکَہُ وَسَمَّاہُ عَبْدَاللہِ وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِلْبُخَارِی قَالَ اِبْنُ عُیَیْنَۃَ:فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ فَرَأَیْتُ تِسْعَۃَ اَوْلَادٍ کُلُّھُمْ قَدْ قَرَؤُوْاالْقُرْاٰنَ، یَعْنِیْ مِنْ اَوْلَادِ عَبْدِ اللہِ الْمَوْلُوْدِ
وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ:مَاتَ اِبْنٌ لِأَبِیْ طَلْحَۃَ مِنْ أُمِّ سُلَیْمٍ،فَقَالَتْ لِأَہْلِہَا:لَاتُحَدِّثُوْاأَبَاطَلْحَۃَ بِابْنِہِ حَتّٰی أَکُوْنَ أَنَا أُحَدِّثُہُ، فَجَائَ فَقَرَّبَتْ إِلَیْہِ عَشَائً فَأَکَلَ وَشَرِبَ، ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَہُ أَحْسَنَ مَا کَانَتْ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذٰلِکَ،فَوَقَعَ بِہَا،فَلَمَّا أَنْ رَأَتْ أَنَّہُ قَدْ شَبِعَ وَأَصَابَ مِنْہَا قَالَتْ:یَا أَبَا طَلْحَۃَ!أَرَأَیْتَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوْاعَارِیَتَہم أَہْلَ بَیْتٍ فَطَلَبُوْاعَارِیَتَہم ،أَلَہم أَنْ یَمْنَعُوْہم ؟ قَالَ:لَا،فَقَالَتْ:فَاحْتَسِبْ اِبْنَکَ۔قَالَ:فَغَضِبَ،ثُمَّ قَالَ:تَرَکْتِنِیْ حَتّٰی اِذَا تَلَطَّخْتُ ثُمَّ أَخْبَرْتِنِیْ بِابْنِیْ؟ فَانْطَلَقَ حَتّٰی أَتَی رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہُ بِمَا کَانَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ’’ بَارَکَ اللہُ فِیْ لَیْلَتِکُمَا‘‘ قَالَ: فَحَمَلَتْ، قَالَ:وَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سَفَرٍوَہِیَ مَعَہُ،وَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَی الْمَدِینَۃَ مِنْ سَفَرٍ لَا یَطْرُقُہَا طُرُوقًا فَدَنَوْا مِنْ الْمَدِیْنَۃِ، فَضَرَبَہَا الْمَخَاضُ، فَاحْتَبَسَ عَلَیْہَا أَبُوْ طَلْحَۃَ، وَانْطَلَقَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:یَقُوْلُ أَبُوْطَلْحَۃَ:إِنَّکَ لَتَعْلَمُ یَا رَبِّ!اَنَّہُ یُعْجِبُنِیْ أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ وَأَدْخُلَ مَعَہُ إِذَا دَخَلَ، وَقَدْ اِحْتَبَسْتُ بِمَا تَرَی، تَقُولُ أُمُّ سُلَیْمٍ:یَا أَبَا طَلْحَۃَ! مَا أَجِدُ الَّذِی کُنْتُ أَجِدُ،اِنْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا، قَالَ وَضَرَبَہَا الْمَخَاضُ حِیْنَ قَدِمَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَتْ لِیْ أُمِّیْ:یَا أَنَسُ! لَا یُرْضِعُہُ أَحَدٌ حَتّٰی تَغْدُوَ بِہٖ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،فَلَمَّا أَصْبَحَ اِحْتَمَلْتُہُ فَانْطَلَقْتُ بِہٖ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَذَکَرَ تَمَامَ الْحَدِیْثِ۔(بخاری، کتاب العقیقۃ، باب تسمیۃ المولود غداۃ یولد …الخ، ۳/۵۴۷، حدیث:۵۴۷۰ ) (مسلم ،کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی طلحۃ، ص۱۳۳۳، حدیث:۲۱۴۴)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 44 ، باب : صبر کا بیان