باب : صبر کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 1

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’پہلوان وہ نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پالے۔‘‘ امام نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں ’’اَلصُّرَعَۃُ‘‘ اہلِ عرب کے ہاں اسے کہتے ہیں جو لوگوں کواکثر پچھاڑ دیتا ہو۔

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’ لَیْسَ الشَّدِیْدُ بِالصُّرَعَۃِ،إِنَّمَاالشَّدِیْدُ الَّذِیْ یَمْلِکُ نَفْسَہُ عِنْدَ الْغَضَبِ۔‘‘مُتَّفَقٌ عَلَیْہ (بخاری ،کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۴/۱۳۰،حدیث:۶۱۱۴)’’وَالصُّرَعَۃُ‘‘ بضَمِّ الصَّادِ وَفَتْحِ الرَّائِ، وَأَصْلُہُ عِنْدَ الْعَرَبِ مَنْ یَصْرَعُ النَّاسَ کَثِیْراً۔

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 45 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا سلیمان بن صُرَد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس بیٹھا تھا کہ دو آدمی باہم گالی گلوچ کرنے لگے، ایک کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اسکی رَگیں پھول گئیں۔ نبیِّ اکرم ،نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے اگر یہ اُسے پڑھ لے تو اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گااگر یہ’’ اَعُوْذُ بِ اللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ‘‘ پڑھ لے تو اس کی یہ کیفیت ختم ہو جائے گی۔ چنانچہ، صحابۂ کرام عَلَیْہم ا لرِّضْوَان نے اسے بتایا کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :’’اَعُوْذُ بِ اللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ‘‘ پڑھ لو!

عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ صُرَدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:کُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَرَجُلَانِ یَسْتَبَّانِ، وَأَحَدُہم ا قَدِ احْمَرَّ وَجْہُہُ، وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُہُ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’إِنِّیْ لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَوْقَالَہَا لَذَہَبَ عَنْہُ مَا یَجِدُ،لَوْقَالَ:أَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ،ذَہَبَ مِنْہُ مَا یَجِدُ ‘‘ فَقَالُوْا لَہٗ: إِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:تَعَوَّذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ‘‘ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ (بخاری، کتاب بدء ا لخلق، باب صفۃ ابلیس وجنودہ، ۲/۴۰۰، حدیث:۳۲۸۲، بتغیرقلیل)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 46 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا معاذ بن انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا جو شخص غصہ نافذکرنے پر قادر ہونے کے باوجود اسے پی جائے ، قیامت کے دن اللہ عزَّوَجَلَّ تمام مخلوق کے سامنے بُلا کر اسے اختیار دے گا کہ بڑی آنکھوں والی جس حور کو چاہے پسند کرے۔

عَنْ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’ مَنْ کَظَمَ غَیْظًا، وَہُوَ قَادِرٌ عَلٰی أَنْ یُنْفِذَہُ، دَعَاہُ اللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالٰی عَلٰی رُئُ وْسِ الْخَلَائِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتَّی یُخَیِّرَہُ مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ مَا شَاءَ‘‘۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ وَالتِّرْمِذِی وَقَالَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ
(ابو داؤد ، کتاب الادب، باب من کظم غیظا، ۴/۳۲۵، حدیث:۴۷۷۷)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 47 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نَبِیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کی :’’مجھے وصیت فرمائیے! ‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’غصہ مت کرو۔‘‘ اس نے کئی بار یہی سوال دُہرایا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہر بار یہی فرمایا کہ’’ غصہ مت کیا کرو۔‘‘

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِیْ قَالَ:’’ لَا تَغْضَبْ‘‘ فَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ:’’ لَا تَغْضَبْ‘‘۔رَوَاہُ الْبُخَارِی(بخاری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۴/۱۳۱،حدیث:۶۱۱۶)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 48 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ رسولِ اَکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’ مومن مرد و عورت کی جان ، اولاد اور مال میں مسلسل مصیبتیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ اللہ عزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔‘‘امام ترمذی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی نے اس حدیث کو ’’حسن صحیح‘‘فرمایا ہے۔

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :مَا یَزَالُ الْبَلَائُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَۃِ فِیْ نَفْسِہٖ وَوَلَدِہِ وَمَالِہِ حَتّٰی یَلْقَی اللہَ تَعَالٰی وَمَا عَلَیْہِ خَطِیْئَۃٌ ۔رَوَاہُ التِّرْمِذِی وَ قَالَ حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ۔(ترمذی ، کتاب الزہد عن رسول اللہ، باب ماجاء فی الصبر علی البلائ، ۴/۱۷۹، حدیث:۲۴۰۷)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 49 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُناعبدُ اللہبن عباسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمافرماتے ہیں کہعُیَیْنَہ بن حِصْنِآئے اور اپنے بھتیجےحُرّبِنْ قَیْسکے پاس ٹھہرے۔حُرّبِنْ قَیْس اَمِیْرُ المُوْمِنِیِنحضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے مُقَرَّبِیْن میں سے تھے۔ قُرَّاء حضرات،اَمِیْرُ المُوْمِنِیِن حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے جَلِیْس(ساتھ بیٹھنے والے) اور مُشِیْر (مشورہ دینے والے)تھے، کچھ بوڑھے تھے کچھ جوان ، عُیَیْنَہ نے اپنے بھتیجے سے کہا ، بھتیجے ! اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ) کے ہاں تیری عزت ہے، میرے لیے وہاں جانے کی اجازت طلب کر، انہوں نے اجازت مانگی تو اَمِیْرُ المُوْمِنِیِن حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے اجازت دے دی، جب حاضر ہوئے تو عرض کی: ’’اے عمر بن خطاب(رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ ) !اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم ! نہ تو آپ ہمیں زیادہ دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں ‘‘ اَمِیْرُ المُوْمِنِیِن حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُغضب ناک ہوگئے قریب تھا کہ انہیں سزا دیتے۔( یہ دیکھ کر) حضرتحُرّبِنْ قَیْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے عرض کی ’’ اے اَمیْرُ الْمُؤمِنِیْنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ!اللہ عزَّوَجَلَّنے اپنے نَبِیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے فرمایا :’’ عفو و درگزر کرو، نیکی کا حکم دو، اور جاہلوں سے روگردانی کرو۔‘‘اور یہ نا سمجھ لوگوں میں سے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں :اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم اس آیت کی تلاوت کے بعد اَمِیْرُ المُوْمِنِیِن حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے کچھ حرکت نہ کی اور آپاللہ عزَّوَجَلَّکی کتاب پر بہت عمل کرنے والے تھے ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہم ا قَالَ: قَدِمَ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ فَنَزَلَ عَلٰی ِابْنِ أَخِیْہِ الْحُرِّ بْنِ قَیْسٍ۔وَکَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِیْنَ یُدْنِیْہم عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، وَکَانَ الْقُرَّائُ أَصْحَابَ مَجْلِسِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ وَمُشَاوَرَتِہِ کُہُوْلًا کَانُوْا أَوشُبَّانًا۔ فَقَالَ عُیَیْنَۃُ لِابْنِ أَخِیْہِ: یَا ابْنَ أَخِیْ! لَکَ وَجْہٌ عِنْدَ ہَذَا الْأَمِیْرِ فَا سْتَأْذِنْ لِیْ عَلَیْہِ، فَاسْتَأْذَنَ فَاَذِنَ لَہُ عُمَرُ۔فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ: ھِیَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! فَوَاللہِ! مَا تُعْطِیْنَا الْجَزْلَ وَلَا تَحْکُمُ فِیْنَا بِالْعَدْلِ، فَغَضِبَ عُمَرُرَضِیَ اللہُ عَنْہُ حَتّٰی ہم أَنْ یُوْقِعَ بِہٖ ،فَقَالَ لَہُ الْحُرُّ: یَا أَمِیْرَالْمُؤْمِنِیْنَ! إِنَّ اللہَ تَعَالٰی قَالَ لِنَبِیِّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ{خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ }وَإِنَّ ہَذَا مِنَ الْجَاہِلِیْنَ، وَاللہِ مَا جَاوَزَہَا عُمَرُحِیْنَ تَلَاہَا، وَکَانَ وَقَّافًا عِنْدَ کِتَابِ اللہِ تعالٰی۔رَوَاہُ الْبُخَارِی (بخاری، کتاب التفسیر، الاعراف، ۳/۲۲۷، حدیث:۴۶۴۲، بتغیر قلیل)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 50 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’عنقریب میرے بعد کچھ ترجیحی سلوک اور ایسے کام ہونگے جو تمہیں ناپسند ہونگے ۔‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہم الرِّضْوَاننے عرض کی :یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ایسی حالت میں ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا:’’ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہو اور اپنے حقوق اللہ عزَّوَجَلَّ سے مانگتے رہو۔ ‘‘
اما نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں ’’اَثَرَۃٌ‘‘ کا معنی ہے مستحقین میں سے کسی کو دوسروں سے منفرد حیثیت دینا۔

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’إِنَّہَا سَتَکُوْنُ بَعْدِیْ أَثَرَۃٌ وَأُمُوْرٌ تُنْکِرُوْنَہَا! قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللہِ ! فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: تُؤَدُّوْنَ الْحَقَّ الَّذِیْ عَلَیْکُمْ، وَتَسْأَلُوْنَ اللہَ الَّذِیْ لَکُمْ۔‘‘ مُتَّفَقٌ عَلَیْہ (بخاری، کتاب الفتن، باب قول النبی سترون بعدی امورا، ۴/۴۲۹، حدیث:۷۰۵۲، بتغیر قلیل)
’’والْاَثَرَۃُ‘‘: اَلْاِنْفِرَادُ بِالشَّیْئِ عَمَّنْ لَہُ فِیْہِ حَقٌّ

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 51 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا اُسَیْد بن حُضَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ ایک انصاری صحابی نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یَارَسُولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ مجھے بھی عَامِل (زکوٰۃ وصول کرنے والا)کیوں نہیں بنا دیتے جس طرح فلاں کو بنایا ہے؟ آپعَلَیْہِ السَّلامنے فرمایا :’’تم میرے بعد ترجیحی سُلوک دیکھوگے پس صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوضِ کوثر پر ملاقات کرو۔‘‘

عَنْ اَبِیْ یَحْیٰی أُسَیْدِ بْنِ حُضَیْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَجُلًامِّنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ! اَلَا تَسْتَعْمِلُنِیْ کَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا؟ فَقَالَ:’’اِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِیْ أَثَرَۃً، فَاصْبِرُوْاحَتّٰی تَلْقَوْنِیْ عَلَی الْحَوْضِ۔‘‘ مُتَّفَقٌ عَلَیْہ۔ (بخاری، کتاب مناقب الانصار،باب قول النبی للانصار اصبروا…الخ، ۲/۵۵۸، حدیث:۳۷۹۲)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 52 ، باب : صبر کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن اَبِی اَوْفٰی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم ا سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم ،نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جنگ کے دنوں میں ایک دن انتظار فرمانے لگے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا:اے لوگو! دشمن سے ملنے کی تمنا نہ کرو اور اللہ عزَّوَجَلَّ سے عافیت کا سوال کرو اور جب دشمن سے مقابلہ ہو تو صبر کرو اور جان لو! کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر فرمایا: اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! (اے) کتاب نازل فرمانے والے! بادلوں کو چلانے والے! اور لشکروں کو شکست دینے والے ان (کفار) کو شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہم اری مدد فرما۔

عَنْ أَبِیْ إِبْرَاہِیْمَ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِیْ أَوْفٰی رَضِیَ اللہُ عَنْہم ا:أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ بعض أَیَّامِہِ الَّتِیْ لَقِیَ فِیْہَا الْعَدُوَّ، اِنْتَظَرَحَتّٰی اِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِیْھِمْ فَقَالَ:’’یَاأَیُّہَا النَّاسُ! لَا تَتَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوااللہَ الْعَافِیَۃَ ، فَإِذَا لَقِیْتُمُوْہم فَاصْبِرُوْا، وَاعْلَمُوْاأَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ‘‘۔ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :’’اللہم مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَمُجْرِیَ السَّحَابِ، وَہَازِمَ الْأَحْزَابِ، اِہْزِمْہم وَانْصُرْنَا عَلَیْہم ‘‘۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ
(بخاری، کتاب الجہاد، باب لا تمنوا لقاء العدو، ۲/۳۱۷، حدیث:۳۰۲۴۔۳۰۲۵، بتغیر قلیل)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 53 ، باب : صبر کا بیان