DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Yasin Ayat 15 Translation Tafseer

رکوعاتہا 5
سورۃ ﳥ
اٰیاتہا 83

Tarteeb e Nuzool:(41) Tarteeb e Tilawat:(36) Mushtamil e Para:(22-23) Total Aayaat:(83)
Total Ruku:(5) Total Words:(807) Total Letters:(3028)
13-21

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِۘ-اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ(۱۳)اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ(۱۴)قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَاۙ-وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍۙ-اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ(۱۵)قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ(۱۶)وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(۱۷)قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْۚ-لَىٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۸)قَالُوْا طَآىٕرُكُمْ مَّعَكُمْؕ-اَىٕنْ ذُكِّرْتُمْؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ(۱۹)وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ(۲۰)اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْــٴَـلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ(۲۱)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور ان سے شہر والوں کی مثال بیان کرو جب ان کے پاس رسول آئے۔جب ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے پھر انہوں نے ان کو جھٹلایا تو ہم نے تیسرے کے ذریعے مدد کی تو ان سب نے کہاکہ بیشک ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ۔ لوگوں نے کہا: تم تو ہمارے جیسے آدمی ہواور رحمٰن نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم صرف جھوٹ بول رہے ہو۔ رسولوں نے کہا: ہمارا رب جانتا ہے کہ بیشک ضرور ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ۔ اور ہمارے ذمہ صرف صاف صاف تبلیغ کردینا ہی ہے۔لوگوں نے کہا: ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں ۔بیشک اگر تم باز نہ آئے تو ضرور ہم تمہیں سنگسار کریں گے اور ضرور تمہیں ہماری طرف سے دردناک سزا پہنچے گی۔ تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہے۔کیا اگر تمہیں نصیحت کی جائے (تو تم اسے بدشگونی کہتے اور انکار کرتے ہو )بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔ اور شہر کے دور کے کنارے سے ایک مرد دوڑتا ہواآیا، اس نے کہا: اے میری قوم!ان رسولوں کی پیروی کرو۔ ایسوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ: اور ان سے شہر والوں  کی مثال بیان کرو۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حکم ارشاد فرمایاکہ وہ کفارِ مکہ کے سامنے شہر والوں  کا واقعہ بیان کر کے انہیں  اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں  تاکہ جس وجہ سے اس شہر کے کافروں  پر عذاب نازل ہوااس سے یہ لوگ بچیں ۔

شہر والوں  کے واقعے کا خلاصہ:

            اس آیت میں شہر والوں  کا جو واقعہ بیان کرنے کا فرمایاگیااس کے کچھ حصے اگلی16آیات میں  بھی بیان ہوئے ہیں  ،اس کے حوالے سے یہ بات یاد رہے کہ یہاں  جس شہر اور جن رسولوں  کا تذکرہ ہے ان کے بارے میں  مفسرین کے متعدد اَقوال ہیں  اور ان میں  بہت سے اختلافات ہیں  اوران اختلافات کی اکثر صورتوں  پر کئی اِشکالات ہیں  ، اس لئے ہم ان آیات کی تفسیر میں  اس واقعے کے صرف اتنے حصے کو بیان کریں  گے جو قرآنِ مجید کی آیات و روایات سے زیادہ واضح طور پر سامنے آرہا ہے اور وہ بطورِخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو رسولوں  کو ایک شہر والوں  کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں  نے ان شہر والوں  کوتوحید و رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی لیکن ان کی دعوت سن کر شہر والوں  نے انہیں  جھٹلایا،اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک تیسرے رسول کو پہلے دونوں  کی مدد کیلئے بھیجا۔اب ان تینوں  رسولوں  نے قوم سے اِرشاد فرمایا کہ ہم تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں  ، لیکن قوم نے اِس بات کو تسلیم کرنے کی بجائے وہی اعتراض کیا جو اکثر و بیشتر امتوں  نے اپنے رسولوں  پر کیا تھا اور وہ اعتراض یہ تھا کہ تم تو ہمارے جیسے انسان ہو، لہٰذا تم کیسے خدا کے رسول ہوسکتے ہو؟ یعنی اُن کافروں  کے اعتقاد کے مطابق رسول انسانوں  میں  سے نہیں  بلکہ فرشتوں  میں  سے ہونا چاہیے تھا اور یہ چونکہ انسان تھے اس لئے ان کے نزدیک رسول نہیں  ہو سکتے تھے ۔ اس کے ساتھ کافروں  نے یہ بھی کہا کہ خدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ نے کچھ بھی نازل نہیں  کیا یعنی وحی کے نزول کا دعویٰ غلط ہے اور تم جھوٹے ہو جو ہمارے سامنے رسالت کا دعویٰ کررہے ہو۔ اُن رسولوں  نے سخت الفاظ کا جواب سختی کے ساتھ دینے کی بجائے بڑے خوبصورت انداز میں  جواب دیا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم خدا کے رسول ہیں  اور مزید یہ بھی جان لو ہماری صرف یہ ذمہ داری ہے کہ تم تک خدا کا پیغام واضح طور پر پہنچادیں ۔ اس کے جواب میں  قوم نے کہا کہ ہم تمہیں  منحوس سمجھتے ہیں ، لہٰذا تم اپنی اس تبلیغ سے باز آجاؤ ورنہ ہم تمہیں  سخت سزا دیں  گے اور تمہیں  پتھر مار مار کر ہلاک کردیں  گے۔اُن رسولوں  نے جواب دیا کہ ہمیں  منحوس قرار نہ دو کیونکہ تمہاری نحوست تمہارے کفر و ضلالت کی صورت میں  تمہارے ساتھ موجود ہے۔ کیا تم لوگ ہمیں  اس لئے پتھر مارو گے کہ ہم نے تمہیں  صحیح بات سمجھانے کی کوشش کی ہے،اگر یہ بات ہے تو تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔

            جب یہ مکالمہ جاری تھا اور قوم اُن رسولوں  کو شہید کرنے ، ایذاء پہنچانے اور ان کے پیغام کو نہ ماننے پر تُلی ہوئی تھی ، اسی دوران یہ بات ایک مردِ مومن تک پہنچی جوپہلے سے ہی مومن تھا یا اِن رسولوں  سے ملاقات کے بعد مسلمان ہوا تھا اوروہ شہرکے کنارے پر رہتا تھا،وہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں  کی تائید اوراپنی قوم کو سمجھانے کیلئے بھاگا ہوا آیااور ان سے کہنے لگا کہ اِن رسولوں  کی پیروی کرو، اِن کے حقّانِیّت پرہونے کی یہ بڑی واضح دلیل ہے کہ اِن کا اِس پیغام پہنچانے میں کوئی دُنْیَوی مفاد نہیں  ، یہ تم سے کوئی معاوضہ نہیں  مانگتے، نیز یہ ہدایت یافتہ ہیں  کہ ان کی باتیں  معقول اور سمجھ میں  آنے والی ہیں ۔ نیز اے میری قوم ! میں بھی مسلمان ہوں  اور خالقِ کائنات کی عبادت کرنے والا ہوں  اور مجھے کیا ہے کہ میں  اس خدا کی عبادت نہ کروں  جس نے مجھے پیدا کیا، کیا میں  اُس کے علاوہ ایسے بتوں  کو معبود بناؤں  جن کی سفارش مجھے کوئی نفع نہیں  دے سکتی اور نہ وہ مجھے اس وقت بچا سکتے ہیں  جب خدا مجھے نقصان پہنچانا چاہے۔ اگر اِس کے باوجود میں  خدا کے علاوہ کسی کی عبادت کروں  تو پھر میں  کھلی گمراہی میں  ہوں گا، پس میں  تو اپنے رب پر ایمان لایا تو تم میری بات سنو اور اس بات پر غور کرکے ایمان لاؤ۔ مرد ِ مومن کی اِن باتوں  کو سننے کے باوجود لوگ ایمان نہ لائے بلکہ اُسے بھی تنگ کرنے کے درپے ہوگئے پھر یاتو وہ خیر خواہ مردِ مومن فوت ہوگئے یا قوم نے انہیں شہید کردیا اور بعد ِوفات فرشتوں  کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے اُسے جنت کی بشارت سنائی ۔ جنت کی خوشخبری سن کر بھی اُس مردِ ناصح نے اپنی قوم کا غم کیا اور یہ تمنا کی: ـ کاش میری قوم کو معلوم ہوجائے کہ میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھے بخش دیا اور میری عزت افزائی فرمائی ہے۔ آخر کارقوم کے تکذیب کرنے اور ایمان نہ لانے پر اُن پر خدائی عذاب آیا جو ایک چیخ کی صورت میں  تھا جس کے نتیجے میں  وہ ایسے ہلاک ہوگئے جیسے بجھی ہوئی راکھ ہوتی ہے۔ (ابن کثیر،یس،تحت الآیۃ:۱۳-۱۴،۶ / ۵۰۴-۵۰۵، روح البیان، یس، تحت الآیۃ:۱۴-۱۵،۷ / ۳۷۸-۳۸۰، ابو سعود، یس، تحت الآیۃ: ۱۶-۱۷، ۴ / ۳۸۰، خازن، یس ، تحت الآیۃ :۱۸-۲۹ ، ۴ / ۵-۶ ، روح المعانی، یس، تحت الآیۃ:۲۰-۲۹، ۱۱ / ۵۴۳-۵۴۹،۱۲ / ۵-۶، جلالین، یس، تحت الآیۃ:۲۰-۲۹،ص۳۶۹)

رسولوں  اور مردِ مومن کے واقعے سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس واقعے سے 6باتیں  معلوم ہوئیں ،

(1)…اللہ تعالیٰ اپنے مُقَرّب بندوں  کی دوسرے مقرب بندوں  کے ذریعے مدد فرماتا اور انہیں  تَقْوِیَت پہنچاتا ہے۔

(2)…دین کی دعوت دینے کے دوران سننے والے کی طرف سے جاہلانہ سلوک ہو تو ا س پر صبر کرنا، عَفْوْ درگُزر سے کام لینا اور حِلم وبُردباری کا مظاہرہ کرنا انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔

(3)…انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنے جیسا بشر کہنا ہمیشہ سے کفار کا طریقہ رہا ہے ۔

(4)…اللہ تعالیٰ کے نیک اور مُقَرّب بندوں  کو منحوس سمجھنا اور انہیں  تکلیف پہنچانے کی دھمکیاں  دیناکافروں  کا طریقہ ہے۔

(5)… اصل نحوست کفر اور گناہ کی صورت میں  ہوتی ہے۔

(6)…اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اپنی زندگی میں  اور وفات کے بعد بھی مخلوق کی خیر خواہی کرتے ہیں ۔

اَشیاء کو منحوس سمجھنے میں  لوگوں کی عادت:

             لوگوں  کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جس چیز کی طرف ان کے دل مائل ہوں  اور ان کی طبیعت اسے قبول کرے تو وہ ا س چیز کو اپنے حق میں  بابرکت سمجھتے ہیں  اور جس چیز سے نفرت کرتے اور اسے ناپسند کرتے ہوں  تو اس چیز کو اپنے حق میں  منحوس سمجھتے ہیں  ،اسی لئے اگر انہیں  کوئی مصیبت پہنچ جائے تو کہتے ہیں  کہ یہ فلا ں  کی نحوست ہے اور ا س کی وجہ سے ہمارا یہ نقصان ہو گیا ،آپس میں  لڑائی جھگڑا شروع ہو گیا ، رشتہ ٹوٹ گیا، اگرچہ اِن سب کی حقیقی وجہ کچھ اور ہو۔یاد رہے کہ شرعی طور پر نہ کوئی شخص منحوس ہے،نہ کوئی جگہ،وقت یا چیز منحوس ہے ،اسلام میں  اس کا کوئی تَصَوُّر نہیں  اور یہ محض وہمی خیالات ہوتے ہیں  ۔ یہاں  اسی سے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ہونے والا ایک سوال اور اس کا جواب ملاحظہ ہو تاکہ ان وہمی خیالات سے بچنے کا ذہن بنے اور انہیں  دور کرنے کے اِقدامات کریں ۔

            سوال:ایک شخص نجابت خاں  جاہل اور بدعقیدہ ہے اور سود خوار بھی ہے ،نماز روزہ خیرات وغیرہ کرنا بے کارِ محض سمجھتا ہے، اس شخص کی نسبت عام طور پر جملہ مسلمانان واہلِ ہنود میں  یہ بات مشہور ہے کہ اگر صبح کو اس کی منحوس صورت دیکھ لی جائے یا کہیں  کام کو جاتے ہوئے یہ سامنے آجائے تو ضرور کچھ نہ کچھ دقت اور پریشانی اٹھانی پڑے گی اور چاہے کیسا ہی یقینی طور پر کام ہوجانے کا وُثوق ہو لیکن ان کا خیال ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور رکاوٹ اور پریشانی ہوگی، چنانچہ اُن لوگوں  کو ان کے خیال کے مناسب برابر تجربہ ہوتا رہتا ہے اور وہ لوگ برابر اس امر کا خیال رکھتے ہیں  کہ اگر کہیں  جاتے ہوئے سامنے پڑگیا تو اپنے مکان کو واپس جاتے ہیں  اور چندے (یعنی کچھ دیر) تَوَقُّف کرکے (اور) یہ معلوم کرکے کہ وہ منحوس سامنے تو نہیں  ہے، جاتے ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ ان لوگوں  کا یہ عقیدہ اور طرزِ عمل کیسا ہے؟ (اس میں ) کوئی قباحت ِشرعیہ تو نہیں ؟

            جواب: شرعِ مُطَہَّر میں  اس کی کچھ اصل نہیں ، لوگوں  کا وہم سامنے آتا ہے۔شریعت میں  حکم ہے: ’’اِذَا تَطَیَّرْتُمْ فَامْضُوْا‘‘ جب کوئی شگونِ بد، گمان میں  آئے تو اس پر عمل نہ کرو۔وہ طریقہ محض ہندوانہ ہے،مسلمان کو ایسی جگہ چاہیے کہ ’’اَللّٰھُمَّ لَا طَیْرَ اِلَّا طَیْرُکَ وَ لَا خَیْرَ اِلَّا خَیْرُکَ وَ لَا اِلٰـہَ غَیْرُکَ‘‘ (ترجمہ: اے اللہ! نہیں  ہے کوئی برائی مگر تیری طرف سے اور نہیں  ہے کوئی بھلائی مگر تیری طرف سے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ۔) پڑھ لے ، اور اپنے رب پر بھروسا کرکے اپنے کام کو چلا جائے ، ہر گز نہ رکے نہ واپس آئے۔ (فتاوی رضویہ، ۲۹ / ۶۴۱)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  کسی چیز کو منحوس سمجھنے اور اس سے بد شگونی لینے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔([1])


[1]۔۔۔ بد شگونی سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’بد شگونی‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links