DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Ar Rum Ayat 22 Translation Tafseer

رکوعاتہا 6
سورۃ ﳟ
اٰیاتہا 60

Tarteeb e Nuzool:(84) Tarteeb e Tilawat:(30) Mushtamil e Para:(21) Total Aayaat:(60)
Total Ruku:(6) Total Words:(916) Total Letters:(3419)
22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ(۲۲)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف اس کی نشانیوں میں سے ہے، بے شک اس میں علم والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ: اور اس کی نشانیوں  سے ہے۔} اس سے پہلی دو آیات میں  اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی وہ نشانیاں  بیان فرمائیں  جو انسان کی اپنی ذات میں  ہیں  جبکہ ا س آیت میں  خارجی کائنات کی تخلیق اور انسان کی لازمی صفات سے اپنی وحدانیّت پر اِستدلال فرمایا ہے۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! آسمانوں  اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں  اور رنگوں  کا اختلاف اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں  میں  سے ہے کہ تم آسمان کی طرف دیکھو کہ وہ انتہائی وسیع اور بلند ہے، اس میں  رات کے وقت ستارے روشن ہوتے اور یہ آسمان کی زینت ہیں ،اسی طرح زمین کی طرف دیکھو کہ کتنی طویل و عریض ہے ، پانی کی طرح نرم نہیں  بلکہ سخت ہے،اس پر پُر ہَیبت پہاڑ نَصب ہیں  ،اس میں  وسیع و عریض میدان ،گھنے جنگلات اور ریت کے ٹیلے ہیں  ،دریا اور سمندر جاری ہیں ،نباتات کا ایک سلسلہ قائم ہے ،لہلہاتے ہوئے زرخیز کھیت، پھلوں  سے لدے اور پھولوں  کے مہکتے ہوئے باغات ہیں ۔یونہی تم اپنی زبانوں  کے اختلاف پر غور کرو کہ کوئی عربی بولتا ہے ،کوئی فارسی اورکوئی ان کے علاوہ دوسری زبان بولتا ہے۔ایسے ہی تم اپنے رنگوں  پر غور کرو کہ کوئی گورا ہے، کوئی کالا ، کوئی گندمی حالانکہ تم سب کی اصل ایک ہے اور تم سب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد ہو۔ اسی طرح تم اپنی جسمانی ساخت پر غور کرو کہ ہر انسان کی دو آنکھیں  ،دو اَبرو،ایک ناک ، ایک پیشانی،ایک منہ اور دو گالیں  ہیں  اور انسانوں  کی تعداد اربوں  میں  ہونے کے باوجود کسی کا رنگ ، چہرہ اور نقش دوسرے سے پورا پورا نہیں  ملتا بلکہ ہر ایک دوسرے سے جدا ہی نظر آتا ہے اور اگر ہر ایک کی شکل اور آواز ایک جیسی ہوتی تو ایک دوسرے کی پہچان مشکل ہو جاتی اور بے شمار مَصلحتیں  ختم ہو کر رہ جاتیں ، اچھے اَخلاق والے اور برے اخلاق والے میں ،دوست اور دشمن میں ، قریبی اور دور والے میں  اِمتیاز نہ ہو پاتا۔اب تم یہ بتاؤ کہ کیا یہ سب چیزیں  خود ہی وجود میں  آ گئیں  ہیں  یا یہ محض اتفاق ہے ، یا یہ چند خداؤں  نے مل کر یہ کارنامہ سر انجام دیاہے ،اگر ایسا ہے تو پھر آسمان و زمین میں  ہزاروں  سال سے اس قدر نظم اور تسلسل کیوں  قائم ہے اور اس میں کبھی اختلاف کیوں  نہیں  ہوا،ان زبانوں  ،رنگوں  اور شکلوں  کا خالق کون ہے؟اگر تم علم اور انصاف کی نظر سے دیکھو گے تو جان لوگے کہ یہ سب صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کا شاہکار ہیں ۔( تفسیرکبیر، الروم، تحت الآیۃ: ۲۲، ۹ / ۹۲، ابن کثیر، الروم، تحت الآیۃ: ۲۲، ۶ / ۲۷۹، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳ / ۴۶۱ -۴۶۲، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۲۲، ص۹۰۵، ملتقطاً)

 اس کائنات کا کامل قدرت رکھنے والا ایک ہی خالق موجود ہے:

            یاد رہے کہ یہ کائنات نہ تو کسی سبب اور علت کے بغیر اپنے طبعی تقاضوں  سے وجود میں  آئی ہے اور نہ ہی اس کا انتہائی مَربوط اور مُتناسِب نظام کسی چلانے والے کے بغیر چل رہا ہے بلکہ ایک ایسی ذات ضرور موجود ہے جس نے اپنی کامل قدرت سے ا س کائنات اور اس میں  موجود طرح طرح کے عجائبات کو پیدا فرمایا اور وہی ذات انتہائی عالیشان طریقے سے اس کے نظام کو چلارہی ہے ، جیسے ہم ایک دانے یا گٹھلی کو تر زمین میں  دباتے ہیں  تو ایک مخصوص مدت کے بعد اس سے کچھ شاخیں  نکلتی ہیں  ،اوپر والی شاخ زمین سے باہر نکل کر ایک تَناوَر درخت بن جاتی ہے اور نیچے والی شاخ اس درخت کی جڑیں  بن جاتی ہیں ، اس درخت کی طرف دیکھیں  تو اس کا تنا بھی لکڑی کا ہے اور جڑیں  بھی لکڑی کی ہیں ، تنا اوپر کی طرف جاتا ہے اور جڑیں  نیچے کی طرف جارہی ہیں  ،اب اگر لکڑی کا طبعی تقاضا اوپر کی طرف جانا ہے تو جڑیں  نیچے کیوں  جاتی ہیں  اور اگر اس کا تقاضا نیچے جانا ہے تو تنا اوپر کیوں  جاتاہے ؟ ایک ہی لکڑی ہونے کے باوجود تنے کے اوپر جانے اور جڑوں  کے نیچے جانے سے معلوم ہوا کہ لکڑی کا اپنا طبعی تقاضا کچھ نہیں  ہے بلکہ درخت کی لکڑی پر کسی اور ذات کا تَصَرُّف ہے جس کی قدرت کامل ہے، اسی نے لکڑی کے جس حصے کو چاہا اوپر اٹھا دیا اور جس حصے کو چاہا نیچے جھکا دیا۔( تفسیرکبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۹۵، ۵ / ۷۱-۷۲، ملخصاً)

             یونہی اس کائنات کے نظام کو دیکھیں  تو نظر آئے گا کہ روزانہ سورج ایک مقررہ جِہَت سے طلوع ہوتا ہے اور ایک مقررہ جِہَت میں  غروب ہو جاتا ہے، دن کے بعد رات آتی اور رات کے بعد دن نکل آتا ہے،ہر سال اپنے اپنے موسموں  میں  کھیتیاں  پروان چڑھتی ہیں  ،پھول اپنے وقت پر کِھلتے ہیں  ،پھل اپنی مدت پر نکلتے ہیں  ،پوری دنیا میں  ایک خاص طریقے سے ہی انسان پیدا ہو رہے اور مخصوص مدت کے بعد مر رہے ہیں  ،حشراتُ الارض سے لے کر درندوں  تک،چرندوں  سے لے کر پرندوں  تک ہر ایک کی ساخت اور تخلیق اس کے حال کے مطابق ہے اور ان کی ضرورت کے تمام اَعضاء ان میں  موجود ہیں ،ہر ایک کی غذا اوراسے حاصل کرنے کا طریقہ مختلف ہے اورہر علاقے میں  رہنے والے کا مزاج اسی علاقے کے ماحول کے مطابق ہے، تو کائنات کایہ مَربوط اور حسِین نظام،حکیمانہ تدبیر اور ہر مخلوق کے حال کی رعایت دیکھ کر کوئی عقلمند ہرگز یہ نہیں  کہہ سکتا کہ یہ کسی خالق اور انتظام فرمانے والے کے بغیر خود بخود عدم سے وجود میں  آ گیا اور علم و حکمت کا یہ عجیب و غریب کارخانہ کسی چلانے والے کے بغیر چل رہاہے بلکہ اسے یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ اس کائنات کا کوئی ایک خالق موجود ہے اور وہ کامل قدرت ،علم اور حکمت والا ہے اور اس عظمت و شان کا مالک اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں ۔سرِ دست یہاں  اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے موجود ہونے پر دلالت کرنے والی دو چیزیں  ذکر کی ہیں  ورنہ کائنات کے ذرے ذرے میں  اللہ تعالیٰ کی ذات اور ا س کی صفات پر دلالت کرنے والی علامات اور نشانیاں  موجود ہیں  ۔

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links