Share this link via
Personality Websites!
حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ کے مزار مبارک کی مبارک خاک سِلائی کے ساتھ آنکھوں میں لگاتے ہیں۔
اللہ پاک ہمیں بھی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا عشق و ادب نصیب فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖنَ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
پیارے اسلامی بھائیو ! حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ سَیِّدُ الشَّہَداء ( یعنی شہیدوں کے سردار ) ہیں ، آپ نے غزوۂ اُحُد میں شہادت کا رُتبہ پایا ، غزوۂ اُحُد کے شہیدوں کی شان میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :
فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۙ-وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْۙ-اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ(۱۷۰) ( پارہ : 4 ، سورۂ آل عمران : 170 )
ترجَمۂ کنزُ العرفان : ( وہ ) اس پر خوش ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اور اپنے پیچھے ( رہ جانے والے ) اپنے بھائیوں پر بھی خوش ہیں جو ابھی ان سے نہیں ملے کہ ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے : اس آیت میں شُہَدائے کرام کے متعلق فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ پاک نے ان پر فضل و کرم فرمایا ، انعام و احسان اور اعزاز و اکرام سے انہیں نوازا ، موت کے بعد اعلیٰ زندگی عطا فرمائی ، انہیں اپنا قرب عطا فرمایا ، جنّت کا رزق اور اعلیٰ نعمتیں عطا فرمائیں ، انہیں شہادت کی توفیق بخشی ، شُہَدائے کرام ان سب نعمتوں پر خوشی منا رہے ہیں۔ ( [1] )
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami