Share this link via
Personality Websites!
کر مِصْری حاجیوں کے ایک خیمے میں گئے اور ایک شخص کو اُونٹوں کا کرایہ دے کر فرمایا : آپ شیخ احمد اور ان کی والدہ کو مِصْر پہنچا دیں۔اس مِصْری حاجی نے بھی اُن بزرگ کی بہت عزّت کی ، اب شیخ احمد رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے جلدی سے اپنا سامان تیار کیا ، والدہ محترمہ کو ساتھ لیا اور مِصْری حاجیوں کے خیمے میں پہنچ گئے ، اس وقت تک وہ نیک بزرگ وہیں تشریف فرما تھے ، اب نماز کا وقت تھا ، شیخ احمد رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ اُن بزرگ کے ساتھ مسجدِ نبوی شریف میں حاضِر ہوئے ، بزرگ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا : احمد ! آپ چل کر نماز ادا کیجئے ! شیخ احمد رَحمۃُ اللہ عَلَیْہم سجد میں پہنچے ، نماز ادا کی ، منتظر تھے کہ نیک بزرگ بھی آتے ہی ہوں گے مگر وہ تشریف نہ لائے ، شیخ احمد رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے انہیں بہت تلاش کیا مگر کہیں نہ ملے ، آخر میں شیخ صفی الدِّین رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی خدمت میں حاضِر ہوا اور سارا واقعہ عرض کیا۔ شیخ صفی الدِّین رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے اُن بزرگ کا حلیہ شریف کے بارے میں سُن کر فرمایا : وہ نیک بزرگ کوئی اور نہیں بلکہ رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے چچا جان حضرت امیرِ حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ ہی تھے جو آپ کی پریشانی دُور کرنے کے لئے تشریف لائے تھے۔ ( [1] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ رسول ! آپ نے سنا کہ حضرت امیرِ حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ نے اپنے وِصَالِ ظاہِری کے صدیوں بعد ایک پریشان حال کی کیسے مدد فرمائی... ! سُبْحٰنَ اللہ !
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami