Aur Ibrat-o-Naseehat

Book Name:Aur Ibrat-o-Naseehat

سکتا ، روزِ قیامت ہمارا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ہمارے سامنے کر دیا جائے گا۔ حضرت لقمان حکیم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ایک بار اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی ، جسے اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ذِکْر فرمایا ، ارشاد ہوتا ہے :

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُؕ-

  (پارہ : 21 ، سورۂ لقمان ، آیت : 16)

ترجمہ کنز الایمان : اے میرے بیٹےبُرائی اگر رائی کے دانہ برابر ہو ، پھر وہ پتھر کی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں کہیں ہو ، اللہ اسے لے آئے گا۔

یعنی اے میرے بیٹے! بُرائی اگر رائی کے دانے کے برابر (بالکل چھوٹی سی) ہو ، پھر اتنی چھوٹی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ کسی بھی جگہ میں ہو ، وہ جگہ کتنی ہی پوشیدہ ہو ، مثلاً پتھر کی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو ، وہ بُرائی ہر گز ہرگز اللہ پاک سے نہیں چھُپ سکتی ، اللہ پاک قیامت کے دِن اس بُرائی کو حاضِر کر دے گا اور اس کا حساب فرمائے گا۔ ([1])  

اَعْمال نامے میں سب کچھ موجود ہوگا

آہ! وہ وقت...! آہ! وہ قیامت کا میدان...! جب سُورج سَوا مِیل کے فاصلے پر رِہ کر آگ برسا رہا ہو گا ، تانبے کی دہکتی ہوئی زمین ہو گی ، لوگ گرمی سے بےتاب ، پسینے سے شرابُور ہوں گے ، کچھ تو اپنے ہی پسینے میں ڈبکیاں لے رہے ہوں گے ، حضرت آدَم عَلَیْہِ السَّلَام سے لے کر قیامت تک آنے والے تمام انسان میدانِ محشر میں ہوں گے ، آہ! اُس وقت ہمارا اَعْمال نامہ ہمارے ہاتھ میں تھما دیا جائے گا... آہ! صد کروڑ آہ! مُجْرِم و گنہگار جب


 

 



[1]... تفسیر صراط الجنان ، پارہ : 21 ، سورۂ لقمان ، زیرِ آیت : 16 ، جلد : 7 ، صفحہ : 493۔