Aur Ibrat-o-Naseehat

Book Name:Aur Ibrat-o-Naseehat

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱)  

ترجمہ کنز الایمان : جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔

سُورہ زِلْزَال کی دوسری آیت کی وضاحت

سُورۂ زِلْزَال کی دوسری آیت میں اللہ پاک فرماتا ہے :

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲)

ترجمہ کنز الایمان : اور زمین اپنے بوجھ باہَر پھینک دے

ایک قول کے مطابق اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب قیامت کا زلزلہ برپا ہو گا ، زمین زَور زَور سے ہِل رہی ہو گی ، کہرام مچا ہو گا ، لوگ اِدھر اُدھر بھاگ رہے ہوں گے ، اُس وقت سونا ، چاندی وغیرہ تمام خزانے جو زمین کے اندر ہیں ، زمین ان سب کو نِکال کر باہَر ڈال دے گی۔ امام فَخْرُ الدِّین رازی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں : اس وقت زمین کی ظاہِری سطح سونے (چاندی وغیرہ خزانوں ) سے بھری پڑی ہو گی مگر کوئی اس خزانے کی طرف نِگاہ اُٹھا کر نہیں دیکھے گا ، گویا کہ یہ سونا( چاندی اور خزانے) زبانِ حال سے پُکار پُکار کہہ رہے ہوں گے : لوگو...! * میں ہی تو ہوں جس کے لئے تم اپنی دُنیا تباہ کرتے تھے * میں ہی تو ہوں جس کے لئے تم نے اپنے دِین کو نقصان پہنچایا۔ ([1])

 * ہاں! ہاں! میری ہی خاطر تم ایک دُوسرے کے گلے کاٹتے تھے  * میرے ہی لئے تم اپنے بھائی کا گریبان پکڑتے تھے * میرے ہی لالچ میں تم ماں باپ کو دُکھ پہنچایا کرتے تھے * میرے ہی لئے تَو تُم بھاگ دَوڑ کرتے تھے * مجھے حاصِل کرنے کی حِرْص میں ہی تم نمازیں قضا کر تے تھے * روزے چھوڑ دیا کرتے تھے۔ آہ...! اُس وقت سونا


 

 



[1]...تفسیر کبیر ، پارہ : 30 ، سورۂ زلزال ، زیرِ آیت : 2 ، جلد : 11 ، صفحہ : 254 مفصلاً۔