امام صاحب اور کردار و گفتار(قسط :01)

اِمامت کی فضیلت و عظمت اس سے بڑھ کر کیا بیان کی جائے کہ یہ وہ مَنْصَب ہے جسے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اَجمعین نے نبھایا اور اس کے لئے بہترین اَفراد کو منتخب کیا۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے : روزِ قِیامت تین شخص کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے (ان میں سے) ایک وہ شخص جو قوم کا اِمام رہا اوروہ (یعنی قوم کے لوگ) اس  سے راضی تھے۔ (ترمذی ، 3 / 397 ، حدیث : 1993) ایک روایت میں ہے کہ اِمام کو اس قدر اَجر ملے گا جس قدر اس کے پیچھے نَماز ادا کرنے والے سب مقتدیوں کو ملے گا۔ (نسائی ، ص112 ، حدیث : 364)

ہر شخص امام نہیں بن سکتا چند شرائط تو وہ ہیں جن کا شرعاً پایا جانا لازم ہے جبکہ بہت سے اَوصاف اور کئی خلافِ مُرَوَّت باتوں سے اِجتناب منصبِ امامت کا اَوَّلین تقاضا ہے۔ امامت کی شرائط یہ ہیں : (1)مسلمان ہونا (2)بالِغ ہونا (3) عاقِل ہونا (4) مرد ہونا (5) قِراءَت صحیح ہونا (6)شرعی معذور نہ ہونا ۔ (مزید تفصیل کے لئے اسلامی احکام کی عظیم کتاب بہارِ شریعت جلد1 ، حصّہ3 ، صفحہ561 تا575 کا مطالعہ کیجئے۔ )

امام نمازِ باجماعت میں بندے اور خالِق کے درمیان واسطہ ہوا کرتا ہے ، واسطہ جس قدر قَوی (یعنی مضبوط) ہوگا اسی قدر مفید ہوگا۔ یہاں ہم اپنے اس مضمون میں ایک مثالی امام كے اوصاف کو 4حصوں میں تقسیم کرتے ہیں :

(1)امام صاحب اور کِردار و گفتار

(2)امام صاحب اور دَرْس و بیان

(3)مسجد کی آبادکاری میں امام صاحب کا کردار

(4)امام صاحب کا اہلِ علاقہ اور مسجد انتظامیہ کے ساتھ انداز

امام صاحب اور کردار و گُفتار

* تقویٰ و پرہیزگاری کے بارے میں صرف پڑھ سُن لینا یا پھر بیان کردینا ہی کافی نہیں بلکہ عمل بھی ضروری ہے اور تقویٰ تو ہر مؤمن کا وَصْفِ عظیم ہے لہٰذا ایک امام کو تو بدرجۂ اولیٰ اس وصف کو اپنانا چاہئے کہ یہ نَمازوں کی قبولیت کا اہم ذریعہ بھی ہے ، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : اگر تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہاری نَمازیں قبول ہوں تو تمہارے بھلے لوگ تمہارے امام ہونے چاہئیں۔ (مستدرک  للحاکم ، 4 / 237 ، حدیث : 5034)

* نَماز کی امامت نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نِیابَت (یعنی نائب ہونے) کا ایک حصہ ہے ، چونکہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمام اوصافِ حمیدہ کے جامع ہیں اس لئے امام کو بھی چاہئے کہ عمدہ اوصاف کو اپنانے کی کوشش کرے اور بُری عادتوں سے بچے ، عوامُ النّاس امام صاحب کے بارے میں حُسنِ ظن رکھتے ہیں کہ وہ ہم سے زیادہ نیک ہیں ، ائمۂ کرام کی ذمّہ داری ہے کہ اس اعتماد کو کمزور ہونے سے محفوظ رکھیں ، بالخصوص ایسے معاملات جن کی وجہ سے نَماز کی ادائیگی پر فرق پڑتا ہو ، ان سے بچنا تو بہت ضروری ہے ، جیسے علانیہ فِسق و فجور والے کام کرنا مثلاً داڑھی کو ایک مٹھی سے کم کروانا ، سرِعام گالی گلوچ کرنا وغیرہ۔ نیز اپنے ظاہر و باطن ، خلوت و جلوت کو ایک جیسا بنائے۔

* امام صاحب کو ایسی عادات اور باتوں سے اِجتناب کرنا چاہئے جو مروّت کے خلاف تصور کی جاتی ہیں ، جیسے راستے میں عامیانہ طریقے سے کھانا ، عوامی مقامات پر روڈ کنارے اِسْتِنجاء کرنا ، گٹکا اور سگریٹ نوشی ، ہر دوسرے شخص سے اُدھار مانگنا وغیرہ۔

* لَین دَین اور کاروبار کے معاملات ہر انسان کے ساتھ  جڑے ہوئے ہیں ، یوں تو کسی کے لئے بھی ناجائز یا دھوکا دہی پر مشتمل کاروبار کرنا جائز نہیں ہے اور لین دین کے معاملات میں فراڈ کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے ، لیکن امام صاحب کا ایسے ناجائز معاملات سے دور رہنا بہت زیادہ ضروری ہے کیونکہ امام صاحب ایک دینی تشخص رکھتے ہیں اور عام مسلمانوں کے لئے مشعلِ راہ ہوتے ہیں ، امام صاحب کے غلط کاروبار یا لین دین کے معاملات میں غلط راہ چلنے کی صورت میں یا تو لوگ عُلَما سے بَدظن ہوں گے یا پھر جائز سمجھ کر خود بھی غلط راہ چلیں گے ، اس لئے چاہئے کہ امام  صاحب کوئی بھی سببِ تہمت بننے والا کام نہ کریں اور نہ ہی اُدھار اور قرض وغیرہ کے لین دین میں نامناسب انداز اختیارکریں۔

* ہر مسلمان کو چاہئے کہ اپنے اہلِ خانہ کی دینی تربیت کا خاص اہتمام کرے ، لیکن ایک امام مسجد کو اس حوالے سے بھی بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے ، امام صاحب کی اَہلیہ اور بچّوں کا دینی سانچے میں ڈھلا ہونا اور بَداَخلاقی والے تمام معاملات سے دور رہنے کی بھرپور کوشش کرنا بھی ضروری ہے ، تاکہ امام صاحب کو نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنے میں کسی رُکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔

* اندازِ گفتگو اور بول چال ایک انسان کی شخصیت کی پہچان ہوتی ہے ، امام صاحب کو چاہئے کہ بَدکلامی ، گالی گلوچ ، جُھوٹ ، غِیبت اور چُغلی سے بہت دور رہے ، اسی طرح بولنے میں نرمی ، محبت اور اپنائیت کا اظہار کرے۔

* امام صاحب کا لباس اور رَہن سَہن بھی نَمازیوں اور  اہلِ علاقہ پر بہت اثر انداز ہوتاہے ، اس لئے امام صاحب کو طرزِ زندگی بھی رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جیسا ہی اپنانا چاہئےاور اسی میں عزّت ہے ، لباس میں سادگی بھی ہو ، وقار بھی ہو اور صفائی بھی۔ زَرْق بَرْق اور قِسْم قسم کی تَراش خَراش والے فیشن ایبل کپڑے پہننے سے   چند جوان اور شوخ  طبع نَمازیوں کی واہ واتو مل جائے گی لیکن سنجیدہ لوگوں کی نظر میں امام صاحب قابلِ قدر حیثیت نہ بناسکیں گے۔ یہی دیکھ لیں کہ زَرْق بَرْق لباس پہنے ہوئے امام صاحب ، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سادگی کا بیان کس طرح کریں گے۔ امام صاحب کو چاہئے کہ حتی الامکان عزّت کا تاج عِمامہ شریف سر پر سجائے رکھیں۔

* بعض ائمہ حضرات کی عادت ہوتی ہے کہ کوئی بھی چیز منگوانی ہو تو کسی کو بھی روک کر بول دیتے  ہیں  کہ  “  فلاں  سے بولو ، امام صاحب یہ چیز منگوا رہے ہیں “ ، اس عادت سے بچنا چاہئے کہ بعض شریر لوگ امام صاحب کا  نام استعمال کرکے اپنے مطلب نکالنا شروع کردیتے ہیں جبکہ بَدنامی امام صاحب کی ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

* سوشل میڈیا ، ا سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کا دور ہے ، کئی امام صاحبان بھی سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں ، یاد رکھئے! سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے کہ آپ کا ایک کِلک یا لکھا ہوا ایک جملہ لمحہ بھر میں لاکھوں  اپنوں اور بیگانوں تک پہنچ جاتاہے ، اس لئے اولاً تو سوشل میڈیا سے دوری ہی اختیار کیجئے اور اگر استعمال کرنا بھی ہوتو صرف دینی کام کے لئے استعمال کیجئے ، سوشل میڈیا پر جاری سیاسی و غیرسیاسی کسی طرح کی ابحاث کا حصّہ نہ بنئے ، سُوال دَرْ سوال ، اعتراض در اعتراض سوشل میڈیا پر موجود آپ کے مقتدیوں اور اہلِ علاقہ کو آپ سے متنفر بھی کرسکتاہے۔ احتیاط بس احتیاط!!

* آج ہمارے معاشرے میں بدنگاہی کافتنہ اس قدرعام ہوگیا ہے کہ عوام و خواص اس میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ بدنگاہی ابلیس کا زہرآلود تیر ہے ، اس کے ذریعہ وہ بہت سے دِین دار اور شریعت کے پابندمسلمانوں کے ایمان پر حملہ آورہوتا ہےاور اس کےاَخلاق و کردار پر مَنفی اثر ڈالتا ہے ،  امام مسجد کو چاہئے کہ شیطان کے اس مہلک ہتھیار سے بہت ہوشیار رہے ، مساجِد میں بسااوقات خواتین بچّوں کو دَم کروانےیا بچّوں کا نام رکھوانے وغیرہ کے لئے آجاتی ہیں یا بعض لوگ ایصالِ ثواب کے لئے امام صاحب کو گھر پر بلاتے ہیں ، ایسے میں امام صاحب کو چاہئے کہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں اور اگر کسی گھر میں فاتحہ خوانی  کے لئے جائیں تو ہمیشہ اس گھر کے مرد کے ساتھ ہی جائیں۔      (بقیہ اگلے شمارے میں)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*ناظم ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code