ڈبل سٹینڈرڈ

شفیق آفس سے گھر واپس آیا تو اپنی بیوی اُمِّ عاطف کو بتایا کہ امّی کا فون آیا تھا ، وہ آج شام کو آرہی ہیں اورایک ہفتہ یہیں ٹھہریں گی۔ یہ سُن کر بیوی کا مُوڈخراب ہوگیا ، کہنے لگی : آج کل ویسے ہی ہمارا ہاتھ تنگ ہے ، میری طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی ، گرمی کے موسم میں تین بچّوں سمیت گھر کے پانچ افراد کا ناشتہ اور کھانا بنانا ، گھر کی صفائی ستھرائی کرنا تھکا کر رکھ دیتا ہے ، ایسے میں امّی کی اچانک آمد! میں اکیلی کیا کیا کروں گی؟ شفیق یہ باتیں سُن کر کچھ نہیں بولا ، بس تھوڑا سا مسکرا دیا۔ شام کو دروازے پر دستک ہوئی ، زنانہ آواز سن کر اُمِّ عاطف نے دروازہ کھولا تو سامنے اس کی اپنی ماں یعنی شفیق کی ساس (Mother in law) کھڑی تھیں اور بیگ زمین پر رکھا ہوا تھا۔ اُمِّ عاطف کے منہ سے حیرت اور خوشی کے ملے جُلے جذبات میں نکلا : ’’امّی! آپ؟ ‘‘ اس کی امّی نے جواب دیا : ہاں! کیا شفیق بیٹے نے تمہیں میرے آنے کے بارے میں بتایا نہیں؟ ’’ہاں! وہ! بتایا تو تھا‘‘ ، اس کے منہ سے اِتنا ہی نکل سکا۔ اتنی دیر میں شفیق بھی وہاں پہنچ چکا تھا۔ شرمندگی کے مارے وہ اپنے شوہر سے نظریں نہیں مِلا سکی بس اتنا پوچھا : آپ نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ میری امّی آرہی ہیں؟ شفیق کہنے لگا : ماں تو ماں ہوتی ہے ، تمہاری ہو یا میری! ہمیں دونوں کی خدمت خوش دِلی سے کرنی چاہئے۔ یہ سُن کر اُمِّ عاطف کے کانوں میں اپنی ہی باتیں گونجنے لگیں اور اس کی آنکھیں ندامت سے مزیدجھک گئیں۔

ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے قارئین! یہ فرضی اسٹوری ہمیں بہت کچھ سمجھا رہی ہے ، جس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں دوہرے معیار (Double standard)سے گُریز کرنا چاہئے کہ ایک شخص کے لئے ایک اُصول (Principle) اور دوسرے کے لئے کچھ اور! لیکن یہ کڑوی حقیقت (Bitter Truth) ہے کہ ہم اُصول پر چلنے والے کو پسند تو بہت کرتے ہیں لیکن جب اپنی باری آتی ہے تو ہمارے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں۔ بہرحال اُصول سب کے لئے برابر ہونا ضروری ہے ، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ خریدنے اور بیچنے کا ترازو (Scale) ایک ہونا چاہئے۔

میں تو ایسا نہیں ہوں! شاید نفسیاتی تقاضے (Psychological requirement) کے تحت ہم اپنے آپ کو کلین قرار دینا شروع کردیں کہ میں تو ایسا نہیں ہوں لیکن میں آپ کے سامنے چند پہلو رکھتا ہوں ، انہیں دیکھئے! پھر اپنا احتساب خود کیجئے کہ کہیں میں بھی تو ڈبل اسٹینڈرڈ اپنانے والوں میں سے تو نہیں!

ڈبل اسٹینڈرڈ کی مثالیں: (1)اپنا بچّہ گلی محلے میں کسی بچّے پر ظُلم کرے اس کا سرپھوڑ دے ، یا گھونسا مار کر اس کے ہونٹ زخمی کر دے تو یہ کہہ کر جان چُھڑانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’’ ابھی تو یہ بچّہ ہے ، بچّوں سے غلطیاں ہوہی جاتی ہیں‘‘ اور یہی سُلوک دوسرا بچّہ ان کے بیٹے کے ساتھ کرے تو اسے ’’کم عمر‘‘ ہونے کی رعایت (Concession) دینے پر تیار نہیں ہوتے بلکہ ڈبل اسٹینڈرڈ کے تحت کچھ یوں تبصرہ (Comment) کرتے دکھائی دیتے ہیں : ’’اجی! یہ بچّہ تھوڑی ہے ، پَلا ہوا سانڈ ہے ، جتنا اوپر دکھائی دیتا ہے اُتنا زمین کے اندر ہے۔ ‘‘ (2)بہو گھریلوکام کاج میں کوئی غلطی کردے تو تبصرہ ہوتا ہے : ’’ماں باپ نے کچھ نہیں سکھایا‘‘ اور اپنی بیٹی سسرال میں غلطیاں کرے تو بولیں گے : ’’ابھی نئے گھر میں بیاہ کرگئی ہے آہستہ آہستہ سمجھ جائےگی۔ ‘‘ (3)ساس بہو کو کچھ نصیحت کردے ، کسی بات پر ٹوک دے ، کسی کام سے روک دے تو بہو کا تبصرہ کبھی یوں بھی ہوتا ہے : ’’ہر وقت میرے پیچھے پڑی رہتی ہیں ، میری تو اس گھر میں ذرا بھی نہیں چلتی ‘‘ جبکہ یہی گفتگو اگر اس کی بھابی اس کی سگی ماں کے بارے میں کرے تو اسے بے ادب و گستاخ اور زبان دراز قرار دینے سے نہیں چُوکتی (4) گھر میں کھانے پینے کی یا کوئی چیز تقسیم (Distribute) کرتے وقت بیٹے کو زیادہ حصہ دینا اور بیٹی کو کم دینا ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں تو اور کیا ہے! (5)اگر دفتر یا دکان پر کسی کی کوئی بات ناگوار گزرے تو مُسکرا کر ٹال دیں گے اور اگر یہی حرکت گھر پر فیملی کا کوئی فرد کرے تو ببرشیر بن کردھاڑنا شروع کردیتے ہیں (6)کلاس میں امیرکا بچّہ غلطی کرے تو ہلکی سی تنبیہ (Warning) کرکے چھوڑدیتے ہیں اور اگر غریب کے بچّے نے غلطی کی تو ایسی ڈانٹ (Scold) پلاتے ہیں کہ اس کی رُوح تک لرز جاتی ہے (7)امتحانات میں اچھی پوزیشن آجائے تو ’’بچّہ بڑا ذہین ہے اسے محنت کا پھل ملا ہے ‘‘ اور اگر نمبر کم آجائیں تو ’’ٹیچر نے اچھا نہیں پڑھایا‘‘ کا شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں (8)کوئی غلطی کرے تو اسے سزا دلوانے کے لئے دلیلیں دیتے ہیں اور خود سے غلطی ہوجائے تو بچنے کے لئے تاویلیں (بہانے ، Excuses) گھڑتے ہیں (9)دوسرا شخص ٹریفک کا اُصول توڑے ، سرخ سگنل لائٹ کراس کر جائے ، غلط Uٹرن لے لے ، ون وے کی خلاف ورزی کرے تو اسے لاپرواہ ، جاہل اور خطرناک ڈرائیور قرار دیتے ہیں اور اگر خود یہی حرکتیں کریں تو ’’جی مجبوری ہے ایمرجنسی ہے!‘‘ کی تاویلیں کرکےاپنے دل کو منالیتے ہیں (10)کوئی اور قطار توڑے تو غیر مہذب (Uncivilized)!اور خود توڑیں تو’’ مجھے بہت جلدی ہے ایمرجنسی میں کہیں جانا ہے ۔ ‘‘

ڈبل اسٹینڈرڈ کے نقصانات: اس کا پہلا نقصان تو یہ ہوسکتا ہے کہ گھر ، خاندان ، دکان ، دفتر وغیرہ میں لوگوں کے آپ کے اخلاقی کردار کے بارے میں تأثر ات(Comments) اچھے نہیں رہتے ، جس سے آپ کا امیج بگڑ جاتا ہے ، ایسے میں جب آپ کسی کو نیکی کی دعوت دینا چاہیں گے ، یا غلطی پر سمجھانا چاہیں گے تو آپ کی بات اس پر اثر نہیں کرے گی۔ ایک نقصان یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے ڈبل اسٹینڈرڈ کا شکار ہونے والے شخص کا دل دُکھ سکتا ہے ، اسے تکلیف پہنچ سکتی ہے اور اجازتِ شرعی کے بغیر کسی مسلمان کو تکلیف دینا جائز نہیں ہے ۔

اہم بات: جس شخص کو شریعت نے زیادہ اہمیت دینے ، عزت دینے کا کہا ہے وہاں شرعی اُصول پر عمل کرنا ضروری ہے ، معظمِ دینی جیسے عالمِ دین ، مفتی صاحب ، بوڑھے مسلمان ، کسی قوم کا مُعزَّز فرد وغیرہ ۔

مرتبے کے مطابق سلوک کرو: نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : لوگوں سے ان کے مرتبوں کے مطابق سلوک کرو۔ (ابو داؤد ، 261 / 4)

سفید بالوں والے کی عزت: فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : اللہ پاک کی تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ سفید بالوں والے مسلمان کی عزت کی جائے۔   (ابو داؤد 4 / 344 ، الحدیث : 4843)

مُعزّز شخص کی عزت کرو: ارشادفرمایا : جب تمہارے پاس

کسی قوم کا مُعَزّز شخص آئے تو اس کا اکرام بجا لاؤ۔     (ابنِ ماجہ 4 / 208 ، الحدیث 3712)

غنی اور مسکین سے الگ الگ سلوک: حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ایک سفر میں تھیں ، دورانِ سفر آپ نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو کھانا پیش کیا گیا ، اسی دوران ایک سائل آیا اور اس نے سوال کیا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے خادم سے فرمایا : ’’اسے کھانے میں سے ایک روٹی دے دو۔ ‘‘ پھر ایک شخص سواری پر آیا توآپ رضی اللہ عنہانے فرمایا : ’’اسے کھانا پیش کرو ۔ ‘‘ عرض کی گئی : آپ نے مسکین کو ایک روٹی دی اور غنی کو کھاناپیش کرنے کا کہا ۔ فرمایا : “ بے شک اللہ بندوں کو ان کے مرتبے پر رکھتا ہے ، لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ہم ان کے ساتھ ان کے مرتبے کے مطابق سلوک کریں مسکین تو ایک روٹی پر راضی ہےجبکہ ہمارے لئے یہ بات نامناسب ہےکہ ہم غنی کو اچھی وضع قطع ہوتے ہوئے ایک روٹی دیں۔ ‘‘

(احیاء العلوم ، 718 / 2 ، مترجم ، )

اللہ پاک ہمیں ڈبل اسٹینڈرڈ(دوہرے معیار)کے غلط انداز کو ترک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

دو رنگی چھوڑ کر یک رنگ ہوجا

سراسر موم ہو یا سنگ ہوجا

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*چیف ایڈیٹر ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code