خزانوں کی کنجیاں عطا کی گئیں

4 خصائصِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مدنی گلدستہ

(1)اللہ پاک کا جواب ارشاد فرمانا انبیائے کرام علیہم الصَّلٰوۃ والسَّلام پر جب کُفّار کی طرف سے کوئی اعتراض ہوتا تو وہ اس کا جواب خود دیتے لیکن رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات اللہ پاک نے عطا فرمائے۔( انموذج اللبیب، ص53، زرقانی علی المواھب،ج8،ص536)

انبیائے کرام علیہم السَّلام کے جوابات نوح علیہ السَّلام کی قوم نے کہا: ( اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۶۰))ترجمۂ کنزالعرفان: بے شک ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں (پ8، الاعراف:60) تو آپ علیہ السَّلام نے اس کے جواب میں فرمایا: (یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ ) ترجمۂ کنزالعرفان: اے میری قوم! مجھ میں کوئی گمراہی نہیں (پ8،الاعراف:61) ہُود علیہ السَّلام کی قوم نے کہا:( اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ )ترجمۂ کنزالعرفان: بیشک ہم تمہیں بیوقوف سمجھتے ہیں(پ8،الاعراف: 66) آپ علیہ السَّلام نے جواب میں ارشاد فرمایا: (یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ) ترجمۂ کنزالعرفان: اے میری قوم! میرے ساتھ بے وقوفی کا کوئی تعلق نہیں۔(پ8، الاعراف:67)

اللہ کریم کے جوابات رب کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر کُفّار کے الزامات و اعتراضات اور اللہ پاک کی طرف سے ان کے جوابات کی چند مثالیں مُلاحظَہ فرمائیے: کُفّارِ مکّہ کا الزام( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ(۶) ) ترجمۂ کنزالایمان: اے وہ جن پر قرآن اترا بیشک تم مجنون ہو(پ14، الحجر:6) جواب:( مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ(۲ ) ترجمۂ کنزالایمان: تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں(پ29،القلم:2) یہودِ مدینہ کا الزام (لَسْتَ مُرْسَلًاؕ-) ترجمۂ کنز الایمان:تم رسول نہیں (پ13، الرعد:43)جواب(اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ(۳)) ترجمۂ کنزالعرفان: بیشک تم رسولوں میں سے ہو (پ22، یٰس:3) کُفّارِ مکّہ کا اعتراض (مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِؕ-) ترجمۂ کنزالایمان: اس رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے (پ18،الفرقان:7)جواب( وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِؕ-) ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب ایسے ہی تھے کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے(پ18،الفرقان:20)

دشمن گھٹائیں جتنی عزت بڑھے گی اُتنی

منظور ہے خدا کو یہ احترام تیرا

(2)زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا ہوئیں اللہ کریم نے اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں (Keys) عطا فرمائیں۔(زرقانی علی المواھب،ج7،ص220)

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْاَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي یعنی میں سورہا تھا کہ زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دی گئیں۔(بخاری،ج2،ص303،حدیث:2977)

اِن کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے

مالکِ کُل کہلاتے یہ ہیں

تمام کنجیاں دی گئیں امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالے ’’اَلْاََمْنُ وَ الْعُلٰی‘‘ میں کثیر احادیث سے ثابت کیا ہے کہ نُصْرت (یعنی امداد) کی کنجیاں، نفع ( یعنی فائدے) کی کنجیاں، نَبُوَّت کی کنجیاں، خزانوں کی کنجیاں، زمین کی کنجیاں، دنیا کی کنجیاں، جنت کی کنجیاں، دوزخ کی کنجیاں اور ہر چیز کی کنجیاں سرکارِ نامدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو عطا کی گئی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج 30،ص426 تا435)

کُنجی تمہیں دی اپنے خزانوں کی خدا نے

محبوب کیا مالِک و مختار بنایا

اللہ پاک کے عطا کردہ خزانوں میں سے سرکارِ دوعالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے غلاموں کو مَرئی (یعنی نظر آنے والی) نعمتوں کے علاوہ غیر مَرئی (یعنی نظر نہ آنے والی) نعمتیں بھی عطا فرماتے ہیں۔ ایک حکایت مُلاحَظہ فرمائیے:

قُوّتِ حافِظہ عطا فرمادی حضرت سیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یَارسولَ اللہ! میں آپ سے بہت سی حدیثیں سنتا ہوں لیکن بُھول جاتا ہوں؟ ارشاد فرمایا : اپنی چادر پھیلاؤ۔ میں نے چادر پھیلائی تو رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے دستِ رحمت سے چادر میں کچھ ڈال دیا اور فرمایا: اِسے اپنے سینے سے لگالو، میں نے حکم کی تعمیل کی۔ اِس کے بعد (میرا حافِظہ اِس قَدَر مضبوط ہوگیا کہ) میں کوئی بھی چیز نہیں بُھولا۔(بخاری،ج1،ص62، حدیث:119،ج 2،ص94،حدیث:2350)

مالِکِ کونَین ہیں گوپاس کچھ رکھتے نہیں

دوجہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں

(3)ہمزاد مسلمان ہوگیا اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ہمزاد مسلمان ہوگیا۔(مواھبِ لدنیہ،ج2،ص289)

ہمزاد کسے کہتے ہیں جُوں ہی کسی انسان کا بچّہ پیدا ہوتا ہے، اُسی وقت شیطان کے یہاں بھی بچّہ پیدا ہوتا ہے جسے فارسی میں ہَمزاد اور عربی میں وَسْوَاس کہتے ہیں۔(مرقاۃ المفاتیح ،ج1،ص244،مراٰۃ المناجیح،ج1،ص83)

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جس پر ایک ساتھی جن اور ایک ساتھی فِرِشتہ مُقرّر نہ ہو۔ حاضِرِین نے عرض کیا:یَارسولَ اللہ!کیا آپ پر بھی ؟ ارشاد فرمایا : مجھ پر بھی، لیکن اللہ کریم نے مجھے اس پر مدد دی تو وہ مسلمان ہوگیا،اب وہ مجھے بھلائی کا ہی مشورہ دیتا ہے۔  (مسلم،ص1158،حدیث:7108،7109)

نگاہِ کرم سے فطرت بدل جاتی ہے اس حدیثِ پاک کے تحت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یہ حضور (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی اعلیٰ درجہ کی خُصُوصیت ہے کہ آپ کا شیطان جس کی فطرت میں کفر داخل ہے وہ بھی ایمان لے آیا۔ معلوم ہوا کہ نگاہِ کرم سے فطرتیں بدل جاتی ہیں۔( مراٰۃ المناجیح،ج1،ص83)

(4)بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے پر بھی پورا ثواب ملتا شرعی مجبوری کے بغیر بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے والے کو آدھا ثواب ملتا ہے لیکن سرکارِ نامدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ثواب بلاعُذر بیٹھ کر نفل پڑھنے کی صورت میں بھی پورا ہے۔(کشف الغمۃ ،ج2،ص62،بہارِ شریعت،ج1،ص670)

میں تمہاری طرح نہیں ہوں حضرت سیّدنا عبداللہ بن عَمْرو رضی اللہ عنہما کا بیان ہے: میں نے یہ فرمانِ مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سنا: بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو آدھا ثواب ملتا ہے۔ اس کے بعد میں رَحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ میں نے سرِ اقدس پر ہاتھ رکھا (کہ بیمار تو نہیں)، ارشاد فرمایا: اے عبداللہ! کیا بات ہے؟ میں عرض گزار ہوا: یَارسولَ اللہ! آپ نے ایسا ارشاد فرمایا ہے حالانکہ آپ خود بیٹھ کر نماز پڑھتے ہیں؟ رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ہاں (میں نے ایسا کہا ہے) لیکن لَسْتُ کَاَحَدٍ مِّنْكُمْ میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں۔

(مسلم،ص289،حدیث:1715، شرح نووی جز:6،ج3،ص14، بہارِ شریعت،ج1،ص670)

دو جہاں میں کوئی تم سا دُوسرا ملتا نہیں

ڈھونڈتے پھرتے ہیں مَہر و مَہ[1] پتا ملتا نہیں

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی



۔۔۔ مَہر و مَہ یعنی سورج اور چاند ۔

Share