آدابِ مجلس اور فضائلِ علم

ارشادِ باری تعالیٰ ہے یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہوجاؤ تو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔(پ28، المجادلۃ:11)

شانِ نزول نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم غزوۂ بدر میں حاضر ہونے والے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہت عزت کرتے تھے، ایک روز چند بدری صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی، اُنہوں نے حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا۔ حضور پر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جواب دیا، پھر اُنہوں نے حاضرین کو سلام کیا تو اُنہوں نے جواب دیا، پھر وہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ اُن کے لئے مجلس شریف میں جگہ بنائی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی، سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ چیز گراں گزری تو آپ نے اپنے قریب والوں کو اُٹھا کر اُن کے لئے جگہ بنادی، اُٹھنے والوں کو اُٹھنا شاق ہوا تو اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جنّت میں جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب تمہیں اپنی جگہ سے کھڑے ہونے کا کہا جائے تاکہ جگہ کشادہ ہوجائے تو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت کے باعث تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔(تفسیرخازن، پ28، المجادلۃ، تحت الآیۃ:11،ج 4،ص240)

اس آیت کے شانِ نزول سے معلوم ہوا کہ صالحین کے لئے جگہ چھوڑنا اور ان کی تعظیم کر نا جائز بلکہ سنّت ہے حتی کہ مسجد میں بھی ان کی تعظیم کی جائے گی۔ حدیثِ پاک میں دینی پیشواؤں اور اساتذہ کی تعظیم کا باقاعدہ حکم دیا گیا ہے، سید المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:”جن سے تم علم حاصل کرتے ہو ان کے لئے عاجزی اختیار کرو اور جن کو تم علم سکھاتے ہو ان کے لئے بھی تواضع اختیار کرو اور سرکش عالم نہ بنو۔“(الجامع لاخلاق الراوی، ص230، حدیث:802) نیک لوگوں کی عزت کرنا اور بوڑھوں کا لحاظ کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا اور اس حاملِ قرآن کی تعظیم کرنا جو قرآن میں غلو نہ کرے اور ا س کے احکام پر عمل کرے اور عادل سلطان کی تعظیم کرنا، اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرنے میں داخل ہے۔“(ابو داؤد،ج 4،ص344، حدیث: 4843) خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو علماء و مشائخ اور دین داروں کی عزت کرتے ہیں اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو آزادی کے نام پر علماء اور دین داروں کا مذاق اڑاتے اور اپنی آخرت برباد کرتے ہیں۔

مجلس کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ جو شخص پہلے آ کر بیٹھ چکا ہو اسے اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے سوائے کسی بڑی ضرورت کے یا یوں کہ اہم حضرات کے لئے نمایاں جگہ بنادی جائے جیسے دینی و دنیوی دونوں قسم کی مجلسوں میں سرکردہ حضرات کو اسٹیج پر یا سب سے آگے جگہ دی جاتی ہے اور ویسے یہ ہونا چاہیے کہ بڑے اور سمجھدار حضرات سننے کے لئے زیادہ قریب بیٹھیں۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”تم میں سے جو لوگ بالغ اور عقل مند ہیں انہیں میرے قریب کھڑے ہونا چاہئے۔“ (ابو داؤد،ج1،ص267،حدیث: 674) اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، حضور پر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو ان کے مرتبے اور منصب کے مطابق بٹھاؤ۔“(ابو داؤد،ج 4،ص343،حدیث:4842) البتہ فضیلت اور مرتبہ رکھنے والے حضرات کو چاہئے کہ وہ خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھیں کیونکہ کثیر احادیث میں حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ فرمایا:”کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود اس کی جگہ پر نہ بیٹھے۔“(مسلم،ص923،حدیث:5683) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی دوسری روایت میں ہے، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ (تمہیں چاہئے کہ) دوسروں کے لئے جگہ کشادہ اور وسیع کر دو۔ (بخاری،ج 4،ص179،حدیث:6269)

آیت و روایات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارا دین ہمیں عقیدے اور عبادات کے ساتھ معاشرتی زندگی کے آداب بھی سکھاتا ہے۔ ایک سچا مسلمان مہذب، شائستہ، سلجھا ہوا اور بااخلاق ہوتا ہے۔

آیت کے آخری حصے میں فرمایا گیا کہ علمائے دین کے درجے دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ نے بلند کئے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت کرنے کے بعد فرمایا: اے لوگو!اس آیت کو سمجھو اور علم حاصل کرنے کی طرف راغب ہو جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ وہ مومن عالم کو اس مومن سے بلند درجات عطا فرمائے گا جو عالم نہیں ہے۔ (تفسیرخازن، پ28، المجادلۃ، تحت الآیۃ:11،ج 4،ص241)

یہاں موضوع کی مناسبت سے علم اور علماء کے15 فضائل ملاحظہ ہوں

(1)ایک ساعت علم حاصل کرنا ساری رات قیام کرنے سے بہتر ہے۔ (مسند الفردوس،ج2،ص441،حدیث:3917) (2)علم عبادت سے افضل ہے۔(کنز العمال،جزء10،ج5،ص58،حدیث:28653) (3)علم اسلام کی حیات اور دین کا ستون ہے۔ (کنز العمال، جزء10،ج 5،ص58، حدیث:28657) (4)علماء زمین کے چراغ اور انبیاء کرام علیہم الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کے وارث ہیں۔ (کنزالعمال، جزء10،ج5،ص59،حدیث:28673) (5)مرنے کے بعد بھی بندے کو علم سے نفع پہنچتا رہتا ہے۔(مسلم، ص684، حدیث:4223) (6)ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔(ترمذی،ج4،ص311،حدیث: 2690) (7)علم کی مجالس جنّت کے باغات ہیں۔(معجم کبیر،ج11،ص78،حدیث:11158) (8)علم کی طلب میں کسی راستے پر چلنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ جنّت کا راستہ آسان کردیتا ہے۔(ترمذی،ج4،ص312،حدیث:2691) (9)قیامت کے دن علماء کی سیاہی اور شہداء کے خون کا وزن کیا جائے گا تو ان کی سیاہی شہداء کے خون پر غالب آجائے گی۔(کنز العمال، جزء10،ج 5،ص61، حدیث: 28711) (10)عالم کے لئے ہر چیز مغفرت طلب کرتی ہے حتی کہ سمندر میں مچھلیاں بھی مغفرت کی دعا کرتی ہیں۔(کنز العمال، جزء10،ج 5،ص63، حدیث:28733) (11)علماء کی صحبت میں بیٹھنا عبادت ہے۔(مسند الفردوس،ج4،ص156،حدیث:6486) (12)علماء کی تعظیم کرو کیونکہ وہ انبیاء کرام علیہم الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کے وارث ہیں۔(تاریخ ابن عساکر،ج 37،ص104) (13)اہلِ جنّت، جنّت میں علماء کے محتاج ہوں گے۔(تاریخ ابن عساکر،ج 51،ص50) (14)علماء آسمان میں ستاروں کی مثل ہیں جن کے ذریعے خشکی اور تری کے اندھیروں میں راہ پائی جاتی ہے۔ (کنزالعمال، جزء،ج 5،ص65،حدیث:28765) (15)قیامت کے دن انبیاء کرام علیہم الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کے بعد علماء شفاعت کریں گے۔(کنز العمال،جزء10،ج5،ص65،حدیث:28766)

علم سیکھنے اور علماء کی تعظیم و تکریم کرنے والے یہ فضائل پاتے ہیں اور علم سے دور اور علماء کے بےادب خدا کی رحمت سے محروم ہوتے ہیں۔

www.facebook.com/MuftiQasimAttari/

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…دارالافتاءاہل سنت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share