تعلیمی سال کا آغاز (دوسری اور آخری قسط)

پیارے طلبۂ کرام! تعلیمی سال کے آغاز کے اعتبار سے طلبہ کی تین قسمیں بنتی ہیں:(1)پہلے سال میں داخلہ لینے والے (2)اگلے دَرَجات میں جانے والے (3)آخری دَرَجے میں جانے والے۔ ان تینوں اقسام کے حوالے سے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

پہلے سال میں داخلہ لینے والے

٭تعلیمی اِدارے (جامعۃُ المدینہ، دارُالمدینہ وغیرہ) میں داخلہ لینے کا مقصد علم حاصل کرنا ہوتا ہے، تعلقات و دوستیاں بڑھانا یا نبھانا ہرگز نہیں، اس لئے اوّلین ترجیح اس ادارے یا شاخ کو دیں جہاں ذاتی تعلقات آپ کے وقت اور تعلیم کو ضائع نہ کریں۔ ٭نئی جگہ اور نئے ماحول میں بعض اوقات ابتدا میں دل نہیں لگتا، اس سے بالکل پریشان نہیں ہونا چاہئے۔٭نئے دوست بنانے سے پہلے اچّھی طرح سوچ لیں کہ کس سے دوستی کررہے ہیں ذَہین، سُلْجھے ہوئے اور محنتی طلبہ کے قریب بیٹھنے اور ان سے دوستی کرنے کی کوشش کریں، کسی کی بھی دوستی آپ کی پڑھائی کا نقصان نہ کرے اور نہ ہی ادارے کے اُصول و ضوابط کا مخالف بنائے۔([1]) ٭نئے دَرَجات میں اکثر طور پر طلبہ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اس لئے اگر استاد کے قریب جگہ مل جائے تو اچّھی بات ہے ورنہ جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں۔ ٭بعض طلبہ کا ذَہن ہوتا ہے مرکزی جامعۃُ المدینہ میں ہی داخلہ لینا ہے، ایسی حتمی سوچ ہرگز نہیں ہونی چاہئے، جامعۃُ المدینہ کی مجلس مرکزی جامعۃُ المدینہ میں داخلہ دے یا شاخ میں، بغیر اعتراض قبول کرلیجئے۔ ٭داخلے کے ابتدائی ایّام ہی سے تعلیمی ادارے کے بارے میں بنیادی ضَروری معلوماتلازمی حاصل کریں، ادارے کا لینڈلائن نمبر اور ناظم صاحب اور تین سے چار دیگر انتظامی اُمور سے متعلقین کے موبائل نمبر اپنے گھر پر لازمی دیں تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں رابطہ کرنا آسان ہو۔ اسی طرح اپنے والد، بڑے بھائی یا دوسرے کسی سرپرست کا نمبر ادارے میں لازمی لکھوادیں۔ ٭انسان جُوں جوں ترقی کرتا جارہا ہے، تَنَزُّلی کے اسباب بھی بڑھتے جارہے ہیں، جس کی ایک عام سی مثال موبائل فون ہے، پیارے طلبۂ کرام! موبائل فون آپ کی تعلیم کے لئے کسی زہرِ قاتل اور جان لیوا دشمن سے کم نہیں، موجودہ دور میں غیرمحسوس انداز میں سب سے زیادہ وقت ضائع کرنے کا ذریعہ موبائل فون ہی ہے، عام تجربہ ہے کہ موبائل کے شوقین اور مہنگے موبائل رکھنے والے طلبہ اکثر کتاب سے دُور ہی ہوتے ہیں۔ ٭پیارے طلبہ! شروع کے دنوں میں پڑھائی کا سلسلہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے لہٰذا کتاب کی ابتدا سے ہی اس پر گِرِفت مضبوط رکھیں، جو سبق ملے ساتھ ہی ساتھ یاد کریں، سمجھیں، دُہرائیں تاکہ ابتدا سے ہی کتاب اچّھے انداز میں سمجھ میں آنا شروع ہوجائے۔ یادرکھئے! شروع کے دو سال گرامر، اُصول و فُنون یعنی صَرْف و نَحْو وغیرہ کے لئے بہت ہی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، ان دو سالوں میں بھی پہلے سال کی اہمیت ایسے ہی ہے جیسے زندہ انسان کے لئے آکسیجن، تجربہ ہے کہ ابتدائی دو سالوں میں جو طلبہ صرف و نحو اور گرامر پر محنت نہیں کرتے، آٹھ سال عربی کُتب پڑھنے اور عبارت حل کرنے میں کمزور ہی رہتے ہیں، بہت سے تو دِلْبَرْداشتہ ہو کر علمِ دین کی فیلڈ ہی چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ ٭ابتدائی سالوں میں زیادہ توجہ اپنی تعلیمی مَبادِیات اور مدنی کاموں کی طرف ہونی چاہئے تاکہ گرامر، اُصول وقواعد اور عملی زندگی میں مدنی کاموں کی بنیاد مضبوط ہو، بعض طلبہ ایک سے زائد شعبہ جات میں تعلیم یا کام شروع کئے ہوئے ہوتے ہیں یا مدنی کاموں سے بالکل کنارہ کش ہوتے ہیں، انہیں چاہئے کہ اپنا مکمل فوکس نصابی کتب اور مدنی کاموں پر رکھیں تاکہ علمی اور عملی دونوں بنیادیں مضبوط ہوں۔

اگلے دَرَجات میں جانے والے

٭ایک تعلیمی سال مکمل کرکے اگلے دَرَجات میں جانے والے طلبہ کو پہلے سے زیادہ لگن، توجہ اور محنت کی حاجت ہوتی ہے۔ تعلیمی سال کے ابتدائی دنوں میں کم کم سبق ہوتا ہے جس کی وجہ سے کافی وقت ملتا ہے ایسے موقع پر پچھلے سال کی یا موجودہ مضامین کی ابتدائی کتاب کا اَزسرِنو مُطالعہ مفید رہتا ہے مثلاً طالبِ علم رابِعہ میں ہے تو ثالِثہ کی کتاب کا مُطالعہ یا پھر صَرْف و نَحْو یا مَنْطِق وغیرہ کی ابتدائی کتاب کا مطالعہ فائدہ سے خالی نہیں۔ ٭اگلے درجے میں جانے والے طلبہ کو چاہئے کہ پچھلے تعلیمی سال میں جو غلطیاں ہوئیں یا جن اسباب کی وجہ سے امتحانات میں نمبر کم آئے ان اسباب کو ختم کریں۔ ٭ابتدائی دوسال کے بعد والے دَرَجات میں غیرنصابی مُطالعہ کی طرف رُجحان بڑھانا چاہئے، جو طلبہ ثالِثہ یا اس سے اگلے درجات میں جاتے ہیں انہیں چاہئے کہ اپنے استاذ صاحب سے مشورہ کرکے کوئی نہ کوئی ایک کتاب اپنے مطالعہ میں ضَرور رکھیں، حاصلِ مطالعہ نوٹ کریں، استاذِ محترم کو دِکھائیں اور مزید کُتب کا معلوم کریں۔ محدّثِ اعظم پاکستان مولانا سردار احمد رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ دورِ طالب علمی میں آپ جب مسجد میں حاضر ہوتے اور نمازِ باجماعت میں کچھ تاخیر ہوتی تو کسی کتاب کا مطالعہ شروع کر دیتے، اسی طرح نمازِ عشا کے بعد کتب سامنے رکھ کربیٹھ جاتے اور مُطالعہ کرتے کرتے بَسااوقات فجر کی اذانیں شروع ہوجاتیں۔ (فیضانِ محدثِ اعظم، ص9) آپ رحمۃ اللہ علیہ اکثر فرماتے: جس طرح تازہ روٹی اور تازہ سالن مزہ دیتا ہے اسی طرح تازہ سبق اور تازہ مطالعہ مزے دار ہوتا ہے۔(فیضانِ محدثِ اعظم، ص15) حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ کو دورِ طالبِ علمی میں رات کو مطالعہ کے لئے جو تیل چراغ جلانے کے لئے ملتا تھا وہ تقریباً آدھی رات تک چلتا۔ چراغ تو بُجھ جاتا مگر آپ کے شوقِ علم کا دِیا جلتا رہتا، چنانچہ جب مدرسے کا چراغ گُل ہوجاتا تو آپ باہَر نکل آتےاور گلی میں جلتے ہوئے بلب کی روشنی میں بیٹھ کر مطالعہ میں مصروف ہوجاتے۔(حالاتِ زندگی، حیاتِ سالک، ص82) لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اس دوران نصابی کُتب میں کمزوری نہ رہے۔ ٭استاد ہو یا طالبِ علم، مزدور ہو یا سیٹھ ہر انسان کو اپنا جَدْوَل بنانا چاہئے، یوں تو ہر کوئی ایک حد تک طے شُدہ جَدْوَل پر ہی چل رہا ہوتا ہے، لیکن اگر سوچ بچار کے بعد ہر پہلو کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جَدْوَل بنایا جائے، جس میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیاں بھی ہوں اور اس جَدْوَل پر کماحَقُّہ عمل کی کوشش بھی کی جائے تو ایک طالبِ علم کامیاب زندگی کی شاہراہ پر چل سکتا ہے۔ ٭گزشتہ سال کی دَرسی کُتب اور بالخصوص غیرنصابی مطالعہ کی کُتب لازمی محفوظ رکھنی چاہئیں، وقتاً فوقتاً ضَرورت بھی پڑتی ہے اور شوق بھی بڑھتاہے۔

آخری دَرَجے میں جانے والے

٭تعلیم کا آخری سال بہت ہی اہمیت کا حامِل ہوتاہے، طالبِ علم کو چاہئے کہ اگر پچھلے سالوں میں کسی طرح علمی و عملی کمزوری رہ گئی ہے تو اس کا لازمی تَدارُک کرے کیونکہ اس کے بعد عملی زندگی کا آغاز ہوگا پھر کمی پوری کرنے کا موقع نہ ملے گا۔ ٭آخری سال کی اہمیت کو یوں سمجھئے کہ گزشتہ کئی سال سے جو فصل بو رہے تھے، یہ اس فصل کے سمیٹنےاور سنبھالنے کا سال ہے۔ درسِ نظامی کے آخری سال میں فارغُ التحصیل ہونے کے بعد کی پلاننگ بھی شامل ہوتی ہے۔ ویسے تو یہ اہداف ابتدائی سال سے ہی پیشِ نظر رکھنے چاہئیں البتہ وقت کے ساتھ ساتھ ذہن تبدیل بھی ہوتا ہے، لہٰذا اس سال فائنل منصوبہ بندی کا وقت ہوتا ہے۔٭آخری سال کے آغاز ہی میں اساتذۂ کرام کے مشورے، اپنی قابلیت اور ذہنی مَیْلان کی بنیاد پر مستقبل کا شعبہ منتخب کرلینا چاہئے۔

اللہ کریم تمام طلبۂ کرام کو علمی و عملی میدان میں اخلاص و کامیابی سے ہم کِنار فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مدنی مقصد: مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ناظم ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی



1۔۔۔”دوست کسے بنائیں“ اس بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“(محرم الحرام، صفرالمظفراور ربیع الاوّل1440ھ) کا سلسلہ ”کیسا ہونا چاہئے“ پڑھئے۔

Share

Comments


Security Code