تیری رحمت سے صَفِیُّ اللہ کا بیڑا پار تھا

تیرے صدقے سے نَجِیُّ اللہ کا بَجْرا تِر گیا[1]

الفاظ و معانی صَفِیُّ اللہ: حضرت سیّدُنا آدم علیہ السَّلام کا لقب۔ بیڑا پار ہونا:مشکل آسان ہونا۔ نَجِیُّ اللہ:حضرت سیّدُنا نوح علیہ السَّلام کا لقب۔بَجْرا:کشتی۔تِر گیا:(مرادی معنی)پار لگ گیا،نجات پاگیا۔

شرح حضرت سیّدُنا آدم صَفِیُّ اللہ علٰی نَبِیِّنَا وعلیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کی دُعا سرکارِ نامدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وسیلے سے قبول ہوئی جبکہ حضرت سیّدُنا نوح نَجِیُّ اللہ علٰی نَبِیِّنَا وعلیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کی کشتی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے طُفیل سلامت رہی۔

صَفِیُّ اللہ کا بیڑا پار تھا فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جب آدم علیہ السَّلام سے لَغزش واقع ہوئی، انہوں نے اللہ کریم کی بارگاہ میں عرض کی:يَا رَبِّ اَسْاَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ لِمَا غَفَرْتَ لِيْ یعنی الٰہی! میں تجھے محمد( صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما۔ ارشاد ہوا: اے آدم! تو نے محمد (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کو کیسے پہچانا حالانکہ میں نے ابھی اُسے پیدا نہ کیا؟ عرض کی: الٰہی! جب تونے مجھے اپنی قدرت سے بنایا اور مجھ میں اپنی رُوح پھونکی، میں نے سر اُٹھا کر دیکھا تو عرش کے پایوں پر لکھا پایا:لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُمُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ۔ یہ دیکھ کر میں نے جان لیاکہ تُو نے اُسی کا نام اپنے نامِ پاک کے ساتھ ملایا ہوگا جو تجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے۔اللہ کریم نے ارشادفرمایا:اے آدم! تونےسچ کہا،اِنَّہٗ لَاَحَبُّ الْخَلْقِ اِلَیَّ یعنی بیشک وہ مجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے۔ جب تونے مجھے اس کا واسطہ دے کر سوال کیا تو میں نے تیرے لئے مغفرت فرمائی، وَلَوْلَا مُحَمَّدٌمَاخَلَقْتُکَ یعنی اگر محمد (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نہ ہوتا تو میں تجھے بھی نہ بناتا۔(مستدرک للحاکم،ج3،ص517،کنزالعمال، جز11،ج 6،ص206، حدیث:32135)

نَجِیُّ اللہ کا بَجْرا تِر گیا سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نامِ نامی، اسمِ گرامی ”محمد“ کے کثیر فضائل و خصائص میں سے ایک یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت سیّدُنا نوح نَجِیُّ اللہ علٰی نَبِیِّنَا وعلیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کی کشتی اس مبارک نام کی بدولت جاری ہوئی۔(زرقانی علی المواھب،ج4،ص238)

شارحِ بخاری حضرت سیّدُنا امام احمد بن محمد قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات:923ہجری) نے ایک بزرگ کے یہ دو شعر نقل فرمائے ہیں:

بِهٖ قَدْ اَجَابَ اللهُ آدَمَ اِذْ دَعَا وَنُجِّى فِيْ بَطْنِ السَّفِيْنَةِ نُوْحٌ

وَمَا ضَرَّتِ النَّارُ الْخَلِيْلَ لِنُوْرِهٖ وَمِنْ اَجْلِهٖ نَالَ الْفِدَاءَ ذَبِيْحٌ

یعنی رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے طفیل اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السَّلام کی دُعا قبول فرمائی اورحضرت نوح علیہ السَّلام کو کشتی میں نجات دی گئی۔ نورِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی برکت سے آگ نے حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کو نقصان نہ پہنچایا اور ذَبِیحُ اللہ حضرت اسماعیل علیہ السَّلام کے بجائے جنتی مینڈھے کی قربانی کی گئی۔(مواھبِ لدنیہ،ج3،ص418)

حضرت ِ نوح نَجِیُّ اللّٰہ کا آدم ثانی عالَم کا

یار نہ گر یہ نور ہوتا اُن کا سفینہ کب تِرتا

لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللّٰہ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی



1۔۔۔یہ شعر امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے نعتیہ دیوان ”حدائقِ بخشش“ سے لیا گیا ہے۔

Share

Articles

Comments


Security Code