آنکھوں میں آگ

سخت گرمی میں روڈ پر کھڑے ذیشان نے دیکھاکہ اُس کا کلاس فیلو کامران دُھوپ کا چشمہ(Sun glasses) لگائے بڑی تیزی سےبائیک پر جارہا ہے، تیز اسپیڈ کی وجہ سےذیشان آواز نہ دے سکا، اگلے دِن جب کامران اسکول آیا تو ذیشان نے کہا: آپ کل دوپہر تقریباً دو بجے خوبصورت سَن گلاسز لگائے اتنی تیزی سے کہاں جارہے تھے؟ کامران نے کہا: چھوٹے بھائی کو اسکول سے لینے جارہا تھا، دُھوپ اور گردو غبار سےآنکھوں کی حفاظت کے لئے سَن گلاسز پہن لئے تھے، قریب کھڑے فیضان نے کہا: پیارے بھائی!ہم جس طرح نقصان دہ چیزوں مثلاً تیز دُھوپ، دُھول مٹی وغیرہ سے اپنی آنکھوں کی حفاظت کرتے ہیں کاش! ہم دینی و اُخروی حوالے سے بھی اپنی آنکھوں کی حفاظت کریں، ذیشان اور کامران ایک آواز ہوکر بولے: وہ کیسے؟ فیضان نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ! ہم مُسلمان ہیں اور اللہ پاک نے ہم کو آنکھوں کی نعمت سے نوازا ہے، یہ آنکھیں ہمارے پاس اللہ پاک کی امانت ہیں، ہم اس سے قراٰنِ کریم کی زِیارت کریں، اپنے والدین کو تعظیم کی نِگاہ سے دیکھیں اور بے پردہ عورَتوں کو دیکھنے سے بچیں، انٹرنیٹ پر غلط مناظر و فضول ویڈیوز دیکھنے سے بچیں کہ یہ بینائی کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ اللہ پاک کی ناراضی کا سبب بھی بن سکتاہے۔

اے عاشقانِ رسول!آنکھوں کی قدر جاننی ہوتو کسی نابینا سے پوچھ لیجئے،اللہ پاک نے ہمیں بِن مانگے آنکھوں کی عظیم نعمت سے نوازا ہے مگر افسوس کہ اِس نعمت کا شُکرادا کرنے کے بجائے آج بے شُمار آنکھیں اللہ پاک کی منع کردہ اشیاء کو دیکھ رہی ہیں حالانکہ آنکھوں کی نعمت کا کم از کم شُکر یہ ہے کہ اِن کو اللہپاک کی نافرمانی میں استعمال نہ کیا جائے۔ موبائل/ٹیبلٹ وغیرہ پر طرح طرح کے بے ہودہ مناظِر دیکھنا، فلمیں، ڈرامے اور دیگر حیاسوز ویڈیوز دیکھنا نیز بے پردہ عورَتوں کو تاکتے جھانکتے رہنایہ سب اللہ پاک کو ناراض کرنےوالے کام ہیں، یاد رکھئے! جو کوئی اپنی آنکھوں کو حرام سے پُر کرے گا قِیامت کے دِن اُس کی آنکھوں میں آگ بھر دی جائے گی۔(مکاشفۃُ القلوب، ص10) انٹرنیٹ، سوشل میڈیا کا گناہوں بھرا استعمال کرنےوالوں کو اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضری کو یاد کرکے ڈر جانا چاہئے کہ قِیامت کے دِن ہمارے اعضاء (Parts of  Body) ہمارے خلاف گواہی دیں گے، جیسا کہ قراٰنِ کریم میں ہے:(  اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶) )ترجمۂ کنزُ الایمان:بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔ (پ15،بنیٓ اسرآءیل:36) فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمہے:بروزِ قِیامت ہر آنکھ رو رہی ہوگی سوائے اُس آنکھ کے جو اللہ پاک کی حرام کردہ چیزوں (کو دیکھنے) سے بندرہی، جس نے راہِ خدا میں جاگ کر رات گزاری اور جس آنکھ سے خوفِ خدا سے مکھی کے سَر کے برابر آنسو نکلا۔ (حلیۃ الاولیاء،ج 3،ص190، رقم:3663)

امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہماری دنیا و آخِرت کی بھلائی کے پیشِ نظر مدنی انعام نمبر31میں فرماتے ہیں:کیا (گھر میں یا باہر) T.V V.C.R یا Internet وغیرہ پر فلمیں ڈرامے اور گانے باجے وغیرہ دیکھنے یا سننے سے بچے؟ امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: ”میں گھر سے نکلتے وقت اجنبیہ عورت پر بِلا اِرادہ بھی نظر پڑنے سے بچانے کی نیّت کرتا ہوں۔“ کاش! ہماری بھی یہ مدنی سوچ بن جائے، اللہ توفیق دے تو اِن آنکھوں سے پیارا پیارا کعبہ دیکھئے، سبز گنبد کا نظارہ کیجئے، عاشقانِ رسول علمائے کرام کی زیارت کیجئے۔

دِل یاد لئی بنایا تے تعریف لئی زُباں اَکھیاں بنائیاں سوہنے دے دیدار واسطے

(یعنی دل اللہ کے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی یاد میں تڑپنے کے لئے بنایا گیا، زبان نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی ثنا و توصیف کے لئے بنائی گئی اور آنکھیں نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دیدار کے لئے بنائی گئی ہیں۔)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مجلس مدنی انعامات ،باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code