عظمت مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تین خصائص

(1)نمازِ تہجد فرض تھی جمہور (یعنی اکثر) عُلَما کے نزدیک سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر پانچوں نمازوں کے علاوہ نمازِ تہجد بھی فرض تھی۔ صَدْرُ الاَفاضِل  مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نمازِ تہجد سَیّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر فرض تھی، جَمہُور کا یہی قول ہے۔حضور کی اُمّت کے لئے یہ نماز سنت ہے۔ ([1]) ( خزائن العرفان، بنیٓ اسرآءیل،تحت الآیۃ:79)

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: ثَلٰثٌ ھُنَّ عَلَیَّ فَرِیْضَۃٌ وَھُوَ لَکُمْ سُنَّۃٌ یعنی تین چیزیں میرے لئے فرض اور تمہارے لئے سنّت ہیں۔ (ان تین میں سے ایک یہ بیان فرمائی:) قِیَامُ اللَّیْل یعنی رات میں نماز پڑھنا۔ (معجم اوسط،ج2،ص274، حدیث:3266)

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قولِ جمہور، مذہبِ مختار ومنصور (یعنی اکثر عُلما کا قول اور اختیار شدہ  مذہب) حضور پُرنور صلَّی اللہ  تعالٰی علیہ وسلَّم کے حق میں (نمازِ تہجد کی) فرضیت ہے، اسی پرظاہرِ قرآنِ عظیم شاہد(یعنی قراٰنِ کریم کے ظاہری الفاظ بھی اسی کی گواہی دیتے ہیں) اور اسی طرف حدیثِ مرفوع (یعنی فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) وارد۔ قَالَ اللہُ تَعَالٰی (یعنی اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:) یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ(۱) قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ(۲) (ترجمۂ کنزالایمان: اے جھرمٹ مارنے والے رات میں قیام فرما۔ (پ 29، المزمل:2،1)) وَقَالَ تَعَالٰی (اللہ کریم نے مزید ارشاد فرمایا:) وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ ( ترجمہ:اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھو۔ (پ15،بنیٓ اسرآءیل:79))۔ ان آیتوں میں خاص حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو امرِالٰہی (اللہ کا حکم) ہے اور امرِالٰہی مفیدِ وُجوب(یعنی اللہ پاک کا حکم واجب ہونے کا فائدہ دیتا ہے)۔(فتاویٰ رضویہ،ج7،ص402)

(2)نمازی کو بلائیں تو حاضر ہونا لازم دو عالَم کے سردار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نمازی کو بلائیں تو اس پر لازم ہے کہ حاضر ہوجائے، نماز فاسد نہ ہوگی۔ (زرقانی علی الموا ھب،ج 7،ص318)

اللہ پاک کا فرمانِ عالیشان ہے: (( (یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-)ترجمۂ کنز الایمان: اے  ایمان والو! اللہ ورسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی۔ (پ9، الانفال: 24) اس آیت سے ثابت ہوا کہ تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب بھی کسی کو بلائیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ آپ کی بارگاہ میں حا ضر ہو جائے چاہے وہ کسی بھی کام میں مصروف ہو۔(صراط الجنان،ج3،ص539)

دورانِ نماز جواب نہ دینے پر تفہیم فرمائی: حضرت  سیدنااُبَیْ بن کَعْب رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف لائے اور انہیں آواز دی: اے اُبَیْ! انہوں نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی طرف دیکھا لیکن کوئی جواب نہ دیا، پھر مختصر نماز پڑھ کرخدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی :اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سلام کا جواب دے کر دریافت فرمایا: اے اُبَیْ! جب میں نے تمہیں پکارا تو جواب دینے میں کونسی چیز رکاوٹ بنی؟ عرض کی: یارسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کیا تم نے قراٰنِ  کریم  میں یہ نہیں پایا:( اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-۔) (ترجمۂ کنز الایمان: اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی۔) عرض کی:  کیوں نہیں! اِنْ شَآءَ اللہ آئندہ ایسا نہ ہو گا۔(ترمذی،ج4،ص400،حدیث:2884)

نماز نہیں ٹوٹے گی مذکورہ آیت کے تحت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اپنے تفسیری حاشیے ”نورالعرفان“ میں فرماتے ہیں: مسلمان کسی حال میں بھی ہو حضور (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے بُلانے پر فوراً حاضر ہوجائے بلکہ اگر کوئی نمازی بحالتِ نماز حضور کے بُلانے پر حاضر ہو اور جس کام کو سرکار( صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) بھیجیں وہ کر بھی آئے، جب بھی نماز ہی میں ہوگا،جتنی رکعات رہ گئی تھیں وہی پوری کرے گا۔

(3)دورانِ نماز سلام عرض کیا جاتا ہےنماز کے دوران تَشَہُّدْ (یعنی اَلتَّحِیَّات) میں اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں ان الفاظ سے سلام کیا جاتا ہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَا تُہٗ (یعنی سلام ہوآپ پر  اے نبی! اور اللہ  کی رَحمتیں اور بَرَکتیں)۔اگر کسی اور شخص کو اس طرح مخاطَب کیا جائے تو نماز ٹوٹ جائے گی۔ (تھذیب الاسماء واللغات،ج 1،ص64)

سلام عرض کرتے ہوئے کیا تصوّر کرے؟ شارحِ بخاری امام احمد بن محمد قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ بعض اہلُ اللہ سے نقل فرماتے ہیں:نمازی جب اَلتَّحِیَّات پڑھتے ہوئے اللہ پاک کے دروازۂ رحمت پر دَستک دیتے ہیں تو انہیں  اس پاک ذات کے دربار میں حاضری کی اجازت ملتی ہے جو زندہ ہے اور اُسے کبھی موت نہ آئے گی۔اُس دربار میں حاضر ہوکر وہ اللہ کریم سے مُناجات کرتے ہیں جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اب انہیں بتایا جاتا ہے کہ یہ عظیم دولت انہیں رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بدولت اور آپ کی پیروی کرنے کی برکت سے حاصل ہوئی ہے۔جب وہ توجہ کرتے ہیں تو رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بھی اس دربار میں موجود پاتے ہیں اور آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَ رَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَا تُہٗ (مواہبِ لدنیہ،ج3،ص229)

تمہاری سلامی نمازوں میں داخل

تصور تِرا شرط مثلِ وضو ہے

اَذکارِ نماز میں معنی مراد  ہوتے ہیں پیارے اسلامی بھائیو! نماز میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے اس میں صرف الفاظ کی ادائیگی مقصود نہیں ہوتی بلکہ ان الفاظ کے معنیٰ مُراد ہوتے ہیں، تَشَہُّدْ (یعنی اَلتَّحِیَّات) کا بھی یہی معاملہ ہے۔امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:شریعتِ مطہرہ نے نماز میں کوئی ذکر ایسا نہیں رکھا ہے جس میں صرف زبان سے لفظ نکالے جائیں اور معنے مراد نہ ہوں،  نہیں نہیں بلکہ قطعاً یہی (یعنی معنیٰ) درکار ہے۔ اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ سے حمدِ الہٰی کا قَصْد (یعنی ارادہ) رکھے اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَ رَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَا تُہٗ سے یہ ارادہ کرے کہ اس وقت میں اپنے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو سلام کرتا اور حضور سے بِالقَصْد عرض کررہا ہوں کہ سلام حضور! اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔ (فتاویٰ رضویہ،ج29،ص567)

اے عاشقانِ رسول! نماز کے دوران تعظیم کے ساتھ اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا  تصور عین سعادت ہے۔اس سے مَعَاذَ اللہ نماز میں کوئی خرابی لازم نہیں آتی بلکہ خُشُوع و خُضُوع میں اضافہ ہوتا اور نماز کامل ہوتی ہے۔

ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا

تصور میں ترے رہنا عبادت ا س کو کہتے ہیں

(مراٰۃ المناجیح ،ج8،ص527)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ   باب المدینہ کراچی



1 ۔۔۔(امّت کے لئےنمازِ)تہجدسنتِ مُسْتَحَبَّہ ہے، تمام مُستحب نمازوں سے اعظم  واہم، قرآن واحادیثِ حضور پُرنُور سَیِّدُ الْمُرْسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس کی ترغیب سے مالامال، عامۂ  کتبِ مذہب میں اسے مَندوبات ومُسْتَحَبَّات سے گِنا اور سنتِ مُؤَکَّدَہ سے جُدا ذِکرکیا، تو اِس (یعنی نمازِ تہجد)کا تارِک اگرچہ فضلِ کبیر و خیرِ کثیر(یعنی بڑی فضیلت اور کثیر بھلائی) سے محروم ہے، گنہگارنہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج 7،ص400)

Share

Articles

Comments


Security Code