علم کا بیج

امامُ النحو حضرت علّامہ مولانا غلام جیلانی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ دورانِ طالبِ علمی جب کافیہ (علمِ نحو کی ایک کتاب) پڑھ رہے تھے تو آپ کا معمول ہوتا کہ روزانہ فجر کی نَماز کے بعد حُفّاظ کی طرح کافِیہ کا دَور کیا کرتے۔ ابھی آپ کو مکمل مَتْن یاد نہ ہو پایا تھا کہ مدرسے سے رَمَضانُ المبارَک کی چھٹیاں ہوگئیں تو آپ بقیہ مَتْن گھر میں روزانہ ظہر کے بعد یاد کرتے حتّٰی کہ رَمَضان میں ہی کافِیہ کے مکمل مَتْن کے حافِظ ہوگئے۔(بشیر القاری، ص7 ملخصاً)

پیارے طلبۂ کرام! عِلم کی مثال ایک درخت جیسی ہے،مضبوط درخت کی طرح مضبوط علم کے لئے اس کے بیج یعنی مَتن پر عُبور ہونا ضَروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اَسلاف مَتن پر خصوصی توجہ دیتے تھے لیکن! آج ہماری توجّہ متون سے ہٹ گئی ہے، شاید اسی وجہ سے آج کل علوم کی بنیادی باتیں مستحضر نہیں رہتیں۔ کچھ سوال پیشِ خدمت ہیں غور فرمائیے گا کہ کیا کسی کتاب کا سہارا لئے بغیران کے جوابات فوراً دے سکتے ہیں؟1:مال کسے کہتے ہیں؟ 2:مکروہِ تحریمی کیا ہوتا ہے؟ 3:قیاس کی تعریف، 4:انواعِ تشبیہ کون کونسی ہیں؟ 5:حدیثِ حسن کی تعریف، 6:موانعِ تنوین کون کونسے ہیں؟ وغیر ذالک۔ اس طرح کی اور بہت سی بنیادی باتیں پڑھنے کے بعد بھی یاد نہیں رہتیں جس کی وجہ علوم کی بنیاد یعنی متون کو یاد رکھنے کا اہتمام نہ کرنا بھی ہے۔

مَتن کسے کہتے ہیں؟

جامع کلمات کا وہ مجموعہ جسے کسی فن کی بنیاد بیان کرنے کے لئے لطیف انداز میں پیش کیا گیا ہو مَتن کہلاتا ہے۔

مَتن کی اقسام

متون دو طرح کے ہوتے ہیں: (1)متونِ منثورہ: جس میں مَتْن کو نثر میں بیان کیا جاتا ہے جیسا کہ اُصولِ فقہ میں متنِ مَنَار (2)متونِ منظومہ:جس میں نظم کی صورت میں مَتْن کو بیان کیا جاتا ہے جیساکہ علمِ نحو میں اَلْفِیَۃُ اِبْنِ مَالِک۔ یاد رہے! علوم پر مہارت کے لئے ان کی اساس معلوم ہونے کے ساتھ ساتھ یاد ہونا بھی ضَروری ہے۔ ہمارے اَسلاف پڑھنے کے ساتھ ساتھ یاد کرنے کا بھی بہت اہتمام کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کو مختلف کتابوں کے سینکڑوں ہزاروں صفحات یاد ہوتے تھے، مثلاً امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نےصرف 12سال کی عمر میں امام مالِک رحمۃ اللہ علیہ کی مُؤَطَّا (امام مالِک کی تحریر کردہ حدیث کی کتاب) حِفظ کرلی تھی۔ (حلیۃ الاولیاء،ج 9،ص78) یونہی صدرُ الشریعہ نے ایک دن ”کافِیہ“ کو حِفظ کرنے کا اِرادہ کیا اور ایک ہی دن میں پوری کافِیہ حِفظ فرمالی۔(سیرتِ صدر الشریعہ، ص33)

حفظِ متون کے فوائد

(1)متون چونکہ اصلِ فن پر مبنی ہوتے ہیں، اعتراضات، اشکالات، توضیح وغیرہ کا بیان متون میں نہیں ہوتا جس کی وجہ سے متون کے ذریعے علوم کی اساس اور بنیاد معلوم ہوجاتی ہے۔

(2)علمائے کرام متون میں اپنی علمی زندگی کانچوڑ اور خلاصہ بیان کرتے ہیں جنہیں ہم خود حاصل کرنا چاہیں تو زندگیاں صَرف ہوجائیں، لہٰذا متون کے ذریعے علمائے دین کی زندگی بھر کی محنتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

(3)ہر فَن کی کُتب شرح و بسط کے ساتھ پڑھنا ممکن نہیں ہوتا، اگر ان کے مَتْن پڑھ کر انہیں یاد کر لیا جائے تو بہت سے فنون کو حاصل کیا جاسکتا ہے کہ عربی کا مقولہ ہے: مَنْ حَفِظَ الْمُتُوْن فَقَدْ حَازَ الْفُنُوْن یعنی جس نے متون کو حفظ کیا اس نے کئی فنون کو حاصل کرلیا۔

(4)حفظِ متون کی وجہ سے درس و تدریس کے دوران اپنی تقریر مضبوط سے مضبوط تر بنائی جاسکتی ہے۔ اے عاشقانِ عِلم! اگر آپ بھی علم کے تناور درخت بننا چاہتے ہیں تو علوم کی بنیاد یعنی متون کو اپنی پڑھائی کا حصّہ بنائیں اور متون کو یاد کرنے کی عادت بنائیں۔ ذیل میں5مشہوراور مختلف علوم پر مشتمل متون کے نام حاضر ہیں۔

مختلف مشہور مَتْن

(1)اُصولِ حدیث پر مشتمل جامع مَتْن نُخْبَۃُ الْفِکْر

(2)علمُ الکلام پر اَلْعَقَائِدُ النَّسَفِیَّۃ

(3)اصولِ فقہ پر اَلْمَنَار

(4)فقہ پر مُخْتَصَرُ الْقُدُوْرِی

(5)علمِ منطق پر تَھْذِیْبُ الْمَنْطِق وَ الْکَلَام۔

اسی طرح دیگر علوم کے بیان میں ایک نہیں بلکہ بیسیوں متون عُلَما نے تحریر فرمائے ہیں۔ ہمت کیجئے! آگے بڑھئے اور متون کو حاصل کرکے یاد کرنا شروع کر دیجئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مدرس جامعۃ المدینہ فیضان کنز الایمان ،باب المدینہ کراچی

Share