میں تِرے ہاتھوں کے صدقے کیسی کنکریاں تھیں وہ

جن سے اتنے کافروں کا دَفْعَتاً مُنھ پِھر گیا([1])

الفاظ و معانی:کنکریاں:پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے۔ دفعتاً:اچانک۔ مُنھ پِھر گیا:(مرادی معنیٰ) شکست کھاگئے۔

شرح:اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نورانی ہاتھوں کی کیا بات ہے! ان مبارک ہاتھوں سے آپ نے مٹھی بھر خاک اور کنکریاں کفار کی جانب پھینکیں تو وہ شکست کھاکر فرار ہوگئے۔

اس شعر میں درج ذیل حکایت کی طرف اشارہ ہے:

فتح حاصل ہو گئی: غزوۂ حُنین کے دوران ایک موقع پر تھوڑی دیر کے لئے کفار نے غَلَبہ پایا اور رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہمراہ صرف چند جانثار رہ گئے۔ اس وقت اللہ غَالِب کے رسولِ غالب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر شانِ جلال طاری تھی اور مبارک زبان پر یہ کلمات جاری تھے:اَنَا النَّبِیُّ لَاکَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب یعنی میں نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں، میں عبدُالمُطَّلِب کا بیٹا ہوں۔ اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یہ ارادہ فرما رہے تھے کہ تنہا ان ہزاروں کے مَجْمَع پر حملہ فرمائیں، حضرت سیّدُنا عباس اور حضرت سیّدُنا ابو سفیان رضی اللہ عنہما مبارک خچر کی لَگام پکڑے ہوئے تھے کہ آگے نہ نکل جائے ۔ جب کافر نہایت قریب آگئے تو رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سُواری سے نیچے تشریف لائے، اُس وقت بھی یہی فرماتے تھے: اَنَا النَّبِیُّ لَاکَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب اَللّٰھُمَّ اَنْزِلْ نَصْرَکَ میں ہوں نبی برحق سچا، میں ہوں عبدُالمُطَّلِب کا بیٹا، الٰہی! اپنی مدد نازل فرما۔ پھر ایک مٹھی کنکریاں (اور خاک) دستِ پاک میں لے کر کافروں کی طرف پھینکیں اور ارشاد فرمایا:شَاھَتِ الْوُجُوْہ یعنی چہرے بگڑ گئے۔ ایک روایت کے مطابق یہ بھی ارشاد فرمایا:انْہَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ یعنی ربِّ محمد کی قسم! یہ ہار گئے۔ وہ خاک ان ہزاروں کافروں میں سے ایک ایک کی آنکھ میں پہنچی اور سب کے منہ پِھر گئے۔ حضرت سیّدُنا عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کنکریاں پھینکیں تو کفار کا زور ٹوٹ گیا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے۔ اُن میں سے جو بعد میں اسلام لائے ان کا بیان ہے کہ جس وقت حُضورِ اَقدَس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وہ کنکریاں ہماری طرف پھینکیں ہمیں یہ نظر آیا کہ زمین سے آسمان تک تانبے کی دیوار قائم کردی گئی اور اس پر سے پہاڑ ہم پر لُڑَھکائے گئے، سِوائے بھاگنے کے ہم کچھ نہ کرسکے۔ (مسلم، ص 757، 758، حدیث: 4612، 4619- کنزالعمال، جز10،ج 5،ص242، 243، حدیث:30192، 30199-  فتاویٰ رضویہ،ج 30،ص277)

اس موقع پر اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی:( وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰىۚ-)تَرجَمَۂ کنزُالایمان:اور اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی۔ (پ9،الانفال:17، صراط الجنان،ج3،ص534)

نہیں وہ میٹھی نگاہ والا خدا کی رَحمت ہے جلوہ فرما

                               غضب سے ان کے خدا بچائے جلالِ باری عِتاب میں ہے (حدائقِ بخشش، ص180)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی



1۔۔۔یہ شعر امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے نعتیہ دیوان ”حدائقِ بخشش“ سے لیا گیا ہے۔

Share

Articles

Comments


Security Code