مستقبل کے معمار

پیارے اسلامی بھائیو! طلبہ(Students)مستقبل کے مِعمار ہوتے  ہیں اور یہ کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقّی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔  طلبہ اپنی تعلیم کے دوران جس قدر مخلص اور محنتی ہوں گے معاشرے اور قوم کو اسی قدر بہترین افراد میسر ہوں گے، بالآخر یہ افراد مل کر نہ صرف ایک اچّھا معاشرہ قائم کرسکیں گے بلکہ ایک زندہ قوم کے ستون بن کر اسے مضبوطی فراہم کریں گے۔ تعلیم و تعلُّم کی اہمیت کو دینِ اسلام نے بہت اُجاگر فرمایا ہے، نسلِ انسانی کے بہترین مستقبل کی بنیاد ہونہار، قابل، مستقل مزاج، محنتی اور اپنے وطن وقوم سے خالص محبت رکھنے والے اساتذہ اور  طلبہ پر ہوتی ہے۔([1])

ذیل میں ”طالبِ علم کو کیسا ہونا چاہئے؟“ کے بارے میں کچھ اہم پوائنٹس ملاحظہ کیجئے:

٭طالبِ علم کو چاہئے کہ استاد کی ہر بات توجہ سے سنے اور اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرے، ممکن ہو تو لکھ بھی لے، اگر استاد صاحب کی آواز صحیح طور پر آپ تک نہیں پہنچ رہی تو ادب و تعظیم کے ساتھ مناسب  انداز میں ان سے عرض کردے۔

٭اس بات کا انتظار نہ کرے کہ استاد صاحب سبق سُنانے کافرمائیں گے تو سناؤں گا بلکہ خود ہاتھ اٹھا کر سبق سنانے کا عرض کرے۔

٭ رہائشی طلبہ اگر سمجھیں تو ان کے پاس طویل وقت ہوتا ہے، جس میں وہ اپنے اسباق کی اچھی تیاری کے ساتھ ساتھ غیرنصابی مطالعہ وغیرہ بھی کرسکتے ہیں، لیکن دیکھا گیا ہے کہ  بہت سے طلبہ اپنا وقت موبائل اور دیگر غیرضروری معاملات میں ضائع کردیتے ہیں، بعض تو نیند کے بہت رَسیا(شوقین) ہوتے ہیں کہ نمازِ عشا کے بعد جلد سونے اور فجر پڑھنے کے بعد بھی سوجانے کے عادی ہوتے ہیں، یادرکھئے! کہ تعلیم کا یہ دورانیہ سال مکمل ہونے پر ختم ہوجائے گا لیکن آپ کی سُستی یا غیر ضروری معاملات میں مصروفیت کے باعث رہ جانے والی کمی و کوتاہی کا ازالہ کبھی نہ ہوسکے گا، اسی طرح غیر رہائشی طلبہ جو چھٹی  کے بعد گھر چلے جاتے ہیں، انہیں بھی چاہئے کہ جامعۃ المدینہ کے بعد بھی اسباق کی تیاری اور مطالعۂ کتب کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت مُقرّر کریں، معاشی حالات کی بہت زیادہ پریشانی نہ ہو تو آمدنی کے لئے کوئی کام وغیرہ ہرگز نہ کریں صرف اپنی پڑھائی پر دھیان دیں، بلکہ اگر ممکن ہو تو جامعۃ المدینہ میں ہی رہائش اختیار کریں۔

٭علمی بنیاد مضبوط رکھنے کیلئے  اسباق کی تکرار اَزحد ضروری ہے، لہٰذا بعدِ نمازِ ظہر و عشا تعلیمی حلقوں میں لازمی شرکت کریں اور اسباق کی تکرار کریں، اگر آپ کو لگتاہے کہ سبق مکمل سمجھ آگیا ہے تو بھی مسلمان بھائیوں کی خیرخواہی کی نیّت سے دیگر طلبہ کے ساتھ اسباق کے تکرار کا حصّہ بنیں کہ آپ کو یاد ہے تو دوسروں کوبھی یاد ہوجائے۔

٭دعوتِ اسلامی کے مدنی کام آخرت کی بھلائی کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کو سنوارنے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد عملی زندگی(Practical life) میں کامیاب رہنے کا بہترین ذریعہ ہیں، لہٰذا دورانِ طالبِ علمی ہی سے مدنی کاموں کا جذبہ جوان رکھیں اور سُستی نہ آنے دیں، اِنْ شَآءَ اللہ مدنی کاموں کی برکت سے پڑھائی میں بھی بہتری آئے گی۔

٭جیسے جیسے طالبِ علم علمی میدان میں آگے بڑھتا ہے  ویسے ویسے اس کا ذہن کُھلتا ہے اور اس کی سوچ میں پختگی آتی جاتی ہے۔ ایسے موقع پر گروپ بندی یا  انتظامی معاملات  پر نکتہ چینی  کرنے سے بچنا بہت ضروری ہے،  کیونکہ ایسے لوگ عملی زندگی میں مشکل سے ہی کامیاب ہوتےہیں۔

٭بڑی عمر کے طالبِ علم کو چاہئے کہ اپنی عمر کے طلبہ کے ساتھ ہی دوستانہ ماحول رکھے، بہت چھوٹے یا کم عمر  طلبہ اپنی کلا س کے ہوں یا چھوٹی کلاسوں کے، ان سے دور ہی رہے۔(اَلْعَاقِلُ تَکْفِیْہِ الْاِشَارَۃ)

٭جامعۃ المدینہ کی پڑھائی کو دُنیوی تعلیم کی طرح ہرگز نہ سمجھنا چاہئے کہ جو پڑھ لیا دوبارہ اسے نہیں پڑھنا، بلکہ کوشش کرنی چاہئے کہ گزشتہ سالوں کی کتابیں بھی کچھ نہ کچھ مطالعہ و تکرار کا حصہ رہیں، اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ پچھلے درجات کے ایک دو طلبہ کو کوئی نصابی  کتاب پڑھانا شروع کردیں  ۔ 

٭غیر نصابی مطالعہ میں کوئی ایک کتا ب تصوف کی ضرور رکھے تاکہ ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن کی بھی صفائی ہوتی رہے۔ اس کیلئے مکتبۃ المدینہ کی چَھپی ہوئی کتابیں احیاء العلوم، لباب الاحیاء، منہاج العابدین،غیبت کی تباہ کاریاں،فیضانِ سنّت،باطنی بیماریوں کی معلومات اور امیرِ اہلِ سنّت علامہ محمدالیاس قادری مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی کے مختلف موضوعات پر رسائل  کا مطالعہ بہت مفید ہے۔

٭یہ بھی یاد رکھئے! کہ ہر کوئی ہر فن کے حوالے سے مشورہ و رہنمائی نہیں دے سکتا، اس لئےہر فن اور عِلم کے مطالعہ کے حوالے سے  اس علم کے ماہر(Expert) استاد صاحب سے مشورہ کیجئے  اور کچھ نہ کچھ غیرنصابی مطالعہ  لازمی کرنا چاہئے۔

٭بعض اوقات مالی (Financially)، جسمانی(Physically)، گھریلو یا ذہنی مشکلات و پریشانیاں بھی آتی  ہیں، اپنے معاملات کو ہر کسی کے سامنے  نہ بیان کریں ۔ ضرورتاً کسی استاد صاحب  سے ذکر کرکے ان کا مناسب حل تلاش  کرنے کی کوشش کیجئے۔

٭انسانی زندگی میں نشیب و فراز (اُتارچڑھاؤ) آتے رہتے ہیں، پریشانی، بیماری اور ضروریاتِ زندگی کے معامَلات ہر کسی کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن طبیعت کی ہلکی پھلکی ناسازی اور ایسے کام جو کوئی دوسرا بھی کر سکتا ہے ان کی وجہ سے چُھٹّی کرلینا یا درس گاہ دیر سے پہنچنا مُناسب نہیں، ایک اچّھے طالبِ علم کو یاد رکھنا چاہئے کہ چھٹّی کیا ذرا سی تاخیر بھی اس کے مستقبل کو متأثر کرسکتی ہے۔

طالبِ علم اور ادب

پیارے طلبۂ کرام! علم اور ادب کا بہت بڑا ساتھ ہے، یوں سمجھئے کہ جہاں ادب نہیں وہاں علم کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایک طالب علم کو استاد، کتاب اور مادرِ علمی یعنی  تعلیمی ادارے کا ادب ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے، بعض دفعہ بڑے بڑے ذہین و فطین طلبہ بھی  سوءِ ادب(بے ادبی) کی وجہ سے محروم اور علم سے دور ہو کر رہ جاتے ہیں۔

استاد کا ادب

٭استاد کا ادب کتنا ضروری ہے اس کی اہمیت جاننے اور سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ استاد وہ محسن ہے جو  طالبِ علم کو جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے، رہنے کا ڈھنگ بتاتا ہے  اور اخلاقی برائیوں کو دور کرکے اسے معاشرے کا ایک مثالی فرد بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دینِ اسلام میں استاد کے ادب کو بہت اہمیت دی گئی ہے حتّٰی کہ استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا ہے، لہٰذا طالبِ علم کو  چاہئے  کہ اسے اپنے حق میں حقیقی باپ سے بڑھ کر مخلص جانے۔تفسیرِ کبیر میں ہے:”استاد اپنے شاگرد کے حق میں ماں باپ سے بڑھ کر شفیق ہوتا ہے کیونکہ والدین اسے دنیا کی آگ اور مصائب سے بچاتے ہیں جبکہ اساتذہ اسے نارِ دوزخ اور مصائبِ آخرت سے بچاتے ہیں۔“ (تفسیرِ کبیر،پ1،البقرۃ، تحت الآیۃ:31، جزء:2،ج 1،ص401)

علم سیکھنے میں مددگار چیزوں  کا ادب

٭کتاب،قلم اور دیگر آلاتِ علم کو روزمرّہ استعمال کی عام چیزیں  نہ سمجھا جائے کہ جدھر چاہارکھ دیا، جدھر دیکھا پھینک دیا۔ علم کا فیض پانے کے لئے ضروری ہے کہ  کتابوں ، قلم اور کاپیوں وغیرہ  کی تعظیم کریں۔  مطالعہ کرتے وقت نیز بعد میں رکھتے وقت ان کا تقدس برقرار رکھیں، مختلف موضوعات کی کتابیں اُوپر نیچے رکھنی ہوں تو ترتیب یوں ہونی چاہئے کہ   سب سے اُوپر قراٰنِ پاک،  اس کے نیچے تفسیر ، پھرحدیث ، پھر فقہ ، پھر دیگر کتابیں۔ کتاب کے اوپر بلاضرورت کوئی دوسری چیز نہ  رکھئے۔

٭جن  کتب کو بغیر وضو چُھونے کی اجازت ہے کوشش کرنی چاہئے کہ انہیں بھی باوضو ہی پڑھیں حضرت سیّدنا امام حلوانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے علم کے خزانوں کو تعظيم و تکريم کے سبب حاصل کيا وہ اس طرح کہ ميں نے کبھی بھی بغيروضو کاغذ کو ہاتھ نہيں لگايا۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم ،ص 48)

17 بار وضو کیا: شمس الائمہ امام سرخسی رحمۃ اللہ  علیہکا معمول تھا کہ ہمیشہ باوضو ہی کتابوں کی تکرار ،بحث و مباحثہ اور مطالعہ کيا کرتے تھے۔  ایک مرتبہ آپ کا پیٹ خراب ہوگيا۔ اس رات پيٹ خراب ہونے کی وجہ سے آپ کو17 بار وضو کرنا پڑا۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم،ص48)

تعلیمی ادارے کا ادب

٭تعلیمی ادارہ مادرِ علمی (یعنی علم سکھانے والی ماں) کی حیثیت رکھتاہے۔ اس کے حقوق بھی طالبِ علم پر لازم ہیں چنانچہ اس کی عمارت و اشیاء کی حفاظت کرنا، انتظامیہ سے تعاون کرنا اور  اصول و ضوابط  کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ بعض طلبہ ناظمینِ کرام سے بلاوجہ اُلجھتے یا اصول و قواعد کو قید و بند سمجھتے ہیں حالانکہ اگر انہیں کسی کام یا جگہ کی ذمہ داری دے دی جائے تو وہ بھی اسی طرح اصول و ضوابط کی پابندی کرنے کا ذہن دیں گے۔ بلاوجہ لائٹس جلانا ، پنکھےچلانااور پانی کا نَل کھلا  چھوڑدینا یا دیکھ کر بھی انہیں بند نہ کرنا، دروازے  کھڑکیوں کو زور سے کھولنا اور بند کرنا، بےاحتیاطی سے چیزیں اچھالنا کہ لائٹ وغیرہ ٹوٹ جائے،  ڈیسک اور کرسیوں وغیرہ پر کچھ لکھنا یا خراب کرنا وغیرہ یہ سب تعلیمی ادارے کے ادب کے خلاف ہے۔

طالبِ علم کو ایک کامیاب طالبِ علم بننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی کتب ”کامیاب طالب علم کون“، ”امتحان کی تیاری کیسے کریں  اور ”راہِ علم“  کا مطالعہ بہت مفید ہے، آج ہی یہ کتب دعوتِ اسلامی کے  مکتبۃ المدینہ سے ھدیۃً حاصل کیجئے یا دعوت اسلامی کی ویب سائٹ www.dawateislami.net سے مفت ڈاؤنلوڈ کیجئے۔

ذوالحجۃ الحرام کے چند اہم واقعات

٭ذوالحجۃ الحرام8ہجری میں نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سب سے آخری فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے۔

٭ذوالحجۃ الحرام10ہجری میں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حج ادا فرمایا جسے حجۃُ الوداع کہا جاتا ہے۔

٭ذوالحجۃالحرام35ہجری  کی 18 تاریخ  کو باغیوں نے خلیفۂ سِوُم، امیرُالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔

٭ذوالحجۃ الحرام114ہجری  کی  7 تاریخ کو حضرت سیّدُنا امام محمد باقر رحمۃ اللہ علیہ کا وِصال ہوا۔

٭ذوالحجۃالحرام1296ہجری  کی 18 تاریخ کو مرشدِ اعلیٰ حضرت، حضرت شاہ آلِ رسول مارہروی رحمۃ اللہ علیہ نے وِصال فرمایا۔

٭ذوالحجۃ الحرام1367ہجری کی 18 تاریخ کو خلیفۂ اعلیٰ حضرت،  حضرت علّامہ مولانا سیّد محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کا وِصال ہوا۔

٭ذوالحجۃ الحرام1401ہجری کی 4 تاریخ  کو خلیفۂ اعلیٰ حضرت، قطبِ مدینہ حضرت علّامہ مولانا ضیاءُ الدّین احمد مدنی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے وِصال فرمایا۔

٭ذوالحجۃ الحرام1370ہجری کی 14 تاریخ  کو شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے والدِ محترم حاجی عبدالرحمٰن قادری رحمۃ اللہ علیہ کا وِصال ہوا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ناظم ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی



1۔۔۔ استادکی بنیادی ذِمّہ داریاں کیا ہیں اور طلبہ کی تربیَت میں ان کا کردار کیا ہونا چاہئے؟ اس کے لئے ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ (جمادی الاولیٰ 1440ھ تا شعبان المعظّم 1440ھ) کا سلسلہ ”کیسا ہونا چاہئے!“ پڑھئے، ایک کامیاب  طالبِ علم کی چند  ذمّہ داریوں کا بیان  گزشتہ دو شماروں (”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“شوال المکرم، ذوالقعدۃ الحرام1440ھ ) میں”تعلیمی سال کا آغاز“ کے عنوان کے  تحت ہوا ہے۔”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“کے تمام شمارے دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ  www.dawateislami.net پر موجود ہیں۔

Share

Articles

Comments


Security Code