- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پاس تھا کہ ناگاہ بنی تمیم کی ایک قوم حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی حضور نے فرمایا بشارت قبول کرو اے بنی تمیم۲؎وہ بولے آپ نے ہمیں بشارتیں تو دے دیں ہم کو تو کچھ دیجئے۳؎پھر یمن کے کچھ لوگ آئے حضور نے فرمایا جب بنو تمیم بشارت قبول نہیں کرتے تو تم بشارت قبول کرو۴؎وہ بولے ہم قبول کرتے ہیں ہم آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ دینی علم سیکھیں اور آپ سے اس چیز کی ابتداء پوچھیں کہ کیا چیز تھی ۵؎فرمایا الله تھا اور اس سے پہلے کچھ نہ تھا اس کا عرش پانی پر تھا ۶؎پھر اس نے آسمان و زمین پیدا کیے اور لوح محفوظ میں ہر چیز لکھی۷؎پھر میرے پاس ایک شخص آیا بولا اے عمران اپنی اونٹنی پکڑو وہ بھاگ گئی۸؎تو میں اسے ڈھونڈنے چلا گیا اور الله کی قسم میری تمنا ہے کہ وہ چلی گئی ہوتی اور میں وہاں سے نہ اٹھتا ۹؎(بخاری)
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- إِذْ جَاءَهُ قومٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ: "اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ! قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، فَدَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ: "اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ! إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمِ". قَالُوا: قَبِلْنَا، جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ، وَلِنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الأَمْرِ مَا كَانَ؛ قَالَ: "كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ"، ثُمَّ أَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ: يَا عِمْرَانُ! أَدْرِكْ ناقَتَكَ فَقَدْ ذَهَبَتْ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا، وَأَيْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا قَدْ ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5698 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت عمر رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں ہم میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم ایک جگہ کھڑے ہوئے تو ہم کو ابتداء خلق کے متعلق خبر دی حتی کہ جنتی جنت میں اپنے گھروں میں داخل ہوگئے اور دوزخی اپنے گھروں میں ۱∞؎جس نے یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا۲؎(بخاری)
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- مَقَامًا، فَأَخْبَرَنَا عَنْ بَدْءِ الْخَلْقِ حَتَّى دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنَازِلَهُمْ، وَأَهْلُ النَّارِ مَنَازِلَهُمْ، حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5699 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ الله تعالٰی نے مخلوق کی پیدائش سے پہلے ایک تحریر لکھی ۱∞؎کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۲؎تو وہ اس کے پاس عرش کے اوپر لکھی ہوئی ہے۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ: إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي، فَهُوَ مَكْتُوبٌ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5700 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ۱∞؎اور جنات خالص آگ سے پیدا کیے گئے۲؎اور آدم اس سے پیدا کیے گئے جو تم سے بیان کیا گیا۳؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللَّه عليه وسلم قَالَ: "خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نورٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5701 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت انس رضی الله عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب الله تعالٰی نے حضرت آدم کی جنت میں صورت بنائی ۱∞؎تو جب تک چھوڑے رکھنا چاہا انہیں چھوڑے رکھا، ابلیس ان کے آس پاس گردش کرنے لگا دیکھتا تھا کہ یہ کیا چیزہے تو جب انہیں خالی پیٹ دیکھا تو سمجھ گیا کہ وہ ایسی خلقت سے پیدا کیے گئے جو اپنے قابو میں نہ ہوں گے۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَمَّا صَوَّرَ اللَّهُ آدَمَ فِي الْجَنَّةِ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ، فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ يَنْظُرُ مَا هُوَ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ خَلْقًا لَا يَتَمَالَكُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5702 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے الله کے نبی حضرت ابراہیم نے اسّی سال کی عمر میں اپنا ختنہ کیا ۱∞؎تیشہ سے۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5703 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہ کہا سواء تین جھوٹ کے ۱∞؎ان میں سے دو الله کی ذات میں تھے کہ میں بیمار ہو ں۲؎اور آپ کا فرمان کہ بلکہ یہ کام ان کے اس بڑے نے کیا۳؎فرمایا کہ ایک دن آپ اور جناب سارہ ہجرت میں تھے کہ آپ ظالمین میں سے ایک ظالم پر گزرے۴؎اسے خبر دی گئی کہ یہاں ایک شخص ہے جس کے ساتھ ایک عورت ہے لوگوں میں سے حسین ترین اس نے آپ کو بلوایا اور سارہ کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہیں آپ نے فرمایا میری بہن ہیں۵؎پھر آپ سارہ کے پاس آئے ان سے فرمایا کہ یہ ظالم اگر جان لے گا کہ تم میری بیوی ہو تو یہ تمہارے متعلق مجھ پر غلبہ کرلے گا۶؎اگر وہ تم سے پوچھے تو اسے بتانا کہ تم میری بہن ہو کیونکہ تم میری اسلامی بہن ہو،روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مؤمن نہیں ہے۷؎پھر اس نے سارہ کو بلوایا آپ کو وہاں پہنچایا گیا جناب ابراہیم کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے جب آپ اس کے پاس گئیں وہ اپنے ہاتھ سے آپ کو پکڑنے لگا۸؎وہ خود پکڑا گیا،روایت میں ہے کہ وہ خراٹے لینے لگا حتی کہ اس کے پاؤں رگڑگئے،بولا الله سے دعا کردیں تم کو نقصان نہ دوں گا،سارہ نے الله سے دعا کی وہ چھوڑ دیا گیا،پھر دوبارہ پکڑنا چاہا اسی طرح پکڑا گیا اور زیادہ سخت ۹؎بولا میرے لیے الله سے دعا کریں تم کو تکلیف نہ دوں گا۱۰؎تو الله سے دعا کی وہ کھول دیا گیا ۱۱∞؎پھر اس نےجناب سارہ کو دوبارہ پکڑنا چاہا تو اس طرح اور بہت سخت پکڑا گیا بولا الله سے میرے لیے دعا کردیں تم کو تکلیف نہ دوں گا سارہ نے الله سے دعا کی وہ کھول دیا گیا ۱۲؎پھر اس نے اپنے بعض دیوڑھی باتوں کو بلایا تم میرے پاس انسان نہیں لائے جناتنی لائے ہو۱۳؎چنانچہ انہیں بی بی ہاجرہ خادمہ دیں۱۴؎آپ حضرت ابراہیم کے پاس آئیں آپ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ کیا گزری،بولیں الله نے کافر کا مکر اس کے گلے میں لوٹا دیا اور ہاجرہ خادمہ عطا فرمائی۱۵؎ابوہریرہ نے فرمایا کہ آسمان کے پانی کے بچو یہ تمہاری ماں ہیں۱۶؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ: ثِنْتَيْنِ مِنْهُنَّ فِي ذَاتِ اللَّهِ قَوْلُهُ: {إِنِّي سَقِيمٌ} [الصافات: 89] ، وقولُهُ: {قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} [الأنبياء: 63] وَقَالَ: "بَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَارَةُ، إِذْ أَتَى عَلَى جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَقِيلَ لَهُ: إِن هَاهُنَا رَجُلًا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيهِ، فَسَأَلَهُ عَنْهَا: مَنْ هَذِهِ؟ قَالَ: أُخْتِي، فَأَتَى سَارَةَ فَقَالَ لَهَا: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ إِنْ يَعْلَمْ أَنَّكِ امْرَأَتِي يَغْلِبُنِي عَلَيْكِ، فَإِنْ سَأَلَكِ فَأَخْبِرِيْهِ أَنَّكِ أُخْتِي، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي الإِسْلَامِ، لَيْسَ عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَأُتِيَ بِهَا،قَامَ إِبْرَاهِيمُ يُصَلِّي، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ، ذَهَبَ يَتَنَاوَلُهَا بِيَدِهِ. فَأُخِذَ -وَيُرْوَى فَغُطَّ- حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُطْلِقَ، ثُمَّ تَنَاوَلَهَا الثَّانِيَةَ، فَأُخِذَ مِثْلَهَا أَوْ أَشَدَّ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُطْلِقَ، فَدَعَا بَعْضَ حَجَبَتِهِ فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، فَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ فَأَتَتْهُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّيْ، فَأَوْمأَ بِيَدِهِ؛ مَهْيَمْ؟ قَالَتْ: رَدَّ اللَّهُ كيْدَ الْكَافِرِ فِي نَحْرِهِ، وَأَخْدَمَ هَاجَرَ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ! . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5704 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ہم حضرت ابراہیم سے زیادہ حق دار ہیں شک کرنے کے جب کہ انہوں نے عرض کیا یارب مجھے دکھادے کہ تو مردے کیسے زندہ کرے گا ۱∞؎اور الله لوط پر رحم کرے وہ تو بڑے مضبوط پائے کی طرف پناہ لیے ہوئے۲؎اور اگر میں اتنی دراز مدت ٹھہرتا جتنا یوسف علیہ السلام ٹھہرے تو بلانے والے کی بات قبول کر لیتا۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ: {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى} وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5705 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ موسیٰ علیہ السلام بہت شرمیلے پردہ دار تھے ۱∞؎ان کی ظاہری کھال کا کوئی حصہ دیکھا نہ جاتا تھا شرم کی وجہ سے تو انہیں بنی اسرائیل میں سے جس نے ایذاء پہنچائی اس نے پہنچائی بولے اس قدر پردہ کسی کھال کے عیب کی وجہ سے ہی ہے یا برص ہے یا خصیوں کا ورم۲؎الله نے چاہا کہ ان کو بری کرے۳؎تو ایک دن وہ اکیلے تنہائی میں گئے تاکہ غسل کریں اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیئے پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ اٹھا۴؎موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے یہ کہتے دوڑے اے پتھر میرے کپڑے،اے پتھرمیرے کپڑے۵؎حتی کہ اسرائیلیوں کی ایک جماعت تک پہنچ گئے انہوں نے آپ کو برہنہ دیکھا ۶؎کہ آپ الله کی مخلوق میں سب سے بہتر ہیں،وہ بولے الله کی قسم موسیٰ علیہ السلام میں کوئی خرابی نہیں۷؎اپنے کپڑے لیے اور پتھر کو مارنے لگے،رب کی قسم آپ کے مارنے سے پتھر میں تین چار یا پانچ نشانات ہیں۸؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ مُوسَى كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سِتِّيرًا، لَا يُرَى مِنْ جِلْدِهِ شَيْءٌ اسْتِحْيَاءً، فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالُوا: مَا تَسَتَّرَ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلَّا مِنْ عَيْبٍ بجِلْدِهِ؛ إِمَّا بَرَصٌ أَوْ أُدْرَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ،فَخَلَا يَوْمًا وَحْدَهُ لِيَغْتَسِلَ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَجَمَحَ مُوسَى فِي إِثْرِهِ يَقُولُ: ثَوْبِي يَا حَجَرُ! ثَوْبِي يَا حَجَرُ! حَتَّى انْتُهَى إِلَى مَلأٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا أَحْسَنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ، وَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، وَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا، فَوَاللَّهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ ضَرْبِهِ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبعًا أَوْ خَمْسًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5706 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب کہ ایوب علیہ السلام برہنہ غسل کر رہے تھے ۱∞؎کہ آپ پر سونے کی ٹڈیاں گریں۲؎آپ اپنے کپڑے میں انہیں سمیٹنے لگے۳؎انہیں ان کے رب نے ندا فرمائی کہ اے ایوب کیا میں نے تم کو تمہیں اس دیکھی چیز سے بے نیاز نہیں کردیا ہے۴؎عرض کیا ہاں تیری عزت کی قسم لیکن مجھے تیری برکت سے بے نیازی نہیں۵؎(بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "بَيْنَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا، فَخَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ: يا أَيُّوبُ! أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُك عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلى وَعِزَّتِكَ، وَلَكِن لَا غِنَى بِي عَنْ بَرْكَتِكَ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5707 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی آپس میں جھگڑ پڑے مسلمان بولا اس کی قسم جس نے محمد صلی الله علیہ و سلم کو تمام جہان پر چن لیا تو یہودی بولا اس کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے جہانوں پر چن لیا ۱∞؎اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر یہودی کے منہ پر طمانچہ مار دیا یہودی نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا اور مسلمان کا جو واقعہ ہوا تھا حضورصلی الله علیہ و سلم کو اس کی خبر دی۲؎نبی صلی الله علیہ و سلم نے مسلمان کو بلایا اور اس کے متعلق اس سے پوچھا اور اس نے حضور کو یہ خبر دی۳؎تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو۴؎کیونکہ قیامت کے دن لوگ بے ہوش ہوں گے میں بھی ان کے ساتھ بے ہوش ہوں گا۵؎تو سب سے پہلے ہوش میں آنے والا میں ہوں گا،اچانک موسیٰ علیہ السلام عرش کا کنارہ پکڑے ہوں گے۶؎میں نہیں جانتا کہ کیا وہ بے ہوش ہونے والوں میں تھے مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا ان میں سے ہیں جنہیں الله نے مستثنٰی فرمایا۷؎اور ایک روایت میں ہے میں نہیں جانتاکہ کیا طور کی بے ہوشی حساب میں لگائی گئی۸؎یا وہ مجھ سے پہلے اٹھائے گئے اور میں نہیں کہتا کہ کوئی بھی یونس ابن متی علیہ السلام سے افضل ہے ۹؎
وَعَنْهُ قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ. فَقَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ. فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ. فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم-، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ، فَدَعَا النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- الْمُسْلِمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَصْعَقُ مَعَهُمْ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي كَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي،أَوْ كَانَ فِيمَنِ اسْثَثْنَى اللَّهُ". وَفِي رِوَايَةٍ: "فَلَا أَدْرِي أَحُوسِبَ بِصَعْقَةِ يَوْمِ الطُّورِ أَوْ بُعِثَ قَبْلِي؟ وَلَا أَقُولُ: إنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بنِ مَتَّى".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5708 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
اور حضرت ابوسعید کی روایت میں فرمایا انبیاءکرام میں بزرگی نہ دو (مسلم،بخاری)اور حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت میں ہے کہ الله تعالٰی کے نبیوں میں بزرگی نہ دو ۱۰؎
وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: "لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي هُرَيْرَة: "لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5709 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کسی بندے کو لائق نہیں کہ کہے کہ میں یونس ابن متی سے افضل ہوں ۱∞؎(مسلم،بخاری)اور بخاری کی روایت میں ہے کہ فرمایا جو کہے کہ میں یونس ابن متی علیہ السلام سے افضل ہوں وہ جھوٹ بولا۲؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. [خ: 3416، م: 2376].
وَفِي رِوَايَةِ البُخَارِيِّ قَالَ: "من قَالَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5710 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ وہ لڑکا جسے خضر علیہ السلام نے قتل کیا ۱∞؎وہ کافر پیدا ہوا تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر سے سرکش کردیتا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قتلَهُ الْخَضِرُ طُبعَ كَافِرًا، وَلَوْ عَاشَ لأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5711 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا خضر اس لیے نام رکھا گیا کہ آپ سفیدہ زمین پر بیٹھے ۱∞؎تو اچانک وہ آپ کے پیچھے سے سبزہ سے حرکت کر رہی ہے۲؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّمَا سُمِّيَ الْخَضِرُ لأَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَإِذَا هِيَ تَهْتَزُّ مِنْ خَلْفِه خَضْرَاءَ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5712 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ حضرت ملک الموت موسیٰ ابن عمران علیہ السلام کے پاس آئے ان سے کہا کہ اپنے رب کا بلاوا قبول کیجئے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے ملک الموت کی آنکھ پر طمانچہ مار دیا۲؎اسے نابینا کردیا۳؎فرماتے ہیں کہ پھر وہ فرشتہ رب تعالٰی کی طرف واپس ہوا۴؎عرض کیا کہ تو نے مجھے اپنے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۵؎اور اس نے میری آنکھ بے کار کردی،فرماتے ہیں الله نے ان کی آنکھ انہیں لوٹا دی اور فرمایا میرے بندے کی طرف لوٹو ۶؎ان سے کہو کہ آپ زندگی چاہتے ہیں؟ اگر زندگی چاہتے ہوں تو اپنا ہاتھ بیل کی کھال پر رکھیئے آپ کا ہاتھ جتنے بالوں کو ڈھکے گا آپ ہر بال کے عوض ایک سال جئیں گے۷؎عرض کیا پھر کیا فرمایا پھر آپ وفات پائیں گے ۸؎عرض کیا تو ابھی قریب ہی ہیں۹؎اے میرے رب مجھے مقدس زمین سے ایک پتھر کی پھینک کے قریب گرا دیجئے ۱۰؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا الله کی قسم اگر میں اس کے پاس ہوتا تو تم کو ان کی قبر شریف راستہ کے کنارہ سرخ ٹیلہ کے پاس دکھاتا ۱۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ فَقَالَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ". قَالَ: "فَلَطَمَ مُوسَى عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا" قَالَ: "فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ فَقَالَ: إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي". قَالَ: "فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ: الْحَيَاةَ تُرِيدُ؟ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَمَا تَوَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعْرَةٍ فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً، قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: ثُمَّ تَمُوتُ. قَالَ: فَالآنَ مِنْ قَرِيبٍ، رَبِّ أَدْنِنِي مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "وَاللَّهِ لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَنْبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5713 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا مجھے انبیاءکرام پیش کیے گئے ۱∞؎تو موسیٰ علیہ السلام مردوں میں درمیانہ قد ہیں گویا کہ وہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہیں۲؎اور میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو دیکھا تو جن کو ہم نے دیکھا ہے ان میں قریب ترین مشابہت والے عروہ ابن مسعود ہیں۳؎اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو جنہیں میں نے دیکھا ہے ان میں قریب ترین مشابہت والے تمہارے یہ صاحب ہیں یعنی حضور کی ذات شریف۴؎اور میں نے جبرئیل کو دیکھا تو جسے میں نے دیکھا ان میں قریب ترین مشابہت والا دحیہ ابن خلیفہ ہیں۵؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "عُرِضَ عَلَيَّ الأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، ورأيتُ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَن رأيتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ -يَعْنِي نَفْسَهُ-، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5714 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں میں نے اس رات جس میں مجھے سیرکرائی گئی موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا گندمی رنگ والے دراز قد گھونگر والے بال گویا وہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہیں ۱∞؎اور میں نے حضرت عیسیٰ کو دیکھا درمیانہ قد سرخی سفیدی کی طرف مائل سیدھے بال والے۲؎میں نے آگ کے خزانچی مالک کودیکھا اور دجال کو دیکھا۳؎ان نشانیوں میں جو الله نے حضور کو دکھائیں۴؎تو آپ کو ان کی ملاقات میں شک میں نہ ہو۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى رَجُلًا مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، سَبْطَ الرَّأْسِ، وَرَأَيْتُ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ، وَالدَّجَّالَ فِي آيَاتٍ أَرَاهُنَّ اللَّهُ إِيَّاهُ، فَلَا تَكُنْ فِي مِزيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5715 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ملا میں معراج کی رات حضرت موسیٰ سے۱∞؎حضور نے ان کا حلیہ بیان کیا کہ وہ درمیانہ قد آدمی ہیں سیدھے بال والے ۲؎گویا کہ وہ شنوء ہ کے آدمیوں میں سے ہیں اور میں حضرت عیسی علیہ السلام سے ملا درمیانہ قد سرخ رنگ گویا حمام سے نکلے ہیں اور میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا ان کی اولاد میں اس سے زیادہ مشابہ میں ہوں،فرماتے ہیں میرے پاس دو برتن لائے گئے جن میں سے ایک میں دودھ تھا دوسرے میں شراب تھی۳؎مجھ سے کہا گیا ان میں سے جو آپ چاہیں لیں۴؎تو میں نے دودھ اختیار کیا اسے پی لیا تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ کو فطرت کی ہدایت دی گئی۵؎اگر شراب اختیار کرتے تو آپ کی اُمت گمراہ ہوجاتی۶؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَقِيتُ مُوسَى -فَنَعَتَهُ-: فَإِذَا رَجُلٌ مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الشَّعْرِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَلَقِيتُ عِيسَى رَبْعَةً أَحْمَرَ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ -يَعْنِي الْحَمَّامَ-، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ" قَالَ: "فَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ" أَحَدُهُمَا لَبَنٌ وَالآخَرُ فِيهِ خَمْرٌ. فَقِيلَ لِي: خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ. فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ، فَقِيلَ لِي: هُدِيتَ الْفِطْرَةَ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5716 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان چلے تو ایک جنگل پرگزرے تو آپ نے فرمایا یہ کون جنگل ہے لوگوں نے کہا ارزق جنگل ۱∞؎فرمایا گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں پھر آپ نے ان کا رنگ ان کے بال کاکچھ ذکر فرمایا۲؎آپ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دیئے ہوئے بھی آپ کو الله سے قرب ہے۳؎تلبیہ میں مشغول ہیں اس جنگل میں گزر رہے ہیں۴؎فرماتے ہیں کہ پھر ہم کچھ اور چلے حتی کہ ہم ایک گھاٹی پر پہنچے تو فرمایا یہ کوئی گھاٹی ہے لوگوں نے کہا ہرشی ہے یا کفت ۵؎تو فرمایا گویا میں یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں ۶؎جو سرخ اونٹنی پر ہیں آپ پر اونی جبہ ہے آپ کے ناقہ کی مہارکھجور کی کھال کی ہے اسی جنگل میں تلبیہ کہتے گزر رہے ہیں۷؎(مسلم)
وَعَنِ ابْنِ عبَّاسٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَمَرَرْنَا بِوَادٍ، فَقَالَ: "أَيُّ وَادٍ هَذَا؟ ". فَقَالُوا: وَادِي الأَزْرَقِ، قَالَ: "كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى"، فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَشَعْرِهِ شَيْئًا: "وَاضِعًا أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي". قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ. فَقَالَ: "أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟ " قَالُوا: هَرْشَى -أَوْ لِفْتٌ-. فَقَالَ: "كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ، عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ، خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5717 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر