- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام پر قرآن آسان کیا گیا ۱∞؎تو آپ اپنے گھوڑے کا حکم دیتے تھے اس کی زین لگائی جاتی تھی تو آپ گھوڑے کے زین لگائے جانے سے پہلے قرآن پڑھ لیتے تھے ۲؎اور نہ کھاتے تھے مگر اپنے ہاتھ کے کام سے۳؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ الْقُرْآنُ، فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَوَابِّهِ فَتُسْرَجُ، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَوَابُّهُ، وَلَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ يَدَيهِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5718 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے انہی سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی ہیں فرمایا دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے بچے تھےبھیڑیا آیا ایک کا بچہ لے گیا ۱∞؎اس کی ساتھن بولی کہ بھیڑیا تیرا بچہ لے گیا ہے اور دوسری نے کہا کہ تیرا بچہ لے گیا ہے ۲؎چنانچہ وہ دونوں داؤد علیہ السلام کے پاس فیصلہ لے گئیں آپ نے بڑی کے حق اس کا فیصلہ کردیا۳؎وہ دونوں حضرت سلیمان ابن داؤد کے پاس گئیں انہیں یہ خبر دی۴؎آپ نے فرمایا چھری لاؤ میں تم دونوں کے درمیان بچے کے دو ٹکڑے تقسیم کردوں۵؎تو چھوٹی بولی الله آپ پر رحمت کرے یہ نہ کریں یہ اس بڑی کا بچہ ہے۶؎تب آپ نے چھوٹی کے حق میں اس کا فیصلہ کر دیا۷؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا، جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ صَاحِبَتُهَا: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، وَقَالَتِ الأُخْرَى: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا. فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَفْعَلْ، يَرْحَمُكَ اللَّهُ، هُوَ ابْنُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5719 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی الله علیہ و سلم نے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ میں آج رات نوے بیویوں پر چکر لگاؤں گا،ایک روایت میں ہے کہ سو بیویوں پر ۱∞؎وہ تمام ایک سوار جنیں گی جو الله کی راہ میں جہاد کرے گا۲؎ان سے فرشتے نے کہاان شاءاللهکہہ لیجئے مگر وہ نہ کہہ سکے بھول گئے۳؎چنانچہ آپ نے ان سب پر چکر لگایا۴؎تو ان میں سے کوئی حاملہ نہ ہوئی سواء ایک عورت کے جو آدمی کی ایک کروٹ لائی اس کی قسم جس کے قبضہ میں حضور محمد کی جان ہے اگر وہان شاءاﷲکہہ لیتے تو وہ سب الله کی راہ میں سوار ہوکر جہاد کرتے۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "قَالَ سُلَيْمَانُ: لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً -وَفِي رِوَايَةٍ: بِمِئَةِ امْرَأَةٍ- كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَلَمْ يَقُلْ وَنَسِيَ، فَطَافَ عَلَيْهِنَّ، فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ، وَأَيْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5720 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ زکریا علیہ السلام بڑھئی کا کام کیا کرتے تھے ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "كَانَ زَكَرِيَّاءُ نَجَّارًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5721 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں عیسیٰ ابن مریم سے دنیا و آخرت میں قریب تر ہوں ۱∞؎حضرات انبیاء علاتی بھائی ہیں جن کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے۲؎ہم دونوں کے درمیان کوئی نبی نہیں۳؎(مسلم، بخاری)
(وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ فِي الأُولَى وَالآخِرَةِ، الأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، وَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ..
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5722 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر انسان کی کروٹوں میں شیطان اپنی انگلیاں مارتا ہے جب وہ پیدا ہوتا ہے ۱∞؎سواء عیسیٰ ابن مریم کے۲؎کہ وہ انگلی مارنے لگا تو اس کی انگلی پردہ میں لگی۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "كُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعَنُ الشَّيْطَانُ فِي جَنْبَيْهِ بِإِصْبُعَيْهِ حِينَ يُوَلَدُ، غَيْرَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَهَبَ يَطْعَنُ فَطَعَنَ فِي الْحِجَابِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5723 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے کہ وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی ہیں فرمایا مردوں میں تو بہت کامل ہوئے عورتوں میں سواءمریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے کوئی کاملہ نہ ہوئیں ۱∞؎اور جناب عائشہ رضی الله عنہا کی بزرگی ساری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی بزرگی تمام کھانوں پر۲؎(مسلم،بخاری)اور انس رضی الله عنہ کی حدیث کہیاخیر البریۃاور ابوہریرہ کی حدیثای الناس اکرماور حضرت ابن عمر کی حدیثکریم ابن کریم،مفاخرہاورعصبیہکے باب میں ذکر کردی گئیں۳؎
وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَذُكِرَ حَدِيثُ أَنَسٍ: "يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ"وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ: "أَيُّ النَّاسِ أَكَرَمُ"، وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ: "الْكَرِيْمُ بْنُ الْكَرِيمِ" فِي (بَابِ الْمُفَاخَرَةِ وَالْعَصَبِيَّةِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5724 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت ابن رزین سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله اپنی مخلوق پیدا فرمانے سے پہلے ہمارا رب کہاں تھا فرمایا ہلکے بادل میں تھا ۲؎نہ اس کے نیچے ہوائیں نہ اس کے اوپر ہوا اور اپنا عرش پانی پر پیدا فرمایا۳؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یزید ابن ہارون نے کہا ہلکے بادل سے مراد ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی۴؎
عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيْن كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟ قَالَ: "كَانَ فِي عَمَاءٍ، مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ، وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ، وَخَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: الْعَمَاءُ: أَيْ لَيْسَ مَعَه شَيْءٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5725 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت عباس ابن عبدالمطلب سے فرماتے ہیں کہ وہ بطحاء میں ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے ۱∞؎اور رسول الله صلی الله علیہ و سلم ان میں بیٹھے تھے کہ ایک بادل گزرا لوگوں نے اس کی طرف دیکھا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا تم اس کا نام کیا رکھتے ہو۲؎لوگوں نے عرض کیا سحاب،فرمایا اور مزن بھی عرض کیا مزن بھی فرمایا اور عنان بھی،عرض کیا اور عنان بھی۳؎فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ آسمان و ز مین کے درمیان فاصلہ کتنا ہے؟ انہوں نے عرض کیا ہم نہیں جانتے،فرمایا ان کے درمیان فاصلہ اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا۴؎اور جو آسمان اس کے اوپر ہے وہ بھی ایسا ہی ہے حتی کہ آپ نے سات آسمان گنائے ۵؎پھر ساتویں آسمان کے اوپر ایک دریا ہے جسکے اوپر اور نیچے حصے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک۶؎پھر اس کے اوپر آٹھ بکرے ہیں۷؎جن کے کھروں اور سیرین کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک۸؎پھر ان کی پیٹھوں پر عرش ہے جس کے نیچے اور اوپر کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک ہے۹؎پھر الله اس کے اوپر ہے۱۰؎(ترمذی، ابوداؤد)
وَعَنِ العَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: زَعَمَ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي الْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- جَالِسٌ فِيهِمْ، فَمَرَّتْ سَحَابَةٌ، فَنَظَرُوا إِلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ؟ ". قَالُوا: السَّحَابَ. قَالَ: "وَالْمُزْنَ؟ " قَالُوا: وَالْمُزْنَ. قَالَ: "وَالْعَنَانَ؟ " قَالُوا: وَالْعَنَانَ. قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَا بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ؟ " قَالُوا: لَا نَدْرِي،قَالَ: "إِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَهُمَا إِمَّا وَاحِدَةٌ وَإِمَّا اثْنَتَانِ أَوْ ثَلَاثٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً، وَالسَّمَاءُ الَّتِي فَوْقَهَا كَذَلِكَ" حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ. ثُمَّ "فَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ، بَيْنَ أَظْلَافِهِنَّ وَوُرُكِهِنَّ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِنَّ الْعَرْشُ، بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ اللَّهُ فَوْقَ ذَلِكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5726 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پاس ایک بدوی آیا عرض کیا کہ جانیں مشقت میں پڑ گئیں اور بال بچے بھوکے ہوگئے اور مال برباد جانور ہلاک ہوگئے ۲؎تو آپ ہمارے لیے الله سے بارش مانگیں ہم آپ کو الله کی بارگاہ میں شفیع لاتے ہیں۳؎تب نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایاسبحان الله سبحان اللهآپ صلی اللہ علیہ و سلم تسبیح فرماتے رہے حتی کہ یہ آپ کے صحابہ کے چہروں میں پہنچانا گیا۴؎پھر فرمایا تجھ پر افسوس ہے الله تعالٰی کو کسی پر شفیع بنایا جانا الله کی شان اس سے بہت بڑی ہے۵؎تجھ پر افسوس کیا تجھے خبر ہے کہ الله کی شان کیا ہے اس کا عرش اس کے آسمانوں پر ایسا ہے اور اپنی انگلیوں سے اشارہ فرمایا اس پر قبہ کی طرح۶؎اور وہ چرچرا رہا ہے جیسے کجاوے کا چرچرانا سوار کی وجہ سے۷؎(ابوداؤد)
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: جُهِدَتِ الأَنْفُسُ، وَجَاعَ الْعِيَالُ، وَنُهِكَتِ الأَمْوَالُ، وَهَلَكَتِ الأَنْعَامُ فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا، فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى اللَّهِ، وَنَسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ". فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِك فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ: "وَيْحَكَ إِنَّهُ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ، شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ، وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا اللَّهُ؟ إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا" وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مِثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ، "وَإِنَّهُ لَيَئِطُّ بِهِ أَطِيطَ الرَّحْلِ بِالرَّاكِبِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5727 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت جابر ابن عبدالله سے وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے راوی ہیں،فرمایا مجھے اجازت دی گئی ہے ۱∞؎کہ تم کو الله کے فرشتوں میں ایک فرشتے کے متعلق خبر دوں عرش اٹھانے والوں سے کہ اس کے کانوں کی گدیوں سے اس کے کندھوں تک سات سو سال کا فاصلہ ہے۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، أَنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ إِلَى عَاتِقَيْهِ مَسِيرَةُ سَبْعِ مِئَةِ عَامٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5728 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت زرارہ ابن اوفی سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جناب جبریل سے فرمایا کیا تم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو جبریل کانپ گئے ۱∞؎اور عرض کیا اے حضور محمد! میرے اور رب کے درمیان ستر ہزار حجاب ہیں اگر میں ان کے بعض سے قریب ہوجاؤں تو جل جاؤں۲؎اسی طرح مصابیح میں ہے۔
وَعَن زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ لِجِبْرِيلَ: "هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ فَانْتَفَضَ جِبْرِيلُ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سَبْعِينَ حِجَابًا مِنْ نُورٍ، لَوْ دَنَوتُ مِنْ بَعْضِهَا لَاحْتَرَقْتُ". هَكَذَا فِي "الْمَصَابِيحِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5729 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
اور ابو نعیم نے حلیہ میں حضرت انس رضی الله عنہ سے مروی ہے مگر انہوں نے اس کا ذکر نہ کیا کہ جبریل کانپ گئے۔
وَرَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي "الْحِلْيَةِ" عَنْ أَنَسٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: "فَانتُفَضَ جِبْرِيلُ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5730 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله نے جناب اسرافیل کو پیدا فرمایا جس دن سے انہیں پیدا کیا ہے اپنے قدموں پر کھڑے ہیں ۱∞؎وہ اپنی نگاہ نہیں اٹھاتے۲؎ان کے اور رب تعالٰی کے درمیان ستر نور ہیں،ان میں سے کوئی نور نہیں مگر جس سے وہ قریب ہوں تو جل جاویں۳؎(ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ إِسْرَافِيلَ مُنْذُ يَوْمِ خَلْقِهُ صَافًّا قَدَمَيْهِ لَا يَرْفَعُ بَصَرَهُ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَبْعُونَ نُورًا، مَا مِنْهَا مِنْ نُورٍ يَدْنُو مِنْهُ إِلَّا احْتَرَقَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5731 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ الله نے حضرت آدم اور ان کی اولاد کو پیدا کیا تو فرشتے بولے یارب تو نے انہیں پیدا فرمایا کہ وہ کھائیں گے پئیں گے،نکاح کریں گے،سوار ہوں گے ۱∞؎تو ان کے لیے دنیا کردے اور ہمارے لیے آخرت ۲؎الله تعالٰی نے فرمایا کہ جسے میں نے اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور جس میں میں نے اپنی روح پھونکی اسے اس مخلوق کی طرح نہ کروں گا جس سے میں نے کہا ہو جا وہ ہوگئی۳؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَذُرَّيَتَهُ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ! خَلَقْتَهُمْ يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ وَيَنْكِحُونَ وَيَرْكَبُونَ، فَاجْعَلْ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الآخِرَةَ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: لَا أَجْعَلُ مَنْ خَلَقْتُهُ بِيَدَيَّ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي كَمَنْ قُلْتُ لَهُ: كُنْ، فَكَانَ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5732 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ مؤمن الله کے نزدیک بعض فرشتوں سے زیادہ عزت والا ہے ۱∞؎(ابن ماجہ)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الْمُؤْمِنُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ بَعْضِ مَلَائِكَتِهِ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5733 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے میرا ہاتھ پکڑا ۱∞؎پھر فرمایا کہ الله نے مٹی پیدا کی ہفتہ کے دن اور اس میں پہاڑ پیدا کیے اتوار کے دن اور درخت پیدا کیے پیر کے دن اور ناپسندیدہ چیزیں پیدا کیں منگل کے دن،نور پیدا فرمایا بدھ کے دن اور اس میں جانور پھیلائے جمعرات کے دن۲؎اور آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد پیدا فرمایا آخری مخلوق ہیں۳؎اور دن کی آخر ساعت میں عصر سے لے کر رات تک کے درمیان(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بِيَدَيَّ فَقَالَ: "خَلَقَ اللَّهُ الْتُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ،وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ وَآخِرِ سَاعَةٍ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلى اللَّيْل". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5734 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں جب کہ نبی صلی الله علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ بیٹھے تھے کہ اچانک ان پر بادل آیا تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا الله رسول ہی خوب جانتے ہیں ۱∞؎فرمایا یہ بادل ہے یہ زمین کے ساقی ہیں۲؎الله اسے اس قوم کی طرف لے جاتا ہے جو نہ اس کا شکر کریں نہ اس سے دعا مانگیں۳؎پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے،صحابہ نے عرض کیا الله رسول خوب جانتے ہیں،فرمایا آسمان ہے۴؎محفوظ چھت ہے اور روکی ہوئی موج ۵؎پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ عرض کیا الله رسول ہی جانیں،فرمایا تمہارے اور آسمان کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۶؎پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے،انہوں نے عرض کیا الله رسول ہی خوب جانیں،فرمایا دو آسمان ان کے درمیان فاصلہ پانچ سو سال ہے،پھر فرمایا اسی طرح حتی کہ سات آسمان گنائے ۷؎ہر دو آسمانوں کے درمیان وہ فاصلہ ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے ۸؎پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ ان سب کے اوپر کیا ہے،عرض کیا کہ الله رسول ہی خوب جانیں،فرمایا ان کے اوپر عرش ہے ۹؎اس کے اور آسمان کے درمیان وہ فاصلہ ہے جو دو آسمانوں کے درمیان ہے۱۰؎پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ کیا ہے جو تمہارے نیچے ہے۱۱∞؎صحابہ نے عرض کی الله رسول ہی خوب جانیں،فرمایا وہ زمین ہے پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے نیچے کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا الله رسول ہی خوب جانیں،فرمایا کہ اس کے نیچے دوسری زمین ہے جن دونوں کے درمیان پانچ سو سال ہیں۱۲؎حتی کہ سات زمینیں شمار فرمائیں۱۳؎ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے،پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم ایک رسی نیچی زمین کی طرف لٹکاؤ تو الله پر ہی گرے گی۱۴؎پھر قرأت فرمائی وہ اول ہے اور آخر ظاہر ہے اور باطن اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۱۵؎(احمد، ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا یہ آیت پڑھنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس کے علم پر اس کی قدرت پر اس کی حکومت پر گرے الله تعالٰی کا علم اس کی قدرت اس کی بادشاہت ہر جگہ ہے۱۶؎اور وہ عرش پر ہے جیسے اس نے خود اپنی کتاب میں اپنی تعریف فرمائی۱۷؎
وَعَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- جَالِسٌ وَأَصْحَابُهُ إِذْ أَتَى عَلَيْهِمْ سَحَابٌ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا؟ ". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "هَذِهِ الْعَنَانُ هَذِهِ رَوَايَا الأَرْضِ يَسُوقُهَا اللَّهُ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْكُرُونَهُ وَلَا يَدعُونَهُ"، ثم قَالَ: "هَل تَدْرُونَ مَا فَوْقَكُمْ؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "فَإِنَّهَا الرَّقِيعُ سَقْفٌ مَحْفُوظٌ، وَمَوْجٌ مَكْفُوفٌ"، ثُمَّ قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا خَمْسُ مِئَةِ عَامٍ"، ثُمَّ قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ؟ ". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "سماءانِ بُعْدُ مَا بَيْنَهُمَا خَمْسُ مِئَةِ سَنَةٍ"، ثُمَّ قَالَ كَذَلِكَ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، "مَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءَيْنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ"، ثُمَّ قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "إِنَّ فَوْقَ ذَلِكَ الْعَرْشُ، وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِيْنِ". ثُمَّ قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَا الَّذِي تَحْتَكُمْ؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "فَإِنَّهَا الأَرْضُ". ثُمَّ قَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَا تَحْتَ ذَلِكَ؟ ". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "إِنَّ تَحْتَهَا أَرْضًا أُخْرَى بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِئَةِ سَنَةٍ". حَتَّى عدَّ سَبع أَرَضِينَ، "بَيْنَ كلِّ أَرَضِينَ مَسِيْرَةُ خَمْسِ مِئَةِ سَنَةٍ"، ثُمَّ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّكُمْ دَلَّيْتُمْ بِحَبْلٍ إِلَى الأَرْضِ السُّفْلَى لَهَبَطَ عَلَى اللَّهِ"، ثُمَّ قَرَأَ: {هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} [الحديد: 3]. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- الآيَةَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ: لَهَبَطَ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ وَسُلْطَانِهِ، وَعِلْمُ اللَّهِ وَقُدْرَتُهُ وَسُلْطَانُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ، وَهُوَ عَلى الْعَرْشِ كَمَا وَصَفَ نَفْسَهُ فِي كِتَابِهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5735 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ حضرت آدم کی لمبائی ساٹھ گز تھی سات گز چوڑائی ۱∞؎
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "كَانَ طُولُ آدَمَ سِتِّينَ ذِرَاعًا فِي سَبع أَذْرُعٍ عَرْضًا".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5736 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم کون سے نبی پہلے ہیں فرمایا آدم علیہ السلام ۱∞؎میں نے عرض کیا یارسول الله کیا وہ نبی تھے فرمایا ہاں کلام والے نبی۲؎میں نے عرض کیا یارسول الله رسول کتنے ہیں تو فرمایا تین سو اور کچھ اوپر دس بڑی جماعت۳؎اور ایک روایت ہے میں حضرت ابو امامہ سے ہے ۴؎کہ جناب ابوذر نے فرمایا میں نے عرض کیا یارسول الله نبیوں کی پوری تعداد کتنی ہے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار جن میں سے رسول تین سو پندرہ ہیں بڑی جماعت۵؎
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: "آدَمُ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَنَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ: "نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَمِ المُرْسَلُونَ؟ قَالَ: "ثَلَاثُ مِئَةٍ وَبِضْعَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا".وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَمْ وَفَاءُ عِدَّةِ الأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: "مِئة أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا، الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُ مِئَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5737 ، باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر