باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھے کوئی صحابی کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے ۱∞؎میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ آیا کروں ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4852 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ )رضی اللہ عنھا( سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کو صفیہ (رضی اللہ عنھا) سے یہ ہے کہ وہ ایسی ایسی ہیں یعنی پستہ قد ۱∞؎تو فرمایا تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر اس کو دریا میں ملادیا جائے تو اسے رنگین کردے ۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤ د)

وَعَنْ عَائِشَة قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَسْبُكَ مِنْ صَفِيَّةَ كَذَا وَكَذَا - تَعْنِي قَصِيرَةً - فَقَالَ: لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَ بِهَا الْبَحْرُ لَمَزَجَتْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4853 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نہیں ہوتی بے حیائی کسی چیز میں مگر اسے عیب ناک کر دیتی ہے اور نہیں ہوتی شرم کسی چیز میں مگر اسے زینت دے دیتی ہے ۱∞؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهٗ وَمَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4854 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت خالد ابن معدان سے ۱∞؎وہ حضرت معاذ سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو اپنے بھائی کو کسی گناہ کی عار دلائے ۲؎تو وہ نہ مرے گا حتی کہ خودبھی کرے گا۳؎یعنی وہ گناہ جس سے وہ توبہ کرچکا ہے۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد متصل نہیں کیونکہ خالد نے معاذ ابن جبل کو نہیں پایا ۵؎

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ مَعَاذٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَيَّرَ أَخَاهُ بِذَنْبٍ لَمْ يَمُتْ حَتّٰى يَعْمَلَهُ يَعْنِي مِنْ ذَنْبٍ قَدْ تَابَ مِنْهُ -. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ خَالِدًا لَمْ يُدْرِكْ مَعَاذَ بْنَ جَبَلٍ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4855 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت واثلہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے بھائی پر لعن طعن ظاہر نہ کرو ۲؎ورنہ الله اس پر رحم کردے گا اور تجھے مبتلا کردے گا ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: لَا تُظْهِرِ الشَّمَاتَتْ لِأَخِيْكَ فَيَرْحَمُہُ اللّٰہُ وَيَبْتَلِيَكَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4856 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں پسند نہیں کرتا کہ کسی کی نقل کروں اگرچہ مجھے اتنا اتنا ملے ۱∞؎(ترمذی) اور اس کو صحیح فرمایا۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا وَأَنَّ لِيْ كَذَا وَكَذَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4857 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت جندب سے فرماتے ہیں کہ ایک بدوی آیا اس نے اپنا اونٹ بٹھادیا ۱∞؎پھر اسے باندھ دیا پھر مسجد میں آیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نما ز پڑھی پھر جب سلام پھیرا تو اپنی سواری کے پاس گیا اسے کھولا اس پر سوار ہوا پھر پکارا الٰہی مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہماری رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر ۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا کہتے ہو یہ زیادہ بے وقوف ہے یا اس کا اونٹ۳؎کہ کیا تم نے نہ سنا جو اس نے کہا لوگ بولے ہاں۴؎(ابوداؤ د) اور حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ )کی حدیثکفی بالمرء کذباہم نےباب الاعتصامکی پہلی فصل میں ذکر کردی۔

وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهٗ ثُمَّ عَقَلَهَا ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلّٰى خَلْفَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ أَتٰى رَاحِلَتَهٗ فَأَطْلَقَهَا ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ نَادٰى: اللّٰهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَقُوْلُوْنَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟ أَلَمْ تَسْمَعُوا إِلٰى مَا قَالَ؟ قَالُوا: بَلٰى؟ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ : كَفٰى بِالْمَرْءِ كَذِبًا فِي بَاب الِاعْتِصَامِ فِي الْفَصْلِ الْأَوَّلِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4858 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت انس (رضی اللہ عنہ )سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب فاسق کی تعریف کی جاتی ہے تو رب تعالٰی ناراض ہوتا ہے ۱∞؎اور اس سے عرش ہل جاتا ہے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا مُدِحَ الْفَاسِقُ غَضِبَ الرَّبُّ تَعَالٰى وَاهْتَزَّ لَهُ العَرْشُ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4859 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن تمام خصلتوں پر پیدا کیا جاسکتا ہے سواء خیانت اور جھوٹ کے ۱∞؎(احمد)

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الخِلَالِ كُلِّهَا إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4860 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

(احمد،بیہقی شعب الایمان بروایت سعد ابن ابی وقاص)

وَالْبَيْهَقِيّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصٍ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4861 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت صفوان ابن سلیم سے ۱∞؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ کیا مؤمن بزدل ہو سکتا ہے فرمایا ہاں پھر عرض کیا گیا کیامؤمن کنجوس ہوسکتا ہے فرما ہاں ۲؎پھر عرض کیا گیا کیا مؤمن جھوٹا ہوسکتا ہے فرمایا نہیں ۳؎(مالک، بیہقی شعب الایمان ارسالًا)۴؎

وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهٗ قِيلَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا؟قَالَ: نَعَمْ . فَقِيْلَ لَہٗ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ بَخِيلًا؟ قَالَ: نَعَمْ . فَقِيلَ لَہٗ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ كَذَّابًا؟ قَالَ: لَا .رَوَاهُ مَالِكٌ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ مُرْسَلًا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4862 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ شیطان انسانی شکل میں بنتا ہے پھر کسی قوم کے پاس پہنچتا ہے انہیں کسی جھوٹی بات کی خبر دیتا ہے ۱∞؎لوگ پھیل جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ میں نے ایک شخص کو سنا جس کی صورت پہچانتا ہوں یہ نہیں جانتا کہ اس کا نام کیا ہے وہ یہ کہتا تھا ۲؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ لِيَتَمَثَّلُ فِي صُوْرَةِ الرَّجُلِ فَيَأْتِيَ الْقَوْمَ فَيَحَدِّثُهُمْ بِالْحَدِيثِ مِنَ الْكَذِبِ فَيَتَفَرَّقُونَ فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَجُلًا أَعْرِفُ وَجْهَهٗ وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُهٗ يُحَدِّثُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4863 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت عمران ابن حطان سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوذر کے پاس گیا تو میں نے انہیں ایک کالے کمبل میں اکیلے ٹیک لگائے بیٹھے پایا ۱∞؎میں نے کہا اے ابوذر یہ گوشہ نشینی کیسی تو فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ تنہائی بہتر ہے ہر ساتھی سے اور اچھا ساتھی بہتر ہے تنہائی سے ۲؎اور اچھی بات بولنا خاموشی سے بہتر ہے اور خاموشی بہتر ہے بری بات بولنے سے۳؎

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَوَجَدْتُهٗ فِي الْمَسْجِدِ مُحْتَبِيًا بِكِسَاءٍ أَسْوَدَ وَحْدَهٗ. فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ مَاهَذِهِ الْوَحْدَةُ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْوَحْدَةُ خَيْرٌ مِنْ جَلِيسِ السُّوءِ وَالْجَلِيسُ الصَّالِحُ خَيْرٌ مِنَ الْوَحْدَةِ وَإِمْلَاءُ الْخَيْرِ خَيْرٌ مِنَ السُّكُوْتِ وَالسُّكُوْتُ خيرٌ مِنْ إِمْلَاءِ الشَّرِّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4864 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کا خاموشی سے ثابت رہنا ۱∞؎ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے ۲؎

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَقَامُ الرَّجُلِ بِالصَّمْتِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّيْنَ سَنَةً

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4865 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا دراز حدیث بیان کی ۱ ∞؎یہاں تک کہ فرمایا میں نے عرض کیا یارسول الله مجھے وصیت کیجئے ۲؎فرمایا میں تم کو الله سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ یہ تمہارے تمام کاموں کی زینت ہے۳؎میں نے عرض کیا کہ کچھ زیادہ کیجئے فرمایا قرآن کی تلاوت اور الله کا ذکر اختیار کرو ۴؎کہ یہ تمہارے چرچے کا باعث ہے آسمان میں اور تمہارے لیے نور ہے زمین میں ۵؎میں نے عرض کیا کچھ زیادہ فرمایئے فرمایا تم دراز خاموشی اختیار کرو ۶؎کہ یہ شیطان کو بھگانے والا ہے اور تمہارے دینی کام پر تمہارا مدد گار ہے ۷؎میں نے عرض کیا کہ مجھے زیادہ دیجئے فرمایا زیادہ ہنسنے سے بچو کہ یہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور چہرے کا نور زائل کردیتا ہے ۸؎میں نے عرض کیا زیادہ کیجئے فرمایا حق بات کہو اگرچہ کڑوی ہو ۹؎میں نے عرض کیا اور زیادہ دیجئے فرمایا الله کی راہ میں ملامت والے کی ملامت سے نہ ڈرو ۱۰؎میں نے عرض کیا زیادہ کیجئے فرمایا کہ تم کو لوگوں سے وہ بات منع کرے جو تم اپنے میں جانتے ہو ۱۱∞؎

وَعَنْ أَبِي ذرٍّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُوْلِهٖ إِلٰى أَنْ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَوْصِنِي قَالَ: أُوصِيْكَ بِتَقْوَى اللّٰهِ فَإِنَّهٗ أَزْيَنُ لِأَمْرِكَ كُلِّهٖ قُلْتُ: زِدْنِي قَالَ: عَلَيْكَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّهٗ ذِكْرٌ لَكَ فِي السَّمَاءِ وَنُوْرٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ . قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: عَلَيْكَ بِطُوَالِ الصَّمْتِ فَإِنَّهٗ مَطْرَدَةٌ لِلشَّيْطَانِ وَعَوْنٌ لَّكَ عَلٰى أَمْرِ دِينِكَ قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: إِيَّاكَ وَ کَثْرَۃَ الضِّحْكَ فَإِنَّهٗ يُمِيْتُ الْقَلْبَ وَيَذْهَبُ بِنُورِ الْوَجْهِ قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: قُلِ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا ". قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: لَا تَخَفْ فِي اللّٰهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ . قُلْتُ: زِدْنِي. لِيَحْجُزْكَ عَنِ النَّاسِ مَا تَعْلَمُ مِنْ نَفْسِكَ "

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4866 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ۱∞؎ترازو میں بھاری ہیں ۲؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت ۳؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۴؎

وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظُّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ؟ قَالَ:قُلْتُ: بَلٰى.قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4867 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جناب ابوبکر پر گزرے حالانکہ آپ اپنے کسی غلام کو برا بھلا کہہ رہے تھے ۱∞؎تو ان کی طرف توجہ فرما کر فرمایا کہ برا کہنے والے بھی اور صدیق بھی قسم ربِ کعبہ کی ہرگز نہیں ۲؎تو اس دن جناب ابوبکر نے کچھ غلام آزاد کیے۳؎پھر نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا اب کبھی نہ کروں گا۴؎یہ پانچوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی۔

وَعَنْ عَائِشَة قَالَتْ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يَلْعَنُ بَعْضَ رَقِيقِهٖ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ: لَعَّانِيْنَ وَصِدِّيقِينَ؟ كَلَّا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَأَعْتَقَ أَبُو بَكْرٍ يَوْمَئِذٍ بَعْضَ رَقِيقِهٖ ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:لَا أَعُودُ. رَوَى البَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْخَمْسَةَ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4868 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت اسلم سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ایک دن جناب عمر حضرت ابوبکر صدیق کے پاس آئے وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے۲؎تو حضرت عمر نے ان سے عرض کیا ٹھہریئے الله آپ کو بخشے تو ان سے جناب ابوبکر نے فرمایا کہ اس نے مجھے ہلاکت کی جگہوں میں لا ڈالا ۳؎(مالک)

وَعَنْ أَسْلَمَ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ دَخَلَ يَوْمًا عَلٰى أَبِيْ بَكْرٍ الصِّدّيق وَهُوَ يَجْبِذُ لِسَانَهُ. فَقَالَ عُمَرُ: مَهْ غَفَرَ اللهُ لَكَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ هٰذَا أَوْرَدَنِيَ الْمَوَارِدَ. رَوَاهُ مَالِكٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4869 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت عبادہ بن صامت سے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے نفس کی طرف سے میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن بن جاؤ میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں ۱∞؎جب بات کرو سچ کہو،جب وعدہ کرو تو پورا کرو۲؎جب امین بنائے جاؤ تو اداکرو۳؎اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو۴؎اپنی نگاہیں نیچے رکھو ۵؎اپنے ہاتھ روکو ۶؎

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"اِضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنُ لَكُمُ الْجَنَّةَ: اُصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُّمْ وَأَدُّوْا إِذا ائْتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوْا فُرُوْجَكُمْ وَغَضُّوْا أَبْصَارَكُمْ وَكُفُّوْا أَيْدِيكُمْ "

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4870 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن غنم اور اسماء بنت یزید سے ۱ ∞ ؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله کے بہترین بندے وہ ہیں کہ جب دیکھے جائیں تو الله یاد آجائے ۲؎اور الله کے بدترین بندے وہ ہیں جو چغلی سے چلیں،دوستوں کے درمیان جدائی ڈالنے والے۳؎پاک لوگوں میں عیب ڈھونڈنے والے۴؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خِيَارُ عِبَادِ اللّٰهِ الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللّٰهُ. وَشِرَارُ عِبَادِ اللّٰهِ الْمَشَّاؤُونَ بِالنَّمِيْمَةِ وَالْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ الْبَاغُونَ الْبُرَآءَ الْعَنَتَ . رَوَاهُمَا أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4871 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان