باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو کوئی مجھے اپنے دو جبڑوں اور دو پاؤ ں کے درمیان کی چیزوں کی ضمانت دے میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں ۱∞؎(بخاری)

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمِنُ لَهُ الجنَّةَ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4812 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بندہ رضاء الٰہی کا کوئی کلمہ بول دیتا ہے جس کی پرواہ بھی نہیں کرتا الله تعالٰی اس کی وجہ سے اس کے درجے بڑھا دیتا ہے ۱∞؎اور بندہ الله کی ناراضی کی کوئی بات کردیتا ہے جس کی پرواہ بھی نہیں کرتا اس کی وجہ سے دوزخ میں گر جاتاہے۲؎(بخاری)اور مسلم،بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ اس سے آگ میں گرجاتا ہے مشرق و مغرب کے فاصلے کے برابر۳؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللّٰهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَرْفَعُ اللّٰهُ بِهَا دَرَجَاتٍ وَإِنَّ الْعَبْدَ لِيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللّٰهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4813 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهٗ كُفْرٌ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4814 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمان اپنے بھائی مسلمان کو کافر کہے تو اس کے کفر کو لے کر ان دونوں میں سے ایک لوٹے گا ۱∞؎(مسلم ، بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4815 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی شخص کسی شخص کو فسق کی اور کفر کی تہمت نہیں لگاتا مگر وہ اسی پر لوٹتا ہے اگر اس کا صاحب ایسا نہ ہو ۱∞؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوقِ وَلَا يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ إِنْ لَّمْ يَكُنْ صَاحِبُهٗ كَذٰلِكَ رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4816 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو کسی شخص کے کافر ہونے کا دعویٰ کرے یا کہے الله کا دشمن اور وہ ایسا ہو نہیں مگر وہ اس پر لوٹتا ہے ۱∞؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دَعَا رَجُلًا بِالْكُفْرِ أَوْ قَالَ: عَدُوَّ اللّٰهِ وَلَيْسَ كَذٰلِكَ إِلاَّ حارَ عَلَيْهِ ".(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4817 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت انس (رضی اللہ عنہَ)اور ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ )سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہیں اس کا وبال ابتداءکرنے والے پر ہے جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَلْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى البَادِئِ مَالَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4818 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ صدیق کے لیے یہ لائق نہیں ۱∞؎کہ لعن و طعن کرنے والا ہو ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَنْبَغِي لِصِدِّيقٍ أَنْ يَّكُوْنَ لَعَّاناً . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4819 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بہت لعن طعن کرنے والے قیامت کے دن نہ گواہ ہوں گے نہ شفیع ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّعَّانِيْنَ لَا يَكُونُونَ شُهَدَاءَ وَلَا شُفَعَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4820 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب کوئی شخص کہے کہ لوگ ہلاک ہوگئے تو اس نے انہیں ہلاک کردیا ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ: هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4821 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم قیامت کے دن بدترین لوگوں میں دو منہ والے کو پاؤ گے جو ان کے پاس اور منہ سے جاوے اور ان کے پاس اور منہ سے ۱∞؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْهُ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَجِدُونَ شَرَّ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِيْ هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4822 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت میں حضرت حذیفہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جنت میں چغل خور نہ جاوے گا ۱∞؎(مسلم، بخاری)اور مسلم کی روایت میں چغلخور ہے۔

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) . وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: نَمَّامٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4823 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سچ کو لازم کرلو کیونکہ سچ نیکی کی طرف ہدایت دیتا ہے ۱∞؎اور نیکی جنت کی طرف ہادی ہے اور انسان سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کی تلاش کرتا رہتا ہےحتی کہ الله کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے۲؎اور جھوٹ سے بچو کہ جھوٹ بدکاری کی طرف رہبری کرتا ہے اور یہ بدکاری آگ کی طرف ہادی ہے۳؎اور انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کی تلاش کرتا رہتا ہے حتی کہ الله کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتاہے۴؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا سچائی بھلائی ہے اور بھلائی جنت کی طرف رہبری کرتی ہے اور جھوٹ بدکاری ہے اور بدکاری آگ کی طرف رہبری کرتی ہے ۵؎

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى البِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الجَنَّةِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتّٰى يُكْتَبَ عِنْدَ اللّٰهِ صِدِّيقًا. وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الكَذِبَ حَتّٰى يُكْتَبَ عِنْدَ اللّٰهِ كَذَّابًا . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) . وَفِي رِوَايَةِ لِمُسْلِمٍ قَالَ: إِنَّ الصِّدْقَ بِرٌّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِيْ إِلَى الجَنَّةِ. وَإِنَّ الْكَذِبَ فُجُورٌ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِيْ إِلَى النَّار

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4824 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ام کلثوم سے فرماتی ہیں ۱∞؎فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جھوٹا وہ نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرادے اور کہے خیر بات اور پہنچائے خیر بات ۲؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِيْ خَيْرًا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4825 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت مقداد ابن اسود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم منہ پر تعریف کرنے والوں کو دیکھو ۱∞؎تو ان کے منہ میں مٹی ڈال دو ۲؎(مسلم)

وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِيْنَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4826 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کی تعریف کی ۱∞؎تو فرمایا تیری خرابی تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی تین بار فرمایا ۲؎تم میں سے جوکسی کی ضرور تعریف ہی کرے تو ہے کہ میں فلاں کو ایسا سمجھتا ہوں الله تعالٰی اس پر مطلع ہے بشرطیہ وہ اسے ایسا ہی جانتا ہو۳؎الله پر کسی کی صفائی بیان نہ کرے ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: أَثْنٰى رَجُلٌ عَلٰى رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ ثَلَاثًا " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا لَا مُحَالَةَ فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللهُ حَسِيْبُهٗ إِنْ كَانَ يُرٰى أَنَّهٗ كَذٰلِكَ وَلَا يُزَكِّي عَلَى اللهِ أَحَدًا ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4827 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا جانتے ہو غیبت کیا ہے ۱∞؎سب نے عرض کیا الله رسول ہی خوب جانیں فرمایا تمہارا اپنے بھائی کا ناپسندیدہ ذکر کرنا ۲؎عرض کیا گیا فرمایئے تو اگر میرے بھائی میں وہ عیب ہو جو میں کہتا ہوں ۳؎فرمایا اگر اس میں وہ ہو جو کہتا ہے تو تو نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ نہ ہو جو تو کہتا ہے تو تونے اسے بہتان لگایا ۴؎(مسلم)اور ایک روایت میں ہے ۵؎کہ جب تو اپنے بھائی کا وہ عیب بیان کرے جو اس میں ہے تو تو نے اس کی غیبت کی اور اگر تو وہ کہے جو اس نے نہ کیا ہو تو تو نے اسے بہتان لگایا ۶؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَتُدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ؟ قَالُوا: اللّٰهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ. قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهٗ ". قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهٗ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ: إِذَا قُلْتَ لِأَخِيكَ مَا فِيهِ فَقَدِ اغْتَبْتَهٗ وَإِذَا قُلْتَ مَا لَيْسَ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4828 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ ایک شخص نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے حاضری کی اجازت مانگی فرمایا کہ اجازت دے دو یہ اس قبیلہ کا بُرا آدمی ہے ۱∞؎پھر جب وہ بیٹھا تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس کے سامنے خندہ پیشانی کی اور کشادہ روئی فرمائی ۲؎پھر جب وہ شخص چلا گیا تو جناب عائشہ نے عرض کیا یارسول الله آپ نے اس کے متعلق ایسا ایسا فرمایا پھر اس کے اوپر خنداں پیشانی اور کشادہ روئی فرمائی ۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے مجھے فحش گو کب پایا ۴؎الله کے نزدیک بدترین درجہ والا قیامت کے دن وہ ہے جسے لوگ چھوڑ دیں اس کی شر سے ڈر کر اور ایک روایت میں ہے اس کے فحش سے خوف کر کے ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا اِسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: ائْذَنُوا لَهٗ فَبِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا جَلَسَ تَطَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهٖ وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ. فَلَمَّا انْطَلَقَ الرَّجُلُ قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ قُلْتَ لَهُ: كَذَا وَكَذَا ثُمَّ تَطَلَّقْتَ فِي وَجْهِهٖ وَانْبَسَطْتَّ إِلَيْهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَتٰى عَهَدْتَّنِيْ فَحَّاشًا؟ ؟ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَاللّٰہِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ شَرِّهٖ وَفِي رِوَايَةٍ: اتِّقَاءَ فُحْشِهٖ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4829 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میری ساری امت کو عافیت دی جاوے گی ۱∞؎سوا اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے ۲؎اور اعلانیہ سے یہ بھی ہے۳؎کہ کوئی شخص رات میں کوئی کام کرے پھر صبح پائے کہ الله نے اس کا پردہ رکھ لیا مگر وہ کہے اے فلاں میں نے آج رات ایسا ایسا کیا۴؎حالانکہ رات میں اس کے رب نے اسے چھپا لیا وہ صبح کو الله کا پردہ خود ہی کھولنے لگا ۵؎(مسلم،بخاری)اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث(جو الله پر ایمان رکھتا ہو)دعوت کے باب میں ذکر کردی گئی ۶؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرُونَ وَإِنَّ مِنَ الْمَجَانَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللّٰهُ. فَيَقُولَ: يَا فُلَانُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهٗ رَبُّهٗ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللّٰهِ عَنْهُ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَذُكِرَ فِي حَدِيثِ أَبِيْ هُرَيْرَةَ: مَنْ كَانَ يُؤمِنُ بِاللَّهِ فِي بَابِ الضِّيَافَةِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4830 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے کہ جو جھوٹ چھوڑ دے جو کہ باطل چیز ہے ۱∞؎تو اس کے لیے جنت کے کنارہ میں گھر بنایا جائے گا۲؎اور جو لڑائی جھگڑے چھوڑ دے حالانکہ حق پر ہو اس کیلئے بیچ جنت میں گھر بنایا جاوے گا۳؎اور جس کے اخلاق اچھے ہوں تو اس کے لیے جنت کے اوپری حصہ میں گھر بنایا جاوے گا ۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے یونہی شرح سنہ میں ہے مصابیح میں فرمایا غریب ہے ۵؎

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم : مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ بُنِيَ لَهٗ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ وَ مَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ بُنِيَ لَهٗ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهٗ بُنِيَ لَهٗ فِي أَعْلَاهَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَكَذَا فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَفِي الْمَصَابِيحِ قَالَ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4831 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان