باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت ۱∞؎کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ ۲؎(ترمذی، ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَتُدْرُوْنَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ؟ تَقْوَى اللّٰهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ. أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ؟ الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4832 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت بلال ابن حارث سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی شخص اچھی بات بول دیتا ہے اس کی انتہا نہیں جانتا۲؎اس کی وجہ سے اس کے لیے اللہ کی رضا اس دن تک کےلیے لکھی جاتی ہے ۳؎جب وہ اس سے ملے گا اور ایک آدمی بری بات بول دیتا ہے جس کی انتہا نہیں جانتا الله اس کی وجہ سے اپنی ناراضی اس دن تک لکھ دیتا ہے جب وہ اس سے ملے گا ۴؎(شرح سنہ)اور مالک،ترمذی،ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کی۔

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَعْلَمُ مَبْلَغَهَا يَكْتُبُ اللّٰهُ لَهٗ بِهَا رِضْوَانَهُ اِلٰى يَوْمٍ يَلْقَاهُ. وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنَ الشَّرِّ مَا يَعْلَمُ مَبْلَغَهَا يَكْتُبُ اللّٰهُ بِهَا عَلَيْهِ سَخَطَهُ اِلٰى يَوْمٍ يَلْقَاهُ . رَوَاهُ فِي “شَرْحِ السُّنَّةِ”. وَرَوٰى مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه نَحْوَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4833 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے بہز بن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خرابی ہے اس کے لئے جو بات کرے تو جھوٹ بولے تاکہ اس سے قوم کو ہنسائے ۲؎اس کے لئے خرابی ہے اس کے لئے خرابی ہے ۳؎(احمد،ترمذی، ابو داؤد،دارمی)

وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْلٌ لِمَنْ يُّحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهٖ الْقَوْمَ وَيْلٌ لَهٗ وَيْلٌ لَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالدَّارَمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4834 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ( رضی اللہ عنہ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بندہ کوئی بات کرتا ہے نہیں کہتا مگر اس لیے کہ اس سے لوگوں کو ہنسائے اس کی وجہ سے وہ آسمان و زمین کے فاصلہ سے زیادہ نیچا گر جاتا ہے ۱∞؎وہ اپنی زبان سے پھسلتا ہے اس سے سخت پھسلنی جو اپنے قدم سے پھسلتا ہے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَبْدَ لَيَقُولُ الْكَلِمَةَ لَا يَقُولُهَا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهٖ النَّاسَ يَهْوِي بِهَا أَبْعَدَ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَإِنَّهٗ لَيَزِلُّ عَنْ لِسَانِهٖ أَشَدَّ مِمَّا يَزِلُّ عَنْ قَدَمِهٖ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4835 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو خاموش رہا نجات پاگیا ۱∞؎(احمد،ترمذی،دارمی،بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: مَنْ صَمَتَ نَجَا .رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي " شُعَبِ الإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4836 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ملا تو میں نے عرض کیا کہ نجات کا ذریعہ کیا ہے ۲؎فرمایا اپنی زبان کو قابو میں رکھو ۳؎اور تم کو تمہارا گھر کافی رہے ۴؎اور اپنی خطاؤ ں پر رو ۵؎(احمد،ترمذی)

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: مَا النَّجَاةُ؟ فَقَالَ: أَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَلِيَسْعَكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلٰى خَطِيئَتِكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4837 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید سے اسے مرفوع فرمایا ۱∞؎کہ فرمایا جب انسان سویرا پاتا ہے تو سارے اعضاء زبان کی خوشامد کرتے ہیں۲؎کہتے ہیں ہمارے بارے میں الله تعالٰی سے ڈر کہ ہم تیرے ساتھ ہیں تو اگرسیدھی رہے گی ہم سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگی تو ہم ٹیڑھے ہوں گے ۳؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِي سعيدٍ رَفَعَهٗ قَالَ: " إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَإِنَّ الْأَعْضَاءَ كُلَّهَا تُكَفِّرُ اللِّسَانَ فَتَقُولُ: اِتَّقِ اللّٰهَ فِينَا فَإِنَّ نَحْنُ بِكَ فَإِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنْ اَعْوَجَجْتَ اَعْوَجَجْنَا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4838 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت علی ابن حسین سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ انسان کے اسلام کی خوبیوں میں سے ایک چھوڑ دینا ہے اس کا جو اسے نفع نہ دے ۲؎(مالک،احمد)

وَعَنْ عَلِيٍّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهٗ مَا لَا يَعْنِيهِ . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأحمد

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4839 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ سے

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنْ أَبِي هُرَيْرَة

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4840 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

اور ترمذی و بیہقی نے شعب الایمان میں ان دونوں سے روایت کی۔

وَالتِّرْمِذِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ عَنْهُمَا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4841 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے وفات پائی تو کسی نے کہا کہ مبارک ہے جنت کی ۱∞؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ شاید غیر مفید خبر میں گفتگو کی یا نہ گھٹنے والی چیز میں بخل کیا ہو ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ. فَقَالَ رَجُلٌ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَ لَا تَدْرِي فَلَعَلَّهٗ تَكَلَّمَ فِيمَا لَا يَعْنِيْهِ أَوْ بَخِلَ بِمَا لَا يَنْقُصُهٗ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4842 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت سفیان ابن عبدالله ثقفی سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله جن چیزوں کا آپ مجھ پر خو ف کرتے ہیں ان میں زیادہ خطرناک کیا چیز ہے ۲؎فرمایا کہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا یہ۳؎ترمذی اور اسے صحیح کہا۔

وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيَّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ قَالَ:فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهٖ وَقَالَ: هٰذَا .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4843 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس سے ایک میل دور ہوجاتا ہے ۱∞؎اس بدبو کی وجہ سے جوآتی ہے ۲؎(ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَذَبَ الْعَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْهُ الْمَلَكُ مِيلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِهٖ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4844 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت سفیان ابن اسد حضرمی سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بری خیانت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کرے جس میں وہ تجھے سچا سمجھتا ہو اور تو اس میں جھوٹا ہو ۱∞؎(ابوداؤ د)

وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَسَدٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كَبُرَتْ خِيَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ بِهٖ مُصَدِّقٌ وَأَنْتَ بِهٖ كاذبٌ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4845 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت عمار سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو دنیا میں دو منہ والا ہوگا ۱∞؎قیامت کے دن اس کی زبان آگ کی ہوگی ۲؎(دارمی)

وَعَنْ عَمَّارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا كَانَ لَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانٌ مِنْ نَارٍ . رَوَاهُ الدَّارمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4846 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن نہ تو طعنہ باز ہوتا ہے اور نہ لعنت باز نہ فحش گو نہ بے حیا ۱∞؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)اور بیہقی کی دوسری روایت میں ہے کہ نہ فحش گو بے حیا اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا بِاللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيِّ .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ .وَفِي أُخْرٰى لَهٗ وَلَا الْفَاحِشِ الْبَذِيءِ .وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4847 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مسلمان لعنت کرنے والا نہیں ہوتا اور ایک روایت میں ہے کہ مؤمن کو لائق نہیں کہ بہت لعن طعن کرنے والا ہو ۱∞؎(ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لَعَّانًا .وَفِي رِوَايَةٍ: لَايَنْبَغِيْ لِلْمُؤمنِ أَن يَّكُوْنَ لَعَّانًا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4848 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے کہ نہ تو الله کی لعنت سے لعنت کرو ۱∞؎اور نہ الله کے غضب سے نہ دوزخ سے اور ایک روایت میں ہے کہ نہ آگ سے ۲؎(ترمذی،ابوداؤ د)

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللّٰهِ وَلَا بِغَضَبِ اللّٰهِ وَلَا بِجَهَنَّمَ .وَفِي رِوَايَةٍ وَلَا بِالنَّارِ .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4849 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کوئی بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو لعنت آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے ۱∞؎تو اس کے سامنے آسمان کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں پھر وہ زمین کی طرف لوٹتی ہے اور اس کے سامنے زمین کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں ۲؎پھر وہ داہنے بائیں پھرتی ہے۳؎پھر جب جگہ نہیں پاتی تو اس کی طرف لوٹتی ہے جس پر لعنت کی گئی تو اگر وہ اس کا اہل ہو تو فبہا ورنہ کہنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے۴؎(ابوداؤ د)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا لَعَنَ شَيْئًا صَعِدَتِ اللَّعْنَةُ إِلَى السَّمَاءِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ دُونَهَا ثُمَّ تَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُهَا دُونَهَا ثُمَّ تَأْخُذُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ إِلَى الَّذِي لُعِنَ فَإِنْ كَانَ لِذٰلِكَ أَهْلًا وَإِلَّا رَجَعَتْ إِلٰى قَائِلِهَا . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4850 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ایک شخص کی چادر ہوا نے اس پر سے اڑادی اس نے ہوا پر لعنت کی ۱∞؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو کہ یہ تو زیر فرمان ہے ۲؎اور یقینًا جو کسی ایسی چیز پر لعنت کرے جو اس کی اہل نہ ہو تو لعنت اس پر ہی لوٹتی ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤ د)

وَعَنِ ابْنِ عبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهٗ فَلَعَنَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَأَنَّهٗ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهٗ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4851 ، باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان