باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر کیل والا درندہ اس کا کھانا حرام ہے ۱؎(مسلم)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّباعِ فَأَكْلُهُ حَرَامٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4104 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر کیل والے درندے اور ہر پنجے والے پرندے کے کھانے سےمنع فرمایا ۱؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4105 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابوثعلبہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پالتو گدھے کے گوشت کو حرام فرمایا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ: حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُوْمَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4106 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشتوں سے منع فرمایا ۱؎اور گھوڑوں کے گوشتوں کی اجازت دی۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، وَأَذِنَ فِي لُحُوْمِ الْخَيْلِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4107 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ انہوں نے وحشی گدھے کو دیکھا تو اسے ہلاک کردیا ۱؎تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا اس کا کچھ گوشت تمہارے پاس ہے،عرض کیا ہمارے پاس اس کا پاؤں ہے حضور نے قبول فرمایا اور کھایا۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّهٗ رَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَعَقَرَهٗ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهٖ شَيْءٌ؟ " قَالَ: مَعَنَا رِجْلُهُ، فَأَخَذَهَا فَأَكَلَهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4108 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم نےمرالظہرانمیں ۱؎ایک خرگوش کو بھڑکایا تو میں نے اسے پکڑ لیا تو میں اسے ابوطلحہ کے پاس لایا انہوں نے ذبح کیا ۲؎اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اس کا چوتڑ اور دونوں ران بھیجی تو حضور نے اسے قبول فرمالیا۔(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا، وَبَعَثَ إلي رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بوَرِكِهَا وَفَخِذَيْهَا فَقَبِلَهٗ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4109 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ گوہ کو نہ تو میں کھاتا ہوں نہ اسے حرام کرتا ہوں ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الضَّبُّ لَسْتُ آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4110 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ خالد ابن ولید نے انہیں خبردی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ میمونہ کے پاس گئے وہ ان کی اور ابن عباس کی خالہ ہیں ۱؎تو انکے پاس بھنی ہوئی گوہ پائی۲؎تو انہوں نے گوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے گوہ سے اپنا ہاتھ اٹھالیا۳؎تب خالد بولے کیا گوہ حرام ہے فرمایا نہیں لیکن میری قوم کی زمین میں نہ تھی۴؎لہذا میں اپنے کو گھن کرتا پاتا ہوں،خالد فرماتے ہیں کہ میں نے اسے کھینچ لیا تو میں نے گوہ کھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مجھ کو دیکھتے رہے ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهٗ أَنَّهٗ دَخَلَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى مَيْمُوْنَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوْذًا، فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهٗ عَنِ الضَّبِّ فَقَالَ خَالِدٌ: أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ؟ قَالَ: "لَا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ" قَالَ خَالِدٌ:فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4111 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مرغ کھاتے دیکھا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي مُوْسٰى قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ لَحْمَ الدَّجَاجِ. مُتَفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4112 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابن ابی اوفی سے ۱؎فرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سات غزوہ کیے ہم حضور کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ كُنَّا نَأْكُلُ مَعَهُ الْجَرَادَ. مُتَفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4113 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے پتوں والے لشکر میں غزوہ کیا ۱؎اور ابوعبیدہ امیر بنائے گئے تو ہم سخت بھوکے ہوگئے پھر دریا نے ایسی مری مچھلی پھینکی کہ اس جیسی دیکھی نہ گئی۲؎جسے عنبر کہا جاتا تھا ہم نے اس میں سے آدھا ماہ کھایا۳؎پھر ابوعبیدہ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی لی تو سوار اس کے نیچے سےگزر گیا۴؎پھر جب ہم آئے تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ذکر کیا فرمایا کھاؤ وہ روزی جو اللہ نے تمہاری طرف ظاہر کی اور ہم کو بھی کھلاؤ اگر تمہارے پاس ہو،فرماتے ہیں پھر ہم نے اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے اس سے کھایا۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: غَزَوْتُ جَيْشَ الْخَبَطِ وَأُمِّرَ عَلَيْنَا أَبُوْ عُبَيْدَةَ فَجُعْنَا جُوْعًا شَدِيدًا، فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوْتًا مَيَّتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهٗ يُقَالُ لَهُ: الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ،فَأَخَذَ أَبَو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهٖ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهٗ، فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "كُلُوْا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللّٰهُ إِلَيْكُمْ وَأَطْعِمُوْنَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ" قَالَ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَكَلَهٗ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4114 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اس ساری کو ڈبو دے پھر اسے پھینک دے ۱؎کیونکہ اس کے بازوؤں میں سے ایک بازو میں شفاء ہے اور دوسرے میں بیماری ہے۲؎( بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهٗ، ثُمَّ لِيَطْرَحْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً وَفِي الآخَرِ دَاءً". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4115 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت میمونہ سے کہ گھی میں چوہا گر کرمرگیا تو ۱؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا فرمایا اس کو اور اس کے آس پاس کو گرا دو اور اسی گھی کو کھاؤ۲؎( بخاری)

وَعَنْ مَيْمُوْنَةَ: أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ فَسُئِلَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَلْقُوْهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوْهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4116 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابن عمر سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ سانپوں کو مارو ۱؎خصوصًا دو دھاری والے کو اور بنڈے کو ۲؎کیونکہ وہ دونوں بینائی ختم کردیتے ہیں اور حمل گرادیتے ہیں۳؎عبداللہ فرماتے ہیں۴؎اس دوران میں کہ میں ایک سانپ پر حملہ کررہا تھا کہ اسے مار ڈالوں مجھے ابولبابہ نے پکارا کہ اسے نہ مارو تو میں نے کہا رسول اللہ نے سانپوں کے قتل کا حکم دیا ہے وہ بولے کہ اس کے بعد حضور انو رنے گھر والے سانپوں سے منع فرمایا یہ سانپ گھر والے ہیں۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهٗ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوْا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ" قَالَ عَبْدُ اللّٰهِ:فَبَيْنَا أَنَا أُطُارِدُ حَيَّةً أَقْتُلَهَا، نَادَانِي أَبُوْ لُبَابَةَ: لَا تَقْتُلْهَا. فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ. فَقَالَ: إِنَّهٗ نَهٰى بَعْدَ ذٰلِكَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوْتِ وَهُنَّ العَوَامِرُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4117 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابو سائب سے ۱؎فرماتے ہیں ہم ابو سعید خدری کے پاس گئے اس دوران میں کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ہم نے ان کے تخت کے نیچے حرکت سنی۲؎تو ہم نے دیکھا وہاں سانپ تھا میں اسے قتل کرنے کے لیے کودا اور جناب ابو سعید نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے مجھے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ ۳؎میں بیٹھ گیا جب وہ فارغ ہوئے تو گھر کی ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا فرمایا کیا تم اس کوٹھڑی کو دیکھتے ہو میں نے کہا ہاں فرمایا اس میں ہمارا ایک نو عروس جوان تھا۴؎فرماتے ہیں کہ ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خندق کی طرف گئے۵؎تو وہ جوان دوپہریوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اجازت لیا کرتا تھااور اپنے گھر لوٹ جاتا تھا۶؎ایک دن اس نے حضور (صلی اللہ علیہ و سلم) سے اجازت مانگی تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اپنے ہتھیار لیتے جاؤ کیونکہ میں تمہارے متعلق قریظہ سے ڈرتا ہوں۷؎چنانچہ اس شخص نے اپنے ہتھیار لے لیے پھر چلا گیا اچانک اس کی بیوی دروازہ میں کھڑی تھی۸؎اس نے بیوی کی طرف نیزے کا اشارہ کیا تاکہ اسے مار دے اسے غیرت آگئی۹؎وہ بولی کہ اپنا نیزہ روک رکھو گھر میں جاؤ تاکہ خود دیکھ لو کہ مجھے کس چیز نے نکالا ہے۱۰؎چنانچہ وہ گیا تو ایک بڑا سانپ بستر پر کنڈلی مارے ہے(لہرارہا ہے)۱۱؎وہ اس سانپ کی طرف نیزہ لےکر جھکا اسے نیزہ میں پرولیا ۱۲؎پھر نکلا پھر گھر میں چبھولیا تو سانپ نے تڑپ کر اس پر حملہ کیا۱۳؎پھر خبر نہیں کہ ان دونوں میں جلدی کون مرا سانپ یا جوان۱۴؎راوی فرماتے ہیں کہ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ عرض کیا اور ہم نے عرض کیا۱۵؎کہ اللہ سے دعا فرمادیں کہ اسے ہمارے لیے زندہ فرمادے ۱۶؎فرمایا اپنے ساتھی کے لیے دعا بخشش کرو۱۷؎پھر فرمایا کہ ان گھروں میں کچھ جنات رہنے والے ہیں۱۸؎جب تم ان میں سے کچھ دیکھ لو تو ان پر تین دن تنگی کرو پھر اگر وہ چلا جائے تو خیر ورنہ اسے مار دو کہ وہ کافر ہے۱۹؎اور فرمایا کہ جاؤ اپنے ساتھی کو دفن کردو ۲۰؎اور ایک رویت میں ہے کہ مدینہ میں کچھ جن ہیں جو مسلمان ہوچکے ہیں ۲۱؎تو جب ان میں سے کچھ دیکھو تو اسے تین دن تک خبردار کرو اگر وہ پھر اس کے بعد ظاہر ہو تو اسے مار دو کہ وہ شیطان ہے۲۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي السَّائِبِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلوسٌ، إِذْ سَمِعْنَا تَحْتَ سَرِيرِهٖ حَرَكَةً فَنَظَرْنَا فَإِذَا فِيهِ حَيَّةٌ فَوَثَبْتُ لِأَقْتُلَهَا وَأَبُوْ سَعِيدٍ يُصَلِّي، فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ فَجَلَسْتُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ، فَقَالَ: أَتَرَى هٰذَا البَيْتَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ: فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ، فَكَانَ ذٰلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ، فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهٖ فَاسْتَأْذَنَهٗ يَوْمًا، فَقَالَ لَهٗ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خُذْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ فَإِنَّي أَخْشَى عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ". فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلَاحَهٗ، ثُمَّ رَجَعَ، فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةٌ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ لِيَطْعَنَهَا بِهٖ، وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ، فَقَالَتْ لَهُ: اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ، وَادْخُلِ الْبَيْتَ حتّٰى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي، فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهٖ، ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهٗ فِي الدَّارِ، فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ، فَمَا يُدْرَى أَيَّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا: الْحَيَّةُ أَمِ الْفَتَى؟ قَالَ: فَجِئْنَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْنَا ذٰلِكَ لَهٗ، وَقُلْنَا: ادْعُ اللّٰهَ يُحْيِيهِ لَنَا، فَقَالَ: "اسْتَغْفِرُوْا لِصَاحِبِكُمْ" ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ لِهٰذِهِ الْبُيُوْتِ عَوَامِرَ، فَإِذَا رَأيتُم مِنْهَا شَيْئًا فَحَرِّجُوْا عَلَيْهَا ثَلَاثًا، فَإِنْ ذَهَبَ وَإِلَّا فَاقْتُلُوْهُ فَإِنَّهٗ كَافِرٌ". وَقَالَ لَهُمْ: "اذْهَبُوْا فَادْفِنُوْا صَاحِبَكُمْ". وَفِي رِوَايَةٍ. قَالَ: "إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوْا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَاذِنُوْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاقْتُلُوْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4118 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ام شریک سے ۱؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے گرگٹوں کے مارنے کا حکم دیا ۲؎کہ وہ حضرت ابراہیم پر پھونکیں مارتا تھا۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أُمِّ شَرِيكٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَقَالَ: "كَانَ يَنْفُخُ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4119 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے گرگٹ کے مار دینے کا حکم دیا اور اس کا نام بدکار رکھا ۱؎(مسلم)

وَعَنْ سَعْدِ ابْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُويسِقًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4120 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو کوئی گرگٹ کو پہلی چوٹ میں مار دے تو اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دوسری چوٹ میں اس سے کم اور تیسری چوٹ میں اس سے کم ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ كُتِبَتْ لَهٗ مِئَةُ حَسَنَةٍ، وَفِي الثَّانِيَةِ دُوْنَ ذٰلِكَ، وَفِي الثَّالِثَة دُوْنَ ذٰلِكَ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4121 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک چیونٹی نے نبیوں میں سے کسی نبی کو کاٹ لیا ۱؎تو انہوں نے چیونٹیوں کی بستی جلانے کا حکم دیا جلادی گئی۲؎تو اللہ تعالٰی نے انہیں وحی کی کہ آپ کو ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور آپ نے امتوں میں سے ایک امت کو جلادیا جو تسبیح پڑھتی ہے۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةٍ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللّٰهُ تَعَالٰى إِلَيْهِ: أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الأُمَمِ تُسَبِّحُ؟ ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4122 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب چوہا گھی میں گرجائے تو اگر گھی جما ہوا ہو تو چوہا پھینک دو اور وہ جو اس کے آس پاس ہے ۱؎اور اگر پتلا ہو تو اس کے قریب نہ جاؤ ۲؎(احمد اورابوداؤد)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ، فَإِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوْهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوْهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4123 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام