باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب کھانے میں مکھی گر جائے تو اسے غوطہ دے دو کہ اس کے ایک بازو میں زہر دوسرے میں شفا ہے اور وہ زہریلا بازو آگے ڈالتی ہے شفا والا پیچھے رکھتی ہے ۱؎(شرح سنہ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ سُمًّا وَفِي الآخَرِ شِفَاءً، وَإِنَّهٗ يُقَدِّمُ السَّمَّ وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4144 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے چار جانوروں کے قتل سے منع فرمایا ۱؎چیونٹی،شہد کی مکھی،ہدہد اورممولا ۲؎(ابوداؤد،دارمی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ: النَّمْلَةِ، وَالنَّحْلَةِ، وَالْهُدْهُدِ، وَالصُّرَدِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4145 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جاہلیت والے لوگ کچھ چیزیں کھاتے تھے اور کچھ چیزیں گھن کرتے ہوئے چھوڑ دیتے تھے ۱؎تب اللہ نے اپنے نبی کو بھیجا اور اپنی کتاب اتاری اور حلال کو حلال فرمایا حرام کو حرام ٹھہرایا ۲؎تو جو حلال کر دیں وہ حلال ہیں اور جو حرام کردیں وہ حرام ہیں اور جن سے خاموشی فرمائی وہ معاف ہیں۳؎اوریہ آیت تلاوت کی فرما دو میں اپنی وحی میں کوئی چیزکسی کھانے والے پر جسے وہ کھالے حرام نہیں پاتا مگر یہ کہ ہو مردار،پوری آیت۴؎(ابوداؤد)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُوْنَ أَشْيَاءَ، وَيَتْرُكونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا، فَبَعَثَ اللّٰهُ نَبِيَّهٗ، وَأَنْزَلَ كِتَابَهٗ، وَأَحَلَّ حَلَالَهٗ، وَحَرَّمَ حَرَامَهٗ،فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فهوَ عفْوٌ، وتَلَا قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُوْنَ مَيْتَةً الايه. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4146 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے زاہر اسلمی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں گدھوں کے گوشت پر ہانڈیوں کے نیچے آگ جلا رہا تھا کہ کسی حضور کے منادی نے آواز دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم گدھوں کے گوشت سے تم کو منع فرماتے ہیں۲؎(بخاری)

وَعَنْ زَاهِرٍ الأَسْلَمِيِّ قَالَ: إِنِّي لأُوْقِدُ تَحْتَ الْقُدُوْرِ بِلُحُوْمِ الْحُمُرِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4147 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام

روایت ہے حضرت ابو ثعلبہ خشنی سے وہ اسےمرفوع کرتے ہیں کہ جن تین قسم کے ہیں:ایک قسم وہ جن کے پَر ہیں وہ ہوا میں اڑتے ہیں اور ایک قسم سانپ اور کتے ہیں ایک قسم ہے جو قیام بھی کرتے ہیں اور سفربھی کرتے ہیں ۱؎(شرح سنہ)

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنيِّ يَرْفَعُهُ: "الْجنُّ ثَلَاثَةُ أَصْنَافٍ: صِنْفٌ لَهُمْ أَجْنِحَةٌ يَطِيرُوْنَ فِي الْهَوَاءِ، وَصِنْفٌ حَيَّاتٌ وَكِلَابٌ، وَصِنْفٌ يَحُلُّوْنَ وَيَظْعُنُوْنَ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4148 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام