- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- شکار اور ذبیحوں کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
دارمی بروایت ابن عباس۔
وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4124 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت سفینہ سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ بٹیر کا گوشت کھایا ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ: أَكَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حُبَارَى. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُد.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4125 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جلالہ کے کھانے اور ان کے دودھوں سے منع فرمایا ۱؎(ترمذی)اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ جلالہ کی سواری سے منع فرمایا۲؎
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا. رَوَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ:قَالَ: نَهٰى عَنْ رُكُوْبِ الْجَلَّالَةِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4126 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن شبلی سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گوہ کھانے سے منع فرمایا ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ أَكْلِ لَحْمِ الضَّبِّ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4127 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بلی کھانے سے اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا ۱؎(ابوداؤد، ترمذی)
وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ أَكْلِ الْهِرَّةِ وَأَكْلِ ثَمَنِهَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4128 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر کے دن ۱؎پالتوگدھے اور خچروں کے گوشت حرام فرمائے اور ہر کیل والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام فرمائے۲؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۳؎
وَعَنْهُ قَالَ: حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي: يَوْمَ خَيْبَرَ- الْحُمُرَ الإِنْسِيَّةَ، وَلُحُوْمَ الْبِغَالِ، وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4129 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت خالد ابن ولید سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے گھوڑوں،خچروں اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎(ابوداؤد،نسائی)۲؎
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ أَكْلِ لُحُوْمِ الْخَيْلِ وَالبِغَالِ وَالْحَمِيرِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4130 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ میں نے خیبر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا تو یہود آئے انہوں نے شکایت کی کہ لوگوں نے ان کی سرسبز کھجوروں کی طرف جلدی کی ۱؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا خبردار ذمہ والوں کے مال ناحق حلال نہیں۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْهُ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَأَتَتِ الْيَهُوْدُ فَشَكَوْا أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْرَعُوْا إِلَى خَضَائِرِهِمْ،فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَا لَا يَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهِدِينَ إِلَّا بِحَقِّهَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4131 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہمارے لیے دو مردے اور دو خون حلال کیے گئے دو مردے تو مچھلی اور ٹڈی ہے ۱؎اور دو خون کلیجی اورتلی ہے۲؎(احمد،ابن ماجہ)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ. الْمَيْتَتَانِ: الْحُوْتُ وَالْجَرَادُ، وَالدَّمَانِ: الْكَبِدُ وَالطِّحَالُ". رَوَاهُ أحمدُ وابنُ مَاجَهْ وَالدَّارَقُطْنِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4132 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت ابو الزبیر سے ۱؎وہ حضرت جابر سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس کو دریا پھینک دے اور اس سے پانی ہٹ جائے تو اسے کھالو اور جو دریا میں مرجائے اور وہ تیر جائے تو اسے نہ کھاؤ ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ) اور محی السنہ نے فرمایا کہ اکثر محدثین اس پر ہیں کہ یہ حدیث حضرت جابر پرموقوف ہے۳؎
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا أَلْقَاهُ البَحْرُ وَجَزَرَ عَنْهُ الْمَاءُ فَكُلُوْهُ، وَمَا مَاتَ فِيهِ وَطَفَا فَلَا تَأْكُلُوْهُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
وَقَالَ مُحِيُّ السُّنَّةِ: الأَكْثَرُوْنَ عَلٰى أَنَّهٗ مَوْقُوْفٌ عَلٰى جَابِرٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4133 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ٹڈی کے متعلق پوچھا ۱؎گیا تو فرمایا کہ اللہ کا بڑا لشکر ہے۲؎میں نہ اسے کھاتا ہوں نہ اسے حرام کرتا ہوں۳؎(ابوداؤد)محی السنہ نے فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف ہے۴؎
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرَادِ فَقَالَ: "أَكْثَرُ جُنُوْدِ اللّٰهِ، لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدُ، وَقَالَ مُحِيُّ السُّنَّةِ: ضَعِيفٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4134 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت خالد ابن زید سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مرغ کو برا کہنے سے منع فرمایا ۱؎اور فرمایا کہ یہ نماز کی اطلاع دیتا ہے ۲؎(شرح سنہ)
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبِّ الدِّيكِ وَقَالَ: "إِنَّهٗ يُؤْذِنُ لِلصَّلَاةِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4135 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مرغ کو برا نہ کہو کیونکہ وہ نماز کے لیے جگاتا ہے ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ فَإِنَّهٗ يُوْقِظُ لِلصَّلَاةِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4136 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے عبدالرحمن ابن ابی لیلی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا ابوالیلی نے کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب گھر میں سانپ نمودار ہو تو اس سے کہہ دو کہ ہم حضرت نوح و حضرت سلیمان کے معاہدوں کے واسطے تجھ سے سوال کرتے ہیں۲؎کہ تو ہم کو نہ ستا اگر پھر ہوئے تو اسے مار دو (ترمذی،ابوداؤد)۳؎
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: قَالَ أَبُوْ لَيْلَى: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا ظَهَرَتِ الْحَيَّةُ فِي الْمَسْكَنِ فَقُوْلُوْا لَهَا: إِنَّا نسَأَلُكِ بِعَهْدِ نُوْحٍ وَبِعَهْدِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ أَنْ لَا تُؤْذِينَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاقْتُلُوْهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4137 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس سے راوی فرماتے ہیں ۱؎کہ میں نہیں جانتا مگر یہ کہ انہوں نے حدیث کو مرفوع کیا کہ وہ سانپوں کے قتل کا حکم دیتے تھے۲؎اور فرمایا کہ جو انہیں بدلہ کے خوف سے چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں۳؎(شرح سنہ)
وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ: أَنَّهٗ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ، وَقَالَ: "مَنْ تَرَكَهُنَّ خَشْيَةَ ثَائِرٍ فَلَيْسَ مِنَّا. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4138 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب سے ہم نے سانپوں سے جنگ کی پھر صلح نہ کی ۱؎اور جوکوئی ان میں سےکسی سانپ کو چھوڑ دے ڈرتے ہوئے تو ہم میں سے نہیں۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا سَالَمْنَاهُمْ مُنْذُ حَارَبْنَاهُمْ، وَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنْهُمْ خِيفَةً فَلَيْسَ منَّا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4139 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت ابن مسعودسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سارے سانپوں کو مار دو جو ان کے بدلہ سے ڈرے وہ مجھ سے نہیں ۱؎(ابوداؤد،نسائی)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ، فَمَنْ خَافَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنِّي". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4140 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت ابن عباس سے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم چاہ زمزم کو صاف کرنا چاہتے ہیں اور اس میں یہ جنان یعنی پتلے چھوٹے سانپ ہیں ۱؎تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے مار دینے کا حکم دیا ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنِ العبَّاسِ قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَكْنُسَ زَمْزَمَ، وَإِنَّ فِيهَا مِنْ هٰذِهِ الْجِنَّانِ -يَعْنِي الْحَيَّاتِ الصِّغَارِ-، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِنَّ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4141 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا سارے سانپوں کو مار دو سوا پتلے سفید سانپ کے جو چاندی کی شاخ کی طرح ہو ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهَا إِلَّا الْجَانَّ الأَبْيَضَ الَّذِي كَأَنَّهٗ قَضِيبُ فِضَّةٍ"رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4142 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے غوطہ دے دو کیونکہ اس کے ایک بازو میں بیماری ہے دوسرے میں شفاء ہے ۱؎اور وہ اپنے اس بازو سے بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہے لہذا اس پوری کو ڈبو دو ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الآخَرِ شِفَاءً، فَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ، فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهٗ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4143 ، باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام