باب:سود کا باب

تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سود کھانے والے ۱؎کھلانے والے لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا یہ سب برابر ہیں ۲؎(مسلم)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهٗ وَكَاتِبَهٗ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2807 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ سونا سونے کے عوض اور چاندی چاندی کے عوض،گیہوں گیہوں کے عوض اور جَو جَو کے عوض چھو ہارے چھوہاروں کے عوض،نمک نمک کے عوض برابر برابر ۱؎ہاتھ بہ ہاتھ بیچو،جب یہ قسمیں بدل جائیں تو جیسے چاہو بیچو جب کہ ہاتھ بہ ہاتھ ہو ۲؎(مسلم)

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، سَوَاءً بِسَواءٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هٰذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2808 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ سونا سونے کے عوض اور چاندی چاندی کے عوض،گیہوں گیہوں کے عوض،جو جو کے عوض اور چھوہارے چھوہاروں کے عوض،نمک نمک کے عوض برابر برابر ہاتھ بہ ہاتھ بیچو ۱؎جو زیادہ دے یا زیادہ لے اس نے سود کا کاروبار کیا، لینے والا دینے والا اس میں برابر ہے۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَ الْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2809 ، باب:سود کا باب

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ سونا سونے سے برابر کے بغیر نہ بیچو اور بعض کی بعض پر زیادتی نہ کرو ۱؎اور چاندی چاندی کے عوض برابر برابر کے بغیر نہ بیچو بعض کی بعض پر زیادتی نہ کرو ۲؎اور ادھار نقد کے عوض نہ بیچو۳؎(مسلم،بخاری) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ سونا سونے کے عوض اور چاندی چاندی کے عوض برابر برابر کے بغیر نہ بیچو۴؎

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ وَلَا تبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ: "لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ"

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2810 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت معمر ابن عبداللّٰهسے فرماتے ہیں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنتا تھا غلہ کی غلہ سے بیع برابر برابر کرو ا؎(مسلم)

وَعَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلاً بمثْلٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2811 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سونا سونے کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد ۱؎چاندی چاندی کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد اور گندم گندم کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد اور جو جو کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد ۲؎اورچھوہارے چھوہارے کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْوَرِقُ بِالوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بالبُرَّ إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيْرُ بِالشَّعِيرِ رَبًّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2812 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو خیبر کا حاکم بنایا تو آپ کی خدمت میں اعلٰی درجے کے خرمے لائے ۱؎تو فرمایا کہ خیبر کے سارے چھوہارے ایسے ہی ہوتے ہیں عرض کیا نہیں یارسولاللّٰهہم ان چھوہاروں کا ایک صاع دو صاعوں کے عوض اور دو صاع تین کے عوض خرید لیتے ہیں ۲؎تو فرمایا ایسا نہ کرو ۳؎مخلوط کو درہموں کے عوض نہ بیچو اور درہموں سے کھرے خرید لو اور وزنی چیزوں کے متعلق بھی اسی طرح فرمایا ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلٰى خَيْبَرَ فَجَاءَهٗ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ: «أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هٰكَذَا ؟» قَالَ: لَا وَاللّٰهِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هٰذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثِ فَقَالَ: «لَا تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا» . وَقَالَ: «فِي الْمِيزَانِ مِثْلَ ذٰلِكَ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2813 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت ابی سعید سے فرماتے ہیں کہ حضرت بلال نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں برنی کھجوریں لائے ۱؎تو ان سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ کہاں سے آئے عرض کیا ہمارے پاس ردی کھجوریں تھیں تو میں نے اس کے دو صاع ایک صاع کے عوض بیچ دیئے فرمایا ہائے ۲؎بالکل سود بالکل سود یوں نہ کرو لیکن جب خریدنا چاہو تو چھوہارے دوسری بیع سے بیچ دو پھر اس سے خریدلو۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَيْنَ هٰذَا؟» قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ رَدِيءٌ فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَقَالَ: «أَوِّهْ عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ وَلٰكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ فَبِعِ التَّمرَ بِبَيْعٍ آخَرَثمَّ اشْتَرِ بِهٖ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2814 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک غلام آیا اس نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے ہجرت پر بیعت کی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو یہ خیال نہ ہوا کہ وہ غلام ہے ۱؎پھر اس کا مولٰی اسے لینے آیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے فرمایا اسے ہمارے ہاتھ بیچ دو چنانچہ اسے دو حبشی غلاموں کے عوض خرید لیا اس کے بعد کسی سے بیعت نہ لی حتی کہ اس سے پوچھ لیتے کہ وہ غلام ہے یا آزاد ۲؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهٗ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهٗ يُرِيدُهٗ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بِعْنِيهِفَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ وَلَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدَهٗ حَتّٰى يَسْأَلَهٗ أَعَبْدٌ هُوَ أَوْ حُرٌّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2815 ، باب:سود کا باب

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا کہ چھوہاروں کے معلوم پیمانہ کے عوض چھوہاروں کا وہ ڈھیر بیچا جائے جس کا پیمانہ معلوم نہیں ۱؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لَا يُعْلَمُ مَكِيلَتُهَا بِالكَيْلِ الْمُسَمّٰى مِنَ التَّمْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2816 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت فضالہ ابن ابی عبید سے فرماتے ہیں میں نے خیبر کے دن بارہ دینار کے عوض ایک ہار خریدا جس میں سونا بھی تھا اور موتی کے منکے بھی میں نے اسے کھول ڈالا تو اس میں سونا بارہ دینار سے زیادہ پایا ۱؎تو اس کا ذکر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے کیا حضور انور نے فرمایا ایسے ہار بغیر جدا کیے نہ بیچے جائیں ۲؎(مسلم)

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا تُبَاعُ حَتّٰى تُفْصَلَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2817 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جب کہ سود کھائے بغیر کوئی نہ رہے گا ۱؎اگر سود نہ بھی کھائے گا تو اسے سود کا اثر ضرور پہنچے گا یہ بھی روایت ہے کہ اس کا غبار پہنچے گا ۲؎(احمد،ابو داؤد،نسائی،ابن ماجہ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقٰى أَحَدٌ إِلَّا أَكَلَ الرِّبَا فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهٗ مِنْ بُخَارِهٖ » . وَيُرْوٰى مِنْ «غُبَارِهٖ » . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2818 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ سونا سونے کے عوض اور چاندی کے عوض چاندی،گیہوں کے عوض گیہوں،جو کے عوض جو،چھوہارے چھوہارے کے عوض اور نمک نمک کے عوض نہ بیچو مگر برابر برابر ۱؎نقد نقد سے ہاتھ بہ ہاتھ ۲؎لیکن سونے کو چاندی کے عوض اور چاندی کو سونے کے عوض اور گیہوں کو جو کے عوض اور جو کو گیہوں کے عوض،چھوہارے نمک کے عوض ہاتھ بہ ہاتھ جیسے چاہو بیچو ۳؎(شافعی)

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالوَرِقِ وَلَا الْبُرَّ بِالبُرِّ وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَلَا الْمِلْحَ بِالمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ وَلٰكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالمِلْحِ وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ . رَوَاهُ الشَّافِعِي

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2819 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو سنا کہ آپ سے کھجور چھوہاروں کے عوض خریدنے کے متعلق پوچھا گیا ۱؎تو فرمایا کیا کھجور خشک ہو کر کم ہوجاتی ہے ۲؎عرض کیا ہاں تب آپ نے اس سے منع فرمادیا۳؎(مالک،ترمذی، ابوداؤد، نسائی،ابن ماجہ)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ فَقَالَ: «أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» فَقَالَ: نَعَمْ فَنَهَاهُ عَنْ ذٰلِكَ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2820 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے(ارسالًا) ۱؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جانور کے عوض گوشت بیچنے سے منع فرمایا ۲؎حضرت سعید فرماتے ہیں کہ یہ زمانہ جاہلیت کے جوئے سے تھا ۳؎(شرح سنہ)

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نهى عَن بَيْعِ اللَّحْمِ بِالحَيَوَانِ قَالَ سَعِيدٌ: كَانَ مِنْ مَيْسِرِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2821 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جانور کی جانور کے عوض ادھار تجارت سے منع فرمایا ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالحَيَوَانِ نَسِيئَةً.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2822 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن عمرو ابن عاص سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں ایک لشکر کے سامان تیار کرنے کا حکم دیا ۱؎تو اونٹ ختم ہوگئے ۲؎تو حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں حکم دیا کہ صدقہ کی اونٹنیوں کے عوض لے لیں تو وہ صدقہ کے اونٹ آنے تک ایک اونٹ دو اونٹوں کے عوض لیتے تھے ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهٗ أَن يُجهِّزَ جَيْشًا فَنَفِدَتِ الإِبِلُ، فَأَمَرَهٗ أَن يَأْخُذَ عَلٰى قَلَائِصِ الصَّدَقَةِ فَكَانَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالبَعِيرَيْنِ إِلٰى إِبِلِ الصَّدَقَةِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2823 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا سود ادھار میں ہے ایک روایت میں یوں ہے جو ہاتھ بہ ہاتھ نقد ہو اس میں سود نہیں ۱؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2824 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت عبد اللّٰه ابن حنظلہ سے جنہیں فرشتوں نے غسل دیا ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سود کا ایک درہم جو جانتے ہو انسان کھائے ۲؎وہ چھتیس بار زنا سے سخت تر ہے۳؎(احمد،دارقطنی)بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس سے روایت کی وہاں یہ زیادتی ہے کہ فرمایا جس کا گوشت حرام سے اُگا ہوگا تو آگ اس سے بہت قریب ہوگی ۴؎

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دِرْهَمُ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زِنْيَةً» رَوَاهُ أَحْمَدُ والدّارَقُطْنِيُّ وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَادَ: وَقَالَ: مَنْ نَبَتَ لَحْمُهٗ مِنَ السُّحت فَالنَّار أَوْلٰى بِهٖ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2825 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سود کے ستر حصے ہیں جن سے کمترین حصہ یہ ہے کہ انسان اپنی ماں سے زنا کرے ۱؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرِّبَا سَبْعُونَ جُزْءًا أَيْسَرُهَا أَنْ يَنْكِحَ الرَّجُلُ أُمَّهُ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2826 ، باب:سود کا باب