باب:سود کا باب

تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ سود اگرچہ بہت ہو مگر انجام کمی کی طرف لوٹتا ہے ۱؎یہ دونوں حدیثیں ابن ماجہ بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں اور احمد نے آخری حدیث روایت کی۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الرِّبَا وَإِنْ كَثُرَ فإِنَّ عَاقِبَتَهٗ تَصِيرُ إِلَى قُلٍّ". رَوَاهُمَا ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ". وَرَوٰى أَحْمَدُ الأَخِيرَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2827 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهنے ہم شبِ معراج اس قوم پر پہنچے جن کے پیٹ کوٹھڑیوں کی طرح تھے جن میں سانپ تھے جو پیٹوں کے باہر دیکھے جارہے تھے ۱؎ہم نے کہا اے جبریل یہ کون ہیں انہوں نے عرض کیا ۲؎یہ سود خوار ہیں۔(احمد،ابن ماجہ)۳؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَيْتُ لَيْلَةً أُسْرِيَ بِي عَلٰى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرٰى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2828 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت علی سے کہ انہوں نے رسولاللّٰهکو سنا کہ آپ نے سود کھانے والے اور کھلانے والے لکھنے والے زکوۃ نہ دینے والے پر لعنت فرمائی ۱؎اور آپ نے نوحہ سے منع فرماتے تھے ۲؎(نسائی)

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهٗ وَكَاتِبَهٗ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَكَانَ ينْهٰى عَنِ النَّوحِ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2829 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے کہ جو آخری آیت اتری وہ سود کی آیت ہے ۱؎اور رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے وفات پائی سود کی پوری تشریح نہ کی ۲؎لہذا بچو سود سے بھی اور شک و شبہ سے بھی ۳؎(ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَتْ آيَةُ الرِّبَا وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا لَنَا فَدَعُوا الرِّبَا وَالرَّيبَةَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه والدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2830 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب تم میں سے کوئی کچھ قرضہ کسی کو دے پھر مقروض اسے کچھ ہدیہ دے یا اسے اپنے گھوڑے پر سوار کرے تو سوار نہ ہو نہ ہدیہ قبول کرے ۱؎مگر اس صورت میں کہ ان دونوں کی آپس میں یہ رسم پہلے سے جاری ہو ۲؎(ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَي إِلَيْهِ أَوْ حَمَلَهٗ عَلَى الدَّابَّةِ فَلَا يَرْكَبْهُ وَلَا يَقْبَلْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهٗ وَبَيْنَهٗ قَبْلَ ذٰلِكَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2831 ، باب:سود کا باب

روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جب کوئی شخص کسی کو قرض دے تو اس سے ہدیہ قبول نہ کرے ۱؎(بخاری اپنی تاریخ میں)اسی طرح منتقیٰ میں ہے ۲؎

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَقْرَضَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَلَا يَأْخُذُ هَدِيَّةً» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ فِي تَارِيخِهٖ هٰكَذَا فِي الْمُنْتَقٰى

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2832 ، باب:سود کا باب

روایت ہے حضرت ابو بردہ ابن موسیٰ سے فرماتے ہیں میں مدینہ منورہ آیا ۱؎تو حضرت عبداللّٰه ابن سلام سے ملا آپ نے فرمایا تم اس جگہ رہتے ہو جہاں سود پھیلا ہوا ہے ۲؎تو اگر تمہارا کسی پر کچھ حق ہو پھر وہ تمہیں بھوسے یا جو کا بوجھ دے ۳؎یا چارے کا گٹھا دے تو ہر گز نہ لو کہ یہ سود ہے ۴؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ، فَقَالَ: إِنَّك بِأَرْضٍ فِيهَا الرِّبَا فَاشٍإِذا كَانَ لَكَ عَلٰى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدٰى إِلَيْكَ حِمْلَ تَبْنٍ أَو حِملَ شعيرِ أَو حَبْلَ قَتٍّ فَلَا تَأْخُذْهُ فَإِنَّهٗ رِبًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2833 ، باب:سود کا باب