باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو بالشت بھر زمین ظلمًا لے لے تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ۲؎(مسلم، بخاری)

عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهٗ يُطَوَّقُهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2938 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ کوئی کسی کا جانور بغیر اس کی اجازت کے نہ دوہے ۱؎کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ کوئی اس کے بالاخانہ پر گھس آئے پھر اس کا خزانہ توڑ کر غلہ لے جائے ۲؎اور لوگوں کے جانوروں کے تھن ان کی غذاؤں کے خزانہ ہیں ۳؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ امْرِئٍ بِغَيْرِ إِذْنِهٖ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُؤْتٰى مَشْرَبَتَهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهٗ وَإِنَّمَا يَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطَعِمَاتِهِمْ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2939 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم اپنی بعض بیویوں کے پاس تھے کہ امہات المؤمنین میں سے کسی نے ایک پیالہ بھیجا ۱؎جس میں کچھ کھانا تھا تو جس کے گھر میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم تشریف فرما تھے انہوں نے خادم کے ہاتھ مارا جس سے پیالہ گر کر ٹوٹ گیا ۲؎تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے پیالے کے ٹکڑے جمع کیے پھر جوکھانا پیالے میں تھا اس میں ڈالا ۳؎اور آپ فرماتے جاتے تھے کہ تمہاری ماں غیرت کر گئیں ۴؎پھر خادم کو روک لیا حتی کہ جن کے گھر میں حضور تھے ان کے پاس سے پیالہ لایا گیا تو جن کا پیالہ ٹوٹ گیا تھا انہیں درست پیالہ دے دیا ۵؎اور ٹوٹا ہوا پیالہ توڑنے والی کے گھر میں رکھ دیا ۶؎(بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهٖ فَأَرْسَلَتْ إِحْدٰى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتِ الَّتِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهَا يَدَ الْخَادِمِ فَسَقَطَتِ الصَّحْفَةُ فَانْفَلَقَتْ فَجَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِلَقَ الصَّحْفَةِ ثُمَّ جَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ الَّذِي كَانَ فِي الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ: «غَارَتْ أُمُّكُمْ» ثُمَّ حَبَسَ الْخَادِمَ حَتّٰى أُتِيَ بِصَحْفَةٍ مِنْ عِنْدِ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتُهَا فَدَفَعَ الصَّحْفَةَ الصَّحِيحَةَ إِلٰى الَّتِي كُسِرَتْ صَحْفَتُهَا وَأَمْسَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2940 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے عبداللّٰهابن یزید سے ۱؎وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور انور نے لوٹ مار کرنے اور ناک کان کاٹنے سے منع فرمایا ۲؎(بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ يَزِيدَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهٗ نَهٰى عَنِ النُّهْبَةِ وَالْمُثْلَةِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2941 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے زمانہ میں سورج گہن گیا جس دن کہ حضرت ابراہیم ابن رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے وفات پائی ۱؎تو حضور نے لوگوں کو دو رکعتیں چھ رکوعوں اور چار سجدوں سے پڑھائی ۲؎پھر فارغ ہوئے حالانکہ سورج اصلی حالت پر لوٹ چکا تھا فرمایا جن چیزوں کی تمہیں خبر دی گئی ہے ان میں سے کوئی چیز نہیں مگر میں نے اپنی اس نماز میں وہ سب دیکھ لیں ۳؎حتی کہ آگ لائی گئی اور یہ جب تھا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹا ۴؎اس خوف سے کہ اس کی لپٹ مجھے پہنچ جائے ۵؎اور حتی کہ میں نے آگ میں تیرنے والے کو دیکھا جو اپنی آنتیں آگ میں کھینچ رہا ہے ۶؎وہ اپنے نیزے سے حاجیوں کی چوری کرلیتا تھا اگر اس کی حرکت معلوم ہوجاتی تو کہہ دیتا تھا کہ یہ میرے نیزے سے لگ رہا اور اگر اس سے بے خبر رہی تو لے جاتا ۷؎اور حتی کہ میں نے اس میں بلی والی کو دیکھا جس نے بلی کو باندھ رکھا کہ اسے کچھ نہ کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی ۸؎پھرجنت لائی گئی اور یہ جب تھا کہ تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھا حتی کہ اپنی جگہ کھڑاہوگیا ۹؎اور میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا میں چاہتا تھا کہ اس کے کچھ پھل لے لوں تاکہ تم انہیں دیکھو پھر رائے یہ ہی قائم ہوئی کہ ایسا نہ کروں ۱۰؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ فَانْصَرَفَ وَقَدْ آضَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ: " مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهٗ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهٗ فِي صَلَاتِي هٰذِهٖ لَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ وَذٰلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهٗ فِي النَّارِ وَكَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهٖ فَإِنْ فُطِنَ لَهٗ قَالَ: إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي،وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهٖ وَحَتّٰى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتّٰى مَاتَتْ جُوعًا ثُمَّ جِيءَ بِالجَنَّةِ وَذٰلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتّٰى قُمْتُ فِي مَقَامِي وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرَتِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2942 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت قتادہ سے فرماتے ہیں میں نے حضرت انس کو فرماتے سنا کہ ایک دفعہ مدینہ میں دہشت پھیل گئی ۱؎تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ابو طلحہ سے گھوڑا مانگا جسے مندوب کہا جاتا تھا۲؎آپ اس پر سوار ہو ئے پھر جب واپس ہوئے تو فرمایا ہم نے وہاں کچھ بھی نہ دیکھا اور ہم نے اس گھوڑے کو دریا پایا۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: كَانَ فَزَعٌ بِالمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا مِنْ أَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ: الْمَنْدُوبُ فَرَكِبَ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ: «مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ وَإِن وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2943 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے کہ حضور نے فرمایا جو بنجر زمین کو آباد کرے ۱؎وہ اس کی ہے ۲؎کسی ظالم رگ کا اس میں کوئی حق نہیں ۳؎(احمد،ترمذیابوداؤد)

عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ: «مَنْ أَحْيٰی أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهٗ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2944 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

اور مالک نے ارسالًا حضرت عروہ سے روایت کی ۱؎اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے ۲؎

وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ عُرْوَةَ مُرْسَلًا. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2945 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت ابو حرہ رقاشی سے وہ اپنے چچا سے راوی ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسو لاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خبردار ظلم نہ کرنا خبردار کسی شخص کا مال دوسرے کو حلال نہیں مگر اس کی خوش دلی سے ۲؎(بیہقی شعب الایمان،دارقطنی فی مجتبیٰ)

وَعَنْ أَبِي حُرَّةَالرَّقَاشِي عَنْ عَمِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي “شُعَبِ الإِيمَانِ”.وَالدَّارَقُطْنِيّ فِي الْمُجْتٰبى

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2946 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا اسلام میں نہ تو دور سے لانا جائز نہ دور لے جانا جائز ۱؎نہ شغار حلال ۲؎اور جو لوٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں ۳؎(ترمذی)

وَعَنْ عِمْرَانَ بْن حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ: «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2947 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت سائب ابن یزید سے وہ اپنے والد سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی ۱؎فرمایا تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائیوں کی لاٹھی نہ تو دل لگی سے لے نہ ارادۃً جو اپنے بھائی کی لاٹھی لے لے وہ اسے واپس دے دے۲؎(ترمذی،ابوداؤد) اور ابوداؤد کی روایتجاداتک ہے۔

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ لَاعِبًا جَادًّا فَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَرِوَايَتُهٗ إِلٰى قَوْلِهٖ: جَادًّا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2948 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت سمرہ سے ۱؎وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا جو کسی شخص کے پاس بعینہ اپنا مال پائے وہ وہی اس کا حق دار ہے ۲؎اور خریدار بیچنے والے کا پیچھا کرے ۳؎(احمد،ابو داؤد،نسائی)

وَعَن سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهٖ عِنْدَ رَجُلٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهٖ وَيَتَّبِعُ الْبَيِّعُ مَنْ بَاعَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2949 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں ہاتھ پر وہ چیز واجب ہے جو اس نے لی حتی کہ اسے ادا کر دے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَى اليَدِ مَا أَخَذَتْ حَتّٰى تُؤَدِّيَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2950 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت حرام ابن سعد ابن محیصہ سے ۱؎کہ براء ابن عازب کی اونٹنی کسی باغ میں گھس گئی ۲؎اسے خراب کر دیا تو رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فیصلہ یہ فرمایا کہ دن میں تو باغ والوں پر باغ کی حفاظت لازم ہے ۳؎اور رات میں جانور جو بربادی کرجائیں ان کے جانور والے ضامن ہیں ۴؎(مالک،ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَن حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ: أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فَقَضٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلٰى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلٰى أَهْلِهَا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2951 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کھر باطل ہیں اور فرمایا آگ باطل ہے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اَلرِّجْلُ جُبَارٌ، وَقَالَ: وَالنَّار جُبَارٌ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2952 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت حسن سے وہ حضرت سمرہ سے راوی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی جانوروں پر آئے تو اگر ان میں ان کا مالک موجود ہو تب تو اس سے اجازت لے لے ۱؎اور اگر وہاں مالک نہ ہو تو تین آوازیں دے اگر کوئی اس کی آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے لے اور اگر کوئی جواب نہ دے تو دوہ لے اور پی لے مگر لے نہ جائے ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنِ الْحَسَنِ عَن سَمُرَة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَتٰى أَحَدُكُمْ عَلٰى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهٗ أَحَدٌ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِنْ لَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2953 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کسی باغ میں جائے وہ کھا تو لے ذخیرہ نہ کرے ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ دَخَلَ حَائِطًا فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2954 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت امیہ ابن صفوان سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان سے حنین کے دن ان کی زرہ عاریۃً لی وہ بولے یا رسولاللّٰهکیا غضب سے لیتے ہیں ۲؎فرمایا نہیں بلکہ عاریۃً جس کا ضمان دیا جائے گا۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أُميَّةَ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعَهٗ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ: أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: «بَلْ عَارِيَةً مَضْمُونَةً» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2955 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ عاریۃً(مانگی ہوئی چیز)ادا کی جائے اور عاریت کا جانور واپس کیا جائے ۱؎قرض ادا کیا جائے اور کفیل ضامن ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةٌ مَرْدُودَةٌ وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2956 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب

روایت ہے حضرت رافع ابن عمرو غفاری سے فرماتے ہیں میں لڑکا تھا انصار کے درخت کھجور پر پتھر ماررہا تھا ۱؎کہ مجھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم پر پیش کیا گیا فرمایا اے لڑکے درخت پر پتھر کیوں مارتا ہے میں نے عرض کیا کھاؤں گا۲؎فرمایا تو پتھر نہ مار اور جو نیچے گرے ان میں سے کھالے۳؎پھر ان کے سر پر ہاتھ پھیرا فرمایا خدایا اس کا پیٹ بھردے ۴؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)اور ہم حضرت عمرو ابن شعیب کی حدیثان شاءاللّٰهباباللقطۃمیں بیان کریں گے۔

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ؟» قُلْتُ: آكُلُ قَالَ: «فَلَا تَرْمِ وَكُلْ مِمَّا سَقَطَ فِي أَسْفَلِهَا» ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهٗ فَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهٗ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فِي «بَابِ اللّقطَة» إِن شَاءَ اللهُ تَعَالٰى

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2957 ، باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب