- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت مقداد ابن معد یکرب سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ کسی شخص نے کبھی کوئی کھانا اس سے اچھا نہ کھایا کہ انسان ہاتھوں کی کمائی سے کھائے ۱؎اللّٰهکے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھوں کے عمل سے کھاتے تھے ۲؎(بخاری)
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ وَإِنَّ نَبِيَّ اللّٰه دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2759 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم نے کہ اللّٰه تعالٰی طیب ہے اور طیب ہی کو قبول فرماتا ہے ۱؎اوراللّٰه تعالٰی نے مسلمانوں کو اس چیز کا حکم دیا جس کا انبیائے کرام کو حکم دیا ۲؎فرمایا اے نبیو! طیب اور لذیذ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو۳؎اور رب تعالٰی نے فرمایا اے ایمان والو ہماری دی ہوئی طیب و لذیذ روزی کھاؤ۴؎پھر ذکر فرمایا کہ آدمی پرا گندہ گرد آلود بال لمبے لمبے سفرکرتا ہے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر کہتا ہے اے رب اے رب اور اس کا کھانا حرام اور پینا حرام لباس حرام اور حرام کی ہی غذا پاتا ہے ۵؎تو ان وجوہ سے دعا کیسے قبول ہو ۶؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللّٰهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا وَ إِنَّ اللّٰهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلينَ فَقَالَ: (يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا)وَقَالَ تَعَالٰی : (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ)ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلٰى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهٗ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهٗ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهٗ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذٰلِكَ؟ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2760 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ لوگوں میں ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان پرواہ نہ کرے گا کہاں سے لیا حلال سے یا حرام ۱؎(بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ مِنَ الْحَلَالِ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ » . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2761 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ شبہ کی چیزیں ہیں جنہیں بہت لوگ نہیں جانتے ۲؎تو جو شبہات سے بچے گا وہ اپنا دین اور اپنی آبرو بچالے گا اور جوشبہات میں پڑے گا وہ حرام میں واقع ہو جائے گا۳؎جیسے جو چرواہا شاہی چراگاہ کے آس پاس چرائے تو قریب ہے کہ اس میں جانور چرلیں ۴؎آگاہ رہو کہ ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور اللّٰه کی مقررکردہ چراگاہ اس کے محرمات ہیں،آگاہ رہو کہ جسم میں ایک پارہ گوشت ہے جب وہ ٹھیک ہوجائے تو سارا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے تو تمام جسم بگڑ جاتا ہے،خبردار وہ دل ہے ۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينهٖ وعِرْضِهٖومَنْ وقَعَ فِي الشبُّهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعٰى حَوْلَ الْحِمٰى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللّٰهِ مَحَارِمُهٗ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ، أَلَا وَهِي الْقَلْبُ".»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2762 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ کتے کی قیمت خسیس ہے اور زانیہ کی خرچی حرام اور فصد لینے والے کی اجرت خسیس ہے ۲؎(مسلم)
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيْثٌ وَمَهْرُ الْبَغْيِ خَبِيْثٌ وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيْثٌ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2763 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت ابو مسعود انصاری سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کتے کی قیمت ۱؎زانیہ کی خرچی اور نجومی کی مٹھائی سے منع فرمایا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغْيِ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2764 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت ابوجحیفہ سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خون کی قیمت کتے کی قیمت اور زانیہ کی کمائی سے منع فرمایا۲؎اور سود کھانے والے اور کھلانے والے ۳؎اور گودنے والی اور گدوانے والی ۴؎اور فوٹو لینے والے پر لعنت فرمائی ۵؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَكَسْبِ الْبَغِيِّ وَلَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهٗ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْمُصَوِّرَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2765 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت جابر سے کہ انہوں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فتح کے سال جب آپ مکہ معظمہ میں تھے فرماتے سنا کہاللّٰهاور اس کے رسول نے شراب مردار،سور اور بتوں کی تجارت کو حرام کیا ۱؎عرض کیا گیا یارسولاللّٰهمردار کی چربیوں کے متعلق تو فرمایئے ان سے تو کشتیاں ملی جاتی ہیں ان کی کھالیں روغنی جاتی ہیں لوگ ان سے چراغ جلاتے ہیں ۲؎تو فرمایا نہیں وہ حرام ہے ۳؎پھر اس موقعہ پر فرمایا یہود کو خدا غارت کرے جباللّٰهنے مردار کی چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی ۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: «إِنَّ اللّٰهَ وَرَسُولَهٗ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ» . فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ؟ فَإِنَّهٗ تُطْلٰى بِهَا السُّفُنُ وَيُدَّهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ؟ فَقَالَ: «لَا هُوَ حَرَامٌ» . ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذٰلِكَ: «قَاتَلَ اللّٰهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللّٰهَ لَمَّا حَرَّمَ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهٗ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2766 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت عمر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا یہود کو خدا غارت کرے ۱؎ان پر چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر بیچا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «قَاتَلَ اللّٰهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2767 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کتے اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا ۱؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2768 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ابو طیبہ نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی فصدلی تو حضور نے اس کے لیے ایک صاع کھجوروں کا حکم دیا ۱؎اور اس کے مالکوں کو حکم دیا تو انہوں نے اس کے وظیفہ آمد سے کمی کردی ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَلَهٗ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ أَهْلَهٗ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خِرَاجِهٖ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2769 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بہت پاکیزہ غذا جو تم کھاؤ وہ تمہاری اپنی کمائی اور تمہاری اولاد تمہاری اپنی کمائی ہے ۱؎(ترمذی، نسائی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد و دارمی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ پاکیزہ تریں غذاجو انسان کھائے وہ اپنی کمائی کی ہے اور اس کا بیٹا اس کی کمائی سے ہے ۲؎
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ: «إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهٖ وَإنَّ وَلَدَهٗ مِنْ كَسْبِهٖ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2770 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن مسعود سے کہ وہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی بندہ حرام مال کمائے پھر اس سے خیرات کرے تو وہ قبول ہوجائے ۱؎اور نہ یہ کہ اس سے خرچ کرے تو اس میں اسے برکت ہو ۲؎اور اس حرام کو اپنے پس مرگ کے لیے نہ چھوڑے مگر یہ اس کا آگ کا توشہ ہوگا۳؎اللّٰهتعالٰی برائی سے برائی نہیں مٹاتا لیکن بھلائی سے برائی مٹاتا ہے۴؎یقینًا پلید پلید کو مٹاتا نہیں ۵؎(احمد)شرح سنہ میں بھی یوں ہی ہے۔
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يكْسِبُ عَبْدٌ مَالَ حَرَامٍ فَيَتَصَدَّقُ مِنْهُفَيُقْبَلُ مِنْهُ وَلَا يُنْفِقُ مِنْهُ فَيُبَارَكُ لَهٗ فِيهِ وَلَا يَتْرُكُهٗ خَلْفَ ظَهْرِهٖ إِلَّا كَانَ زَادَهٗ إِلَى النَّارِ. إِنَّ اللّٰهَ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ وَلٰكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالحَسَنِ إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَكَذَا فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2771 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے وہ گوشت جنت میں نہ جائے گا جو حرام سے اُگا ہو ۱؎اور جو گوشت حرام سے اُگے اس سے آگ بہت قریب ہے ۲؎(احمد، دارمی،بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نبَتَ منَ السُّحْتِ وكلُّ لحمٍ نبَتَ منَ السُّحْتِ كَانَتِ النَّارُ أَوْلٰى بِهٖ » . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2772 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت حسن ابن علی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے ایک یہ بات یاد کی ہے ۱؎کہ اسے چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے ادھر رجوع کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے ۲؎کیونکہ سچ اطمینان ہے اور جھوٹ تردد ہے ۳؎(احمد، ترمذی،نسائی)اور دارمی نے پہلی چیز روایت فرمائی۔
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلٰى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوٰى الدَّارِمِيُّ الْفَصْلَ الأَوَّلَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2773 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت وابصہ ابن معبد سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اے وابصہ تم نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھنے آئے ہوئے ہو میں نے عرض کیا ہاں ۱؎فرماتے ہیں کہ حضور انور نے اپنی انگلیاں جمع کرکے ان کے سینہ پر لگائیں اور تین بار فرمایا اپنے دل سے فتویٰ لے لیا کرو ۲؎نیکی وہ ہے جس پر طبیعت جمے اور جس پر دل مطمئن ہو ۳؎اور گناہ وہ ہے جو طبیعت میں چبھے اور دل میں کھٹکے اگرچہ لوگ اس کا فتویٰ دے دیں۴؎(احمد و دارمی)
وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا وَابِصَةُ جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَجَمَعَ أَصَابِعَهٗ فَضَرَبَ صَدْرَهٗ وَقَالَ: «اسْتَفْتِ نَفْسَكَ اسْتَفْتِ قَلْبَكَ» ثَلَاثًا «الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ والدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2774 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت عطیہ سعدی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ بندہ پرہیزگاروں میں سے ہونے کے مرتبہ کو نہیں پہنچتا حتی کہ مضائقہ والی چیزوں سے ڈرتے ہوئے غیر مضائقہ والی چیزوں کو چھوڑ دو ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَن عطيَّةَ السَّعدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ المتَّقينَ حَتّٰى يدَعَ مَا لَا بَأْسَ بِهٖ حَذَرًا لِمَا بِهٖ بأسٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وابنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2775 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے شراب کے بارے میں دس شخصوں پر لعنت فرمائی ۱؎اس کے نچوڑنے والے،نچوڑوانے والے ۲؎پینے والے،اٹھانے والے پر اور اس پر جس کی طرف پہنچائی جائے پلانے والے پر،بیچنے والے پر،اس کی قیمت کھانے والے پر،خریدنے والے پر اور جس کے لیے خریدی جائے اس پر ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً: عَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ وَسَاقِيَهَا وَبَائِعَهَا وَآكِلَ ثَمَنِهَا وَالْمُشْتَرِيَ لَهَا وَالْمُشْتَرٰى لَهٗ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2776 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اللّٰہ لعنت کرے شراب پر ۱؎اس کے پینے والے، پلانیوالےپر،اور اسکے بیچنے والے اور خریدار پر،نچوڑ والے اور نچوڑوانے والے،اٹھانے والے پر اور جس تک پہنچائی جائے اس پر ۲؎(ابو داؤو،ابن ماجہ)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللّٰهُ الْخَمْرَ وَشَارِبَهَا وَسَاقَيَهَا وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2777 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت محیصہ ۱؎ سے کہ انہوں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پچھنے لگانے والے کی مزدوری کی اجازت مانگی ۲؎ تو آپ نے انہیں منع فرمادیا وہ اجازت مانگتے ہی رہے ۳؎ تب فرمایا کہ وہ اپنی اونٹنی کو چرا دو اور اپنے غلام کو کھلادو ۴؎ (مالک،ترمذی، ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ مُحَيَّصَةَ أَنَّهٗ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُجْرَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ فَلَمْ يَزَلْ يَسْتَأْذِنُهٗ حَتّٰى قَالَ: «اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2778 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- 1
- 2