- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں منع فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کتے کی قیمت اور گانے بجانے کی کمائی سے ۱؎(شرح سنہ)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وكسْبِ الزَّمارةِ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2779 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ رنڈیوں کو نہ بیچو نہ خریدو ۱؎اور نہ انہیں یہ سکھاؤ ۲؎اور ان کی قیمت حرام ہے ۳؎اور اس جیسی صورتوں کے متعلق یہ آیت اتری ہے کہ بعض لوگ کھیل کود کی باتیں خریدتے ہیں ۴؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور علی ابن یزید راوی حدیث میں ضعیف مانے گئے ہیں ۵؎اور ہم حضرت جابر کی یہ حدیث کہ بلی کھانے سے منع فرمایاما یحل اکلہکے باب میںان شاءاللّٰهذکر کریں گے۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبِيعُوا الْقَيْنَاتِ وَلَا تَشْتَرُوهُنَّ وَلَا تُعَلِّمُوهُنَّ وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ وَفِي مِثْلِ هٰذَا نَزَلَتْ: (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لهْوَ الحَديثِ)رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَعليُّ بْنُ يَزِيدَ الرَّاوِي يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ جَابِرٍ: نَهٰى عَنْ أَكْلِ الهِرِّ فِي "بَابِ مَا يَحِلُّ أَكْلُهٗ " إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالٰى
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2780 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت عبداللّٰهسے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حلال کمائی کی تلاش ۱؎ایک فرض کے بعد دوسرا فرض ہے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَلَبُ كَسْبِ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2781 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت ابن عباس کہ آپ سے قرآن مجید لکھنے کی اجرت کے متعلق پوچھا گیا ۱؎تو فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں،یہ لوگ تو نقش باندھنے والے ہیں اور اپنے ہاتھ کے کام سے کھاتے ہیں ۲؎(رزین)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهٗ سُئِلَ عَنْ أُجْرَةِ كِتَابَةِ الْمُصْحَفِ فَقَالَ: لَا بَأْسَ إِنَّمَا هُمْ مُصَوِّرُونَ وَإِنَّهُمْ إِنَّمَا يَأْكُلُونَ مِنْ عَمَلِ أَيْدِيهِمْ. رَوَاهُ رَزِينٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2782 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں عرض کیا گیا یارسولاللّٰهکون کسب بہت پاکیزہ ہے فرمایا انسان کی اپنے ہاتھ کی دستکاری اور ہر سچی تجارت ۱؎(احمد)
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهٖ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2783 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت ابوبکر ابن ابی مریم سے فرماتے ہیں کہ حضرت مقدام ابن معد یکرب کی ایک لونڈی تھی ۱؎دودھ بیچتی تھی اور حضرت مقدام اس کی قیمت لیتے تھے ان سے کہا گیاسُبْحَانَ اللّٰهِآپ دودھ بیچتے ہیں اور اس کی قیمت پر قبضہ کرتے ہیں ۲؎فرمایا ہاں اس میں کوئی مضائقہ نہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں پر ایک وہ زمانہ آئے گا جس میں صرف روپیہ پیسہ ہی نفع دے گا ۳؎(احمد)
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: كَانَتْ لِمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ جَارِيَةٌ تَبِيعُ اللَّبَنَ وَيَقْبِضُ الْمِقْدَامُ ثَمَنَهٗ فَقِيلَ لَهٗ: سُبْحَانَ اللّٰهِ أَتَبِيعُ اللَّبَنَ؟ وَتَقْبِضُ الثَّمَنَ؟ فَقَالَ نَعَمْ وَمَا بَأْسٌ بِذٰلِكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَنْفَعُ فِيهِ إِلَّا الدِّينَارُ وَالدِّرْهَم» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2784 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں میں مصرو شام کی طرف سامان تجارت بھیجا کرتا تھا ایک بار عراق کی طرف مال بھیجنے لگا تو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا اے مسلمانوں کی مہربان ماں میں شام کی طرف مال بھیجا کرتا تھا اس دفعہ عراق بھیج رہا ہوں ۱؎فرمایا یہ نہ کرو تمہیں اپنی پرانی منڈی سے نفرت کیوں ہوگئی ۲؎میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جب اللّٰه تم میں سے کسی کے لیے کسی ذریعہ سے رزق کا سبب بنادے تو وہ اسے نہ چھوڑے حتی کہ سبب بدل جائے یا بگڑ جائے ۳؎(احمد،ابن ماجہ)
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ وَإِلٰى مِصْرَ فَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ فَأَتَيْتُ إِلٰى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ فَجَهَّزْتُ إِلَى العراقِ فَقَالَتْ: لَا تَفْعَلْ، مَالَكَ وَلِمَتْجَرِكَ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَبَّبَ اللّٰهُ لِأَحَدِكُمْ رِزْقًا مِنْ وَجْهٍ فَلَا يَدَعْهُ حَتّٰى يَتَغَيَّرَ لَهٗ أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2785 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق کا ایک غلام تھا جو انہیں آمدنی دیتا تھا ۱؎تو صدیق اکبر اس کی آمدنی کھاتے تھے وہ ایک دن کوئی چیزلایا جس میں سے ابوبکر صدیق نے کچھ کھالیا ۲؎تب غلام نے عرض کیا کہ آپ جانتے ہیں جو یہ کیا ہے ابوبکر صدیق نے فرمایا کیا ہے وہ بولا میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کی فال کھولی تھی اور میں فال جانتا تھا نہیں میں نے تو اسے دھوکہ دیا تھا وہ آج مجھے ملا اور مجھے اس کے عوض یہ دی یہ وہی ہے جو آپ نے کھائی ۳؎فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق نے ہاتھ ڈالا اور جو کچھ پیٹ میں تھا سب قے کردیا ۴؎(بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ غُلَامٌ يُخْرِجُ لَهُ الْخَرَاجَ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْكُلُ مِنْ خَرَاجِهٖ فَجَاءَ يَوْمًا بشيءٍ فأكلَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ: تَدْرِي مَا هٰذَا؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لِإِنْسَانٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا أُحسِنُ الكهَانةَ إِلاَّ أَنِّي خَدَعْتُهٗ فلَقيَنِي فَأَعْطَانِي بِذٰلِكَ فَهٰذَا الَّذِي أَكَلْتَ مِنْهُ قَالَتْ: فَأَدْخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهٗ فَقَاءَ كُلَّ شَيْءٍ فِي بَطْنِهٖ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2786 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت ابوبکر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جنت میں وہ جسم نہ جائے گا جو حرام سے غذا دیا گیا ۱؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ جَسَدٌ غُذِّيَ بِالْحَرَامِ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2787 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دودھ پیا اور انہیں خوشگوار محسوس ہوا۔ جس شخص نے دودھ پلایا تھا اس سے دریافت کیا کہ تو نے یہ دودھ کہاں سے حاصل کیا؟ اس نے بتایا کہ وہ ایک تالاب پر گیا جس کا اس نے نام لیا۔ وہاں زکوۃ کے اونٹ تھے جن کو وہ پانی پلا رہے تھے، انہوں نے مجھے بھی ان کا دودھ دھو کر دیا میں نے دودھ کو اپنے مشکیزے میں ڈال لیا یہ وہ دودھ تھا۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور دودھ کی قے کر دی .بيهقي شعب الايمان
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ: شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَبَنًا وَأَعْجَبَهُ، وَقَالَ لِلَّذِي سَقَاهُ: مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا اللَّبَنُ؟فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ، فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمٌ الصَّدَقَةِ وَهُمْ يَسْقُونَ، فَحَلَبُوا لِي مِنْ أَلْبَانِهَا، فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِي، وَهُو هَذَا، فَأَدْخَلَ عُمَرُ يَدَهُ فاسْتَقَاءَهُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2788 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں جو کوئی کپڑ ا دس درہم سے خریدے اور ان میں ایک درہم حرام ہو تو جب تک وہ کپڑا اس پر رہے گااللّٰهاس کی کوئی نماز قبول نہ کرے گا ۱؎پھر آپ نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالیں اور فرمایا یہ بہرے ہوجائیں اگر میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے نہ سنا ہو ۲؎(احمد، بیہقی شعب الایمان)اور فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَنِ اشْتَرٰى ثَوْبًا بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ وَفِيهِ دِرْهَمٌ حَرَامٌ لَمْ يَقْبَلِ اللّٰهُ لَهٗ صَلَاةً مَا دَامَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَقَالَ صُمَّتَا إِنْ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهٗ يَقُولُهٗ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَقَالَ: إِسْنَادُهٗ ضَعِيْفٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2789 ، باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- 1
- 2