باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ۱؎وہ یہ ہے کہ اگر کھجور ہو تو اپنے باغ کے پھل خشک کھجور کے عوض ناپ سے فروخت کرے اور اگر انگور کا کھیت ہو تو انگور کشمش کے عوض ناپ سے فروخت کرے ۲؎اور مسلم کے نزدیک یہ ہے ۳؎کہ اگر کھیت ہو تو تر دانہ خشک دانوں کے عوض ناپ سے بیچے ان سب سے منع فرمایا ۴؎(مسلم،بخاری)ان ہی دونوں میں ایک روایت یوں ہے کہ مزابنہ سے منع فرمایا اور فرمایا کہ مزابنہ یہ ہے کہ درخت میں لگی کھجوریں معین پیمانے چھوہاروں کے عوض بیچے کہ اگر زیادہ ہوں تو میری اور اگر کم ہو تو مجھ پہ ۵؎

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ: أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهٖ إِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيلًا، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيْبٍ كيْلًا، أَوْ كَانَ -وَعِنْدَ مُسْلِمٌ: وَإِنْ كَانَ- زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهٗ بِكَيْلِ طَعَامٍ، نَهٰى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهٖ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: نَهٰى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، قَالَ: وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُؤُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بكَيْلٍ مُسمًّى إِنْ زَادَ فَلِي وَإِن نَقَصَ فَعَلَيَّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2834 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بیع مخابرہ،محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ۱؎محاقلہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنا کھیت سو فرق گندم کے عوض بیچے ۲؎اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت میں لگے چھوہارے سو فرق کے عوض بیچے اور مخابرہ زمین کو کرایہ پر دینا ہے تہائی یا چوتھائی پر ۳؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الزَّرْعَ بِمِائَةِ فَرَقٍ حِنطَةً وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يَبِيعَ التَّمْرَ فِي رُؤُوسِالنَّخْلِ بِمِائَةِ فَرَقٍ وَالْمُخَابَرَةُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ والرُّبُعِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2835 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے محاقلہ،مزابنہ اور مخابرہ اور معاومہ سے ۱؎اور کچھ مستثنٰی کرلینے سے منع فرمایا ۲؎عرایا میں اجازت دی ۳؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ وَعَنِ الثُّنْيَا
وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2836 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت سہل ابن ۱؎ابی حثمہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے تر کھجور چھوہاروں کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ۲؎مگر عریہ کی اجازت دی کہ درخت کے پھل چھوہاروں کے عوض بیچے جائیں کہ عریہ والے تر کھجور کھا سکیں ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِإِلَّا أَنَّهٗ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2837 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بیع عرایا میں اجازت دی کہ پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک درخت کے پھل اندازًا چھوہاروں کے عوض بیچ دے ۱؎داؤد ابن حصین نے شک کیا ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، شَكَّ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2838 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عمر سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے پھلوں کی تجارت سے انکی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے منع فرمایا ۱؎تاجر کو بھی منع فرمایا اور خریدار کو بھی ۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی ایک روایت میں یہ ہے کہ سرخ ہونے سے پہلے کھجور کے پھل کی تجارت سے اور سفید پڑنے سے پہلے اور آفات سے امن سے پہلے بالیوں کی تجارت سے منع فرمایا ۳؎

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتّٰى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهٰى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: نَهٰى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتّٰى تَزْهُوَ وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ العَاهَةَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2839 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے پھلوں کی تجارت سے منع فرمایا حتی کہ وہ رنگ پکڑلیں ۱؎عرض کیا گیا کہ رنگ پکڑنا کیا ہے فرمایا سرخ ہو جائیں فرمایا بتاؤ اگراللّٰهتعالٰی پھل روک لے تو تم سے کوئی اپنے بھائی کا مال کس کے عوض لے گا ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتّٰى تَزْهٰى قِيلَ: وَمَا تَزْهَى؟ قَالَ: حَتّٰى تَحْمَرَّ، وَقَالَ: "أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللّٰهُ الثَّمَرَةَ، بِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ؟ ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2840 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے برسوں تک کی فروخت سے منع فرمایا ۱؎اور آفتوں کے نقصانات وضع کردینے کا حکم دیا ۲؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَأَمَرَ وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوائِحِ.رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2841 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اگر تم اپنے کسی بھائی کے ہاتھ پھل بیچو ۱؎پھر ان پر کوئی آفت آن پڑے تو تمہیں یہ حلال نہیں کہ اس سے کچھ بھی لو تم اپنے بھائی کا مال ناحق کیسے لے سکتے ہو ۲؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حقٍ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2842 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ لوگ غلہ بازار کے اونچے حصے میں خریدتے تھے ۱؎پھر اسی جگہ بیچ دیتے تھے ۲؎تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں اسی جگہ بیچ دینے سے منع فرمادیا حتی کہ اسے وہاں سے منتقل کردیں ۳؎(ابوداؤد)میں نے یہ حدیث بخاری میں نہ پائی۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ فِي أَعلَى السُّوقِ فَيَبِيعُونَهُ فِي مَكَانِهٖفَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِهٖ فِي مَكَانِهٖ حَتّٰى يَنْقِلُوهُ.رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَلَمْ أَجِدهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2843 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو غلہ خریدے تو اس پر قبضہ کیے بغیر نہ بیچے ۱؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِيعُهُ حَتّٰى يَسْتوْفِيَهٗ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2844 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

اور حضرت ابن عباس کی روایت میں یوں کہ اسے ماپ لے ۱؎(مسلم، بخاری)

وَفِی رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «حَتّٰى يَكْتَالَهٗ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2845 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں جس چیز سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے منع فرمایا وہ یہ ہے کہ غلہ قبضہ کیے بغیر فروخت کردیا جائے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ میں ہر چیز غلہ ہی کی مثل سمجھتا ہوں ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَمَّا الَّذِي نَهٰى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتّٰى يُقْبَضَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلَا أَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلاَّ مِثْلَهٗ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2846 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تجارتی قافلے سے آگے ہی نہ جا ملو ۱؎اور کوئی دوسرے کی خریداری پر خریداری نہ کرے ۲؎اور نہ نرخ بڑھاؤ ۳؎اور نہ شہری دیہاتی کے لیے تجارت کرے ۴؎اور اونٹ و بکری کو نہ روکو۵؎پھر جو اس کے بعد جانور خریدے اسے دوھنے کے بعد دونوں میں سے بہتر چیز کا اختیار ہے ۶؎اگر اس سے راضی ہو تو رکھ لے اور اگر ناراضی ہو تو اسے واپس کردے ایک صاع چھوہاروں کے ساتھ ۷؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جو روکی ہوئی بکری خریدلے تو اسے تین دن تک اختیار ہے پھر اگر اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ گندم کے سواء اور کوئی غلہ ایک صاع دے ۸؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَلَقُّوُا الرُّكْبَانَ لِبَيْعٍ وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذٰلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظِرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلِبَهَا: إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ"(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: " مَنِ اشْتَرٰى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ: فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لَا سَمْرَاءَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2847 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ تم لوگ غلہ لانے والوں سے آگے ہی نہ جا ملو ۱؎جو کوئی ان سے آگے ہی مل جائے اور خریداری کرلے پھر جب قافلہ کا سردار بازار میں آئے تو اسے اختیار ہے ۲؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلَقُّوا الْجَلَبَ فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرٰى مِنْهُ فَإِذَا أَتٰى سَيِّدُهٗ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2848 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ آنے والے سامان سے آگے ہی نہ جا ملو حتی کہ اسے بازار میں لا ڈالا جائے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰه عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلَقُّوا السِّلَعَ حَتّٰى يُهْبَطَ بهَا إِلَى السُّوقِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2849 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول االلّٰہصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام دے ہاں مگر جب کہ وہ اسے اجازت دیدے ۱؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلٰى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطِبْ عَلٰى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلَّا أنْ يَّأذَنَ لَهٗ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2850 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ لگائے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَسُمِ الرَّجُلُ عَلٰى سَوْمِ أَخيهِ الْمُسْلِم» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2851 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ شہری دیہاتی کے لیے تجارت نہ کرے ۱؎لوگوں کو چھوڑ دو کہاللّٰهبعض کو بعض کے ذریعہ روزی دے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللّٰهُ عَلَى سَوْمِ أَخيهِ الْمُسْلِم» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2852 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت ابو سعیدخدری سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے دو پہناؤں سے منع فرمایا اور دو تجارتوں سے ۱؎چھونے اور پھینکنے کی تجارت سے منع فرمایا ۲؎اور چھونے کی بیع یہ ہے کہ ایک شخص کا دن رات میں دوسرے کا کپڑا اپنے ہاتھ سے چھولیناہے کہ سوا چھونے کے اور طرح نہ الٹے پلٹے۳؎اور پھینکنے کی بیع یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کی طرف اپنا کپڑا پھینک دے اور دوسرا اس کی طرف اپنا کپڑا پھینک دے ان کی بیع ہوجائے بغیر دیکھے بھالے۴؎اور بغیر آپس کی پسندیدگی کے،رہے دو ممنوع پہنائے ایک تو صماء پہناوا ہے صماء یہ ہے کہ اپنا کپڑا ایک کندھے پر اس طرح ڈالے کہ دوسری کروٹ کھلی رہے کہ اس کے اوپر کپڑا بالکل نہ ہو۵؎اور دوسرا پہناوا اپنے کپڑے سے احتباءکرنا ہے جب کہ وہ بیٹھا ہو کہ شرمگاہ پر کپڑا بالکل نہ ہو ۶؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ: نَهٰى عَنِ الْمُلَامَسَةِ والمُنابذَةِ فِي البيعِ وَالْمُلَامَسَةُ: لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الْآخَرِ بِيَدِهٖ بِاللَّيْلِ أَو بِالنَّهارِ وَلَا يُقْلِّبُهٗ إِلَّا بِذٰلِكَ وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلٰى الرَّجُلِ بِثَوْبِهٖ وَيَنْبِذَ الْآخَرُ ثَوْبَهٗ وَيَكُونُ ذٰلِكَ بَيْعَهُمَا عَنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلَا تَرَاضٍ وَاللِّبْسَتَيْنِ: اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَالصَّمَّاءُ: أَنْ يَجْعَلَ ثَوْبَهٗ عَلٰى أَحَدِ عَاتِقَيْهِ فَيَبْدُوَ أَحَدُ شِقَّيْهِ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ وَاللِّبْسَةُ الْأُخْرٰى : احْتِبَاؤُهٗ بِثَوْبِهٖ وَهُوَ جَالِسٌ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهٖ مِنْهُ شَيْءٌ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2853 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی