باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے پتھر پھینکنے کی بیع ۱؎اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ وَعَنْ بَيْعِ الغَرَرِ.رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2854 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حمل کے حمل کی فروخت سے منع فرمایا ۱؎یہ ایک تجارت تھی جس کا جاہلیت والے کاروبار کرتے تھے کہ ایک اونٹ خریدتا تا آنکہ اونٹنی بچہ دے پھر اس کے پیٹ کی بچی بچہ دے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهٗ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلٰى أَنْ تُنتَجَ النَّاقَةُ ثمَّ تُنتَجُ الَّتِي فِي بَطَنِهَا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2855 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا ۱؎(بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2856 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اونٹ کی چوٹ کی تجارت اور کھیتی کے لیے پانی اور زمین بیچنے سے منع فرمایا ۱؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ: قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ وَعَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَالْأَرْضِ لِتُحْرَثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2857 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے منع فرمایا بچے پانی کی فروخت سے ۱؎(مسلم)

وَعنهُ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ.رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2858 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ بچا ہوا پانی نہ بیچا جائے تاکہ اس سے گھاس فروخت کی جائے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُبَاعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُبَاعَ بِهٖ الْكَلأُ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2859 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے انہی سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم غلہ کے ایک ڈھیر پر گزرے تو اپنا ہاتھ شریف اس میں ڈال دیا آپ کی انگلیوں نے اس میں تری پائی ۱؎تو فرمایا اے غلہ والے یہ کیا عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم اسے بارش پڑ گئی ۲؎فرمایا تو گیلے غلہ کو تو نے ڈھیر کے اوپر کیوں نہ ڈالا تاکہ اسے لوگ دیکھ لیتے ۳؎جو ملاوٹ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۴؎(مسلم)

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلٰى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهٗ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهٗ بَلَلًا فَقَالَ: «مَا هٰذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟» قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: «أَفَلَا جَعَلْتَهٗ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتّٰى يَرَاهُ النَّاسُ؟ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2860 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فروخت میں استثناء کرلینے سے منع فرمایا مگر جب کہ وہ شے معلوم ہو۱؎(ترمذی)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أنْ يُعْلَمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2861 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انگور فروخت کرنے سے منع فرمایا حتی کہ سیاہ پڑ جائیں اور دانوں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ سخت پڑ جائیں ۱؎(ترمذی)ابوداؤد نے یوں ہی روایت کی ان دونوں کے ہاں حضرت انس کی روایت سے یہ نہیں ہے کہ چھوہاروں کی فروخت سے منع فرمایا تا آنکہ سرخ پڑ جائیں مگر حضرت عمر کی روایت سے فرماتے ہیں کہ حضور نے چھوہاروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ سرخ ہوجائیں ۲؎اور ترمذی و ابوداؤد نے حضرت انس سے روایت کی اور وہ زیادتی مصابیح میں ہے یعنی حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان کہ چھوہاروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ سرخ ہو جائے یہ ان دونوں کی روایت میں حضرت ابن عمر سے ہے فرماتے ہیں کھجور کی تجارت سے منع فرمایا تا آنکہ سرخ پڑجائیں۳؎ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتّٰى يَسْوَدَّ وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتّٰى يَشْتَدَّ هٰكَذَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ عَنْ أَنَسٍ. وَالزِّيَادَة الَّتِي فِي "الْمَصَابِيحِ" وَهُوَ قَولُهٗ: نَهٰى عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ حَتّٰى تَزْهُوَ، إِنَّما ثَبَتَ فِي رِوَايَتِهِمَا: عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتّٰى تَزْهُوَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2862 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ادھار کی بیع ادھار سے کرنے سے منع فرمایا ۱؎(دارقطنی)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ بَيْعِ الكَالِئ بِالْكَالِئِ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2863 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بیعانہ کی بیع سے منع فرمایا ۲؎(مالک،ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2864 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مجبور کی ۱؎اور دھوکے اور پکنے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّ وَعَنْ بَيْعِ الغَرَرِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2865 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت انس سے کہ بنی کلاب کے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے نر جانوروں کی چوٹ کے متعلق پوچھا ۱؎آپ نے اس سے منع فرمایا۲؎اس نے عرض کیا یارسولاللّٰهہم تو نر چھوڑتے ہیں تو ہمیں ویسے ہی کچھ دے دیا جاتا ہے تو اسے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہدیہ کے متعلق اجازت دی ۳؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِلَابٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ فَنَهَاهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّا نُطْرِقُ الْفَحْلَ فَنُكْرَمُ فَرَخَّصَ لَهٗ فِي الْكَرَامَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2866 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت حکیم ابن حزام سے فرماتے ہیں مجھے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا کہ جو چیز میرے پاس نہ ہو اسے فروخت کردوں ۱؎(ترمذی)اور ترمذی و ابوداؤد اور نسائی کی ایک روایت میں یوں ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسولاللّٰهمیرے پاس کوئی شخص آتا ہے مجھے فروخت کرنے کو کہتا ہے اور میرے پاس چیز ہوتی نہیں ۲؎تو میں اس کے لیے بازار سے خرید لیتا ہوں ۳؎تو فرمایا جو چیز تمہارے پاس نہ ہو وہ نہ بیچو

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ مَا لَيْسَ عِنْدِي رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي رِوَايَةٍ لَهٗ وَلِأَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيُرِيدُ مِنِّي الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِي فَأَبْتَاعُ لَهٗ مِنَ السُّوقِ قَالَ: لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2867 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک بیع میں دو فروختوں سے منع فرمایا ۱؎(مالک، ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2868 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روای فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک عقد میں دو فروختوں سے منع فرمایا ۱؎(شرح سنہ)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ"

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2869 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ نہ تو ادھار اور فروخت جائز ہے ۱؎اور نہ فروخت میں دو شرطیں جائز ۲؎نہ اس کا نفع جائز جس کا ذمہ دار نہ ہو اور نہ وہ چیز بیچنا حلال جو تیرے پاس نہ ہو۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا صَحِيحٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2870 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نقیع بازار میں اونٹ اشرفیوں کے عوض فروخت کرتا تھا ۱؎پھر اشرفیوں کے عوض درہم لے لیتا تھا اور درہم کے عوض فروخت کرتا تھا پھر ان کے عوض اشرفیاں لے لیتا تھا ۲؎میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے اس کا تذکرہ کیا آپ نے فرمایا اس میں مضائقہ نہیں کہ اس دن کے بھاؤ سے یہ لے لو جب تک کہ تم اس طرح الگ نہ ہو کہ تمہارے درمیان کچھ بقایا ہو۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الإبِلَ بِالنَّقِيعِ بِالدَّنانِيرِ فآخُذُ مَكَانَهَا الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ فَآخُذُ مَكَانَهَا الدَّنَانِيرَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لَهٗ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ والدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2871 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت عداء ابن خالد ابن ہوذہ سے ۱؎انہوں نے ایک تحریر نکالی کہ یہ وہ ہے جو عداء ابن خالد ابن ہوذہ نے محمد رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے خریدا حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے غلام یا لونڈی خریدی جس میں نہ کوئی عیب ہے نہ فساد نہ کوئی خرابی ۲؎مسلمان کی مسلمان سے بیع۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۴؎

وَعَنِ الْعَدَّاءِ بْنِ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ أَخْرَجَ كِتَابًا: هٰذَا مَا اشْتَرٰى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرٰى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أَمَةً، لَا دَاءَ وَلَا غَائِلَةَ وَلَا خِبْثَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2872 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک کمبل وپیالہ نیلام کیا ۱؎تو فرمایا اس کمبل و پیالے کو کون خریدتا ہے تو ایک صاحب بولے میں انہیں ایک درہم میں لیتا ہوں تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کون ایک درہم پر بڑھاتا ہے دوسرے صاحب نے دو درہم حاضر کیے تو ان ہی کے ہاتھ فروخت کر دیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ حِلْسًا وَقَدَحًا فَقَالَ: « مَنْ يَشْتَرِي هَذَا الْحِلْسَ وَالْقَدَحَ ؟» فَقَالَ رَجُلٌ: آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَزِيدُ عَلٰى دِرْهَمٍ؟» فَأَعْطَاهُ رَجُلٌ دِرْهَمَيْنِ فَبَاعَهُمَا مِنْهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2873 ، باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی