باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3

روایت ہے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرماتے رسول اللہ نے ایسی کوئی جماعت نہیں جو اللہ کے ذکر کے لیے بیٹھے ۱؎مگر انہیں فرشتے گھیر لیتے ہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے ۲؎ان پر سکینہ اترتا ہے ۳؎اور اپنے پاس والے فرشتوں میں اللہ ان کا ذکر کرتا ہے ۴؎(مسلم)

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ وَأَبِيْ سَعِيْدٍ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِيْنَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللّٰهُ فَيْمَنْ عِنْدَهٗ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2261 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مکہ کے راستہ میں جارہے تھے کہ ایک پہاڑ پرگزرے جیسے جمدان کہا جاتا ہے ۱؎تو صحابہ نے فرمایا چلو یہ جمدان ہے۲؎سبقت لے گئے جدا رہنے والے ۳؎صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ الگ رہنے والے کون لوگ ہیں ۴؎فرمایا اللہ کی بہت یاد کرنے والے مردوعورت ۵؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَسِيْرُ فِيْ طَرِيْقِ مَكَّةَ، فَمَرَّ عَلٰى جَبَلٍ يُقَالُ لَهٗ: جُمْدَانُ، فَقَالَ: "سِيْرُوْا، هٰذَا جُمْدَانُ، سَبَقَ الْمُفَرِّدُوْنَ"قَالُوْا: وَمَا الْمُفَرِّدُوْنَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ؟ قَالَ: "الذَّاكِرُوْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَالذَّكِرَاتُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2262 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۱؎(مسلم،بخاری)۲؎

وَعَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2263 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالٰی فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے نزدیک ہوتا ہوں جو مجھ سے رکھے ۱؎جب بندہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۲؎اگر بندہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اکیلے ہی یاد کرتا ہوں اور اگر مجھے مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں اسے بہتر مجمع میں یاد کرتا ہوں ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ، وَأَنَا مَعَهٗ إِذَا ذَكَرَنِيْ،فَإِنْ ذَكَرَنِيْ فِيْ نَفْسِهٖ ذَكَرْتُهٗ فِيْ نَفْسِيْ، وَإِنْ ذَكَرَنِيْ فِيْ مَلأٍ ذَكَرْتُهٗ فِيْ مَلأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2264 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہتعالٰی فرماتا ہے جو ایک نیکی کرے اسے دس گناہ ثواب ہے اور زیادہ بھی دوں گا ۱؎اور جو ایک گناہ کرے تو ایک برائی کا بدلہ اس کے برابر ہی ہے یا اسے بخش دوں ۲؎اور جو مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس کے ایک گز نزدیک ہوجاتا ہوں اورجو مجھ سے ایک گز نزدیک ہو تاہے تو میں اس سے ایک باغ قریب ہوجاتا ہوں۳؎جو میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے میں اس کی طرف دوڑتا ہوں۴؎اور جو کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرائے پھر زمین بھر گناہ لے کر مجھ سے ملے تو میں اتنی ہی بخشش کے ساتھ اس سے ملوں گا۵؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰى: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيْدُ، وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزاءُ سَيِّئَةٍ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّيْ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّيْ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَمَنْ أَتَانِيْ يَمْشِيْ أَتَيْتُهٗ هَرْوَلَةً، وَمَنْ لَقِيَنِيْ بِقُرَابِ الأَرْضِ خَطِيْئَةً لَا يُشْرِكُ بِيْ شَيْئًا لَقِيْتُهٗ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2265 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے جو میرے کسی ولی ۱؎سے عداوت رکھے میں اس سے اعلان جنگ دیتا ہوں ۲؎اور میرے کسی بندے کا بمقابلہ فرائض عبادتوں کے دوسرے ذریعہ سے مجھ سے قریب ہونا مجھے زیادہ پسند نہیں ۳؎اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ سے قریب ہوتا رہتا ہےحتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۴؎پھر جب اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتاہے اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتاہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے ۵؎اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو اسے دیتا ہوں اور اگر میری پناہ لیتا ہے تو اسے پناہ دیتا ہوں ۶؎اور جو مجھے کرنا ہوتا ہے اس میں کبھی میں تردد نہیں کرتا جیسے کہ میں اس مؤمن کی جان نکالنے میں توقف کرتا ہوں جو موت سے گھبراتا ہے اور میں اسے ناخوش کرنا پسند نہیں کرتا ادھر موت بھی اس کے لیے ضروری ہے ۷؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى قَالَ: مَنْ عَادٰى لِيْ وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهٗ بِالْحَرْبِ،وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِيْ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِيْ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰى أَحْبَبْتُهٗ،فَإِذَا أَحْبَبْتُهٗ فَكُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِيْ يَسْمَعُ بِهٖ ، وَبَصَرَهُ الَّذِيْ يُبْصِرُ بِهٖ ، وَيَدَهُ الَّتِيْ يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِيْ يَمْشِيْ بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِيْ لأُعْطِيَنَّهٗ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِيْ لأُعِيْذَنَّهٗ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهٗ تَرَدُّدِيْ عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مُسَاءَتَهٗ، وَلَا بُدَّ لَهٗ مِنْهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2266 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ کے کچھ فرشتے راستوں میں ذکر اللہ والوں کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں ۱؎پھر جب کسی قوم کو اللہ کا ذکر کرتے پاتے ہیں،تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں کہ اپنے مقصد کی طرف آؤ ۲؎چنانچہ وہ فرشتے ان ذاکرین کو اپنے پروں میں ڈھانپ لیتے ہیں آسمان دنیا تک ہوجاتے ہیں ۳؎حضور نے فرمایا کہ رب تعالٰی تو علیم و خبیر ہے مگر ان سے پوچھتا ہے کہ میرے وہ بندے کیا کہتے تھے ۴؎فرمایا عرض کرتے ہیں کہ تیری تسبیح و تکبیر تیری حمد اور تیری بزرگیاں بیان کررہے تھے ۵؎فرمایا رب تعالٰی فرماتا ہے کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے فرمایا وہ عرض کرتے ہیں تیری قسم انہوں نے تجھے کبھی نہیں دیکھا ۶؎فرمایا ر ب تعالٰی فرماتا ہے کہ اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو کیا ہو فرمایا وہ عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو تیری بہت عبادت کریں اور تیری بہت بڑائی بولیں اور تیری بہت ہی تسبیح کریں ۷؎فرمایا رب تعالٰی فرماتا ہے وہ مانگتے کیا تھے عرض کرتے ہیں تجھ سے جنت مانگ رہے تھے فرمایا رب تعالٰی فرماتا ہے کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے،عرض کرتے ہیں یا رب تیری قسم نہیں دیکھی ۸؎فرمایا رب تعالٰی فرماتا ہے کہ اگر وہ جنت دیکھ لیں تو کیا ہو فرمایا و ہ عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ جنت دیکھ لیں تو اس کے بہت حریص اور بہت طلبگار اور اس میں بہت راغب ہوجائیں ۹؎فرماتا ہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے فرمایا وہ عرض کرتے ہیں آگ سے ۱۰؎فرمایا رب تعالٰی فرماتا ہے تو کیا انہوں نے آگ دیکھی ہے فرمایا عرض کرتے ہیں یارب تیری قسم نہیں دیکھی فرمایا رب فرماتا ہے اگر وہ لوگ دیکھ لیں تو کیا ہو فرمایا عرض کرتے ہیں اگر وہ لوگ دیکھ لیں تو اس سے بہت بھاگیں اس سے بہت ڈریں ۱۱؎فرمایا پھر رب تعالٰی فرماتاہے میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا ۱۲؎فرمایا کہ ان فرشتوں میں سے ایک عرض کرتا ہے کہ ان میں فلاں بھی تھا جو ذکر والوں سے نہ تھا۔وہ تو کسی کام کے لیے آیا تھا ۱۳؎رب تعالٰی فرماتا ہے ذاکرین ایسے ہم نشین ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھ جانے والا بھی محروم نہیں رہتا ہے ۱۴؎بخاری اور مسلم کی روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا کہ اللہ کے کچھ فالتو فرشتے چلنے پھرنے گھومنے والے ہیں جو ذکر کی مجلسیں ڈھونڈتے رہتے ہیں ۱۵؎جب کوئی ایسی مجلس پائیں جہاں ذکر ہو تو ذاکرین کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں ۱۶؎اور بعض بعض کو اپنے پروں سے گھیر لیتے ہیں ۱۷؎حتی کہ ان لوگوں اور آسمان دنیا کے درمیان فضا بھر دیتے ہیں ۱۸؎پھر جب لوگ بکھر جاتے ہیں ۱۹؎تو وہ فرشے آسمان پر پہنچ جاتے ہیں ۲۰؎فرمایا کہ رب تعالٰی علیم و خبیر ہے مگر ان سے پوچھتا ہے کہاں سے آرہے ہو تو وہ عرض کرتے ہیں ہم تیرے ان بندوں کے پاس سے آرہے ہیں جو زمین میں تیری تسبیح،تکبیر تہلیل کررہے تھے ۲۱؎اور تیری حمد و ثنا کرتے تھے تجھ سے دعائیں مانگ رہے تھے رب فرماتا ہے وہ مجھ سے مانگتے کیا تھے عرض کرتے ہیں تیری جنت مانگتے تھے ۲۲؎فرماتا ہے کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے عرض کرتے ہیں یا رب نہیں فرماتا ہے اگروہ میری جنت دیکھ لیں تو کیا ہو عرض کرتے ہیں مولا تیری پناہ مانگ رہے تھے فرماتا ہے کس چیز سے میری پناہ مانگتے تھے عرض کرتے ہیں تیری آگ سے فرماتا ہے کیا انہوں نے میری آگ دیکھی ہے عرض کرتے ہیں نہیں فرماتا ہے اگر میری آگ دیکھ لیں تو کیا ہو ۲۳؎عرض کرتے ہیں تجھ سے معافی مانگ رہے تھے فرمایا رب فرماتاہے میں نے انہیں بخش دیا جو مانگتے ہیں انہیں دے دیا اور جس سے پناہ مانگتے ہیں میں نے اس سے انہیں بچالیا۲۴؎فرمایا فرشتے عرض کرتے ہیں یارب ان میں فلاں بندہ بڑا گنہگار تھا۲۵؎وہ ان پرگزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا فرمایا رب فرماتاہے میں نے اسے بھی بخش دیا وہ ایسی قوم ہے جن کا ہم نشین بھی بدنصیب نہیں ہوتا۲۶؎

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَطُوْفُوْنَ فِي الطُّرُقِ يَلْتَمِسُوْنَ أَهْلَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوْا قَوْمًا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوْا إِلٰى حَاجَتِكُمْ" قَالَ: "فَيَحُفُّوْنَهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا" قَالَ: "فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: مَا يَقُوْلُ عِبَادِيْ؟ " قَالَ: "يَقُوْلُوْنَ: يُسَبِّحُوْنَكَ وَيُكَبِّرُوْنَكَ وَيُحَمِّدُوْنَكَ وَيُمَجِّدُوْنَكَ"، قَالَ: "فَيَقُوْلُ: هَلْ رَأَوْنِيْ؟ " قَالَ: "فَيَقُوْلُوْنَ: لَا وَاللّٰهِ مَا رَأَوْكَ"، قَالَ فَيَقُوْلُ: كَيْفَ لَوْ رَأَوْنِيْ؟ قَالَ: "فَيَقُوْلُوْنَ: لَوْ رَأَوْكَ كَانُوْا أَشَدَّ لَكَ عِبَادَةً، وَأَشَدَّ لَكَ تَمْجِيْدًا، وَأَكْثَرَ لَكَ تَسْبِيْحًا"، قَالَ: "فَيَقُوْلُ: فَمَا يَسْأَلُوْنَ؟ قَالُوْا: يَسْأَلُوْنَكَ الْجنَّةَ" قَالَ: "يَقُوْلُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟ " قَالَ: "فَيَقُوْلُوْنَ: لَا وَاللّٰهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا"، قَالَ: "يَقُوْلُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ " قَالَ: "يَقُوْلُوْنَ: لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا كَانُوْا أَشَدَّ عَليْهَا حِرْصًا، وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا، وَأَعْظَمَ فِيْهَا رَغْبَةً، قَالَ: فَمِمَّ يَتَعَوَّذُوْنَ؟ " قَالَ: "يَقُوْلُوْنَ: مِنَ النَّارِ"، قَالَ: "يَقُوْلُ: فَهَلْ رَأَوْهَا؟ "، قَالَ: يَقُوْلُوْنَ: "لَا وَاللّٰهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا" قَالَ: "يَقُوْلُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ " قَالَ: "يَقُوْلُوْنَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوْا أَشَدَّ مِنْهَا فِرَارًا وَأَشَدَّ لَهَا مَخَافَةً" قَالَ: "فَيَقُوْلُ: فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّيْ قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ" قَالَ: "يَقُوْلُ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ: فِيْهِمْ فُلَانٌ لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ، قَالَ: هُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقٰى جَلِيْسُهُمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وَفِيْ رِوَايَةِ مُسْلِمٍ قَالَ: "إِنَّ لِلّٰهِ مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضْلًا يَبْتَغُوْنَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوْا مَجْلِسًا فِيْهِ ذِكْرٌ قَعَدُوْا معَهُمْ، وحَفَّ بَعضُهُم بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهمْ حَتّٰى يَمْلَؤُوْا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَإِذَا تَفَرَّقُوْا عَرَجُوْا وَصَعِدُوْا إِلَى السَّمَاءِ قَالَ: فَيَسْأَلُهُمُ اللّٰهُ وَهُوَ أَعْلَمُ: مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ فَيَقُوْلُوْنَ: جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادِكَ فِي الأَرْضِ يُسَبِّحُوْنَكَ وَيُكَبِّرُوْنَكَ وَيُهَلِّلُوْنَكَ وَيَحْمَدُوْنَكَ وَيَسْأَلُوْنَكَ، قَالَ: وَمَاذَا يَسْأَلُوْنِيْ؟ قَالُوْا: يَسْأَلُوْنَكَ جَنَّتَكَ، قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِيْ؟ قَالُوْا: لَا أَيْ رَبِّ، قَالَ: وَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِيْ؟ قَالُوْا: وَيَسْتَجِيْرُوْنَكَ، قَالَ: وَمِمَّ يَسْتَجِيْرُوْنِيْ؟ قَالُوْا: مِنْ نَارِكَ، قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا نَارِيْ؟ قَالُوْا: لَا. قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِيْ؟ قَالُوْا: يَسْتَغْفِرُوْنَكَ، قَالَ: "فَيَقُوْلُ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوْا وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوْا" قَالَ: "يَقُوْلُوْنَ: رَبِّ فِيْهِمْ فُلَانٌ عَبْدٌ خَطَّاءٌ، وَإِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ" قَالَ: "فَيَقُوْلُ: وَلَهٗ غَفَرْتُ، هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشقٰى بِهِمْ جَلِيْسُهُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2267 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت حنظلہ ابن ربیع اسیدی سے ۱؎فرماتے ہیں مجھے حضرت ابوبکر صدیق ملے پوچھا حنظلہ کیسے ہو میں بولا کہ حنظلہ تو منافق ہوگیا ۲؎فرمایاسبحان اللهکیا کہہ رہے ہو ۳؎میں بولا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ہوتے ہیں،حضور جنت دوزخ کا ذکر ہمیں سناتے ہیں گویا وہ دونوں ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں ۴؎پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سے ہٹتے ہیں تو بیوی بچوں مال و اسباب میں گھل مل کر بہت سا بھول جاتے ہیں ۵؎حضرت ابوبکر بولے اللہ کی قسم ہم سب ہی کو یہ درپیش رہتا ہے ۶؎پھر میں اور حضرت ابوبکر صدیق چلےحتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ اقدس میں پہنچے میں نے عرض کیا یارسول اللہ حنظلہ تو منافق ہوگیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا قصہ کیا ہے میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں آپ ہمیں جنت و دوزخ کا ذکر یوں سناتے ہیں گویا وہ ہماری آنکھوں کے آگے ہیں ۷؎جب آپ کے پاس سے ہم نکلتے ہیں تو بیوی بچوں مال و اسباب میں مشغول ہوجاتے ہیں بہت کچھ بھول جاتے ہیں ۸؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس خدا کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو تمہارا حال میرے پاس ہوتا ہے اگر اس پر ہمیشہ رہو ۹؎تو فرشتے تمہارے بستروں پر تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کیا کریں ۱۰؎لیکن اے حنظلہ وقتًا فوقتًا دو گھڑی تین بار فرمایا ۱۱؎(مسلم)

وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ الرُّبَيِّعِ الأُسَيدِيْ قَالَ: لَقِيَنِي أَبُوْ بَكْرٍ فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ؟ قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ، قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ! مَا تَقُوْلُ؟ قُلْتُ: نَكُوْنُ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَافَسْنَا الأَزْوَاجَ وَالأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيْرًا، قَالَ أَبُوْ بَكْرٍ: فَوَاللّٰهِ إِنَّا لَنَلْقٰى مِثْلَ هٰذَا ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُوْ بَكْرٍ حَتّٰى دَخَلْنَا عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "وَمَا ذَاكَ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ نَكُوْنُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الأَزْوَاجَ وَالأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيرًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَوْ تَدُومُوْنَ عَلٰى مَا تَكُوْنُوْنَ عِنْدِي وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلٰى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ، وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2268 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت ابی الدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تمہیں ایسے بہترین اعمال نہ بتادوں جو رب کے نزدیک بہت ستھرے اور تمہارے درجے بہت بلند کرنے والے اور تمہارے لیے سونا چاندی خیرات کرنے سے بہتر ہوں ۱؎اور تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہو کہ تم دشمن سے جہاد کرو کہ تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہیں شہید کریں صحابہ نے عرض کیا ہاں فرمایا وہ عمل اللہ کا ذکر ہے ۲؎(مالک،احمد، ترمذی،ابن ماجہ)مگر مالک نے یہ حدیث حضرت ابوالدرداء پرموقوف کی۳؎

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيْكِكُمْ؟ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ؟ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ والوَرِقِ؟ وخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوْا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوْا أَعْنَاقَكُمْ؟ " قَالُوْا: بَلٰى، قَالَ: "ذِكْرُ اللّٰهِ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، إِلَّا أَنَّ مَالِكًا وَقَفَهٗ عَلٰى أَبِي الدَّرْدَاءِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2269 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن بسر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کون شخص اچھا ہے فرمایا مژدہ ہو اسے جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال اچھے ہوں ۲؎عرض کیا یارسول اللہ کون سا عمل افضل ہے فرمایا یہ کہ تم دنیا کو اس حال میں چھوڑو کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو۳؎(احمد،ترمذی)

وَعَن عَبْدِ اللّٰهِ بنِ بُسْرٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ فَقَالَ: "طُوْبٰى لِمَنْ طَالَ عُمْرُهٗ، وَحَسُنَ عَمَلُهٗ" قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "أَنْ تُفَارِقَ الدُّنْيَا وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللّٰهِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2270 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب تم جنت کی کیاریوں سے گزرو تو کچھ چرلیا کرو۱؎لوگوں نے پوچھا جنت کی کیاریاں کیا ہیں فرمایا ذکر کے حلقے ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوْا" قَالُوْا: وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: "حِلَقُ الذِّكْرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2271 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کسی مجلس میں بیٹھے جس میں اللہ کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کے لیے اللہ کی طرف سے حسرت و خسارہ ہوگی اور جو کسی خوابگاہ میں لیٹے کہ اس میں اللہ کا ذکر نہ کرے تو یہ بھی اس پر اللہ کی طرف سے ندامت ہوگی ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللّٰهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللّٰهِ تِرَةٌ، وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَا يَذْكُرُ اللّٰهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللّٰهِ تِرَةٌ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2272 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی کوئی قوم یا جماعت نہیں جو کسی مجلس سے بغیرکا ذکر کئے اٹھ جائے مگر وہ مردار گدھے کی مثل سے اٹھتے ہیں ۱؎اور یہ ان پر حسرت ہوتی ہے۔(احمد،ابوداؤد)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُوْمُوْنَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ فِيهِ، إِلَّا قَامُوْا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ، وَكَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2273 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہیں بیٹھی کوئی قوم کسی مجلس میں نہ تو اللہ کا ذکر کرے اور نہ اپنے نبی پر درود پڑھے ۱؎مگر یہ مجلس ان پر حسرت ہو گی اگر رب چاہے انہیں اس پر عذاب دے اور اگر چاہے بخش دے ۲؎(ترمذی)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللّٰهَ فِيهِ، وَلَمْ يُصَلُّوْا عَلٰى نَبِيِّهِمْ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً، فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2274 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت ام حبیبہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے انسان کا ہر کلام اس پر وبال ہے مفید نہیں ۱؎سوائے اچھی باتوں کے حکم یا بری باتوں سے منع کرنے کے یا اللہ کے ذکر کے ۲؎ترمذی،ابن ماجہ،اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أُمِّ حَبِيْبَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كُلُّ كَلَامِ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ لَا لَهٗ، إِلَّا أَمْرٌ بِمَعْرُوْفٍ، أَوْ نَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ، أَوْ ذِكْرُ اللّٰهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2275 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ذکر اللہ کے بغیر زیادہ باتیں نہ کرو ۱؎کیونکہ بغیر ذکر اللہ زیادہ باتیں دل کی سختی ہے۲؎اور لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے دور سخت دل والا ہے ۳؎(ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تُكْثِرُوا الْكَلَامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللّٰهِ فَإِنَّ كَثْرَةَ الْكَلَامِ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللّٰهِ قَسْوَةٌ لِلْقَلْبِ، وَإِنَّ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللّٰهِ الْقَلْبُ الْقَاسِي". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2276 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری کہ جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں الخ تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے بعض صحابہ نے فرمایا کہ سونے چاندی کے متعلق تو یہ آیت نازل ہوگئی ۱؎اگر ہمیں پتہ لگ جاتا کہ کون سا مال اچھا ہے تو ہم وہ ہی جمع کرتے ۲؎حضور نے فرمایا بہترین مال ذاکر زبان شاکر دل اور مؤمنہ بیوی ہے جو ایمان میں اس کی مدد کرے ۳؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ " وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي بَعْضِ أَسْفَارِهٖ ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهٖ : نَزَلَتْ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، لَوْ عَلِمْنَا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ فَنَتَّخِدَهٗ؟ فَقَالَ: "أَفْضَلُهٗ لِسَانٌ ذَاكِرٌ، وَقَلْبٌ شَاكِرٌ، وَزَوْجَةٌ مُؤْمِنةٌ تُعِينُهٗ عَلٰى إِيمَانِهٖ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2277 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ مسجد میں ایک حلقہ پرگزرے ۱؎پوچھا تمہیں یہاں کس چیز نے بٹھایا ہے وہ بولے ہم اللہ کا ذکر کرنے بیٹھے ہیں ۲؎فرمایا کیا خدا کی قسم تمہیں اسی چیز نے بٹھایا ہے بولے اللہ کی قسم ہمیں اس کے سوا کسی اور چیز نے نہ بٹھایا ۳؎فرمایا میں نے تم پر تہمت کی بنا پر تم سے قسم نہ لی۴؎ایسا کوئی نہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مجھ جیسا قرب ہو۵؎پھر وہ آپ سے احادیث مقابلہ کرے کم روایت کرے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ کے ایک حلقہ پرتشریف لائے تو پوچھا تمہیں یہاں کس چیز نے بٹھایا وہ بولے ہم اللہ کا ذکر کرنے بیٹھے ہیں اس کا شکر کررہے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی ہم پر بڑا احسان کیا ۶؎فرمایا کیا خدا کی قسم تمہیں صرف اس چیز نے بٹھایا ہے وہ بولے اللہ کی قسم ہم کو اس کے سواءکسی اور چیز نہ بٹھایا فرمایا میں نے تم پر تہمت رکھتے ہوئے تم سے قسم نہ لی ۷؎لیکن میرے پاس جبریل آئے انہوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تم سے فرشتوں پر فخر کررہا ہے ۸؎(مسلم)

عَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلٰى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: مَا أَجْلَسَكُمْ؟ قَالُوْا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللّٰهَ. قَالَ: اٰللّٰهَ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذٰلِكَ؟ قَالُوْا: اٰللّٰهَ مَا أَجْلَسَنَا غَيْرُهٗ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لم أسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي، وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- خَرَجَ عَلٰى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهٖ فَقَالَ: "مَا أَجْلَسَكُمْ هَاهُنَا؟ ! قَالُوْا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللّٰهَ وَنَحْمَدُهٗ عَلٰى مَا هَدَانَا لِلإِسْلَامِ وَمَنَّ بِهٖ عَلَيْنَا. قَالَ: "اللّٰهَ مَا أجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِك؟ " قَالُوْا: اٰللّٰهَ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذٰلِكَ، قَالَ: "أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهمَةً لَكُمْ، وَلَكِنَّهٗ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللّٰهَ عزَّ وَجَلَّ يُبَاهِيْ بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2278 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن بسر سے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ اسلام کے احکام شرعیہ بہت ہیں ۱؎مجھے کوئی ایک بات ایسی بتادیں جسے میں مضبوط تھام لوں فرمایا تمہاری زبان اللہ کے ذکر میں تر رہے ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے ۳؎

وَعَن عَبدِ اللّٰهِ بنِ بُسرٍ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّ شَرَائِعَ الإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ، فَأَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَتَشَبَّثُ بِهٖ قَالَ: "لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللّٰهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2279 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت ابو سعید سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کون بندے اللہ کے نزدیک افضل اور قیامت کے دن بلند درجے والے ہیں ۱؎فرمایا اللہ کا بہت ذکر کرنے والےاور بہت ذکر کرنے والی عورتیں ۲؎عرض کیا گیا یارسول اللہ اللہ کی راہ کا غازی کون ہے ۳؎فرمایا اگر غازی مشرکین اور کفار پر تلوار اتنی چلائے کہ تلوار ٹوٹ جائے اور خون میں رنگ جائے ۴؎تب بھی اللہ کا ذکر کرنے والا اس سے درجہ میں زیادہ ہوگا۵؎(احمد و ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- سُئِلَ: أَيُّ الْعِبَادِ أفضَلُ وَأَرْفَعُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: "الذَّاكِرُوْنَ اللّٰهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ" قِيلَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَمِنَ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللّٰهِ؟ قَالَ: "لَوْ ضَرَبَ بِسَيْفِهٖ فِي الْكُفَّارِ وَالْمُشْرِكِينَ حَتّٰى يَنْكَسِرَ وَيَخْتَضِبَ دَمًا، فَإِنَّ الذَّاكِرَ لِلَّهِ أَفْضَلُ مِنْهُ دَرَجَةً". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ .

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2280 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا