باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے شیطان انسان کے دل پر چمٹا رہتا ہے ۱؎جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ہٹ جاتا ہے اور جب انسان غافل ہوتا ہے تو وہ وسوسے ڈالتا ہے ۲؎(بخاری تعلیقًا)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الشَّيْطَانُ جَاثِمٌ عَلٰى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ، فَإِذَا ذَكَرَ اللّٰهَ خَنَسَ، وَإِذا غفَلَ وَسْوَسَ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ تَعْلِيْقًا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2281 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت مالک سے فرماتے ہیں مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے ۱؎غافلوں میں اللہ کا ذکر کرنے والا ایسا ہے جیسے بھاگ جانے والوں میں مجاہد ۲؎اور غافلوں میں اللہ کا ذکر کرنے والا ایسا ہے جیسے خشک درخت میں ہری شاخ۔

وَعَنْ مَالِكٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كَانَ يَقُوْلُ: "ذَاكِرُ اللّٰهِ فِي الْغَافِلِيْنَ كَالْمُقَاتِلِ خَلْفَ الْفَارِّينَ، وَذَاكِرُ اللّٰهِ فِي الْغَافِلِيْنَ كَغُصْنٍ أَخْضَرَ فِي شَجَرٍ يَابِسٍ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2282 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جیسے درختوں میں سبز درخت ۱؎اور غافلوں میں اللہ کا ذکر کرنے والا ایسا ہے جیسے اندھیرے گھر میں چراغ ۲؎اور غافلوں میں اللہ کا ذکر کرنے والے کو رب تعالٰی زندگی ہی میں اس کو جنت کا گھر دکھا دیتاہے ۳؎اور غافلوں میں اللہ کا ذکر کرنے والے کی تمام بولنے والوں اور گونگوں کی بقدر بخشش ہوتی ہے بولنے والے انسان ہیں اور گونگے جانور۴؎(رزین)

وَفِي رِوَايَةٍ: "مَثَلُ الشَّجَرَةِ الْخَضْرَاءِ فِي وَسَطِ الشَّجَرِ وَذَاكِرُ اللّٰهِ فِي الْغَافِلِيْنَ مَثَلُ مِصْبَاحٍ فِي بَيْتٍ مُظْلِمِ، وَذَاكِرُ اللّٰهِ فِي الْغَافِلِيْنَ يُرِيْهِ اللّٰهُ مَقْعَدَهٗ مِنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ حَيٌّ، وَذَاكِرُ اللّٰهِ فِي الْغَافِلِينَ يُغْفَرُ لَهٗ بِعَدَدِ كُلِّ فَصِيْحٍ وَأَعْجَمَ". وَالْفَصِيْحُ: بَنُوْ آدَمَ، وَالأَعْجَمُ: الْبَهَائِمُ. رَوَاهُ رَزِيْنٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2283 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں بندے نے بڑا کوئی ایسا عمل نہ کیا،جو ذکر اللہ سے بڑھ کر عذاب الٰہی سے نجات دے ۱؎(مالک،ترمذی،ابن ماجہ)۲؎

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: مَا عَمِلَ الْعَبْدُ عَمَلًا أَنْجٰى لَهٗ مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ ذِكْرِ اللّٰهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2284 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہتعالٰی فرماتا ہے میں اپنے بندے کے ساتھ رہتا ہوں جب کہ وہ میرا ذکر کرتا ہے اور میرے نام سے اس کے ہونٹ ہلتے ہیں ۱؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى يَقُوْلُ: أَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا ذَكَرَنِيْ وَتَحَرَّكَتْ بِيْ شَفَتَاهُ"رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2285 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور فرماتے تھے کہ ہر چیز کی صیقل ہے اور دلوں کی صیقل اللہ کا ذکر ہے ۱؎اور کوئی چیز ذکر اللہ سے بڑھ کر عذابِ الٰہی سے نجات نہیں دیتی صحابہ نے عرض کیا کہ نہ اللہ کی راہ میں جہاد فرمایا بلکہ نہ یہ کہ غازی اپنی تلوار سے کفار کو مارے حتی کہ تلوار ٹوٹ جائے ۲؎(بیہقی،دعوات کبیر)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنَّهٗ كَانَ يَقُوْلُ: "لِكُلِّ شَيْءٍ صَقَالَةٌ، وَصَقَالَةُ الْقُلُوْبِ ذِكْرُ اللّٰهِ، وَمَا مِنْ شَيْءٍ أَنْجٰى مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ ذِكْرِ اللّٰهِ" قَالُوْا: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ؟ قَالَ: "وَلَا أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِهٖ حَتّٰى يَنْقَطِعَ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "الدَّعَوَاتِ الْكَبِيْرِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2286 ، باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا